• حملے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے: حزب اللہ

  • امریکا علاقے میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پائےگا،حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای

  • شام پر حملہ کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں:شامی مفتی اعظم

  • یوم ولادت امام حسین ؑ پر ضلع گلگت میں سرکار کا بڑا اعلان

  • کعبہ کی طرح مسجد اقصیٰ بھی انتظارِ امام زمانہؑ میں

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکریٹری اطلاعات سید احسن عباس رضوی نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف حصوں میں بجلی کی طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں جاری بجلی کے مصنوعی بحران کا جلد خاتمہ نہ ہونے کی صورت میں پہلے مرحلے میں آگہی و تشہیری مہم اور دوسرے مرحلے میں احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے، انہوں نے وفاقی وزیر بجلی و پانی اور چیف جسٹس آف پاکستان سے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے مذمتی بیان میں احسن رضوی نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی کی بجائے آئے دن ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، کراچی میں گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی بارہ بارہ گھنٹے بجلی کی بندش حکومت کی ’’مثالی کارکردگی‘‘ پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں میٹرک کے امتحانات کا آغاز ہو چکا ہے اور کے الیکٹرک کی ’’مہربانیاں‘‘ طلباء و طالبات کی تیاری کے دوران ان کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔

احسن عباس رضوی نے کہا کہ ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور کے الیکٹرک انتظامیہ نے گذشتہ سالوں میں ہیٹ اسٹروک اور لوڈشیڈنگ کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے سبق نہیں سیکھا، عوام کو صاف پانی، بجلی، گیس، صحت و صفائی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی آئنی ذمہ داری ہے، لیکن ہر دور میں بے حس حکمرانوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بجائے انہیں اخباری دعوؤں تک ہی محدود رکھا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جماعت ہونے کی دعویدار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی طرف سے عوام کیلئے کھڑی کی جانے والی مشکلات آئندہ عام انتخابات میں جماعت کی مقبولیت کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ رہنما ایم ڈبلیو ایم نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شہر قائد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے تین شیعہ اسیران کو سزائے موت، جبکہ دو کو اکیس اکیس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت کی خاتون جج نے اپنے فیصلے میں فرقان، بوتراب اور فیصل نامی شیعہ اسیران کو سزائے موت، جبکہ رفعت اور اظہر نامی شیعہ اسیران کو اکیس اکیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ پانچوں شیعہ اسیران سینٹرل جیل کراچی میں قید ہیں۔ اسیران کی جانب سے آئندہ چند روز میں سندھ ہائیکورٹ میں انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی جائے گی۔ اسیران کے خانوادوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو کراچی سمیت ملک بھر میں ہم شیعہ مسلمانوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دہشتگردوں کو رہا کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ہمارے بے گناہ اسیران کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران اسیران کیخلاف کسی قسم کے ٹھوس ثبوت یا شواہد پیش نہیں کئے جا سکے، نہ ہی کوئی عینی شاہد گواہ پیش کیا جا سکا، یہاں تک کہ ہمارے اسیران کی ضمانت تک منظور ہوسکتی تھی، لیکن ہم نے ضمانت کروانے کے بجائے باعزت بری ہونے اور تمام جھوٹے مقدمات کے خاتمے کو ترجیح دی، تاکہ آئندہ دوبارہ کسی بھی بہانے سے ہمارے اسیران کو تنگ نہ کیا جائے، لیکن اچانک اسی دوران ہمارے اسیران کو سزائے موت و عمر قید جیسی سزا سنا دی گئی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلہ کسی دباؤ یا خوف کے نتیجے میں دیا گیا ہے، ہم اس فیصلے کے خلاف آئندہ چند روز میں سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرینگے، ہمیں پوری امید ہے کہ ہائیکورٹ سے ہمیں ضرور انصاف ملے گا اور ہمارے تمام بے گناہ اسیران سارے جھوٹے مقدمات سے باعزت بری ہونگے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری سیاسیات علی حسین نقوی نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت کم ترین سطح پر آگئی ہے، جس کا فائدہ عوام کو ملنا چاہیئے، اس لئے حکومت پٹرول کی فی لیٹر قیمت 40 روپے مقرر کرکے عوام کو ریلیف دے۔ اپنے ایک بیان میں علی حسین نقوی نے کہا کہ جب عالمی منڈی میں تیل کے نرخ میں اضافہ ہوتا ہے، تو پاکستان میں فوری طور پر نرخ بڑھا دیئے جاتے ہیں، لیکن جب عالمی سطح پر نرخ کم ہوتے ہیں، تو حکومتِ پاکستان نرخ کم نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کی صورت میں عوام سے بھتہ وصول کیا، اب نواز لیگ سستا پٹرول خرید کر عوام کو مہنگا بیچ کر بھتہ وصولی میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا لٹیروں کا گڑھ بن چکا ہے، پاکستان میں پرائس کنٹرول اینڈ مینجمنٹ کا کوئی نظام عملاً دکھائی نہیں دیتا، عوام چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ حکمران جماعت کی اس بھتہ وصولی کا سختی سے نوٹس لیں اور عالمی منڈی میں کم ہونی والی پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ثمرات پاکستان کے غریب عوام کو بھی میسر لائیں جائیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش نہ کرنے پر داعش کے مبینہ پانچ کارندوں کو بری کر دیا ۔ انسداد ہشت گردی کی خصوصی عدالت میں داعش کے مبینہ کارندوں کو محمد نواز ، فرحان صدیقی ، بلال احمد ، طاہر زمان ، زار مشہدی کے خلاف دھماکہ خیز مواد ، خود کش جیکٹس برآمدگی اور غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کے مقدمات کی سماعت ہوئی ۔

عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش نہ کرنے پر داعش کے مبینہ پانچ کارندوں کو مقدمات میں بری کر دیا ۔ واضح رہے کہ ملزمان کو رینجرز نے موچکو میں کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا ۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے بھاری تعداد میں خود کش جیکٹس ، دھماکہ خیز مواد اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔ ملزمان کے خلاف 2017 ء میں موچکو تھانے میں رینجرز کی مدعیت میں مقدمات قائم کیے گئے تھے ۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق جعفری نے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم نے ہمیشہ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت کی ہے، یہ ہماری جماعت کا بنیادی منشور ہے، ہم نے پہلے دن سے چاہے، وہ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ ہو یا سانحہ آرمی پبلک اسکول یا ٹارگٹ کلنگ کا مسئلہ، ہم نے بلاتفریق مظلوموں کی حمایت کی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے شوریٰ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈویژنل پولٹیکل سیکرٹری میر تقی ظفر، سیکرٹری یوتھ کاظم عباس، سیکرٹری تنظیم سازی ذیشان حیدر سمیت دیگر رہنماء موجود تھے۔ مولانا صادق جعفری نے کہا کہ مظلوم کی حمایت اور وقت کے طاغوت کے خلاف عملی اقدام کا درس ہمیں کربلا سے ملا ہے، لہذا ہم مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قصور میں جو معصوم بچیوں کے ساتھ ظلم ڈھایا گیا اور حکومت کی جانب سے جس طرح بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا، اس وجہ سے قوم میں اس ظالم حکومت سے نفرت میں شدید اضافہ ہوا۔

مولانا صادق جعفری نے کہا کہ اس ظالم حکومت کی وجہ سے عوام کو آج انصاف کی فراہمی ناممکن ہو چکی ہے، یہ حکومت صرف اپنے مفادات اور اپنے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے قومی اداروں کا استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کے اس ناجائر استعمال پر پنجاب حکومت کو جوابدہ ہونا ہوگا، اب وہ وقت آپہنچا ہے، ملک کی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتیں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کا استعفیٰ چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم مذہبی جماعتوں سے رابطوں کے انکشافات کے بعد پنجاب کابینہ کے بیشتر وزراء کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے، نواز شریف بھارت کیلئے درد دل رکھتے ہیں، جبکہ شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے وزراء ملک کے امن و سلامتی کے خلاف مصروف کالعدم دہشتگرد جماعتوں سے فکری و جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں، جو ملک دشمنی کی واضح دلیل ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کراچی میں خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ملیر کے علاقے غازی ٹاؤن میں واقع الزہرا کلینک پر مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا گیا اور علاقہ مکینوں میں مفت دوائیں بھی تقسیم کی گئیں۔ مفت طبی کیمپ پر علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے ماہر ڈاکٹر حضرات کی موجودگی میں اپنا طبی معائنہ کروایا اور علاقے میں خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کی گئی الزہرا کلینک کی خدمات کو سراہا۔ واضح رہے کہ خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن کی جانب سندھ بھر میں غریب عوام کی خدمت اور بھلائی کے لئے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے جبکہ سندھ بھر بشمول کراچی میں 10 کلینک کام کر رہی ہیں جن کا مقصد عوام کو مفت اور سستا علاج اور صحت کی بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہے۔ کراچی کے علاقے ملیر غازی ٹاؤن میں قائم الزہرا کلنیک بھی خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جہاں گذشتہ روز مفت طبی کیمپ کے انعقاد کے موقع پر پانچ سو سے زائد خواتین و مرد حضرات سمیت بچوں کے خصوصی طبی معائنہ کیا گیا اور ان کو ضرورت کی دوائیں بلا معاوضہ فراہم کی گئیں۔

خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر علی نیر زیدی نے ملیر کراچی غازی ٹاؤن میں الزہرا کلینک پر لگائے گئے مفت طبی امدادی کیمپ کا دورہ کیا اور علاقہ مکینوں سے ان کی مشکلات کے بارے میں بات چیت کی جس پر علاقہ مکینوں نے الزہرا کلینک کی خدمات پر خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ الزہرا کلینک علاقہ میں موجود غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام کو مفت اور سستا علاج اور صحت عامہ کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کراچی میں وہابی مدرسے کے استاد کے بہیمانہ تشدد سے اس کا 10 سالہ شاگرد جاں بحق ہوگیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق کراچی کے علاقے بن قاسم میں عید گوٹھ میں مدرسے کے قاری نظام الدین نے گزشتہ روز اپنے شاگرد 10 سالہ محمد حسین کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور لاٹھی سے مارا پیٹا جس سے بچہ شدید زخمی ہوگیا۔ قاری کے تشدد کے باعث بچے کی حالت تشویشناک ہوگئی جسے اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ بچے کے اہل خانہ نے قاری کو معاف کردیا اور اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے سے بھی انکار کرکے اس کی تدفین کردی۔ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملنے پر ملزم کو گرفتار کرکے اس کے خلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا جس میں تشدد اور قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو ریمانڈ کے لئے عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اس سے مزید تفتیش کی جائے گی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایس ایس پی کراچی ملیر راؤ انوار کے مطابق پولیس نے دہشتگردوں کی موجودگی سے متعلق حساس ادارے کی اطلاع پر شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپہ مارا، پولیس کو دیکھتے ہی دہشتگردوں نے فائرنگ کر دی، جوابی کارروائی میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ راؤ انوار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے دہشتگرد ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کی کئی وارداتوں میں ملوث تھے اور ان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ مدارس کے نصاب تعلیم کو باقاعدہ نظام تعلیم کا حصہ بناکر مستقل حیثیت دی جائے، دینی درس گاہوں کو خود مختاری کیساتھ ساتھ دیگر تعلیمی مراکز کی طرح مراعات دی جائیں، دینی تعلیم کی ترویج کیلئے الگ یونیورسٹی قائم کی جائے یا پھر موجودہ یونیورسٹیوں میں شامل کرکے الشہادة العالیہ اور العالمیہ کے امتحانات، اسناد اور دیگر امور کو یونیورسٹی سے ملحق کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ہم پہلے ہی یہ تجویز پیش کر چکے ہیں کہ دینی تعلیم کو سرکاری حیثیت دی جائے اور دینی مدارس کو طب کے مختلف شعبہ جات کی طرز پر تسلیم کیا جائے کیونکہ دینی درسگاہوں نے ملک میں تعلیمی کمی کو پورا کرکے شرح خواندگی میں اضافہ کیا ہے اور آبادی کے ایک بڑے حصے کو تعلیم و شعور کے زیور سے آراستہ کرکے ملک کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جدید تقاضوں کے پیش نظر مدارس میں نظام تعلیم کو اپ گریڈ کیا جائے، دینی درس گاہوں کو خود مختاری کیساتھ ساتھ دیگر تعلیمی مراکز کی طرح مراعات دی جائیں اور باقاعدہ نظام تعلیم تسلیم کرتے ہوئے الگ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے یا پھر موجودہ یونیورسٹیز میں شمولیت کیساتھ الشہادة العالیہ اور العالمیہ کے امتحانات، اسناد اور دیگر امور کو یونیوسٹیز سے ملحق کیا جائے اور اِن کے امتحانات یونیورسٹیز کے زیرانتظام کرائے جائیں نیز ہر وفاق المدارس کا امتحانی بورڈ الگ قائم کیا جائے اور ثانویہ عامہ اور ثانویہ خاصہ کے امتحانات بورڈ لیول پر کرائے جائیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام قصورمیں معصوم بچی زینب کے بہیمانہ قتل کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاجی مظاہرے سے ایم ڈبلیوایم شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری جنرل محترمہ سیدہ زہرانقوی اور ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ محمد صادق جعفری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ننھی زینب کا سفاکانہ قتل بربریت اور انسانی وحشی پن کی بد ترین مثال ہے، اس سنگین ظلم پر مذمت، افسوس جیسے الفاظ بہت بے وقعت ہیں،اس المناک واقعہ نے جہاں پاکستان کے ہر فرد کو اضطراب اور دکھ میں مبتلا کیا ہے وہاں عالمی سطح پر وطن عزیز کے وقار کو بھی نقصان پہنچایا ہے، اسی قصور شہر میں کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کے13واقعات رونما ہوئے لیکن ایک بھی مجرم گرفتار نہیں، ایک ہفتہ ہونے کو ہے اب تک زینب کے قاتل کا قانون کی گرفت میں نا آنا پنجاب حکومت کی رٹ پر سوالیہ نشان ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنی نااہلی تسلیم کرتے ہوئے فوری مستعفیٰ ہوجائیں، ریاست معصوم بچوں کے ساتھ عظمت دری اور قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث مجرموں کے خلاف سخت قانون سازی کرے۔

رہنماوں نے کہا کہ ہمارامعاشرہ کس قدر پستی کا شکار ہوچکاہے کہ معصوم پھول جیسی بچیوں کو مسل کر پھینک دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا،زینب کو جس درندگی اور وہشت گری کا نشانہ بنایا گیا اس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے،قومی سلامتی کے اداروں کو چاہیئے کہ ایسی قانون سازی یقینی بنائیں جس سے ایسے سفاک درندوں کو طوری فور پر نشان عبرت بنایا جاسکیتاکہ ایسے سنگین واقعات میں کمی واقع ہو، یقیناً ملک بھر میں ایسے درجنوں واقعات روز انہ کی بنیاد پر پیش آتے ہیں لیکن مجرموں کوسزانا ملنے سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوتے چلے جاتے ہیں،زینب سے قتل کے واقعے میں جہاں ایک شخص مجرم وہیں ریاست بھی برابر کی شریک ہے،ماضی میں قصور اور دیگر شہروں میں عصمت دری اور قتل کا نشانہ بننے والے معصوم بچوں کے قاتلوں کو سزا ملتی تو زینب کے قاتل کو حوصلہ نا ملتا، انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کے زینب کے سفاک قاتل کو قذافی اسٹیڈیم میں سرعام پھانسی دی جائے اور پوری دنیا کو لائیو کوریج دکھائی جائے تاکہ مجرم نشان عبرت قرار پائے، زینب پر ہونے والے ظلم کے خلاف پوری قوم متحد ہے،مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین معصوم زینب کے اہل خانہ کے دکھ درد میں برار کی شریک ہے اس حوالے سےآج جمعہ 12تا 18جنوری ملک بھر میں ’’ہفتہ ناموس زینب‘‘منایاجارہا ہے۔