• داعش کیخلاف پاک، ایران، چین اور روس کے خفیہ اداروں کا اتحاد

  • ڈی آئی خان: ایم ڈبلیوایم کے وفد سے شہداء کے ورثا سے اجتماعی ملاقات

  • کوئٹہ، ایم‌ ڈبلیو ایم جلسہ عام

  • ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ یمن پر کلسٹر بم برسانے کی بنا پر سعودی عرب پر ہوائی حملہ کر دیا جانا چاہئے۔

برطانیہ میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جرمی کوربین نے کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے شام پر غیر قانونی حملے میں برطانیہ کے شامل ہونے پر مبنی تھریسا مئے کی حکومت کے فیصلے اور یمن کے بارے میں اس کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں جس طرح سے سنگین انسانی بحران پیدا کیا گیا ہے اس کے پیش نظر دیگر ملکوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ سعودی عرب کے فوجی اور فضائی اڈوں پر حملہ کر دیں کیونکہ سعودی عرب، یمن پر کلسٹر اور فاسفورس بموں سے حملہ کر رہا ہے-

انہوں نے دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے تین اداروں نے جنوری میں اعلان کیا کہ بحران یمن، دنیا کا سب سے بدترین بحران ہے اس لئے برطانوی وزیرا‏‏عظم کو یہ وعدہ کرنا ہو گا وہ یمن پر سعودی عرب کی بمباری کی حمایت کرنا بند کر دیں گی-

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) قندہاری بازار میں جمال الدین افغانی روڈ کے کارنر پر نامعلوم افراد کی مری آباد سے ہزارہ ٹاون جانے والی پیلی ٹیکسی پر فائرنگ جس میں نذرحسین ولد نوروز علی عمر 50 سال قوم ہزارہ جاں بحق جبکہ گل حسین ولد عبدالرسول عمر 35 قوم ہزارہ زخمی ، ٹیکسی میں 5 افراد سوار تھے، جس میں 3 محفوظ رہے ہیں جن کا تعلق ہزارہ برادری سے ہیں۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں کالعدم تکفیری دہشتگردوں کو حکومتی ایوانوں میں ہونے والی تقریبات میں مدعوکیا جارہا ہے جس کے بعد کراچی اور کوئٹہ میں ایک بار پھر شیعیان علی کے قتل کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے وال اسٹریٹ جنرل کے ساتھ گفتگو میں امریکہ اور اسرائیل کی نیابت میں ایران پر آئندہ دس سے 15 سال کے دوران فوجی حملے کا اعلان کردیا ہے۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں مؤثر ثابت نہ ہوئیں تو سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کی نیابت میں آئندہ 10 سے 15 سال کی مدت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرےگا۔

اس سے قبل محمد بن سلمان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے ایٹم بنایا تو سعودی عرب بھی فوری طور پر ایٹم بم بنا لےگا۔ تجزیہ نگارون کے مطابق سعودی عرب اپنی پوری طاقت اور قدرت اسرائیل کے بجائے ایران کے خلاف استعمال کرکے امریکہ اور اسرائیل کی عملی مدد کررہا ہے۔ اسلامی ماہرین کے مطابق سعودی عرب حقیقی اسلام کے فروغ کے بجائے امریکی اور یزیدی اسلام کو فروغ دے رہا ہے اور اس میں اسے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے اور سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے اس کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ شام کے اقتدار سے بشار اسد کو ہٹایا جاسکتا ہے۔

محمد بن سلمان نے امریکی جریدے ٹائم سے گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شام کے اقتدار میں بشار اسد باقی رہیں گے اور ان کا ہٹایا جانا ممکن نہیں، کہا کہ شام میں ایرانیوں کو کھلی چھوٹ دینا بشار اسد کے حق میں نہیں ہے۔
ایران، دمشق حکومت کی درخواست پر ہی شام میں موجود ہے اور وہ سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

ایران کے تعاون کے نتیجے میں شام میں دہشت گردوں کی شکست ہی اس بات کا باعث بنی ہے کہ سعودی ولیعہد اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ بشار اسد کو اقتدار سے ہٹایا جانا ممکن نہیں ہے۔
دریں اثنا سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے شام میں امریکی فوج کے موجود رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے شام میں امریکی فوج کا باقی رہنا ضروری ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ہم سیرت علوی سے دوری کے باعث آج زوال کا شکار ہیں، علوی سیرت و کردار اپنا کر، علم و عمل کے ذریعے ہم حقیقی شیعہ بن سکتے ہیں، فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں سترہ افراد کی شہادت اور پندرہ سو فلسطینیوں کے زخمی ہونے پر انتہائی افسوس ہے۔ اندرون سندھ کے اضلاع نوابشاہ، نوشہروفیروز، مٹیاری، حیدرآباد اور شہداد کوٹ کے تنظیمی دورے کے موقع پر مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ امیرالمومنین امام علیؑ کی حیات طیبہ میں ہمیں تمام انسانی کمالات یکجا نظر آتے ہیں، آپؑ ایک انسان کامل ہونے کے ناطے ہم سب کیلئے اسوہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپؑ کی سیرت پر عمل پیرا ہو کر ہم دین و دنیا کی بھلائی اور کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہج البلاغہ شخصیت علیؑ کی بہترین عکاس ہے، جو علم و عرفان کا سمندر ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کی بے حسی نے اسرائیل کو جری کر دیا ہے، اسرائیلی مظالم پر عالمی ادارے اور عرب حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے دوستی کرکے اور بھارت سے اسرائیل تک فضائی سروس کو راستہ دے کر آل سعود نے اسلام دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان جدوجہد آزادی کے سفر میں فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر ہمیں تشویش ہے، اسرائیل غاصب ریاست ہے، جس کا عبرتناک انجام اب نزدیک ہے۔

مولود کعبہ جانشین پیغمبر فاتح خیبر و خندق مولائے متقیان مولی الموحدین امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت پر پورے پاکستان اور دنیا کے مختلف ملکوں میں جشن و سرور کا سلسلہ جاری ہے۔

امیر المومنین حضرت علی(ع) اسلامی تاریخ کی وہ درخشاں ہستی ہیں کہ جن کا کردار ہر اعتبار سے نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ آپ اس دنیا میں تشریف لائے تو مولود کعبہ کہلائے۔ سب سے پہلے جس ہستی کو دیکھا وہ رسالت مآب (ص) ہی تھے۔آپ (ص) کے سایہ عاطفت میں ہی گھٹنوں کے بل چلے اور آغوشِ رسالت میں نشوونما پا کر بالآخر میدان جہاد کے شہسوار بن گئے۔

مولودِ کعبہ نے کائنات کی ہرشے کو اسلام کی ہی روشنی میں دیکھا۔ درسگاہِ نبوی میں تعلیم و تربیت پائی۔ معلم انسانیت جیسا معلم و مربی ملا۔ رہنے کو نبوت کا گھرانہ اور بود و باش کے لئے سرزمینِ وحی ملی۔ قرآنی آیات کی شانِ نزول کے چشم دید گواہ بنے۔

حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کا جشن پاکستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی مذہبی جوش جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہےپورے ملک کی مساجداور امام بارگاہوں کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے- عاشقان حیدر کرار جگہ جگہ لوگوں میں شربت اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں-


مولائے کائنات کی ولادت باسعادت کے موقع پر عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف، کربلائے معلی، کاظمین اور سامرہ میں بھی وسیع پیمانے پر جشن کا اہتمام کیا گیا ہےجبکہ نجف اشرف میں لاکھوں کی تعداد میں عراقی اور غیر ملکی زائرین حضرت امام علی علیہ السلام کا جشن ولادت منا رہے ہیں اور ذاکرین و شعرائے کرام بارگاہ علوی میں اپنے اپنے مخصوص انداز میں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں-


ایران میں مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر اور قم المقدسہ میں جناب فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم مطہر میں بڑی تعداد میں عاشقان اہلبیت اطہار(ع) جشن علوی میں شریک ہیں- پاکستان اور ہندوستان میں بھی جگہ جگہ محافل میلاد کا اہتمام کیا گیا ہے اور گھر گھر نذر و نیاز کا سلسلہ جاری ہے-

شیعہ نیوز جشن مولود کعبہ کے اس پر مسرت موقع پر اپنے تمام سامعین ناظرین اور چاہنے والوں کو دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایران ہمارا ہمسایہ و اسلامی برادر ملک ہے، جن کے ساتھ تاریخی، سیاسی، سماجی، ثقافتی، علمی اور مذہبی حوالے سے باہم احترام پر مبنی بہت ہی خوشگوار تعلقات قائم ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی سے ملاقات کے دوران کیا، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایران کے سرمایہ کاروں کو سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے مستفید ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار فضا اور بھرپور کاروباری مواقع موجود ہیں، سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بہت سے اہم منصوبوں پر کام کر رہی ہے، سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکریٹری اطلاعات سید احسن عباس رضوی نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف حصوں میں بجلی کی طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں جاری بجلی کے مصنوعی بحران کا جلد خاتمہ نہ ہونے کی صورت میں پہلے مرحلے میں آگہی و تشہیری مہم اور دوسرے مرحلے میں احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے، انہوں نے وفاقی وزیر بجلی و پانی اور چیف جسٹس آف پاکستان سے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے مذمتی بیان میں احسن رضوی نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی کی بجائے آئے دن ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، کراچی میں گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی بارہ بارہ گھنٹے بجلی کی بندش حکومت کی ’’مثالی کارکردگی‘‘ پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں میٹرک کے امتحانات کا آغاز ہو چکا ہے اور کے الیکٹرک کی ’’مہربانیاں‘‘ طلباء و طالبات کی تیاری کے دوران ان کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔

احسن عباس رضوی نے کہا کہ ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور کے الیکٹرک انتظامیہ نے گذشتہ سالوں میں ہیٹ اسٹروک اور لوڈشیڈنگ کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے سبق نہیں سیکھا، عوام کو صاف پانی، بجلی، گیس، صحت و صفائی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی آئنی ذمہ داری ہے، لیکن ہر دور میں بے حس حکمرانوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بجائے انہیں اخباری دعوؤں تک ہی محدود رکھا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جماعت ہونے کی دعویدار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی طرف سے عوام کیلئے کھڑی کی جانے والی مشکلات آئندہ عام انتخابات میں جماعت کی مقبولیت کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ رہنما ایم ڈبلیو ایم نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے بات چیت کرتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ و مغرب کی ہدایت پر سعودی فنڈنگ سے وہابیت کو پوری دنیا میں پھیلایا گیا۔ اخبار سے بات کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے کہا کہ مغربی اتحادیوں نے سعودی عرب پر زور دیا تھا کہ وہ پوری دنیا میں مدارس و مساجد میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے تاکہ اسلامی ممالک میں سویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ امریکی و مغربی ایماء پر وہابیت کے فروغ کی مذکورہ کوشش کے حوالے سے معاملات بعد میں آنے والی حکومتوں کے قابو سے باہر ہو گئے۔ ہمیں اس پر قابو پانا ہوگا۔

بن سلمان نے مزید کہا کہ اب سعودی حکومت کے بجائے سعودی عرب میں موجود مختلف اداروں کی مدد سے مساجد و مدارس کو فنڈنگ کی جاتی ہے۔ سعودی ولی عہد نے واشگنٹن پوسٹ کو 75 منٹ دورانیے پر مشتمل یہ انٹرویو 22 مارچ کو اپنے دورے کے آخری دن دیا۔ انٹرویو میں امریکی میڈیا کے اس دعوے کے متعلق بھی بات کی گئی ہے جس میں بن سلمان کے حوالے سے دعوی کیا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر جیراڈ کشنر ان کی جیب میں ہیں۔

تحریر: رامین حسین آبادیان

25 مارچ 2015ء کا دن تاریخ کا ایسا دن ہے جو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس دن عرب دنیا کا دولتمند ترین ملک ہونے کے ناطے سعودی عرب نے مصر، بحرین، متحدہ عرب امارات، سوڈان، صومالیہ وغیرہ جیسے سترہ ممالک سے فوجی اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے عرب دنیا کے پسماندہ ترین ملک یعنی یمن پر فوجی جارحیت کا آغاز کر دیا۔ اگرچہ سعودی حکام کا موقف یہ ہے کہ یمن کے خلاف اس فوجی جارحیت کا اصل مقصد اس ملک میں ان کے بقول جائز حکومت کو واپس برسراقتدار لانا ہے لیکن سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے مسلسل یمن کے شہری علاقوں اور عام شہریوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اہم ترین اہداف میں سے ایک یمنی عوام سے انتقام لینا ہے۔ وہ یمنی عوام کو اس بات کی سزا دے رہے ہیں کہ انہوں نے سعودی پٹھو حکمران عبد ربہ منصور ہادی کا ساتھ کیوں نہیں دیا اور اس کے خلاف کیوں اٹھ کھڑے ہوئے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی فوجی اتحاد وسیع پیمانے پر یمن کے اسپتالوں، اسکولوں، ہائی ویز، پل، پانی اور بجلی کی تنصیبات اور دیگر انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سعودی رژیم یمن کو مفلوج کر دینے کا عزم رکھتی ہے۔

وہ جنگ جسے سعودی حکومت قانونی قرار دیتی ہے اب تک 13 ہزار عام یمنی شہریوں کی شہادت اور 20 ہزار سے زائد شہریوں کے زخمی ہونے کا باعث بن چکی ہے۔ اسی طرح یمن کے ہزاروں شہری سعودی فوجی اتحاد کے ہوائی حملوں کے نتیجے میں مختلف قسم کی معذوریت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ معذور ہونے والے افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسری طرف جنگ کے نتیجے میں یمن غذا اور ادویات کی شدید کمی کے بحران سے روبرو ہے۔ اب تک تین ہزار سے زیادہ یمنی شہری جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے ہیضے کی بیماری کا شکار ہو کر میڈیکل سہولیات اور ادویات نہ ہونے کے باعث اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ دوسری طرف ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ اس وقت بھی ہزاروں یمنی شہری ہیضے کی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اگر سعودی اتحاد کی جانب سے یمن کا محاصرہ جاری رہا اور ادویات کی ترسیل انجام نہ پائی تو ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود یمن کی بہادر قوم نے گذشتہ تین سالوں سے جاری سعودی فوجی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور جارح قوتوں کو مطلوبہ سیاسی اور فوجی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام کر ڈالا ہے۔

جائز حکومت کو اقتدار میں واپس لانا یا یمنی قوم سے انتقام؟
جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے سعودی حکومت کا دعوی تھا کہ یمن پر اس کی فوجی جارحیت کا اصل مقصد عبد ربہ منصور ہادی کی جائز حکومت کو اقتدار میں واپس لوٹانا ہے۔ سعودی حکام کا موقف ہے کہ صرف منصور ہادی ہی یمن کے قانونی صدر ہیں جبکہ منصور ہادی نے اپنے چار سالہ دور صدارت میں قومی خزانہ لوٹ لوٹ کر خالی کر دیا اور سعودی سربراہی میں تشکیل پانے والے اتحادوں میں شمولیت کے ذریعے عملی طور پر 14 جنوری 2011ء کی انقلابی تحریک کے بالکل برعکس عمل کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ منصور ہادی جیسا شخص جس نے کئی سالوں تک سعودی رژیم کی کاسہ لیسی کی اور ان کے پٹھو کے طور پر کردار ادا کیا، کے خلاف عوام کی احتجاجی اور انقلابی تحریک نے سعودی حکمرانوں کو شدید غضبناک کر ڈالا ہے۔ درحقیقت سعودی حکومت کی جانب سے وسیع فوجی اتحاد تشکیل دے کر بیگناہ یمنی عوام کے قتل عام کی اصل اور بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ یمن کی انقلابی عوام سے انتقام لینے کی خواہاں ہے۔ یمن کے خلاف سعودی فوجی جارحیت کے تمام اہداف صرف یمنی عوام سے انتقام لینے تک ہی محدود نہیں بلکہ اور بھی اہم مقاصد موجود ہیں۔ ان میں سے چند اہم اہداف و مقاصد درج ذیل ہیں:

1)۔ یمن کے خام تیل اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر پر قبضہ
اگرچہ یمن کا شمار عرب دنیا کے غریب اور پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ ملک قدرتی گیس اور تیل کے ذخائر سے محروم ہے بلکہ ان ذخائر سے مالا مال ہے۔ خاص طور پر یمن کے جنوبی حصے قدرتی گیس اور تیل کے ذخائر کے اعتبار سے بہت زیادہ غنی ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کی روشنی میں جنوری 2014ء میں یمن میں خام تیل کی ذخائر تین ارب بیرل تھے جبکہ اسی سال یمن سے برآمد ہونے والے خام تیل کی پیداوار تقریباً روزانہ 1 لاکھ 27 ہزار بیرل بیان کی گئی ہے۔ جب سے سعودی اتحاد نے یمن کے خلاف فوجی جارحیت کا آغاز کیا ہے اس کی خام تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

گذشتہ پانچ عشروں کے دوران یمن کی اقتصادی صورتحال ابتر ہونے اور آج اس کا شمار عرب دنیا کے غریب اور پسماندہ ترین ممالک میں ہونے کی بنیادی وجہ اس ملک پر علی عبداللہ صالح اور منصور ہادی جیسے ڈکٹیٹرز کی آمرانہ پالیسیاں اور لوٹ کھسوٹ ہے۔ لہذا گذشتہ تین سالوں کے دوران آل سعود رژیم یمن کے قدرتی ذخائر پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ اس بارے میں 2016ء میں معروف ویب سائٹ "وکی لیکس" نے یمن کے قدرتی گیس اور خام تیل کے ذخائر سے متعلق پس پردہ حقائق پر مبنی بعض اہم دستاویزات فاش کیں۔ ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب میں ایک خفیہ معاہدہ طے پایا ہے جس کی رو سے دونوں حکومتوں نے ایسے مشترکہ اقدامات انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے جن کے ذریعے یمنی عوام کو ملک میں موجود قدرتی ذخائر سے محروم کر دیا جائے۔

2)۔ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنا
یمن خاص طور پر اس کے جنوبی علاقوں کا اسٹریٹجک اور جغرافیائی محل وقوع بھی اس ملک پر سعودی حکومت کی فوجی جارحیت کے اہداف و مقاصد میں شامل ہے۔ سعودی رژیم یمن کے خلاف جنگ کی ابتدا سے ہی آبنائے باب المندب پر قبضہ کرنے کی خواہاں تھی۔ باب المندب ایک ایسا آبنائے ہے جو یمن کے جنوب میں واقع ہے اور خاص اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ اس آبنائے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سویز کینال کے بعد یہ دنیا کا دوسرا بڑا آبنائے محسوب ہوتا ہے۔ آبنائے باب المندب درحقیقت بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کو آپس میں ملاتا ہے۔ اسی طرح یہ آبنائے جنوب مغربی ایشیا کو مشرقی افریقہ اور یورپ سے بھی متصل کرتا ہے۔ مزید برآں، دنیا میں خام تیل کی کل تجارت اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کا 6 فیصد حصہ آبنائے باب المندب کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ لہذا باب المندب پر کنٹرول آل سعود رژیم کیلئے وسیع اقتصادی مفادات کا حامل ہے۔ اس آبنائے پر جس کا بھی کنٹرول ہو گا وہ کسی بھی دوسرے ملک سے تنازعات کی صورت میں اس کی تجارتی کشتیوں کی آمدورفت روک کر مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کر سکتا ہے۔

یمن کے خلاف جنگ میں آل سعود رژیم کے نقصانات
یمن کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کو تقریباً تین سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود آل سعود رژیم مذکورہ بالا اہداف میں سے کسی ایک کو بھی حاصل کرنے میں مکمل ناکامی کا شکار ہوئی ہے۔ دوسری طرف یمن کی بہادر قوم، آرمی اور عوامی رضاکار فورسز کی مثالی شجاعت اور مزاحمت کے نتیجے میں سعودی رژیم کو شدید نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں۔ انصاراللہ یمن تحریک کے اعلی سطحی عہدیدار صادق الشرفی اس بارے میں کہتے ہیں کہ ان تین سالوں میں صرف یمن کے ساتھ سرحدی علاقوں میں ہی سعودی عرب کے 4500 فوجی مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں سعودی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ گذشتہ تین سالوں کے دوران یمن آرمی اور عوامی رضاکار فورسز نے آل سعود رژیم کے ایک ہزار سے زیادہ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح جارح سعودی اتحاد کے 40 ہیلی کاپٹرز، جنگی طیارے اور ڈرون طیارے بھی تباہ کئے جا چکے ہیں۔

یمن کے خلاف سعودی فوجی جارحیت جاری رہنے کے نتیجے میں آل سعود رژیم شدید اقتصادی مسائل کا شکار ہو چکی ہے۔ صرف 2015ء کے آخر تک یمن کی جنگ کے مد میں سعودی حکومت کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 40 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اسی طرح 2016ء کے آغاز میں سعودی رژیم کا فوجی بجٹ 81 ارب ڈالر پر مشتمل تھا جو دنیا کے مختلف ممالک میں پیش ہونے والے فوجی بجٹس میں ایک بڑی مقدار تصور ہوتی ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکومت گذشتہ سولہ برس میں سب سے زیادہ بجٹ کے خسارے کا شکار ہو چکی ہے۔ سعودی عرب کا 2017ء بجٹ کا خسارہ 52 ارب ڈالر تھا جبکہ اس سے پہلے 2016ء کے بجٹ کا خسارہ 70 ارب ڈالر بتایا جاتا ہے۔ اس حد تک خسارہ سعودی عرب کی تاریخ میں بے سابقہ ہے۔ مزید برآں، گذشتہ دو سال سے سعودی حکومت کی جانب سے اقتصادی محنت پر مبنی پالیسیاں اختیار کئے جانے کے باعث سعودی عوام شدید مالی دباو کا شکار ہیں۔ اس دباو کے نتیجے میں کئی عوامی احتجاجی تحریکیں بھی جنم لے رہی ہیں جن میں "ہمارے حقوق کافی نہیں" اور "ہمارے پیسے کہاں جا رہے ہیں" نامی تحریکیں قابل ذکر ہیں۔ یہ امر ملکی سطح پر سعودی خاندان کے خلاف بھرپور عوامی تحریک جنم لینے کا باعث بن سکتا ہے۔

نتیجہ
یمن کے خلاف جاری فوجی جارحیت کو تین سال مکمل ہونے کے بعد نہ صرف یمن آرمی اور عوامی رضاکار فورسز کمزور نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے اپنی اسٹریٹجک میزائل طاقت میں اضافہ بھی کیا ہے۔ گذشتہ تین برسوں میں یمن آرمی اور عوامی رضاکار فورسز نے کامیابی سے سعودی عرب کے فوجی اہداف حتی دارالحکومت ریاض میں واقع ٹھکانوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ مثال کے طور پر ملک فہد اور ملک خالد آرمی بیسز کا نام لیا جا سکتا ہے جو یمن کے بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنے ہیں۔ یمامہ میں واقع صدارتی محل بھی یمن کے میزائل حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف سعودی فوجی اتحاد میں شامل دیگر جارح ممالک جیسے متحدہ عرب امارات کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ میزائل حملے اس قدر موثر واقع ہوئے ہیں کہ حتی سعودی رژیم کے اصلی مغربی حامی ممالک جیسے برطانیہ اور امریکہ کی فریاد و پکار سنائی دینا شروع ہو گئی ہے۔ آج یمن کے خلاف ظالمانہ جنگ کو تین سال مکمل ہو گئے ہیں اور یمن کی شجاع قوم اور دفاعی قوتوں کی کامیابی کی تیسری سالگرہ تاریخ میں مرقوم ہو چکی ہے۔