• ایک بار پھر ایرانی قونصلیٹ پر حملہ

  • شہدائے کربلا کی یاد، ملک بھرمیں آٹھ محرم کے جلوس برآمد، سیکیورٹی ہائی الرٹ

  • امام پاک اور یزید پلید

  • یوم عاشورا حضرت امام حسین (ع) کے ساتھ تجدید بیعت کا اعلان

  • کربلا تا روز قیامت انسانوں کیلئے مشعل راہ بنی رہیگی، یاسین ملک

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی اتحادی افواج کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے مختلف شہروں پر شدید بمباری کی ہے۔

سعودی اتحادی افواج کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے الحدیدہ، صعنا، ریمہ، حجہ اور صعدہ نامی شہروں پر شدید بمباری کی ہے۔

یمنی حکام نے بمباری سےہونے والے نقصانات کے بارے میں کسی قسم کا کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی سعودی اتحادی جنگی جہازوں نے یمن کے الحدیدہ شہر میں موجود پینے کے پانی کے پلانٹ پر حملہ کرکے تباہ کردیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ مغربی ایشیا کے اس غریب عرب اسلامی ملک کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔

یمن کے محاصرے کے نتیجے میں یمن کو دواؤں اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اس ملک کے عوام میں مختلف قسم کے امراض پھیل رہے ہیں۔

سعودی حکومت اور اس کے اتحادی، یمنی عوام کی استقامت و پائیداری کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شام کے صدر بشار الاسد نے دمشق تہران تعلقات کو اسٹریٹیجک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی سرزمین پر ایران کا کوئی فوجی اڈہ موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل دہشت گردوں کی براہ راست حمایت کر رہے ہیں۔

العالم ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بشار الاسد نے کہا کہ شام اور ایران کے اسٹریٹیجک تعلقات عالمی تبدیلیوں سے ہرگز متاثر نہیں ہوتے کیونکہ دونوں ملکوں کے تعلقات خطے کے حال اور مستبقل سے وابستہ ہیں۔ شام کے صدر نے کہا کہ شام اور ایران نے اپنے تعلقات کو عالمی سیاسی اکھاڑے کی گزند سے پاک رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارے معاملات ایٹمی حوالے سے ایران مخالف عالمی پروپیگنڈے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ ایران کے خلاف بین الاقوامی ماحول سازی کا حصہ ہے۔

صدر بشار الاسد نے شام میں ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت شام نے شروع ہی میں ایران اور روس سے شام کے لیے مشاورت کی درخواست کی تھی کیونکہ ہمیں ان ممالک کے تعاون کی ضرورت تھی، اور ایران نے ہماری درخواست کو قبول کرلیا۔ شام کے صدر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران نے شامی عوام کے دفاع کی جنگ لڑی ہے اور اس راہ میں خون کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شام میں ایران کا کوئی فوجی اڈہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کھل کر یہ بات کہی کہ اسرائیل شام میں دہشت گردوں کی براہ راست حمایت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہی اسرائیلی اقدامات کا بہترین جواب ہے۔

شام پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں پوچھےگئے جواب کے جواب میں صدر بشارالاسد کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حلموں پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ فوجی وسائل کے لحاظ سے اس کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا توپ خانہ اور اسرائیلی فضائیہ در اصل دہشت گردوں کا ہی توپ خانہ اور ان کی فضائیہ شمار ہوتی ہے۔ شام کے صدر نے کہا کہ دہشت گردوں کے لیے اسرائیل کی براہ راست حمایت کے باوجود شام اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوج جنوبی محاذوں پر ڈٹی ہوئی ہے اور بہت سے علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد بھی کرایا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بات پوری طرح واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار شام کے پاس ہے اور اسرائیل کچھ بھی کرلے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

صدر بشار الاسد نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل براہ راست جنوبی شام میں مداخلت کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے دہشت گردوں کی کھلی حمایت کے سبب علاقے کی صورتحال مزید ابتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک منجملہ سعودی عرب نے متعدد بار ہمیں یہ پیغام ارسال کیا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرلیں تو شام کی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن ہم نے ان کی ان باتوں کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے طرفدار ہیں اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے عرب حکمرانوں سے ہمیں نفرت ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عید فطر کمیٹی کے سربراہ سید باقر پیشنمازی نے کہا ہے کہ عید سعید فطر کا اعلان رہبر معظم انقلاب اسلامی کے دفتر کی طرف سے کیا جائے گا جس کے بعد عید سعید فطر مصلای امام خمینی (رہ) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی امامت میں ادا کی جائےگی۔

انھوں نے کہا کہ عید فطر کے دن مصلای امام خمینی (رہ) کے تمام دروازے صبح پانچ بجے سے نمازیوں کے لئے کھول دیئے جائیں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی فوج کے جوانوں نے صوبہ تعز کے علاقے مقنبہ میں سعودی اتحاد میں شامل فوجیوں کی ایک ٹولی کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔اس حملے میں سعودی اتحاد کے درجنوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے میزائیل یونٹ نے اتوار کی رات بھی سعودی عرب کے جنوبی صوبے جیزان کے صنعتی علاقے پر بیلسٹک میزائل داغا تھا۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ یمنی فوج کے اسنائپروں نے بھی مقنبہ کے علاقے میں سعودی اتحاد کے سات فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جیزان کے علاقے جبل ایم بی سی کی جانب سعودی اتحادیوں کی پیش قدمی کو ناکام بنادیا ہے۔ یمنی کے فوج کے جوابی حملے میں سعودی اتحاد کا بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

سعودی عرب نے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے تاہم اسے اپنے مقاصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ سعودی جارحیت اور محاصرے کے باوجود یمنی فوج کی دفاعی توانائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے میزائل سعودی عرب کے اندر بھی فوجی ٹھکانوں اور سرکاری تنصیبات تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) علما اور آئمہ مساجد پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ نے فضائل امام علیؑ سے متعلق مولانا عباس مہدی ترابی کے بیان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اپنے اعلامیہ میں ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ کا کہنا تھا کہ حضرت علی علیہ السلام سوائے خاتم النبیینؐ کے باقی انبیاء ما سبق سے افضل سے افضل ہیں۔

بول ٹی وی کے پروگرام میں مولانا عباس مہدی ترابی کے حق بیان کرنے اور مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کو سوائے خاتم النبیین کے باقی انبیاء ما سبق سے افضل قرار دینے پر ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ ان کی تائید کرتی ہے. ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ کے تمام ارکان مولانا عباس مہدی ترابی کے ساتھ ہیں. اور جن علماء سے ان ٹی پروگرامز میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ہم ان کی مذمت کرتے ہیں.

ہم بول چینل, عامر لیاقت اور پروگرام کے پروڈیوسر کی بھی مذمت کرتے ہیں جو عالم اسلام میں فرقہ واریت اور انتشار پھیلانے والے پروگرام نشر کر رہے ہیں. اس کے ساتھ ہی ہم ان موقع پرست شیعہ دشمن عناصر کی بھی بھرپور مذمت کرتے ہیں جو فردی کوتاہی کو جواز بنا کر دنیاوی مال و متاع حاصل کرنے کی غرض سے تمام قابل احترام علماء حق کو بلا جواز تنقید و توہین کا نشانہ بنا کر اپنی اپنی دکانیں چمکانے اور دشمنان تشیع کے سامنے اپنی قیمتیں بڑھانے میں مصروف ہیں. انشاء اللہ مذہب حق اور ملت تشیع کے خلاف ہر سازش ناکام ہوگی اور ہر سازشی ناکام و نامراد ہوگا.

اعلامیہ میں علما و خطبا سے اپیل کی گئی کہ باالخصوص نماز عید کے خطبہ میں مولائے کائنات کی یہ فضیلت کہ "مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی علیہ وآلہ وسلم کے سوا باقی انبیاء ما سبق سے افضل ہیں " کو لازمی بیان , واضح اور دلائل سے ثابت کریں.

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت بڑے بڑے شہروں میں بڑھتی بدامنی کے بعد نامعلوم افراد نے طائف میں پولیس کی ایک گشتی گاڑی پر حملہ کر کے ایک سیکورٹی اہلکار کو چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا۔

سعودی اخبار سبق کے مطابق دو نامعلوم افراد نے طائف میں پولیس کی ایک گشتی گاڑی پر حملہ کرنے کے علاوہ ایک پولیس اہلکار سے ہتھیار بھی چھین لیا اور فرار ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق سیکورٹی اہلکاروں نے ان افراد کا تعاقب کیا جہاں طائف کے نیشنل گارڈ کے مرکز پر جھڑپ بھی ہوئے اور ہونے والی فائرنگ میں ایک حملہ آور زخمی ہو گیا جس کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دوسرا فرار ہو گیا۔ابھی ان افراد کی کوئی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت کے حالیہ اقدامات اس ملک کے مختلف علاقوں میں عوامی احتجاجات اور بدامنی بڑھنے کا باعث بنے ہیں۔

تحریر: صابر ابو مریم

سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

جون کا مہینہ ہے اور ساتھ ساتھ ماہ رمضان المبارک بھی ہے، اس ماہ مقدس میں فلسطین کے مظلوم عوام اور قبلہ اول کی بازیابی سے متعلق عالمی یوم القدس بھی آنے والا ہے، جس کے احیاء و قرار میں اس صدی کی عظیم اسلامی شخصیت حضرت امام خمینی کا بے پناہ اور بنیادی کردار ہے اور اسی جون کی 4 تاریخ کو ہی صدی کے عظیم اسلامی رہنما حضرت امام خمینی کو ہم سے بچھڑے اب اٹھائیس برس ہوچکے ہیں، لہذا یہ کالم فلسطین اور امام خمینی سے متعلق اس لئے بھی لکھا جا رہا ہے، تاکہ امام خمینی کی شخصیت سے متعلق اور مسئلہ فلسطین امام خمینی کی نظر میں کس اہمیت کا حامل تھا، نقاط کو بیان کیا جائے۔ امام خمینی نے ایران میں اسلامی انقلاب کی بنیاد ڈالی اور یہ انقلاب 1979ء میں کامیاب ہوا، اس انقلاب کی کامیابی کا بنیادی سہرا امام خمینی کے سر جاتا ہے، جبکہ امام خمینی نے ایران میں اس وقت کے امریکی و صیہونی آلہ کار حکمرانوں کے مدمقابل نہ صرف قیام کیا بلکہ فلسطین کے حق میں اس دور میں بات کرنا ایک سنگین جرم سمجھا جاتا تھا، ایسے دور میں آپ نے اپنی پوری جدوجہد میں فلسطین کاز کی حمایت سے ایک انچ بھی خود کو پیچھے نہیں کیا، حالانکہ اس جرم کی پاداش میں آپ کو دربدر کیا گیا، جلا وطن کیا گیا اور نہ جانے آپ کے ساتھیوں کے ساتھ بھی کس کس طرح کے مظالم روا رکھے گئے۔ آپ نے دنیا کی ان تمام سختیوں اور مصائب کا خندہ پیشانی اور دلیرانہ انداز میں مقابلہ کیا اور اپنی جدوجہد کو جاری رکھا، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ نے عملی طور پر سب سے پہلے ایران میں موجود اسرائیلی سفارتخانہ کو ختم کرکے اس جگہ کو فلسطینی سفارتخانہ بنایا اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کے لئے یوم القدس کے طور پر منائیں۔

یہ امام خمینی ہی کی شخصیت تھی، جس نے دنیا پر واضح طور عیاں کیا کہ اسرائیل ایک غاصب اور جعلی ریاست ہے، اس کام کے لئے امام خمینی نے اپنے خطابات اور فرامین میں بھرپور انداز سے پیغامات دیئے حتیٰ دنیا کے دیگر ممالک کے رہنماؤں کے لکھے جانے والے خطوط اور خط و کتابت میں بھی امام خمینی کی طرف سے مسئلہ فلسطین کے لئے ہمیشہ بے حد اسرار پایا جاتا تھا۔ آپ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور پوری دنیا میں اس روز مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے اور گھروں سے باہر نکلنے کا حکم صادر فرمایا۔ یوم القدس کے بارے میں امام خمینی کا کہنا تھا کہ یہ ایسا دن نہیں کہ جو فقط قدس کے ساتھ مخصوص ہو، بلکہ مستکبرین کے ساتھ مستضعفین کے مقابلے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ منافقین اور وہ لوگ جن کی پس پردہ بڑی طاقتوں کے ساتھ آشنائی اور اسرائیل کے ساتھ دوستی ہے، وہ یوم القدس سے لاتعلق رہتے ہیں یا قوموں کو مظاہرہ نہیں کرنے دیتے۔ امام خمینی نے مسئلہ فلسطین سے متعلق مسلمان اور عرب حکومتوں اور دنیا کی طرف سے سست روی کو درک کرتے ہوئے مسلمان اقوام کو جھنجھوڑنے کا کام کیا اور مسئلہ فلسطین کی حمایت اور پشتبانی کے لئے اپنی گفتگو میں اس طرح اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ،’’ہم جب تک رسول اللہ (ص) کے اسلام کو نہ اپنالیں، ہماری مشکلات اپنی جگہ پر باقی رہیں گی۔ نہ مسئلہ فلسطین کو حل کر پائیں گے اور نہ ہی مسئلہ افغانستان اور دوسرے مسائل کو لوگوں کو اوائل اسلام کی طرف پلٹ جانا چاہیے، اگر حکومتیں بھی ان کے ساتھ پلٹ گئیں تو کوئی مشکل نہیں رہے گی۔ لیکن اگر حکومتیں نہ پلٹیں تو عوام کو چاہیے کہ اپنا حساب حکومتوں سے الگ کرلیں اور حکومتوں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ملت ایران نے اپنی حکومت کے ساتھ کیا ہے، تاکہ مشکلات دور ہوجائیں۔"

امام خمینی نے ہمیشہ مسلمان اقوام کے اتحاد و یکجہتی کو فلسطین کی آزادی اور قبلہ اول کی بازیابی کا اہم ترین راز اور منبع قرار دیا اور یہی کہا کہ فلسطین کی نجات اور صیہونزم کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بند باندھنے کا واحد راستہ مسلمانوں کی اسلام کی طرف بازگشت اور ان کا آپس میں اتحاد ہے۔ انہوں نے اس چیز پر زور دینے کے ساتھ ساتھ فرمایا ہے کہ ’’اسرائیل کا اصلی مقصد اسلام کو نابود کرنا ہے‘‘ ہمیشہ اس چیز کی بھی تاکید کی ہے کہ ہر طرح کے اختلافات منجملہ مذہبی اختلافات کو ختم کر دیا جائے۔ یہاں ایک نقطہ اہم ترین یہ بھی ہے کہ امام خمینی کا تعلق مسلک تشیع سے تھا، لیکن فلسطین سمیت دنیا کے کسی بھی مظلوم اقوام بشمول افغانستان اور کشمیر کے لئے آپ نے ہمیشہ نہ صرف تاکید فرمائی بلکہ عملی طور پر بھی فلسطین کے مظلوم اقوام کی حمایت کرکے ثابت کر دیا کہ مسئلہ فلسطین مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور اس حوالے سے اگر کوئی بھی مسلکی اختلافات کو ابھارنا چاہے یا ہوا دے کر اس مسئلہ کی اہمیت کو کم کرنا چاہے گا تو یقیناً وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ استعماری قوتوں کا آلہ کار ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ امام خمینی نے فلسطین کے مظلوم اقوام کی حمایت اور قبلہ اول کی بازیابی کے لئے کسی بھی حمایت سے دریغ نہیں کیا۔ امام خمینی مسئلہ فلسطین کو اسلام کی حیثیت سے مربوط سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے وہ ہمیشہ تمام مسلمانوں کو فلسطینیوں کی مدد پر ابھارتے تھے اور اس بات پر زور دیتے تھے کہ فلسطین کی مشکل دنیائے اسلام کی مشکل ہے۔ امام خمینی مٹھی بھر صیہونیوں کی ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں پر حکمفرمائی کو ننگ و عار سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے:’’وہ ممالک جن کے پاس سب کچھ ہے اور ہر طرح کی قدرت سے سرشار ہیں، ان پر چند اسرائیلی کیوں حکمرانی کریں؟ ایسا آخر کیوں ہے؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ قومیں ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں۔ عوام اور حکومتوں میں جدائی ہے اور حکومتیں آپس میں متحد نہیں ہیں۔ ایک ارب مسلمان باوجود یہ کہ ہر طرح کے وسائل سے لیس ہیں، لیکن پھر بھی اسرائیل، لبنان اور فلسطین پر ظلم کر رہا ہے۔"

جیسا کہ امام خمینی نے مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ ہمارے دشمن امریکہ، اسرائیل اور استعماری قوتوں کا مقصد صرف فلسطین پر قابض ہونے تک مخصوص نہیں بلکہ وہ اسلام کو نشانہ بنا رہے ہیں، آج کئی برس گزر جانے کے بعد پوری دنیا کے مسلمان اس بات کو سمجھ پائے ہیں کہ عالمی استعماری قوتوں کا اصل ہدف اسلام ہے اور اسلام کے سنہرے اصولوں کو کبھی دہشت گردی کا لیبل لگا کر مختلف ناموں کے ساتھ منسلک کرکے بدنام کرنے کی گھناؤنی سازشیں عالمی استعماری قوتوں کے ناپاک و گھناؤنے عزائم کی قلعی کھول چکی ہیں۔ ماہ رمضان المبارک میں امام خمینی کی جانب سے قرار دیئے جانے والے جمعۃ الوداع عالمی یوم القدس کی مناسبت سے ہمیں ملتا ہے کہ امام خمینی نے ایرانی قوم سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے فتویٰ جاری کیا اور کہا کہ جمعۃ الوداع یوم القدس، یوم اللہ، یوم رسول اللہ اور یوم اسلام ہے، جو اس دن کو نہیں مناتا وہ استعمار (امریکہ، برطانیہ، اسرائیل) کی خدمت کرتا ہے۔ اسی طرح دیگر مقامات پر امام خمینی کے فرامین و فتاویٰ میں اس دن کی اہمیت کو اس طرح اجاگر کیا گیا ہے کہ جمعۃ الوداع یوم القدس حق اور باطل کے درمیان علیحدگی کا دن ہے۔ مزید فرامین میں اس طرح ملتا ہے کہ یوم القدس دنیا بھر کے مظلوموں کی ظالموں کے مقابلے میں فتح کا دن ہے، یوم القدس اسلام کی بقاء وحیات کا دن ہے، یوم القدس استعماری قوتوں کے خاتمہ اور فنا کا دن ہے، اس طرح کے متعدد فرامین کے ساتھ ساتھ یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کے لئے مسلمان حکمرانوں کے کردار پر امام خمینی نے بہت زیادہ اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج سے چالیس سال قبل فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی اور قبلہ اول کی بازیابی کے لئے مقرر کیا جانے والا یوم القدس آج بھی پوری دنیا میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا کی تمام اقوام کی جانب سے بالخصوص ملت فلسطین کی جانب سے انتہائی جوش و جذبہ اور عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہی استعماری قوتوں اور اسلام دشمن قوتوں کی شکست کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے صوبہ الحدیدہ کے جنوب میں سعودی و اماراتی اتحادی جارح فوجیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ جب سے یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے اس ملک کے مغربی ساحل پر واقع الحدیدہ کے صوبے کے دفاع کے لئے نئی فورسز کے اعزام کا اقدام کیا ہے، وہاں سے ملنے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جارح حملہ آور فوج کو اس صوبے کے جنوب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یمن کی نیوز ایجنسی "سباء" نے یمنی وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے سعودی اتحادیوں کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جارحانہ حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں وہاں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

اس ذریعے نے یمن کے فوجی ڈرون یونٹ اور عوامی رضاکار فورسز کی جانب سے جارح فوج کے خلاف آپریشن کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس منفرد آپریشن میں آپریشن کمانڈ روم اور ان کا فضائی دفاعی سسٹم مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی و اماراتی اتحادیوں نے ایک ماہ قبل الحدیدہ بندرگاہ، جو یمن کی مقاومت کا باہر کی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے، پر حملے شروع کئے ہوئے ہیں اور صوبہ حدیدہ کے جنوب میں جنگی جہازوں کی مدد سے ساحلی علاقے پر پیشقدمی کی ہے۔ یمنی فوج اور رضا کار فورسز نے اپنے تازہ دم لشکر کو الحدیدہ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ دشمن کی پیشقدمی کو روکا جا سکے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی فوج کے میزائل یونٹ اور عوامی رضاکار فورسز نے آج یمن کے مغربی ساحل پر جارحین اور ان کے ایجنٹوں کے فوجی مراکز پر میزائلوں کی بارش کر دی۔

انصاراللہ کے ٹی وی چینل المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے میزائل یونٹ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ میزائل یونٹ نے یمن کے مغربی ساحل پر حملہ آوروں اور ان کے ایجنٹوں کے فوجی ٹھکانوں پر متعدد بیلسٹیک میزائل فائر کئے۔ فائر کئے گئے میزائل ٹھیک اپنے نشانوں پر جاکر لگے، جس کے نتیجے میں جارح حملہ آوروں اور ان کے ایجنٹوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یمنی فوج کے میزائل یونٹ اور عوامی رضاکار فورسز نے دو دن پہلے بھی یمن کے مغربی ساحل کے محاذ پر جارح حملہ آوروں اور ان کے ایجنٹوں کے اجتماع کی جگہ کو میزائل قاہر سے اپنا نشانہ بنایا۔ اس سال 5 مئی کو بھی جارح حملہ آوروں اور ان کے ایجنٹوں کے اجتماعات اور مورچوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مختار فورس کراچی ڈویژن کی جانب سے مختار ثقفی رح کی شہادت کی مناسبت سے امام بارگاہ در بتول میں مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا۔

۱۳ رمضان المبارک تاریخ شہادت مختار ثقفی کی مناسبت سے مختار فورس کراچی کی جانب سے امام بارگاہ در بتول سولجربازار میں مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا جس سے مولانا آزاد حسین معصومی نے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختار ثقفی رح ہمارے لیے نمونہ عمل ہیں۔ ہمیں ان سے بہادری و شجاعت کا درس لینا چاہیے۔

بعد ختم مجلس انجمن در بتول نے ماتم داری و سینہ زنی کی۔ مجلس میں مومنین کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔ مجلس میں سیکیورٹی کے فرائض مختار فورس کراچی ڈویژن کے جوانوں نے انجام دیے۔