جمال خاشقجی گمشدگی: مائیک پومپیو کے ترک صدر رجب طیب اردوغان سے مذاکرات

  • جمعرات, 18 اکتوبر 2018 14:09

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر ترک صدر رجب طیب اردوغان سے مذاکرات کیے ہیں۔

ان مذاکرات کا مقصد ترک میڈیا میں آنے والے ان تازہ الزامات پر بات کرنا تھا کہ جمال خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔

جمال خاشقجی کو دو اکتوبر کو سعودی عرب کے قونصل خانے کی عمارت کے اندر جاتے دیکھا گیا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔ ترک سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں مزید شواہد ملے ہیں کہ صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کو قتل نہیں کیا گیا اور وہ عمارت سے نکل گئے تھے۔امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بارے میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوشوغلو نے کہا ہے کہ ’یہ ملاقات فائدہ مند اور باثمر رہی ہے۔‘

منگل کو امریکی وزیر خارجہ نے ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی سربراہان صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی میں ملوث ہونے کی ’شدید مذمت‘ کرتے ہیں۔

اسی معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا۔

جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے تو وہ اسے ‘سخت سزا’ دیں گے۔

تاہم دو دن پہلے انھوں نے اپنے سخت موقف میں ‘نرمی’ لاتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔

تحقیقات کیسے جاری ہیں؟
تحقیات کے دوران ترکی میں سعودی قونصل خانے کی 200 میٹر دور واقع رہائش گاہ کی بھی تلاشی لی جانی ہے۔ ترک حکام کے مطابق اس میں تاخیر اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ مشترکہ تحقیقات کے لیے کسی سعودی اہلکار کو تعینات نہیں کیا گیا۔خاشقجی کی گمشدگی کے روز کئی سعودی سفارتی گاڑیاں قونصل خانے کی عمارت سے نکل کر رہائش گاہ کی طرف گئیں۔

روئٹرز نے ایک ترک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ انھیں قتل سے متعلق ‘ٹھوس شواہد ‘ ملے ہیں تاہم کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس صوتی ثبوت موجود ہیں جن سے خاشقجی کے قتل کے اشارے ملتے ہیں۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.