کشمیری عوامی کی رائے کو ریفرنڈم کی حیثیت حاصل ہے، مزاحمتی قیادت

  • بدھ, 17 اکتوبر 2018 14:46

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مقبوضہ کشمیر کے مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ 95 فیصد عوام کی جانب سے بلدیاتی انتخابات مسترد کرنا کشمیریوں کا بھارت کے خلاف ریفرنڈم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے خود ہی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں 95 فیصد عوام نے شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے ایک بار پھر واضح کردیا کہ انتخابی پالسیوں سے وہ کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ حالیہ انتخابی ڈرامے کے دوران عوام نے تحریک کے ساتھ اپنی غیر متذلزل وابستگی کا جوثبوت دیا وہ نہ صرف قابل داد ہے بلکہ بھارت کیلئے ایک واضح پیغام اور ریفرنڈم کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات سے دوری اختیار کرکے کشمیری عوام نے بھارت کو ایک واضح پیغام بھیجاکہ اصل میں کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں اور ان کے جذبات اور احساسات کیا ہیں۔؟ مزاحمتی قائدین نے اپنے بیان میں کہا کہ زور زبردستی کرائے جارہے انتخابات میں نام نہاد عوامی نمائندوں کے نام بھی کسی کو معلوم نہیں اور کئی علاقوں میں امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا ہے، جس سے ان انتخابات کی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ان تمام کارروائیوں کا مقصد بی جے پی اور فرقہ پرست قوتوں کو آگے بڑھانا ہے۔

مزاحمتی قائدین نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کشمیری نوجوانوں کی جانب سے منان وانی کے حق میں نماز جنازہ ادا کرنے کی بنیاد پر انہیں معطل کرنے کی کارروائی کو کشمیر سے باہر طلاب کو خوف زدہ کرنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل کو مخدوش بنایا جارہا ہے جو سراسر انسانی اصولوں کے خلاف ہے۔ قائدین نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر اور انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کے خلاف لگائے گئے بے جا الزامات اور معطلی کے احکامات کو واپس لیں تاکہ ان طلباء کا تعلیمی مستقبل مخدوش ہونے سے محفوظ رہ سکے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.