• مرد انقلاب

  • بحرین :آل خلیفہ کی ظالم حکومت نے وحشیانہ کاروائیاں شروع کردی

  • احسان اللہ احسان اور فضل اللہ کے مدرسے کو خیبر پختواحکومت کی70 .27 کروڑ کی امداد

  • ٹرمپ انسان و انسانیت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے،ایمنسٹی انٹرنیشنل

  • پاکستان کیلئے آئی پی گیس سے اہم تاپی گیس منصوبہ؛ کیا حکمران ایران گیس کو ذاتی مفادات کی خاطر نظر انداز کررہے ہیں؟

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ااسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کو ایک تاریخی اور سیاسی معجزہ قرار دیا ہے۔صدر رمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں ایک پروگرام میں خطاب کے دوران عشرہ فجر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی عوام کی موجودگی، ایثار و فداکاری اور استقامت و پامردی نہ ہوتی تو پہلوی حکومت کے خلاف کہ جس کا دنیا کی سبھی بڑی طاقتیں ساتھ دے رہی تھیں یہ اسلامی انقلاب کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انقلابی تحریک کے دوران سبھی طاقتوں کی یہ کوشش تھی کہ اس تحریک کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی نے عالمی سطح پر سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا کیونکہ کوئی بھی یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ ایک ایسی تحریک جس کی بنیاد ایک مرجع تقلید اور مذہبی رہنما نے ڈالی ہے اور مسجدوں اور امامبارگاہوں میں جانے والے لوگ جس کی حمایت کررہے ہیں کامیاب ہوجائے گی۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے کہا کہ اسلامی انقلاب کی وجہ سے علاقے کے بعض ممالک چراغ پا ہوگئے اور ان ملکوں کی حکومتوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش ہونے لگی جبکہ بڑی طاقتوں کے مفادات بھی خطرے میں پڑ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی انقلاب کے دشمن انتالیس سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی ایرانی عوام سے انتقام لینا چاہتے ہیں۔ صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تقریبا ایک ارب مسلمان ایران کے مشرق میں واقع ملکوں میں زندگی بسر کررہے ہیں کہا کہ اسلام ایران کے ہی راستے ان ملکوں میں پہنچا ہے کیونکہ ایرانی عوام اسلام کے پیرو ہیں اور اسلام کو پھیلانے کی ذمہ داری بھی انہوں نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران کی ٹرانزٹ پوزیشن ایک غیر معمولی پوزیشن کی حامل ہے کہا کہ ایران کے جنوب مشرق میں چابہار – زاہدن ریلوے لائن ایران کی دیگر ریلوے لائنوں سے متصل ہو کر ایک بڑے بین الاقوامی ریلوے نیٹ ورک میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کراچی کے علاقے کلفٹن زمزمہ پارک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا چینی باشدہ ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا جبکہ ایک راہگیر زخمی ہوگئے۔کراچی کے علاقے کلفٹن میں زمزمہ پارک کے قریب نامعلوم ملزمان نے 46 سالہ چینی باشندے شین زو کی کار پر فائرنگ کی جس کو پولیس نے ٹارگٹڈ حملہ قرار دے دیا۔ابتدائی طور پر کلفٹن کے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ شین زو کراچی میں قائم ایک شپنگ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے اور حملے کے وقت وہ اکیلے تھے تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کی جب ملزمان نے فائرنگ شروع کی تو اس وقت کار میں دو چینی موجود تھے تاہم دوسرا شخص وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا لیکن وہ تاحال نہیں مل پایا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو عملہ موقع پر پہنچا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا۔قبل ازیں پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے میں چینی باشندہ شین زو شدید زخمی ہوا اور دوسرے شخص حسن علی کو معمولی زخم آئے ہیں تاہم جائے وقوع سے گولیوں کے 9 خالی خول برآمد ہوئے ہیں۔علاوہ ازیں جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال میں شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ چینی باشندے کو سر اور ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے زمزمہ پارک کے قریب مبینہ فائرنگ سے چینی باشندے کے زخمی ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس جنوبی کو واقعے کی انکوائری کے احکامات جاری کیے۔وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں۔خیال رہے کہ کراچی میں چینی شہری پر حملے سے دومہینے قبل ہی چینی حکومت نے پاکستان میں کام کرنے والے اپنے تمام شہریوں کی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اسلام آباد میں قائم چینی سفارت خانے کی ویب سائٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں چینی باشندوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ہیں جبکہ اپنے شہریوں کو بلا ضرورت باہر گھومنے سے منع کرتے ہوئے گھروں کے اندر محدود ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔یاد رہے کہ 2017 میں بلوچستان میں کوئٹہ سے ایک چینی جوڑے کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار کو بریفنگ میں کہا گیاتھا کہ کوئٹہ میں اغواہونے والے چینی شہری کوئٹہ میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔چوہدری نثار نے کوئٹہ میں دو چینی باشندوں کے اغوا کے واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مختلف منصوبوں کے لیے پاکستان کے مختلف حصوں میں موجود چینی باشندوں کا ڈیٹا بینک بنانے کی ہدایت کی تھی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہیں مقبوضہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، بھارتی مظالم اور اس زمرے میں پاکستان کے موقف کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔تلاوت قرآن پاک سے آغاز ہونے والی اس باوقار تقریب میں مختلف مقررین نے مسئلہ کشمیر پر اپنا اظہار خیال کیا۔خصوصا پاکستان کے قونصل جنرل عرفان محمود بخاری نے نہایت عمدگی اور تفصیل سے مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی۔ان کی تقریر کے ساتھ بڑی اسکرین پر چلنے والے سلائیڈ شو ان کے خطاب کو مزید قابل فہم بنا رہے تھے۔علاوہ از ایں، ایرانی عوام کی سہولت کے لئے قونصل جنرل پاکستان کی تقریر ساتھ ساتھ فارسی زبان میں بھی ترجمہ کی گئی۔واضح رہے کہ تقریب کے اہتمام میں کونسل آف آرٹ خراسان رضوی نے بھی بھرپور تعاون کیا۔کونسل آف آرٹ خراسان رضوی کے سربراہ میثم مرادی بیناباج کا اس موقع پر کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی ایران نے ہمیشہ سے مظلومین جہان کی دادرسی کی ہے اور مستقبل میں بھی اپنے آرمانوں پر استقامت کیساتھ عمل پیرا کریگا۔انہوں نے عندیہ دیا کہ ایرانی عوام ہنرمندوں کی میٹھی زبان کے توسط سے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریگی۔اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کے سابق رکن ڈاکٹر قاسم جعفری نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور مسلمان عالم کے اتحاد اور اتفاق پر زور دیتے ہوئے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیا۔سیمینار کے اختتام پر قونصلر جنرل عرفان محمود بخاری نے ترکی اور عراقی سفارتکاروں سمیت پاکستان اور ایران کے مختلف اہم شخصیات کے نمائندوں میں اعزازی شیلڈ پیش کیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا ہے کہ افغانستان پاکستان پر الزام تراشی سے اجتناب کرے اور دونوں ممالک تعاون کو مزید بہتر بنائیں۔کابل میں پاک-افغان مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر تہمینہ جنجوعہ نے حال ہی میں افغان دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کی اور افغانستان کو بم دھماکوں کی مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کردی۔

سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد آج صبح کابل پہنچا، وفد میں وفد میں اعلیٰ عسکری اور سول حکام بھی شامل ہیں۔اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ پاک-افغان مذاکراتی عمل کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کا ایکشن پلان برائے تعاون کلیدی اہمیت کا حامل ہے اور اقدامات باہمی روابط مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل میں پاک-افغان حکام کے درمیان سیکیورٹی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور باہمی تجارت پر گفتگو ہوگی۔مشترکہ ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ وزیراعظم پاکستان اور افغان صدر کے درمیان ملاقات میں طے پایا تھا۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے باہمی رابطے معطل ہونے کا تاثر دیا جا رہا تھا۔اس سے قبل این ڈی ایس سربراہ اور افغان وزیر داخلہ نے بھی گزشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے دوران افغان وفد نے افغانستان میں ہونے والے دھماکوں میں پاکستان کی سرزمین استعمال ہونے سے متعلق کچھ مبینہ ثبوت پیش کیے تھے۔جس پر پاکستان نے افغانستان کے فراہم کردہ ثبوت پر مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کابل میں 3 بڑے دہشت گرد حملے ہوئے، جس کے دوران 100 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔گذشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان نے افغانستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر افغان حکومت کے ردعمل کو بیرونی عناصر کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کا نتیجہ قرار دیا تھا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بھارتی افواج کشمیر کی جنگ میں آگ اور خون کی ہولی کھیل رہی ہیں۔ جنت جل رہی ہے اور پھول جیسے کشمیری نوجوان بارود کی آگ سے جھلس رہے ہیں مگر عالمی ضمیر خاموش ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند نوجوانوں نے کشمیر کی آزادی کے عظیم لیڈر برہان الدین وانی کی شہادت کے بعد جس جذبے، جرأت اور عزم کے ساتھ تحریک آزادی کو زندہ اور متحرک رکھا ہے وہ ہمارے دلی خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انگریزوں اور ہندوئوں نے گہری سازش کرکے مسلمانوں کو کٹا پھٹا اور لولہا لنگڑا پاکستان دیا تاکہ پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہوسکے۔ کشمیر پر بھارتی فوجی طاقت سے قبضہ اسی سازش کی کڑی تھا۔ آزادیٔ ہند ایکٹ 1935ء کا ایکٹ اور دوسرے قوانین اور معاہدوں کی روشنی میں پورے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا مگر متعصب ہندو لیڈروں نے نہ صرف آدھے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا بلکہ اقوام متحدہ میں جاکر کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی منظوری لینے کی کوشش کی مگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کشمیر کا تنازعہ استصواب کے ذریعے حل کرنے کی قرارداد منظور کی جس پر بھارتی لیڈروں نے اپنی انا، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آج تک عملدرآمد نہیں کیا۔ جب قائداعظم پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بھارت میں مقیم مسلمانوں نے ان سے سوال کیا کہ ان کا اور ان کی نسلوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ وہ بھارت کے متعصب ہندوئوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ قائداعظم نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا کہ پاکستان ہر حوالے سے دنیا کا مضبوط اور مستحکم ملک ہوگا اور بھارت کے لیڈر ہندوستان کے مسلمانوں کا استحصال کرنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے۔
اللہ کے فضل و کرم اور عوام کے جذبے سے پاکستان گوناگوں مشکلات اور مسائل کے باوجود آج بھی دنیا کا ایک آزاد ملک ہے البتہ پاکستان ستر سال گزرجانے کے بعد بھی قائداعظم کے خوابوں کیمطابق مضبوط اور مستحکم ریاست نہیں بن سکا۔ یہی وجہ ہے بھارت کے مسلمانوں کیخلاف ہر قسم کا ظلم و ستم روا رکھا جارہا ہے اور وہ متعصب اور انتہا پسند نریندر مودی کے دور میں تیسرے درجے کے شہری بن کررہ گئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کیخلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جارہے ہیں۔ اگر پاکستان مضبوط اور مستحکم ریاست بن چکا ہوتا تو متعصب ہندوئوں کو بھارتی مسلمانوں پر جبروتشدد کی کبھی جرأت نہ ہوتی۔ افسوس مفاد پرست اور موقع پرست حکمران خاندانوں نے سوہنی دھرتی کو اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہونے دیا اور اسے قرضوں کے شکنجے میں جکڑ دیا اور وہ ابھی بھی پاکستان کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ کشمیر کا مقدمہ بہت مضبوط ہے مگر کشمیریوں کو بھٹو جیسا وکیل نہیں مل سکا جس نے بہترین سفارت کاری کرکے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر روشناس کرایا۔ پی پی پی کی حکومت نے 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر قراردے کر سرکاری تعطیل کا اعلان کیا۔ آج پاکستان کا ایک بھی سیاستدان نہیں ہے جو کشمیر کاز کی وکالت کرنے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہو۔ قومی اسمبلی کی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہیں جن میں کشمیر کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کی صلاحیت اور جذبہ نہیں ہے۔ موجودہ حکمران ریاست کے مفاد کو نظر انداز کرکے اپنے سیاسی مفاد کے تابع بڑے منصبوں پر تعیناتیاں کرتے ہیں۔ عدلیہ اب تک درجنوں تعیناتیوں کو قوانین اور قواعد و ضوابط کے خلاف قرار دے کر کالعدم قراردے چکی ہے۔
ایک رپورٹ کیمطابق مقبوضہ کشمیر میں 2017ء میں 451افراد جان بحق ہوئے جن میں 125فوجی 217 حریت پسند 108سویلین شہری شامل ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور باشعور سیاستدان حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا فوجی حل کی بجائے سیاسی حل سے تلاش کیا جائے۔ بھارت اکنامک ورلڈ پاور بننے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستان کیلئے بھی پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ گیم چینجر ہے دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ وہ افہام و تفہیم سے کشمیر کا تنازعہ حل کرلیں تاکہ نئی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔ کشمیری نوجوانوں نے بے مثال قربانیاں دیکر کشمیر کے مسئلہ کو زندہ کردیا ہے۔ یہ موقع ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں کشمیر کاز کے ساتھ عملی تعاون کامظاہرہ کریں۔ کشمیر کے حریت پسندوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے ریلیاں نکالیں اور جماعتی وفود دوسرے ملکوں میں روانہ کریں۔ افسوس صد افسوس پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ(ن)، پی پی پی اور تحریک انصاف اقتدار کیلئے جنونی ہوچکی ہیں اور کشمیر انکے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔
ان جماعتوں کے لیڈر رسمی کاروائی پوری کرنے کیلئے کشمیر کے بارے میں بیان جاری کردیتے ہیں اور انکے دلوں میں مقبوضہ کشمیر کے شہید نوجوانوں اور کشمیر کی آزادی کیلئے عملی جذبہ نظر نہیں آتا۔ الیکٹرانک میڈیا جنون کی حد تک کمرشل ہوچکا ہے ۔ وہ بھی مسئلہ کشمیر کو بری طرح نظر انداز کررہا ہے اور پاکستان کے سماج میں منفیت پھیلارہا ہے۔ مثبت سرگرمیوں پر اسکی نظرہی نہیں پڑتی۔ حکومت چونکہ نااہل ہے اس میں پولیٹیکل ول (سیاسی عزم) ہی نہیں ہے لہذا وزارت خارجہ بھی تسابل اور کاہلی کا شکار ہے۔ کشمیر کے بارے میں اسکی سفارتی مہم عالمی سطح پر نظر نہیں آتی۔
آزاد کشمیر کے لیڈر بھی مصلحت کوش ہوچکے ہیں ان کی دلی خواہش ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر متحد نہ ہوں تاکہ انکی سیاسی جاگیریں انکے ہاتھ سے نکل نہ جائیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی، محمد دلاور چوہدری، محمد سعید کھوکھر، ناصر اقبال خان ، مظہر برلاس کی سرپرستی، راہنمائی اور ایڈمنسٹریشن میں ورلڈ کالمسٹ کلب قومی ایشوز پر یادگار اور معیاری فکری نشستوں کا اہتمام کرتا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر پر ’’جلتی ہوئی جنت اور جھلستے پھول‘‘ کے عنوان سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں تاریخی قومی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں ممتاز صحافیوں، دانشوروں اور سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے خطاب کیا اور کشمیر کے حریت پسندوں کو ہرقسم کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی تعاون کا یقین دلایا اور حکومت سے فعال، سرگرم اور متحرک سفارت کاری کا مطالبہ کیا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنی آزادی کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر آمادہ ہوجائے پھر اسکی آزادی کو زیادہ عرصہ نہیں روکا جاسکتا۔ ہندو اور مسلمان قوم نے دنیا کی سپر پاور برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ فرانس کے عوام نے انقلاب برپا کرکے بادشاہت سے آزادی حاصل کی۔روس کے عوام نے کارل مارکس اور لینن کی قیادت میں سرمایہ دارانہ نظام سے آزادی حاصل کی۔ چین کے عوام نے مائوزے تنگ کی قیادت میں انقلاب برپاکیا۔ جنوبی افریقہ کے عوام نے نیلسن منڈیلا کی قیادت میں نسل پرستوں سے آزادی حاصل کی۔ کشمیر کے لاکھوں شہیدوں کا خون رنگ لائے گا اور وہ وقت دور نہیں جب کشمیری عوام بھی ہندو تسلط سے آزادی حاصل کرلیں گے۔
تم نے جس خون کو مقتل میں چھپانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
ظلم کی بات ہے کیا ظلم کی اوقات ہے کیا
ظلم پھر ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے سوشکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹائو تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھائو تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دبائو تو دبائے نہ بنے

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹیل نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے لیے امریکی حکمت عملی ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے، افغانستان میں جنگ ختم کرے اور پاکستان کا اس میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کی جنوبی ایشیائی پالیسی کی کامیابی کیلئے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا جنوبی ایشیاء کی پالیسی پر عمل درآمد کررہا ہے جس میں طالبان کو مفاہمت کی طرف لانا شامل ہے۔سربراہ امریکی سینٹ کام نے کہا کہ پالیسی میں افغانستان کے طویل مسئلے کوحل کرنا بھی شامل ہے۔کچھ روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کیا تھا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے افغانستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دہشت گرد حملوں کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس صورتحال میں طالبان سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے حوالے سے امریکا کی پالیسی کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ ہم اس وقت مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہم طالبان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے، وہ دائیں بائیں ہر جگہ بے گناہ لوگوں کو قتل کررہے ہیں‘‘۔
پاک امریکا تعلقات میں تناؤ
خیال رہے کہ 2018 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔اس کے بعد امریکا نے پاکستان کی امداد بند کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھانا شروع کردیے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نورٹ کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی تک پاکستان کی معاونت معطل رہے گی۔دوسری جانب پاکستان نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ااامریکہ نے کہا ہے کہ امریکہ کا پاکستان پر حملے کا کوئی پروگرام نہیں لیکن فوری طور پر دہشت گرد عناصر کی سرکوبی بہت ضروری ہے۔
پینٹاگان کی ترجمان ڈینا وائٹ اور لیفٹیننٹ جنرل مکینزی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا حکمت عملے کے تحت پاکستان پر حملے کا کوئی پروگرام نہیں ،شام باغیوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر کیمیائی ہتھیار استعمال کررہاہے، بشار الاسد حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ترکی کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ترکی پر کرد باغیوں کے راکٹ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ڈینا وائٹ اور لیفٹیننٹ جنرل مکنیزی نے دھمکی دی کہ شامی فوج نے باغیوں پر کیمیائی حملے بند نہ کئے تو بشارالاسد کے خلاف فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ترجمان نے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان خطے کا اہم ملک ہے۔صرف افغانستان میں امن کیلئے اسلام آباد سے تعاون درکارہے۔ ایک سوال پر ڈینا کا کہنا تھا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا متاثر ہے۔ دہشتگردی کے خلاف اسلام آباد کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کے ستر فیصد حصے پر طالبان کے قبضے سے متعلق سوال پر ڈینا کا کہنا تھا ساٹھ فیصد حصے پر افغان حکومت کی رٹ ہے اور صرف چالیس فیصد حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔

 

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بھارت نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور بنگلادیش سے ملنی والی سرحدوں پر سکیورٹی بڑھانے کے مقصد سے 7 ہزار فوجی تعینات کرے گا۔ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی وزارت داخلہ کے اعلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فورسز پاکستان ، بنگلادیش اور چین سے ملنی والی سرحدوں پر تعینات ہوں گی۔بھارت سے ملنے والی سرحد پر مزید 7 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان ایسے میں ہوا ہے کہ جب بھارت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جمعرات کو کہا تھا کہ ہندوستان نے گزشتہ سال کی نسبت اس سال اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔گزشتہ سال ہندوستان کا دفاعی بجٹ 42.8 ارب ڈالر تھا.

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر قمر عباس غدیری نے کہا ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے لیکر تاحال ملت جعفریہ امام خمینیؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عالمی استعمار کے خلاف برسر پیکار ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے ایس او کے مرکزی "راہیان کربلا و عاشقان مہدیؑ" کنونشن کے سلسلے میں سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی میں مرکزی دورہ کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر کثیر تعداد میں کارکنان اور طلباء موجود تھے۔ قمر عباس غدیری نے مزید کہا کہ جہاں کہیں مسلمان ریاستوں میں استعمار اور سفلی قوتیں سازشیں کر رہی ہیں، بیدار ملت جعفریہ نے ہمیشہ مظلومین کی حمایت اور ظالم کے خلاف ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کی ہے، یہی وجہ ہے کہ ملت جعفریہ دنیا میں ظالموں کے خلاف قیام کرنے کے استعارہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مرکزی کنونشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مزکری کنونشن تنظیم کی افادیت اور تربیت کا سرچشمہ ہوتا ہے، کثیر تعداد میں طلباء کا شرکت کرنا اور نظم و ضبط کا مظہر نظر آتا ہے۔ واضح رہے کہ اصغریہ اسٹوڈنٹس کا 47 واں سالانہ مرکزی کنونشن بعنوان راہیان کربلا و عاشقان مہدیؑ 15 تا 19 فروری اندرون سندھ کے علاقے بھٹ شاہ میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ قاضی نیاز حسین نقوی نے کہا ہے کہ 16 جنوری کو ایوان صدر میں دہشتگردوں کیخلاف متفقہ اعلامیہ اور فتویٰ نہایت مستحسن اقدام ہے لیکن علماء کیساتھ دہشتگردوں اور تکفیری گروہ کے سرپرستوں کو بٹھانا تشویشناک ہے۔ فتوی اور اعلامیہ کی رُو سے تو انہیں سزا ملنی چاہئے۔ ان قاتلوں کو دعوت دے کر شہدا کے خون سے غداری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ علما کو جہیز کی رسم کیخلاف آواز بلند کرنی چاہیے، لڑکی سے جہیز لینا مردانگی نہیں، شادی میں سادگی اپنا کر سماجی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے، رشتے قائم کریں ،تجارت نہیں، امیرزادوں کو متوسط اور غریب گھرانے کی لڑکی سے بھی شادی کرنی چاہیے، جہیز کا مطالبہ کرنا خلاف اسلام اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت کا نان و نفقہ مرد کے ذمہ ہے، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی شریعت کو ماننے والے اور ان سے محبت کرنے والوں کو سنت نبوی پر عمل بھی کرنا چاہیے، محض دعویٰ کافی نہیں۔ جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان کے نام سے مختلف اسلامی مکاتب فکر کے 1826 علماء کے دستخطوں سے قومی بیانیہ پر دہشتگردی کو پاکستان میں فروغ دینے والے اور بے گناہوں کے خون میں رنگے ہاتھوں والوں کو تعارفی تقریب میں دعوت دینا خود اس نظریے اور اعلامیہ کے بھی خلاف ہے، جس سے لگتا ہے کہ اب بھی مقتدر حلقوں میں کچھ عناصر ان دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں، جو کہ عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث ہے۔

علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ دختر پیغمبر حضرت فاطمتہ الزہ سلام اللہ علیہا کی شہادت پر مختلف تاریخوں کی روایات ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاتون جنت کی ولادت پر سورہ الکوثر نازل ہوئی کیونکہ کفار مکہ رسول اکرم کو ابتر (نسل کٹا) کہہ کر طعنہ زنی کرتے تھے، لیکن سورہ مبارکہ الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم آپ کو کوثر( فاطمہ) عطا کی ہے، تمہارا دشمن ہی دم بریدہ اور بے نسل رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کو 3 فرزندان بھی عطا کئے، 2 حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور ایک حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے، جو بعدازان انتقال کرگئے، اللہ اگر چاہتا تو انہیں زندہ بھی رکھ سکتا تھا، لیکن رسول اکرم کی نسل حضرت فاطمتہ الزہ سلام اللہ علیہا سے چلی ہے۔ امام جمعہ نے زور دیا کہ شادی کی رسومات میں ہمیں سادگی اپنانی چاہیے، حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زرہ 480 درہم کی بیچ کر اپنا حق مہر ادا کیا اور جہیز بھی خریدا، ورنہ سرور کائنات اپنی صاحبزادی کو جتنا چاہتے جہیز خود دے سکتے تھے مگر انہوں نے ہمارے لئے اسے تقلید بنایا، مگر افسوس کہ پاکستان میں جہیز کا بوجھ لڑکی والوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔