• ایک بار پھر ایرانی قونصلیٹ پر حملہ

  • شہدائے کربلا کی یاد، ملک بھرمیں آٹھ محرم کے جلوس برآمد، سیکیورٹی ہائی الرٹ

  • امام پاک اور یزید پلید

  • یوم عاشورا حضرت امام حسین (ع) کے ساتھ تجدید بیعت کا اعلان

  • کربلا تا روز قیامت انسانوں کیلئے مشعل راہ بنی رہیگی، یاسین ملک

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی کنگ شاہ سلمان نے اربوں ڈالر کی لاگت سے بننے والے دنیا کے سب سے بڑے انٹرٹینمنٹ پارک کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کے شاہ سلمان نے ہفتے کو دارالحکومت ریاض کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی تفریح گاہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ یہ سنگ بنیاد ریاض کے قریب واقع جگہ ’قدیہ‘ میں رکھا گیا ہے جہاں اربوں ڈالر کی لاگت سے ایک ایسی تفریح گاہ بنائی جارہی ہے جسے بلاشبہ دنیا کے سب سے بڑے تفریحی پارک کا اعزاز حاصل ہوگا۔قدیہ انٹرٹینمنٹ پارک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک انٹرٹینمنٹ پارک نہیں بلکہ کلچرل حب ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ قدیہ انٹرٹینمنٹ پارک میں والٹ ڈزنی اور دیگر تھیم پارک کمپنیوں کی مدد سے 334 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر بنایا جارہا ہے جس میں والٹ ڈزنی ریسورٹ، تھیم پارک، سفاری پارک اور متعدد اقسام کی تفریحی سہولیات شامل ہیں۔

قدیہ پارک کےچیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ یہ پارک سعودی عرب کی معیشت کی نمو اور پرکشش سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا، یہ پارک نہ صرف تفریحی شعبے میں مثبت قدم ہے بلکہ اس پارک سے سعودی نوجوانوں کی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوں گی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)المیسرہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ آل سعود کے لڑاکا طیاروں کے فضائی حملے میں شہید ہونے والے یمنی رہنما صالح الصماد کے تشییع جنازے کے مراسم میں لاکھوں افراد شامل ہیں،امریکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے خلاف سخت نعرہ بازی کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تشییع جنازے میں اعلی حکام کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی شریک ہیں

دوسری طرف سعودی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے مظاہرین کو دھماکانے کے لئے پروازوں کا آغاز کردیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق سعودی جنگی جہازوں نے بعض علاقوں پر بمباری ہے کی ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد خاک و خوں میں غلطاں ہوگئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے لیے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم مزید تین فلسطینی شہید اور 900 زخمی ہوگئے۔فلسطینی کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زخمیوں میں 11 طبی عملے کے رضاکار شامل ہیں۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق کل جمعہ کو اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی شناخت 29 سالہ عبدالسلام بکر،21 سالہ محمد امین المقید کے نام سے کی گئی ہے جب چوتھے شہید کا نام معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) متحدہ مجلس عمل پاکستان صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری اور شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے جماعت اسلامی کی اپیل پر کے الیکٹرک کی بے حسی کے خلاف ہونے والی کامیاب ہڑتال پر جماعت اسلامی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس وقت کراچی کے سب سے سنگین مسئلے لوڈشیڈنگ بحران کے خلاف آواز اٹھائی ہے، جس پر عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ علامہ ناظر عباس تقوی کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک انتظامیہ کو اب ہوش میں آنا چاہیئے، شہر بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے، کراچی کے کچھ علاقے ایسے بھی جہاں چوبیس چوبیس گھنٹے لائٹ موجود نہیں ہے، اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے بھی خاموشی سوالیہ نشان ہے، حکمرانوں کو بھی عوام کی کوئی پرواہ نہیں، جھوٹے وعدے اور جھوٹی تسلیوں سے عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ علامہ ناظر عباس تقوی نے مزید کہا کہ ملک کی باشعور عوام کو چاہیئے کہ آئندہ الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو ووٹ ڈال کر کامیاب کریں، تاکہ ملک ترقیوں کے سفر پر گامزن ہوسکے، ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کے الیکٹرک کے ادارے کے خلاف بھی سخت نوٹس لیں، تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)حرین میں آل خلیفہ حکومت کی نمائشی عدالت نے حکومت مخالف اپنے شوہروں کو پناہ دینے کے الزام میں تین بہنوں کو تین تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بحرین کی عدالت نے الدراز کے تعلق رکھنے والی تین بہنوں فاطمہ علی، اعمال علی اور ایمان علی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے انھیں تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ان تینوں بہنوں کو جون دو ہزار سترہ میں الدراز کے رہائشی علاقے پر سیکورٹی اہلکاروں کے حملے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالت نے کئی ماہ تک حراست میں رکھنے کے بعد دو بہنوں کو عارضی طور پر ضمانت پر رہا کر دیا تھا مگر بعد میں پھر گرفتار کئے جانے کا حکم سنا دیا۔

بحرین سے ہی ایک اور خبر یہ ہے کہ آل خلیفہ حکومت نے رائے عامہ کے دباؤ اور ملک کے اندر و باہر دکھائے جانے والے وسیع ردعمل کے بعد چھے بحرینی شہریوں کی سزائے موت کے فیصلے کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سندھ کے وزیر امداد پتافی کو سوشل میڈیا ایپلیکیشن واٹس ایپ پر کالعدم لشکر جھنگوی کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ آپ کے پاس ایک دن باقی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کالعدم دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی کی جانب سے صوبائی وزیر امداد پتافی کو واٹس ایپ کے ذریعے دھمکی دی گئی ہے کہ آپ کے پاس ایک دن باقی ہے۔ امداد پتافی کا کہنا ہے کہ انہوں نے دھمکی آمیز پیغام سے متعلق وزیراعلٰی سندھ اور آئی جی پولیس کو آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، یہ میرا ایمان ہے، یہ ہمیں خوف زدہ نہیں کرسکتے، پیپلز پارٹی ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوگی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)حال ہی میں ایک ہزارہ خاتون نے سوشل میڈیا پر شکایت کی کہ اس سے ایک چیک پوسٹ پر غیرمناسب سوالات کیے گئے۔ ٹوئٹر پر موجود آدھے پاکستانی اسے لیکچر دینے لگے کہ ہمیں بھی روکتے ہیں، ہم تو شکایت نہیں کرتے۔ گذشتہ ہفتے کوئٹہ میں ایک ہزارہ دکاندار کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ایسی خبریں پڑھتے پڑھتے اور کچھ ٹوٹی پھوٹی رپورٹنگ کرتے ہوئے مزاج اتنا سنکی ہو گیا ہے کہ نہ مجھے قاتلوں پر غصہ آیا، نہ پولیس پر، نہ فوج پر۔ دل سے صرف یہ نکلا کہ او بھائی تو دکان پر گیا ہی کیوں تھا۔

خبر میں کہیں سرسری سا یہ بھی ذکر تھا کہ گذشتہ پانچ برس میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے 509 افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ یہ تعداد کسی لفافہ صحافی نے نہیں بتائی،نہ ہی یہ اعداد و شمار کسی ڈالر خور این جی او کے ہیں۔ یہ تعداد حکومتِ پاکستان کے قائم کیے گئے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔جو کہ سراسر غلط ہے، گذشتہ ہفتے ہی کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا ایک دھرنا بھی جاری تھا کیونکہ اپریل کے شروع میں ہزارہ برادری پر حملہ ہوا تھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ پاکستان کے میڈیا نے اس پر کوئی خبر چلائی یا نہیں۔ میں نے صرف سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے کچھ نوجوانوں کو پوسٹر اٹھائے ہوئے دیکھا۔
اگر سرکاری اعداد و شمار کو درست مان لیا جائے تو گذشتہ پانچ برسوں میں پانچ سو اور اس سے پہلے کے پانچ برسوں میں ایک ہزار سے بھی زیادہ ہزارہ افراد مارے گئے ہیں۔ ہوٹل پر چائے پیتے ہوئے، سکول جاتے ہوئے، دفتر سے واپس آتے ہوئے، اپنی گلی کے سنوکر کلب میں، کبھی کبھی تاک تاک کر اور کبھی بڑے بڑے دھماکے کر کے۔
کبھی کوئی چیف جسٹس نوٹس نہیں لیتا، کبھی ٹی وی پر بیٹھا کوئی دفاعی تجزیہ نگار نہیں سمجھاتا کہ ہمارا کون سا دشمن ہے جو ایک چھوٹی سی برادری کی نسل کشی کے درپے ہے۔ کوئی بتائے گا بھی کیوں کیونکہ پوچھنے والا بھی تو کوئی نہیں ہے۔
کوئی دو برس پہلے میں نے کوئٹہ کے ایک پولیس افسر سے یہی سوال پوچھا تھا۔ اس نے تسلی دی تھی کہ اب حالات وہ نہیں رہے۔ ہزارہ ہمارے لاڈلے بچوں کی طرح ہیں۔ ہم ایک ایک جان کی حفاظت کریں گے۔ پولیس افسر سینئر تھا اور لہجہ پراعتماد۔ مجھے لگا شاید واقعی ہزارہ برادری کی غم کی شام ختم ہونے کو ہے۔ ابھی واپس کراچی پہنچا ہی تھا کہ خبر آئی کہ کچھ ہزارہ جو کوئٹہ کی سبزی منڈی سبزی خریدنے گئے تھے، ہلاک کر دیے گئے۔ تھوڑی دیر بعد اسی پولیس افسر کا بیان بھی آ گیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ سبزی منڈی گئے ہی کیوں تھے۔
ہمیں عادت ہے کہ سیاستدانوں کو، فوج کو، انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اور دہشتگردوں کو دن رات جلی کٹی سناتے ہیں لیکن اجتماعی بےحسی کا یہ عالم ہے کہ برسوں سے ہزارہ نسل کشی کی یہ فلم سلوموشن میں دیکھ رہے ہیں اور کبھی رک کر یہ بھی نہیں پوچھتے کہ کوئٹہ کی علمدار روڈ اور کوہِ مردار کے بیچ میں ایک بستی میں رہنے والی اس قوم کا قصور کیا ہے۔ شیعہ ہونے کے علاوہ ہم ان پر کوئی ڈھنگ کا الزام بھی نہیں لگاتے۔ہزارہ برادری کے قتلِ عام کے بارے میں جو آخری تفصیلی رپورٹ میں نے پاکستانی میڈیا میں دیکھی تھی وہ ڈان اخبار کے آن لائن ایڈیٹر مرحوم مصدق سانول نے مرتب کی تھی۔ اس کا عنوان تھا، آئی ایم ہزارہ۔ اگر کوئی دلچسپی ہو تو ڈان کی ویب سائٹ پر ڈھونڈ لیجیے گا۔

اس رپورٹ کے چھپنے کے بعد کراچی میں پڑھنے والے کچھ ہزارہ طلبا نے ایک مباحثے کا انتظام کیا۔ (یونیورسٹی کا نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ ہزاروں کے شکاری کبھی کبھی کراچی بھی پہنچ جاتے ہیں) تقریب کے بعد چائے پر کچھ ہزارہ سرکاری ملازمین اور بینکر حضرات نے کہا سائیڈ پر آ جائیں ایک بات کرنی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک آئیڈیا ہے وہ یہ کہ چونکہ فوج اور پولیس وغیرہ تو ہماری حفاظت کرنے میں ناکام ہیں،کرنا ہی نہیں چاہتے تو ہم سوچ رہے ہیں کہ اسلحہ خریدیں، ایک مسلح تنظیم بنائیں اور اس سے پہلے کہ دشمن ہمارے گھر تک پہنچے ہم اس کے گھر پہنچ جائیں۔ میں نے ان کی بات سنجیدگی سے سنی۔ہزارہ کو ایک جنگجو قوم سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی فوج میں بھی بڑے جری ہزارہ افسر اور جوان رہے ہیں اور یقیناً اب بھی ہوں گے۔ پاکستان میں ایف 16 طیارہ اڑانے والے اولین پائلٹ ایک ہزارہ تھے۔ کارگل کے پہلے شہیدوں میں بھی ایک ہزارہ افسر شامل تھے۔

میں نے چائے پینے والے ہزارہ بابوں سے پوچھا وہ یہ آئیڈیا مجھے کیوں بتا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا سول سوسائٹی اس طرح کی تنظیم کی حمایت کرے گی۔ میں نے ہاتھ جوڑے اور کہا کہ اس ملک میں مسلح تنظیمیں پہلے ہی بہت ہیں آپ کوئی بغیر بندوق کا حل سوچیں۔

کئی برس بعد انڈونیشیا کے ایک قصبے میں سیاسی پناہ کے انتظار میں بیٹھے ایک ہزارہ پولیس انسپکٹر سے بات ہوئی۔ وہ کوئٹہ سے اس لیے بھاگا تھا کہ اس کے پولیس افسر کزن کو شہید کر دیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ کوئٹہ میں بھی ہمارے کچھ ہزارہ بھائی بندوق اٹھانے کی بات کرتے تھے۔ میں ان سے کہتا تھا کہ ہمارے آگے فوج کی چیک پوسٹ ہیں اور پیچھے کوہِ مردار۔ کہیں بھاگنے کی جگہ بھی نہیں، کیڑے مکوڑوں کی طرح مارے جاؤ گے۔

شاید وہ ہزارہ جوان صحیح کہتا تھا کیڑے مکوڑوں کی موت پر کیسی خبریں اور کیا تبصرے۔ چند سال پہلے جب ہزارہ ایک سو سے زیادہ کفن رکھ کر بڑے شہروں میں احتجاج کر رہے تھے تو ہمارے اپنے ہی بھائی کہتے تھے یار ان ہزارہ لوگوں نے ٹریفک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)تیونس سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو کہ مبینہ طور پر القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا محافظ تھا، 1997 سے جرمنی میں مقیم ہے اور اسے ویلفیئر کی مد میں ماہانہ 1168 یورو دیے جاتے ہیں۔

یہ اطلاع علاقائی حکومت نے اس وقت شائع کی جب انتہائی دائیں بازو کی جماعت نے سمیع اے نامی ایک شخص کے بارے میں معلومات کی درخواست کی۔جرمن میڈیا نے سکیورٹی کے پیشِ نظر اس شخص کا مکمل نام ظاہر نہیں کیا ہے۔
اس شخص نے جہادیوں سے تعلق کی تردید کی ہے۔ اس شخص کو ملک بدر کر کے تیونس بھیجنے کو رد کر دیا گیا ہے کیونکہ خدشات ہیں کہ وہاں اس پر تشدد کیا جا سکتا ہے۔اسامہ بن لادن القاعدہ کے سربراہ تھا اور مئی 2011 میں امریکی فورسز کے آپریشن میں پاکستان میں ماراگیا۔9/11 کے حملوں میں خودکش پائلٹس میں سے کم از کم تین القاعدہ کے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں موجود سیل کے اراکین تھا۔
2005میں انسدادِ دہشتگردی کے ایک مقدمے میں ایک گواہ کے بیان کے مطابق سمیع اے نے سنہ 2000 میں کئی ماہ تک اسامہ بن لادن کے محافظ کے طور پر افغانستان میں کام کیا۔اُس نے اس الزام کی تردید کی ہے تاہم جج نے گواہ کی شہادت پر یقین کیا تھا۔
2006 میں سمیع اے کے القاعدہ کے ساتھ روابط کی تفتیش کی تاہم ان پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔سمیع اے اپنی جرمن اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ مغربی جرمنی کے شہر بوچم میں مقیم ہے۔
انھوں نے 1999 میں جرمنی میں رہائش کا عبوری اجازت نامہ حاصل کیا اور اس نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے متعدد کورسز کیے اور 2005 میں اس شہر منتقل ہوا۔
2007 میں اس کی پناہ کی درخواست اس لیے مسترد کر دی گئی کیونکہ حکام نےاسے سکیورٹی کے حوالے سے خطرہ قرار دیا تھا۔اسے ہر روز مقامی تھانے میں حاضری لگانی پڑتی ہے۔
جرمن حکومت کا موقف ہے کہ مشتبہ جہادیوں کو شمالی افریقہ میں تشدد کا خطرہ ہے۔ اسی لیے تیونس اور ہمسایہ عرب ممالک میں مہاجرین کو واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ انسانی حقوق کی یورپی کنوینشن کے مطابق تشدد پر پابندی ہے۔

 

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)ایک مشہور عرب روزنامہ نے اپنی ایک تحلیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فلسطینی تحریک مقاومت حماس کی طرف سے شام پر امریکی حملوں کی مذمت اورصدربشارالاسد کی حمایت جاری رکھنے کے اعلان سے صیہونی حکومت وحشت زدہ ہے۔

روزنامہ رائے الیوم نے اپنے ایک تحلیلی رپورٹ میں لکھا کہ فلسطینی تحریک مقاومت حماس کی طرف سے شام پر امریکی حملوں کی مذمت اورصدربشارالاسد کی حمایت کی جاری رکھنےکے اعلان سے صیہونی حکومت وحشت زدہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ فلسطینی مقاومت کی طرف سے دمشق حکومت کی بھرپور حمایت کے اعلان سے صیہونی حکام میں جو خوف طاری ہوچکی ہے وہ ان کے بیانات سے پوری طرح دیکھا جاسکتا ہے۔

دریں اثنا صیہونی صحافی شمریت میر نے اپنے مضمون میں لکھاکہ مختلف فلسطینی گروہوں کے درمیان اختلافات موجود ہونے کے باوجود انہوں نے امریکہ کی قیادت میں شام پر جارحیت کی مذمت کی ۔

انہوں نے کہاکہ فلسطین کی تمام پارٹیوں نے شام پر امریکہ ،برطانیہ اورفرانس کے حملوں کی مذمت کی جبکہ قطر اور سعودی عرب ان حملوں کی حمایت میں آگے آئے جبکہ مصر اوراردن نے کوئی واضح مؤقف پیش نہیں کیا۔

واضح رہے کہ فلسطین کی اسلامی تحریک مقاومت حماس نے اپنے حالیہ بیان میں شام پر گذشتہ ہفتے امریکی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مسلمان ملک کی خودمختاری اورپوری مسلمہ امہ پر حملہ قراردیا۔حماس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ شام پر امریکہ اوراسکے اتحادیوں کاحملہ صیہونی ریاست کے دفاع اور اس کی سازشوں کو تسلسل فراہم کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ وہ شام میں عام شہریوں کے تحفظ کیلئے بمباری کررہا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ ) ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں حملے کے ردِعمل میں ’علاقائی نتائج‘ کی تنبیہ کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کی تفتیش سے پہلے ہی انھوں نے یہ حملہ کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس غیر ذمہ دارانہ حملہ کے علاقائی نتائج مرتب ہوں گے اور اس کے ذمہ دار مغربی ممالک ہوں گے۔