• داعش کیخلاف پاک، ایران، چین اور روس کے خفیہ اداروں کا اتحاد

  • ڈی آئی خان: ایم ڈبلیوایم کے وفد سے شہداء کے ورثا سے اجتماعی ملاقات

  • کوئٹہ، ایم‌ ڈبلیو ایم جلسہ عام

  • ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکہ کےایک معروف سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہےکہ افغانستان پر امریکہ لشکر کشی اورمسلسل فوجی موجودگی کے باعث اس ملک میں طالبان دہشتگرد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’مائیکل کویل مین‘‘ نے کہاکہ افغانستان پر امریکہ لشکر کشی اورمسلسل فوجی موجودگی کے باعث اس ملک میں طالبان دہشتگرد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ افغانستان سے متعلق سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ طالبان دہشتگرد گروہ اُمید سے زیادہ طاقتور بن گیا ہے اورٹرمپ کی حکمت عملی بھی اس ملک کے حوالے سے ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف سے طالبان پر قریب دودہائیوں سے جاری بمباری کے باوجود طالبان کمزور نہیں ہوا ہے اور افغانستان کے ایک وسیع علاقے میں اس کا قبضہ برقرار ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان پر لشکر کشی کے بعدآج 40 سے 50 فیصد ملک کے چھوٹے بڑے شہروں پر طالبان کا قبضہ ہے۔انہوں نے کہاکہ طالبان دہشتگرد گروہ کو کابل میں ایک ایسی حکومت کا سامنا ہے جوپوے ملک میں امن واستحکام قائم کرنے میں پوری طرح ناکام ہے۔انہوں نے کہاکہ کابل حکومت آج داخلی اورذاتی تنازعات میں اس طرح پھنسی ہوئی ہے کہ وہ عوام کو بنیادی خدمات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہورہی ہے۔انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ کی اسٹریٹجی کے نتائج پوری طرح واضح ہیں کہا کہ جنگ کے ذریعے ملک میں امن واستحکام کی بحالی ناممکن ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کےساتھ مل کر ملک میں امن وسیکورٹی کی بحالی کی کوشش کرنی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے موجودہ مسائل کے حل کیلئے لوگوں کو اقتصادی طورپر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کررہا ہے، پاکستان نے نومبر میں تحریک طالبان افغانستان اور حقانی نیٹ ورک کے 27 مشتبہ افراد کو افغانستان کے حوالے کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک طالبان افغانستان اور حقانی نیٹ ورک کے مشتبہ عناصر کو افغانستان کے خلاف کسی بھی دہشت گردی کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال سے روکنے کی کوششں کر رہا ہے اس ضمن میں نومبر 2017ء میں تحریک طالبان افغانستان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلقات کے شبے میں 27 افراد کو افغانستان کے حوالے کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اقتصادی طور پر 123 ارب امریکی ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا، دہشت گردی کے خلاف قربانیوں میں پاکستان کی افسران اور جوانوں کے حوالے سے شہادتوں کی شرح بلند ترین ہے جس میں پاکستان نے 75 ہزار شہری اور 6 ہزار جوانوں کی قربانیاں دی ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو ملک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بارے میں سخت خبردار کیا ہے۔پیر کے روز کابل میں انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ طالبان گروہ سے افغان عوام کے قتل عام کا سخت اور فیصلہ کن انتقام لیا جائے گا۔افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ طالبان عناصر نے کابل اور دیگر علاقوں میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔افغانستان کے صدر نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بعض ملکوں کو افغانستان میں دہشت گردی سے باز رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔اشرف غنی نے انڈونیشیا کے صدر کی اس تجویز کا بھی خیرمقدم کیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے سدباب کے لیے اسلامی دنیا کے علما کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک قیام امن کی غرض سے افغانستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک سمیت کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو اپنی سرزمین استعمال کرنے نہیں دیں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ امریکا پاک افغان امن میں اپنا کردار ادا کرے، دونوں ممالک میں امن کے لیے ضروری ہے کہ 30 لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی یقینی بنائی جائے ، اگر افغان مہاجرین میں کوئی ناپسندیدہ عناصرشامل ہوگئے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں سینیٹ اور عام انتخابات وقت پر ہوں گے اس بار ہارس ٹریڈنگ کی گئی تو جمہوریت کو بہت نقصان ہوگا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والے کو پشاور میں میٹرو بس کا خیال آگیا۔

معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سے متعلق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ راؤ انوار کو روکنے​ والے ایف آئی اے اہل کاروں کو تعریفی اسناد دی ہیں، ایف آئی اے اہلکاروں نے راؤ انوار کو بیر​ون ملک فرار ہونے سے روکا تھا، قانون کو مطلوب ہر فرد کی گرفتاری میں مدد کریں گے کیونکہ قانون کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے کردار ادا کرنا وفا​ق اور صوبوں کی ذمے داری ہے۔

 

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صوبہ ہلمند میں طالبان کے حملے میں سات پولیس اہلکار ہلاک اور 8 دیگر زخمی ہوئے۔

ہلمند صوبے میں سیکورٹی اہلکار نے نام فاش نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان نے ''چغکی'' اور ''گرمسیر'' نامی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 7 پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد دیگر شدید زخمی ہوگئے۔

دوسری طرف صوبہ ہلمند میں گورنر کے ترجمان «عمر زواک» نے افغان سیکورٹی فورسز پر حملے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے نقصانات اور ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

طالبان کے ترجمان «قاری یوسف احمدی» نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے حملے میں افغان سیکورٹی فورسز کے 10 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے افغان فورسز کو سخت جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل صوبہ ہلمند میں گورنر کے ترجمان نے طالبان کی جانب سے سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی خبر دی تھی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )افغان صدرڈاکٹر اشرف غنی اورامریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے تسلیم کیاہے کہ طالبان نے فوج کو بنکرز اور حکومت کو محل تک محدود کر دیا ہے ، اب عسکریت پسندوں سے لڑکر ہی جنگ جیتیں گے۔ اشرف غنی کا کہنا ہے کہ امریکی مدد کے بغیر حکومت چھ ماہ تک بھی نہیں چلائی جاسکتی۔

امریکی ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا تھا یہ درست ہے کہ طالبان کے حملے سے محفوظ رکھنے کیلئے گلیوں اور محل کے باہر دیواریں تعمیرکیں۔اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا آئے دن عسکریت پسندوں کے حملوں نے زندگی مفلوج کردی۔انہوں نے کہاکہ اب فیصلہ کرلیا کہ طالبان سے لڑائی سے ہی نمٹا جائیگا۔

امریکی امداد سے متعلق ایک سوال پر اشرف غنی کا کہنا تھا امریکی امداد کے بغیر حکومت چھ ماہ تک بھی نہیں چلے گی۔افغانستان میں امریکی فوج اور اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے انٹرویو میں تسیلم کیا کہ طالبان کے حملوں کے خطرے کے باعث امریکی فوج نے سڑکوں کا استعمال چھوڑ دیا ۔ اور فوج و دیگر امریکی شہری طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سفر کر رہے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) افغان حکومت کے مذاکرات کاروں اور طالبان کے نمایندوں کے درمیان ترکی میں غیرسرکاری سطح کی بات چیت کی اطلاعات ذرائع ابلاغ میں جاری ہیں۔ مذاکرات کے شرکا نے افغان میڈیا کو بتایا کہ اس بات چیت کا اہتمام ترک حکومت کے تعاون سے کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق طالبان کے قطر میں واقع دفتر کے عہدے داروں اور دیگر عسکریت پسند گروپ بات چیت میں شریک ہوئے۔ افغان حکومت نے تاحال اس پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مذاکرات کی اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔

ٹوئٹر پر طالبان ترجمان نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کے لیے کوئی ایلچی ترکی نہیں بھیجا اور نہ ہی طالبان کی جانب سے کوئی ہماری نمائندگی کرنے کا مجاز ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غیر حقیقی سرگرمیاں افغانستان میں جاری جہاد کے خلاف خفیہ اداروں کی سازشوں کا حصہ ہے۔ ترکی میں جاری مذاکرات کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا وفد سلامتی اور سیاسی امور پر افغان رہنماؤں سے بات چت کے لیے کابل آیا ہوا ہے۔ 15 رکنی وفد کی سیکورٹی کے پیش نظر افغان دارالحکومت میں انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ وفد نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور دیگر عہدے داروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

افغانستان کا دورہ کرنے والے وفد میں اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نکی ہیلی بھی شامل ہیں جب کہ اس وفد کی قیادت سلامتی کونسل میں قزاقستان کے مستقل مندوب کر رہے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق 15 رکنی وفد میں چین، برطانیہ، روس اور فرانس کے نمایندے بھی شامل ہیں۔ جب کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق سلامتی کونسل کے وفد نے افغان قیادت سے ملاقات میں افغانستان میں سیکورٹی کی صورت حال، انسداد دہشت گردی کی کوششوں، بدعنوانی اور منشیات کے خاتمے سمیت امن و مصالحت کے عمل کو تیز کرنے کے علاوہ انتظامی اصلاحات پر بات چیت کی۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب افغانستان میں سلامتی کی صورتحال میں ابتری دیکھی جا رہی ہے اور افغان فورسز اور طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ اسی اثنا میں افغانستان کے سیاسی منظر نامے پر بھی کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

شمالی صوبے بلخ کے گورنر نے صدارتی حکم کے باوجود اپنا منصب چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ صدر نے انہیں ایک ماہ قبل برطرف کرتے ہوئے نیا گورنر بھی تعینات کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ عطا محمد نور گزشتہ 13 برس سے زائد عرصے سے صوبے کا اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ صدر اشرف غنی کو انہیں ہٹانے کا اختیار نہیں ہے۔

عطا نور کا موقف ہے کہ ان کی پارٹی مرکز کی اتحادی حکومت کی اہم رکن ہے اور انہوں نے صدر غنی سے چند مطالبات کر رکھے جن کے پورا نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنا عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان حکومت آئندہ ماہ کے اوائل میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرے گی جس میں توقع ہے کہ افغان فورسز اور ان کے بین الاقوامی اتحادیوں سے لڑائی میں مصروف مسلح گروپوں سے امن بات چیت کے لیے جامع حکمت عملی پیش کی جائے گی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) ہائی کورٹ نے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کی مختلف مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔ پشاور ہائی کورٹ میں کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کے خلاف متنازعہ تقاریر اور پولیس پر حملوں کے مقدمات میں دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے سماعت کے دوران فریقین کے دلائل سننے کے بعد 7 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔ مولانا صوفی محمد پر تھانہ کبل اور تھانہ سیدو شریف میں دو مقدمات درج ہیں۔ 30 جولائی 2009 کو مولانا صوفی محمد پرایف آئی درج ہوئی تھی جب کہ مولانا صوفی محمد کو 4 مارچ 2010 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے سسر بھی ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)افغان صوبے ہلمند میں فضائی حملے میں طالبان کا خودکش حملوں کا انچارج مارا گیا۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان کیخلاف فضائی حملہ گزشتہ رات کیاگیا، جس میں طالبان کا خودکش حملوں کا انچارج مولوی احمد منصور 15 ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں 2 سینئرطالبان رہنما ملاصادق اللہ اور مولوی سجاد بھی مارے گئے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے طالبان گاڈ فادر و جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ملاقات کی، جس میں دونوں جماعتوں نے اصولی فیصلہ کیا کہ آئندہ انتخابات میں مشترکہ جدوجہد کیلئے باہمی مشاورت سے لائحہ عمل تیا رکیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہہمیںہم خیال جماعتوں کے شانہ بشانہ محنت کرنا ہوگی، جب تک ملک میں کرپٹ عناصر موجود ہیں ترقی کی راہ پر کامیابی سے سفر ممکن نہیں۔

طالبان گاڈ فادر کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ سمیع الحق نے اسلام کی ترویج و اشاعت کیلئے ہماری حکومت کے اقدامات کی مکمل تائید و معاؤنت کی جس پر شکر گزار ہیں۔ مولانا سمیع الحق اور ان کی جماعت بہت سے قومی ایشوز اور مسائل پر تحریک انصاف سے ذہنی اور نظریاتی ہم آہنگی رکھتی ہے جس سے دونوں جماعتوں کے مابین بہتری کیلئے محنت کرنے کے امکانات دوچند ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ مولانا کی معاؤنت سے دینی اور عصری علوم کے لاکھوں مراکز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کردیں اور علماء کو ان کے شایان شان مقام دلوایا جائے۔ جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پختونخوا میں جو اسلامی اقدامات اٹھائے ہیں ہم ان کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انکی بھر پور تائید کرتے ہیں۔ اس وقت ہمیں مشترکہ طور پر آنے والے طوفانوں کے سامنے بند باندھنا ہوگا کیونکہ ملک کو ہر طرف دشمنوں نے گھیر رکھا ہے۔ ملاقات میں وزیراعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک، وزیر اطلاعات شاہ فرمان، مولانا حامد الحق حقانی اور مولانا سید ثمر یوسف بھی موجود تھے۔