• حملے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے: حزب اللہ

  • امریکا علاقے میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پائےگا،حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای

  • شام پر حملہ کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں:شامی مفتی اعظم

  • یوم ولادت امام حسین ؑ پر ضلع گلگت میں سرکار کا بڑا اعلان

  • کعبہ کی طرح مسجد اقصیٰ بھی انتظارِ امام زمانہؑ میں

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)حال ہی میں ایک ہزارہ خاتون نے سوشل میڈیا پر شکایت کی کہ اس سے ایک چیک پوسٹ پر غیرمناسب سوالات کیے گئے۔ ٹوئٹر پر موجود آدھے پاکستانی اسے لیکچر دینے لگے کہ ہمیں بھی روکتے ہیں، ہم تو شکایت نہیں کرتے۔ گذشتہ ہفتے کوئٹہ میں ایک ہزارہ دکاندار کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ایسی خبریں پڑھتے پڑھتے اور کچھ ٹوٹی پھوٹی رپورٹنگ کرتے ہوئے مزاج اتنا سنکی ہو گیا ہے کہ نہ مجھے قاتلوں پر غصہ آیا، نہ پولیس پر، نہ فوج پر۔ دل سے صرف یہ نکلا کہ او بھائی تو دکان پر گیا ہی کیوں تھا۔

خبر میں کہیں سرسری سا یہ بھی ذکر تھا کہ گذشتہ پانچ برس میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے 509 افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ یہ تعداد کسی لفافہ صحافی نے نہیں بتائی،نہ ہی یہ اعداد و شمار کسی ڈالر خور این جی او کے ہیں۔ یہ تعداد حکومتِ پاکستان کے قائم کیے گئے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔جو کہ سراسر غلط ہے، گذشتہ ہفتے ہی کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا ایک دھرنا بھی جاری تھا کیونکہ اپریل کے شروع میں ہزارہ برادری پر حملہ ہوا تھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ پاکستان کے میڈیا نے اس پر کوئی خبر چلائی یا نہیں۔ میں نے صرف سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے کچھ نوجوانوں کو پوسٹر اٹھائے ہوئے دیکھا۔
اگر سرکاری اعداد و شمار کو درست مان لیا جائے تو گذشتہ پانچ برسوں میں پانچ سو اور اس سے پہلے کے پانچ برسوں میں ایک ہزار سے بھی زیادہ ہزارہ افراد مارے گئے ہیں۔ ہوٹل پر چائے پیتے ہوئے، سکول جاتے ہوئے، دفتر سے واپس آتے ہوئے، اپنی گلی کے سنوکر کلب میں، کبھی کبھی تاک تاک کر اور کبھی بڑے بڑے دھماکے کر کے۔
کبھی کوئی چیف جسٹس نوٹس نہیں لیتا، کبھی ٹی وی پر بیٹھا کوئی دفاعی تجزیہ نگار نہیں سمجھاتا کہ ہمارا کون سا دشمن ہے جو ایک چھوٹی سی برادری کی نسل کشی کے درپے ہے۔ کوئی بتائے گا بھی کیوں کیونکہ پوچھنے والا بھی تو کوئی نہیں ہے۔
کوئی دو برس پہلے میں نے کوئٹہ کے ایک پولیس افسر سے یہی سوال پوچھا تھا۔ اس نے تسلی دی تھی کہ اب حالات وہ نہیں رہے۔ ہزارہ ہمارے لاڈلے بچوں کی طرح ہیں۔ ہم ایک ایک جان کی حفاظت کریں گے۔ پولیس افسر سینئر تھا اور لہجہ پراعتماد۔ مجھے لگا شاید واقعی ہزارہ برادری کی غم کی شام ختم ہونے کو ہے۔ ابھی واپس کراچی پہنچا ہی تھا کہ خبر آئی کہ کچھ ہزارہ جو کوئٹہ کی سبزی منڈی سبزی خریدنے گئے تھے، ہلاک کر دیے گئے۔ تھوڑی دیر بعد اسی پولیس افسر کا بیان بھی آ گیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ سبزی منڈی گئے ہی کیوں تھے۔
ہمیں عادت ہے کہ سیاستدانوں کو، فوج کو، انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اور دہشتگردوں کو دن رات جلی کٹی سناتے ہیں لیکن اجتماعی بےحسی کا یہ عالم ہے کہ برسوں سے ہزارہ نسل کشی کی یہ فلم سلوموشن میں دیکھ رہے ہیں اور کبھی رک کر یہ بھی نہیں پوچھتے کہ کوئٹہ کی علمدار روڈ اور کوہِ مردار کے بیچ میں ایک بستی میں رہنے والی اس قوم کا قصور کیا ہے۔ شیعہ ہونے کے علاوہ ہم ان پر کوئی ڈھنگ کا الزام بھی نہیں لگاتے۔ہزارہ برادری کے قتلِ عام کے بارے میں جو آخری تفصیلی رپورٹ میں نے پاکستانی میڈیا میں دیکھی تھی وہ ڈان اخبار کے آن لائن ایڈیٹر مرحوم مصدق سانول نے مرتب کی تھی۔ اس کا عنوان تھا، آئی ایم ہزارہ۔ اگر کوئی دلچسپی ہو تو ڈان کی ویب سائٹ پر ڈھونڈ لیجیے گا۔

اس رپورٹ کے چھپنے کے بعد کراچی میں پڑھنے والے کچھ ہزارہ طلبا نے ایک مباحثے کا انتظام کیا۔ (یونیورسٹی کا نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ ہزاروں کے شکاری کبھی کبھی کراچی بھی پہنچ جاتے ہیں) تقریب کے بعد چائے پر کچھ ہزارہ سرکاری ملازمین اور بینکر حضرات نے کہا سائیڈ پر آ جائیں ایک بات کرنی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک آئیڈیا ہے وہ یہ کہ چونکہ فوج اور پولیس وغیرہ تو ہماری حفاظت کرنے میں ناکام ہیں،کرنا ہی نہیں چاہتے تو ہم سوچ رہے ہیں کہ اسلحہ خریدیں، ایک مسلح تنظیم بنائیں اور اس سے پہلے کہ دشمن ہمارے گھر تک پہنچے ہم اس کے گھر پہنچ جائیں۔ میں نے ان کی بات سنجیدگی سے سنی۔ہزارہ کو ایک جنگجو قوم سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی فوج میں بھی بڑے جری ہزارہ افسر اور جوان رہے ہیں اور یقیناً اب بھی ہوں گے۔ پاکستان میں ایف 16 طیارہ اڑانے والے اولین پائلٹ ایک ہزارہ تھے۔ کارگل کے پہلے شہیدوں میں بھی ایک ہزارہ افسر شامل تھے۔

میں نے چائے پینے والے ہزارہ بابوں سے پوچھا وہ یہ آئیڈیا مجھے کیوں بتا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا سول سوسائٹی اس طرح کی تنظیم کی حمایت کرے گی۔ میں نے ہاتھ جوڑے اور کہا کہ اس ملک میں مسلح تنظیمیں پہلے ہی بہت ہیں آپ کوئی بغیر بندوق کا حل سوچیں۔

کئی برس بعد انڈونیشیا کے ایک قصبے میں سیاسی پناہ کے انتظار میں بیٹھے ایک ہزارہ پولیس انسپکٹر سے بات ہوئی۔ وہ کوئٹہ سے اس لیے بھاگا تھا کہ اس کے پولیس افسر کزن کو شہید کر دیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ کوئٹہ میں بھی ہمارے کچھ ہزارہ بھائی بندوق اٹھانے کی بات کرتے تھے۔ میں ان سے کہتا تھا کہ ہمارے آگے فوج کی چیک پوسٹ ہیں اور پیچھے کوہِ مردار۔ کہیں بھاگنے کی جگہ بھی نہیں، کیڑے مکوڑوں کی طرح مارے جاؤ گے۔

شاید وہ ہزارہ جوان صحیح کہتا تھا کیڑے مکوڑوں کی موت پر کیسی خبریں اور کیا تبصرے۔ چند سال پہلے جب ہزارہ ایک سو سے زیادہ کفن رکھ کر بڑے شہروں میں احتجاج کر رہے تھے تو ہمارے اپنے ہی بھائی کہتے تھے یار ان ہزارہ لوگوں نے ٹریفک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)تیونس سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو کہ مبینہ طور پر القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا محافظ تھا، 1997 سے جرمنی میں مقیم ہے اور اسے ویلفیئر کی مد میں ماہانہ 1168 یورو دیے جاتے ہیں۔

یہ اطلاع علاقائی حکومت نے اس وقت شائع کی جب انتہائی دائیں بازو کی جماعت نے سمیع اے نامی ایک شخص کے بارے میں معلومات کی درخواست کی۔جرمن میڈیا نے سکیورٹی کے پیشِ نظر اس شخص کا مکمل نام ظاہر نہیں کیا ہے۔
اس شخص نے جہادیوں سے تعلق کی تردید کی ہے۔ اس شخص کو ملک بدر کر کے تیونس بھیجنے کو رد کر دیا گیا ہے کیونکہ خدشات ہیں کہ وہاں اس پر تشدد کیا جا سکتا ہے۔اسامہ بن لادن القاعدہ کے سربراہ تھا اور مئی 2011 میں امریکی فورسز کے آپریشن میں پاکستان میں ماراگیا۔9/11 کے حملوں میں خودکش پائلٹس میں سے کم از کم تین القاعدہ کے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں موجود سیل کے اراکین تھا۔
2005میں انسدادِ دہشتگردی کے ایک مقدمے میں ایک گواہ کے بیان کے مطابق سمیع اے نے سنہ 2000 میں کئی ماہ تک اسامہ بن لادن کے محافظ کے طور پر افغانستان میں کام کیا۔اُس نے اس الزام کی تردید کی ہے تاہم جج نے گواہ کی شہادت پر یقین کیا تھا۔
2006 میں سمیع اے کے القاعدہ کے ساتھ روابط کی تفتیش کی تاہم ان پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔سمیع اے اپنی جرمن اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ مغربی جرمنی کے شہر بوچم میں مقیم ہے۔
انھوں نے 1999 میں جرمنی میں رہائش کا عبوری اجازت نامہ حاصل کیا اور اس نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے متعدد کورسز کیے اور 2005 میں اس شہر منتقل ہوا۔
2007 میں اس کی پناہ کی درخواست اس لیے مسترد کر دی گئی کیونکہ حکام نےاسے سکیورٹی کے حوالے سے خطرہ قرار دیا تھا۔اسے ہر روز مقامی تھانے میں حاضری لگانی پڑتی ہے۔
جرمن حکومت کا موقف ہے کہ مشتبہ جہادیوں کو شمالی افریقہ میں تشدد کا خطرہ ہے۔ اسی لیے تیونس اور ہمسایہ عرب ممالک میں مہاجرین کو واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ انسانی حقوق کی یورپی کنوینشن کے مطابق تشدد پر پابندی ہے۔

 

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)ایک مشہور عرب روزنامہ نے اپنی ایک تحلیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فلسطینی تحریک مقاومت حماس کی طرف سے شام پر امریکی حملوں کی مذمت اورصدربشارالاسد کی حمایت جاری رکھنے کے اعلان سے صیہونی حکومت وحشت زدہ ہے۔

روزنامہ رائے الیوم نے اپنے ایک تحلیلی رپورٹ میں لکھا کہ فلسطینی تحریک مقاومت حماس کی طرف سے شام پر امریکی حملوں کی مذمت اورصدربشارالاسد کی حمایت کی جاری رکھنےکے اعلان سے صیہونی حکومت وحشت زدہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ فلسطینی مقاومت کی طرف سے دمشق حکومت کی بھرپور حمایت کے اعلان سے صیہونی حکام میں جو خوف طاری ہوچکی ہے وہ ان کے بیانات سے پوری طرح دیکھا جاسکتا ہے۔

دریں اثنا صیہونی صحافی شمریت میر نے اپنے مضمون میں لکھاکہ مختلف فلسطینی گروہوں کے درمیان اختلافات موجود ہونے کے باوجود انہوں نے امریکہ کی قیادت میں شام پر جارحیت کی مذمت کی ۔

انہوں نے کہاکہ فلسطین کی تمام پارٹیوں نے شام پر امریکہ ،برطانیہ اورفرانس کے حملوں کی مذمت کی جبکہ قطر اور سعودی عرب ان حملوں کی حمایت میں آگے آئے جبکہ مصر اوراردن نے کوئی واضح مؤقف پیش نہیں کیا۔

واضح رہے کہ فلسطین کی اسلامی تحریک مقاومت حماس نے اپنے حالیہ بیان میں شام پر گذشتہ ہفتے امریکی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مسلمان ملک کی خودمختاری اورپوری مسلمہ امہ پر حملہ قراردیا۔حماس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ شام پر امریکہ اوراسکے اتحادیوں کاحملہ صیہونی ریاست کے دفاع اور اس کی سازشوں کو تسلسل فراہم کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ وہ شام میں عام شہریوں کے تحفظ کیلئے بمباری کررہا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ ) ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں حملے کے ردِعمل میں ’علاقائی نتائج‘ کی تنبیہ کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کی تفتیش سے پہلے ہی انھوں نے یہ حملہ کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس غیر ذمہ دارانہ حملہ کے علاقائی نتائج مرتب ہوں گے اور اس کے ذمہ دار مغربی ممالک ہوں گے۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ ) حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ شام کے خلاف جو جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جو آزادی اور مزاحمتی تحریکوں کے خلاف ہے، یہ جنگ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔‘

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ڈائیلاگ، ہم آہنگی، سیاسی عمل میں شمولیت، گڈ گورننس اور انسانی حقوق کا احترام کر کے نوجوانوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوئیٹریس نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسند گروہوں کا ہدف نوجوان ہوتےہیں کیونکہ وہ تبدیلی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگوئیٹریس نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو ذمہ دار شہری بنانے کے لیےاقدامات کیے جانے چاہئیں اور خاص طور پر ڈائیلاگ، ہم آہنگی، سیاسی عمل میں شمولیت، گڈ گورننس اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اس موقع پردہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جرأت سے مقابلہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نفرت کا پرچار کر کے نوجوانوں کو عدم برداشت اور تشدد کی جانب مائل کیا جاتا ہے اور غیرملکی مداخلت، قبضہ، سیاسی و اقتصادی ناانصافی، امتیازی سلوک جیسے عمل بھی انتہاپسندی پروان چڑھاتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )امریکہ کی جانب سے شام پر میزائلی حملے پر روس اور شام نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی دھمکی کے بعد شام پر فوری میزائلی حملے سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ

فوری طور پر شام پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔

ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر نے لکھا کہ انہوں نے شام پر حملے کے وقت کا اعلان کبھی نہیں کیا تاہم حملہ جلد بھی ہوسکتا ہے اور اس میں دیر بھی ہو سکتی ہے!

گزشتہ روز امریکی صدر نے روس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیمیائی حملوں کے ردعمل میں پہلے سے زیادہ بہتر نتائج دینے والے امریکی میزائل شام کو نشانہ بنانے آرہے ہیں لہذا روس اپنے بچاؤ کی تیاری کر لے، روس کو ایسے ملک کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا جو معصوم لوگوں پر زہریلی گیس کا حملہ کرکے لطف اندوز ہوتا ہو۔

امریکی الزامات اور دھمکیوں پرروس نےامریکہ کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شام میں کیمیائی حملے کا الزام ’اسکرپٹڈ ڈرامے‘ کا حصہ ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے اگر اس بے بنیاد اور جھوٹے واقعے کو جواز بنا کر امریکا شام میں حملہ آور ہوتا ہے تو اسے سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ دو دنوں میں شام پر حملے سے متعلق حلیف ممالک کے ساتھ مل کر فیصلہ کرلیں گے لیکن اب وہ روس کے سخت رد عمل کے بعد اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

 

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے چار فریقی عرب کمیٹی کے ایران مخالف اعلامیہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ اعلامیہ جو عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل کی موجودگی میں جاری ہوا من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کی شب ریاض کے اختتامی اعلامیے میں دعوی کیا کہ ایران، عرب ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کر رہا ہے اور یہ اقدام علاقے کی سلامتی اور سیکورٹی کے لئے خطرناک ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اسی طرح اپنے تکراری دعوے میں ایران کے تین جزائر تنب کوچک، تنب بزرگ اور بوموسی کی ملکیت کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے دعوے کی بھی حمایت کی۔

بہرام قاسمی نے چار فریقی عرب کمیٹی کی آٹھویں وزراتی کمیٹی کی جانب سے ایران مخالف بیانات کو سختی سے مسترد اور اسے بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیز بیانات سے علاقائی امن و استحکام پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس اعلامیے میں دشمنانہ اور غلط رویہ اختیار کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خطے کے بعض ممالک دشمنوں جیسا موقف اپناتے ہوئے دانستہ طور پر مسلمانوں کے دشمنوں کی خواہشات پرعمل کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمنی اور بدگمانی کا طریقہ اپنانے کے غلط راستوں پر گامزن ہیں۔

بہرام قاسمی نے اس امید کا اظہار کیا کہ عرب لیگ کے سربراہی اجلاس جس کا انعقاد چند روز بعد ہوگا، خطے کی اصل مشکلات کو روشناس کرانے اور اس کے حل کے لئے عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان تعمیری تعاون کو فروغ دینے کے لئے اہم کردار ادا کرے۔

واضح رہے کہ عرب لیگ کا سربراہی اجلاس اتوار 15 اپریل کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقد ہوگا۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ فرانسیسی حکام کو سعودی عرب کے نا تجربہ کار اور جنگ پسند ولیعہد کی مہم جوئی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کل فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس جو خود 1+5 کا رکن ہے اس سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ وہ سعودی عرب کے جھوٹے اور تکراری الزامات اور دعووں میں آجائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب شروع سے ہی جوہری معاہدے کی مخالفت میں بیانات دے رہا تھا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان میں ہونے والے دعووں کے بر خلاف ایران، علاقے میں قیام امن اور دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد کی اور مذاکرات اور گفتگو کو مغربی ایشیا کے علاقے میں امن و آشتی کے لئے واحد راستہ قرار دیتا ہے۔

بہرام قاسمی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ میزائلی پروگرام ایران کا اندرونی موضوع ہے، کہا کہ فرانس کے حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کا میزائلی پروگرام دفاع کے لئے ہے اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسی طرح فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان میں علاقے کے بعض ملکوں اور گروہوں کے لئے ایران کی جانب سے ہتھیاروں کی ترسیل کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کیا۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ فرانس کے حکام کو اپنے عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی ترسیل کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئیے اس لئے کہ ان ہتھیاروں سے سعودی حکام یمن کے نہتے اور مظلوم عوام کا خون بہا رہے ہیں۔

 

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )بعض پریس ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ شام پر امریکی حملے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔

بعض امریکی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکام نے شام پر حملہ کرنے کے لئے تمام وسائل منجملہ جنگی طیارے، بحری جنگی بیڑے، اور فوج کو آمادہ کر لیا ہے اور امریکی فوجی کمانڈر شام پر حملہ شروع کرنے کے لئے صرف امریکی صدر ٹرمپ کے احکامات کے منتظر ہیں۔فاکس نیوز ٹی وی نے بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں شام پر امریکی حملہ شروع ہو جائے گا۔ ان ذرائع‏ کے مطابق شام کی فضا میں کوئی مسافربردار طیارہ دور دور تک نہیں دیکھا جا رہا ہے۔امریکہ نے شام پر حملے کا بہانہ بنانے کے لئے پرانا راگ الاپتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ حکومت شام نے غوطہ شرقی میں واقع دوما کے علاقے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہیں اور اس کے اس اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔حکومت شام کے خلاف اس الزام کے تحت ایسی حالت میں ماحول سازگار بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ غوطہ شرقی میں دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک، شام میں اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لئے نئی سازش رچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔