• داعش کیخلاف پاک، ایران، چین اور روس کے خفیہ اداروں کا اتحاد

  • ڈی آئی خان: ایم ڈبلیوایم کے وفد سے شہداء کے ورثا سے اجتماعی ملاقات

  • کوئٹہ، ایم‌ ڈبلیو ایم جلسہ عام

  • ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کالعدم دہشتگرد جماعت سپاہ صحابہ کے دہشتگرد رہنما اورنگزیب فاروقی کی الیکشن میں نا اہلی کیلیے درخواست سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرادی گئی۔

اورنگزیب فاروقی این اے 237 سے الیکشن لڑنے کے لئے کاغذات جمع کرواچکا ہے جو بدقسمتی سے منظور بھی ہوچکے ہیں۔ جس کے خلاف سول سوسائٹی کے راشد رضوی نے سندھ ہائی کورٹ میں نا اہلی کی درخواست جمع کروادی ہے۔

تمام محب وطن پاکستانیوں کی جانب سے سول سوسائٹی کے اس اقدام کو نہ صرف سراہا جارہا ہے بلکہ اس درخواست کی کامیابی کیلیے دعائین بھی کی جارہی ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) باچا خان انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر تعینات ایف آئی اے اہلکاروں نے دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں انتہائی مطلوب دہشت گرد مولوی بہادر کو گرفتار کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور کے باچا خان ایئر پورٹ پر تعینات ایف آئی اے کے اہلکاروں نے دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں انتہائی مطلوب دہشت گرد مولوی بہادر کو گرفتار کرلیا۔ مولوی بہادر نجی ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے دبئی فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام نے ملزم کو گرفتار کرکے سی ٹی ڈی پشاور کے حوالے کر دیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ مولوی بہادر 2008 سے بنوں کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور بم دھماکوں کی مختلف وارداتوں میں ملوث تھا، اس کے خلاف تھانہ بنوں کینٹ، میران بنوں اور بکا خیل بنوں پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج ہیں۔

* 17 کے قریب ممالک کہ جن کے ساتھ ابھی فرانس بھی شامل ہو چکا ہے انھوں نے حدیدہ سے بارودی سرنگیں ڈی فیوز کرنے کا اعلان کیا. اور جو چھپایا گیا وہ زیادہ بھیانک اور خطرناک تھا یعنی حدیدہ پر نا جائز قبضہ کرنا.

* 18 مصری بحریہ اپنی پوری قوت کے ساتھ بمبارمنٹ کر رہی ہے. اور امریکی اسرائیلی اور عربوں کی فضائیہ فورسسز حدیدہ کو سرنڈر ہونے پر مجبور کرنے کے لئے ہر متحرک چیز کو نشانہ بنا رہی ہیں.

* کرائے کے قاتلوں کی سوڈانی ، اماراتی ، سعودی ، امریکی اور کئی ایک افریقی ممالک کی زمینی فوجیں حملہ آور ہیں.

* مقامی وطن کے غدار بیرونی فنڈد جنوبیین ، شمالیین ، لیبرل ، سلفی ، اصلاحی (اخوان المسلمین) اور کانگرسی سب فورسسز بھی حدیدہ پر قبضہ کرنے کیلئے استعمال ہو رہی ہیں.

* بڑی تعداد میں بکتربند گاڑیاں ، کئی ایک ممالک کے جنگی جہاز اور اپاچی ہیلی کاپٹرز نے علاقے پر سایہ کیا ہوا ہے. اور جنگی بحری بیڑے حدیدہ پر قبضہ کرنے کے لئے ہر اطراف سے پہنچ کر حدیدہ پر قبضہ کرنے کے لئے حملہ آور ہیں.

* حدیدہ کے معرکے کیلئے دسیوں ٹی وی چینلز شبانه روز نشریات چلا رہے ہیں.

* لوگ قبروں سے نکل سے نکل کر اتحادی فورسسز کی مدد کر رہے ہیں جیسے عفاش اپنی قبر سے نکلا ہے.

* حدیدہ کے سقوط کے لئے نفسیاتی جنگ پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے.

* دنیا جہان کی سیٹلائٹس ، جاسوسی طیاروں اور جدید ترین الات کو حدیدہ کی طرف موڑ دیا گیا ہے. تاکہ اس پر قبضہ کر سکیں.

* مشایخ اور بااثر شخصیات کو خریدنے کے لئے بھاری بھرکم مال ودولت کا لالچ دیا گیا تاکہ حدیدہ پر قابض ہو سکیں.

* عایش ، عزان جیسے دیگر بہت سے معروف چہروں سے بھی نقاب الٹ چکا ہے. اور وہ حدیدہبپر قابض ہونے کے لئے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہے ہیں .

* عرب لیگ نے اپنے اجلاس میں حدیدہ پر حملے کی حمایت کردی ہے.

* سلامتی کونسل کے متعدد ھنگامی اجلاس بھی حدیدہ پر حملے کی تائید کے لئے منعقد ہوئے ہیں. اور اعلانات کئے ہیں کہ بڑی تعداد میں انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہے. یعنی لوگ حدیدہ چھوڑ کر نکل جائیں اور شہر دشمن کے حوالے کر دیں. یہ سب کچھ جس کا ذکر ہوا ایک براعظم کے سقوط یا ایک ملک جیسے 20 دم ن میں عراق نے سقوط کیا تھا اس کے لئے کافی تھا. لیکن تمام تر حیلوں اور طاقت کے استعمال کے باوجود ساحلی ضلع پر قبضہ نہ کر سکے. حالانکہ عسکری طور پر اسے سقوط کر جانا چاہئے تھا. اس کے بعد انکا قبضہ کرنے کے خواب کا دائرہ تنگ ہوا تو ائر پورٹ پر قبضہ انکا ھدف قرار پایا. اب انکی فقط یہ حسرت ہے ایک ائر پورٹ پر ایک فوٹو بنا لیں. 
آخر دشمن اتنا عاجز اور ذلیل کیوں نظر آ رھا ہے. متعدد ممالک اور انکی مشترکہ فورسسز ، جدید ترین اسلحہ اور اسلحہ واموال کی بھرمار کے باوجود ذلت ورسوائی کے ساتھ عاجز ہیں. 
خدا کی قسم اور پھر خدا کی قسم اگر پا پیادہ لوگ جنگی طیاروں سے روپوش ہو سکتے اور دشمن کے پاس باقی ساری طاقت ہوتی تو پھر بھی وہ جنوب کے کئی ایک اضلاع اور عدن سمیت کئی ایک شہروں پر چند دنوں میں کنٹرول کر چکے ہوتے .

ابھی تک تو حدیدہ کا معرکہ ہے اور اتنے عاجز وبے بس ہیں. عثمانی سلطنت نے ایک دن میں قبضہ کیا تھا اور.1962 میں مصر نے چند گھنٹوں میں قبضہ کر لیا تھا. کیا ہوا کہ آج حدیدہ کے پاس اتنی بڑی قوت اور طاقت ہے. اور یہ کس نوعیت کے لوگ ہیں جو اسکی حفاظت اور دفاع کر رہے ہیں. جو نہ پیچھے ھٹتے ہیں بلکہ بڑھ چڑھ کر حملہ کر کے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں. حدیدہ جو کچھ ہو رھا ہے وہ درحقیقت ایک معجزہ ہے.
یقین جانئے مجھے اتنی مقاومت کا اندازہ نہیں تھا. اور کسی بھی صحرائی علاقے پر اتنی مقاومت کی امید نہ تھی. دشمن کی کمر توڑ دینے کے لئے پہاڑی علاقوں پر اعتماد تھا. جہاں پر دشمن کی ناک زمین پر رگڑنے کا بہترین میدان ہو گا. لیکن آج حدیدہ نےکہا کہ چھوڑ دیں ان تجزئیات کو میرے دامن میں ایسے مرد مومن ہیں جو اللہ کے مجاہد اور انصار ہیں. اور بہادر عوام ہیں. 
بڑے مؤثر تجزیہ نگاروں کی تحلیل سے توار کی دھار کی خبر سچی ہے. انتظار کرو اور دیکھو.

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستان و ہندوستان میں شوال المکرم کا چاند نظرنہیں آیا دونوں ممالک میں عیدالفطر 16 جون بروز ہفتہ ہوگی۔

شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں چیرمین مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت ہوا اور زونل کمیٹیوں کے اجلاس صوبائی دارالحکومتوں میں ہوئے، اس کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی چاند کی شہادتوں کا انتظار کیا جاتا رہا لیکن ملک بھر میں کہیں سے بھی چاند کی شہادت موصول نہیں ہوئی جس کے بعد عیدالفطر 16 جون بروز ہفتہ ہوگی۔

ادھر ہندوستان سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جمعرات کے روزماہ شوال المکرم کا چاند دہلی کے علاوہ بنگال، بہار، آسام، آندھراپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ اوراترانچل سے عدم رویت کی شہادتیں موصول ہوئیں۔ لہذا مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد دہلی کی طرف سے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم شوال المکرم (عیدالفطر) 16؍جون 2018 ء ہفتہ کے روز ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکی اتحاد کے جنگی طیاروں نے یہ حملہ الحسکہ کے جنوب مشرقی مضافاتی علاقے الحردان پر کیا۔

منگل کے روز بھی اس نام نہاد امریکی اتحاد نے تل الشایر پر بمباری کی تھی جس میں سات عام شہری جاں بحق اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل پیر کے روز خوئیبیرہ میں ایک اسکول پر جہاں عراقی پناہ گزیں پناہ لئے تھے، امریکی اتحاد کی بمباری میں اٹھارہ افراد جان بحق ہو گئے تھے جن میں بیشتر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) جمہوریہ عراق کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجہ میں عراقی سیاست نئے موڑ میں داخل ہو گئی ہے۔ الصدر موومنٹ کے رہنما سید مقتدی الصدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ الفتح پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد بنانے پر متفق ہو گئے ہیں۔ عراق ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سید مقتدی صدر نے الفتح پارٹی کے رہنما ہادی العامری سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید مقتدی الصدر نے کہا کہ ہم عراقی پارلیمنٹ میں گرینڈ الائنس بنانے پر متفق ہو گئے ہیں۔ سید صدر کا کہنا تھا یہ گرینڈ الائنس سائرون، الحکمہ اور الوطنیہ پارٹیوں پر مشتمل ہوگا۔

اس سے پہلے گذشتہ ہفتہ عراق سے خبر آئی تھی کہ سید مقتدی صدر نے الوطنیہ کے صدر ایاد علاوی اور حکمت موومنٹ کے راہنما سید عمار الحکیم کے ساتھ الائنس کر لیا ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے تازہ ترین پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جس عمارت میں ووٹ کی پرچیاں رکھی گئی تھیں وہاں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی ہے اور اس حادثے میں بعض بیلٹ باکس ضائع ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراقی پارلیمنٹ انتخابات کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔ یاد رہے پارلیمنٹ نے بعض حلقوں میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا جس کے بعد وسیع پیمانے پر لگنے والی آگ کی وجہ سے یہ کام روک دیا گیا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستان اور ایران کے تعلقات میں مزید پیش رفت ہوئی ہے حالیہ چند دنوں میں ایرانی ڈاکٹروں نے پاکستانی ڈاکٹروں کے ہمراہ پاکستان میں جگر کی پیوندکاری کے سات کامیاب آپریشنز کیے ہیں۔

ایران کے شہر شیراز کے جگر کی پیوند کاری کے مرکز کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان دنوں کراچی کے دورے پر ہے جہاں اس نے پاکستانی ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) میں ایک ہفتے کے دوران جگر کی پیوند کاری کے سات آپریشن کامیابی کے ساتھ انجام دیئے-

ایس آئی یو ٹی (SIUT) نے اس کامیابی کو ایک نیک شگون اور اچھا آغاز قرار دیا ہے- کراچی کے ایس آئی یو ٹی مرکز کے سربراہ اور یورولوجی کے ماہر ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے بتایا کہ جگر کی پیوند کاری کے ماہر ایرانی ڈاکٹر سرجری کرنے کے مقصد سے ایران کے شہر شیراز سے کراچی کے دورے پر آئے ہوئے ہیں-

ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کا کہنا تھا کہ ایران کے شہر شیراز میں جگر کی پیوند کاری کا مرکز اس پورے خطے میں اپنی فیلڈ کا سب سے بڑا اور معتبر مرکز ہے اور ایرانی جراح ڈاکٹروں کا دورہ کراچی ایس آئی یو ٹی اور شیراز کے پیوند کاری کے مرکز کے درمیان قریبی تعاون کی ایک بہترین مثال ہے-

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ایران کی انقلاب اسلامی عدالت کے چیف جسٹس حجت الاسلام و المسلمین غضنفرآبادی نے کہا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینی رہ کے مزار پر دہشت گردی کے جرم میں 8 دہشت گردوں کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔

یاد رہے گذشتہ سال تہران میں واقع پارلیمنٹ اور امام خمینی رہ کے مزار پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا جس میں متعدد نہتے شہری شہید ہو گئے تھے۔ دہشت گردی کے اس واقعہ میں تمام دہشت گرد مارے گئے تھے۔

عدالت کے چیف نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ افراد دہشت گردوں کے سہولت کار تھے جن کو "بغاوت میں مدد" کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ یہ کیس تہران کی انقلاب عدالت نمبر 15 میں سنا گیا۔ قاضی صلواتی نے فساد فی الارض میں سہولت کار ہونے کے جرم میں انہیں سزائے موت سنائی ہے۔ اس کیس میں کل 26 ملزم تھے جن میں سے 8 ملزموں کا کیس نمٹا دیا گیا جبکہ 18 ملزموں کے خلاف کیس ابھی چل رہا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) علما اور آئمہ مساجد پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ نے فضائل امام علیؑ سے متعلق مولانا عباس مہدی ترابی کے بیان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اپنے اعلامیہ میں ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ کا کہنا تھا کہ حضرت علی علیہ السلام سوائے خاتم النبیینؐ کے باقی انبیاء ما سبق سے افضل سے افضل ہیں۔

بول ٹی وی کے پروگرام میں مولانا عباس مہدی ترابی کے حق بیان کرنے اور مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کو سوائے خاتم النبیین کے باقی انبیاء ما سبق سے افضل قرار دینے پر ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ ان کی تائید کرتی ہے. ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ کے تمام ارکان مولانا عباس مہدی ترابی کے ساتھ ہیں. اور جن علماء سے ان ٹی پروگرامز میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ہم ان کی مذمت کرتے ہیں.

ہم بول چینل, عامر لیاقت اور پروگرام کے پروڈیوسر کی بھی مذمت کرتے ہیں جو عالم اسلام میں فرقہ واریت اور انتشار پھیلانے والے پروگرام نشر کر رہے ہیں. اس کے ساتھ ہی ہم ان موقع پرست شیعہ دشمن عناصر کی بھی بھرپور مذمت کرتے ہیں جو فردی کوتاہی کو جواز بنا کر دنیاوی مال و متاع حاصل کرنے کی غرض سے تمام قابل احترام علماء حق کو بلا جواز تنقید و توہین کا نشانہ بنا کر اپنی اپنی دکانیں چمکانے اور دشمنان تشیع کے سامنے اپنی قیمتیں بڑھانے میں مصروف ہیں. انشاء اللہ مذہب حق اور ملت تشیع کے خلاف ہر سازش ناکام ہوگی اور ہر سازشی ناکام و نامراد ہوگا.

اعلامیہ میں علما و خطبا سے اپیل کی گئی کہ باالخصوص نماز عید کے خطبہ میں مولائے کائنات کی یہ فضیلت کہ "مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی علیہ وآلہ وسلم کے سوا باقی انبیاء ما سبق سے افضل ہیں " کو لازمی بیان , واضح اور دلائل سے ثابت کریں.

کالم نگار: مظہر برلاس

پاکستان اس وقت زرعی، آبی اور معاشی مشکلات سمیت اندرونی اوربیرونی خطرات سے دوچارہے۔ پچھلے 35 ، 40 سالوں میں ملک کو اس قدر لوٹا گیا کہ آج ملکی معیشت برباد ہے۔ اگلا م نظر کس طرح خوفناک اور خطرناک ہوگا، اس کاجائزہ بعد میں لیتے ہیں، پہلے ایک ایسا واقعہ سن لیں جسے سن کر پاکستان سے پیار کرنے والوں کو سکون ملے گا۔

یہ 2004 کا واقعہ ہے، بوسنیا ہرزگوینا کے شہر سرائیوو میں یوتھ ڈویلپمنٹ پیس کانفرنس ہو رہی تھی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے نوجوان شریک تھے۔ کانفرنس میں معذوروں کی نمائندگی امریکہ کے وکٹر اور پاکستان سے شفیق الرحمٰن نے کی۔ شفیق الرحمٰن بتاتے ہیں کہ ’’میرے لئے فخر تھاکہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب نائن الیون کے بعد دنیا افغانستان کی خبروں سے پاکستان کو منسلک کر رہی تھی۔ پاکستان کا تاثر مسخ کیاجارہاتھا۔

چونکہ میرا پہلا عشق پاکستان ہے، اس لئے میرے لئے یہ خبریں بہت تکلیف دہ تھیں مگر پھر قدرت میرے لئے ایک ایسا لمحہ لے آئی جب میںسینہ تان کر کانفرنس میں شریک ہو گیا۔ اس کی وجہ کانفرنس میں میری مترجم ایک 30سالہ خوبصورت لڑکی تھی۔

نیلی آنکھوںاور سنہرے بالوں نے اس کے حسن کو چارچاند لگا رکھے تھے۔ تعارف ہوا تو میں نے بتایا کہ میں پاکستان سے ہوں۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ میری مترجم آگے بڑھی۔

اس نے میرا ہاتھ تھاما، اسے چوما، چوم کر آنکھوں سے لگایا۔ اس غیرمتوقع حرکت پر میں حیران ہوا۔ وہ میری حیرت کو دیکھ کر بولی ’’کاش ہماری نسلوں میں پاکستانی پیدا ہونا شروع ہوجائیں۔‘‘ یہ جملہ سننے کے بعد میں مزید حیرت میں ڈوب گیا۔ میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا تو وہ کہنے لگی ’’کیا آپ مجھ سے شادی کرسکتے ہیں؟‘‘ پہلی ہی ملاقات میں ایسے جملے سن کر مجھے مزید حیرت ہوئی۔

خیر میں نے اسے بتایا کہ میں شادی کرچکا ہوں مگر آپ بتایئے کہ آپ ایسا کیوں چاہتی ہیں؟ اس نے بتانا شروع کیا کہ’’ جب سربیا کے غنڈے ہم مسلمان لڑکیوں کی عزتوں سے کھیلنا چاہتے تھے تو اس وقت ہمیں بچانے والے پاکستانی فوج کے جوان تھے۔ بین الاقوامی امن فوج میں شامل پاکستانی جوانوں نے نہ صرف ہمیں بچایا بلکہ وہ ہمیں اپنے کیمپوں میں لے گئے

۔انہوں نے ہمیں اپنی بہنوں اوربیٹیوں کی طرح رکھا۔ جب وہ ہمیں کھانا دیتے تھے تو خود نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے پوچھنے پربتاتے تھے کہ ہمارا روزہ ہے۔ کچھ ہفتوں بعد ہمیں پتا چلا کہ وہ ہمیں اپنے راشن سے کھانا دے کرخود بھوکے رہتے ہیں۔ وہ پاکستانی فوجی جوان ہمارے بچوں سے بہت پیارکرتے تھے، ہمارے بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے، ہماری حفاظت کرتے ہوئے کچھ پاکستانی جوان شہید بھی ہوگئے تھے۔ تم پاکستانی عظیم لوگ ہو۔‘

‘ اس کے اس جملے نے میرا سرفخر سے بلند کردیا۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اپنی بہن سمجھتے ہوئے دعا دی اور پھر اس سے کہا کہ ’’پاکستان کی فوج ہم پاکستانیوں کےلئے فخر کا باعث ہے۔ دنیا میں اگر کسی نے غریب اور متوسط طبقے کے افراد پرمشتمل شاندار ادارہ دیکھناہو تو وہ پاکستانی فوج کو دیکھ لے۔‘‘ یہ واقعہ 2004میں ہوچکاہے مگراب جب میں سیاستدانوں کی طرف سے فوج پر تنقید کے مناظر دیکھتا ہوں تو پھرسوچتا ہوں کہ فوج کو برا کہنے والے سیاستدان کبھی اپنے بچوںکو سرحدوں پر بھیجیں تو انہیں پتا چلے کہ دھرتی سے عشق نبھانا کیا ہوتا ہے.....‘‘

میں نے پچھلے کالم میں علامہ راجہ ناصر عباس کی کچھ گفتگو شامل کی تھی، آج کچھ مزید باتیں شامل کردیتا ہوں۔ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ، پاکستانی سیاستدان علامہ راجہ ناصر عباس کے کلاس فیلو ہیں

۔حسن نصراللہ پچھلے چار سال سے اپنے پاکستانی دوست راجہ ناصر عباس کو نصیحت کر رہے تھے مگر اس بار انہوں نے وصیت کی کہ کبھی بھی اپنی فوج کو نہ چھوڑنا۔ ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ رہنا کیونکہ ہمیں بہت سی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں ملکوں کی افواج کو توڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسی منصوبے کے تحت لیبیا اور عراق کی فوج کو توڑا، یمن کی فوج توڑی،

اسرائیل کے مقابلے میں لبنان کی فوج نہیں بننے دی۔ دراصل یہ مسلمان ملکوں کی افواج کو توڑ کر خطے کی ازسرنو ترتیب چاہتے ہیں۔ اب ان کی ترتیب میں اور توسیع شامل ہوگئی ہے اوراب ان کا مشن پاکستانی فوج کو توڑنا ہے۔ اسے کمزور کرنا ہے کیونکہ جغرافیائی طور پر اہم ہونے کےعلاوہ پاکستان ایٹمی قوت ہے۔ آبادی بھی بھرپور ہے۔ طاقتور ملک ہے۔

اگر خدانخواستہ یہ سازش کامیاب ہوگئی تو پھر ایران اور افغانستان بھی ٹوٹ جائیں گے اسی لئے میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر حال میں اپنی فوج کا ساتھ دینا۔ آپ کا ملک اور عوام اسی صورت میں بچیں گے جب آپ کے پاس طاقتور فوج ہوگی۔

علامہ راجہ ناصر عباس کہتے ہیںکہ ’’میں اکثر سوچتا تھا کہ میرادوست کیوں یہ منظر مجھے بتاتا ہے۔ اب جب حالات میرے سامنے آئے تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ سچ کہہ رہا تھا کیونکہ میرے لئے وہ دن حیران کن تھا جب تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نے اپنی فوج کے خلاف بولنا شروع کیا۔ تب مجھے بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر کام کرنے والوں کی سمجھ آئی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک ایسا شخص جو تین بار ملک کا وزیر اعظم رہا ہو، وہ بھی ایسا کرسکتا ہے؟ اس کے خاندان نے تو پاکستان کے لئے کوئی قربانی بھی نہیں دی۔

ان کے پورے خاندان میںکوئی شہید نہیں ہے بلکہ انہوں نے تو پاکستان کو صرف لوٹا ہے۔ پاکستان نے انہیں ارب پتی بنایا اور یہ پاکستان پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ جب فاٹا میں امن ہو چکا تھا تو پھر یہ منظور پشتین کہاں سے آگیا؟ کہاں سے آگئے اچکزئی اور ’’اچکزئی نظریے‘‘ والے؟ کیوں منظورپشتین کو لاہور بلوا کر جلسے کرواتے ہیں؟ کسی بات پر اختلاف کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ آپ اپنی فوج کے خلاف باتیں کریں۔ منظورپشتین نے کیوںاسرائیلی فوج کے حق میں نعرے بازی کی؟ ہم لوگوں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہیں۔

ہم نے 20ہزار جنازے اٹھائے ہیں، حق کے لئے دھرنے دیئے ہیں مگر کبھی اپنے وطن کے خلاف بات نہیںکی۔ ہمیں یاد رکھناچاہئے کہ ہماری پہلی اور مضبوط دیوار صرف اور صرف فوج ہے۔ ہمارے معاشرے کے اندر تو اختلافات کے نام پر بہت تقسیم ہے۔ہمیں اندرونی اختلافات ختم کرکے اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہو جانا چاہئے۔‘‘

خواتین و حضرات! اگلا منظر زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کردیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید کے بعد منظور پشتین جیسے کئی گھٹیا کردار سامنے آئیں گے

۔ یہ چھوٹی چھوٹی تحریکوں کے نام پر سامنے آئیں گے۔ ان تحریکوں کو ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے پاسبان سپورٹ کریں گے۔ اس سلسلے میں گلگت میں بھی کام شروع ہوچکا ہے۔ کوئٹہ کے اندر لوگوں کو بہلانے پھسلانے والے بھی سرگرم ہیں۔ لندن میں بیٹھا ہوا ایک کالا کردارکراچی اور حیدر آباد کے کئی کرداروں سے رابطے میں ہے

۔ عید کے بعد جب شریف خاندان کے لوگوں کوسزا ہوگی تو ’’اچکزئی نظریہ‘‘ پنجاب میں نظر آئے گا۔ سڑکوں پرہنگامے ہوں گے۔ اس دوران لوڈشیڈنگ بھی ہوگی، لوگوں کوکئی اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک سیاسی جماعت پیسے کے زور پر پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائے گی

۔ ان کے سارے سوشل میڈیا کنونشن سرگرم ہوجائیں گے۔ اس دوران بیرونی میڈیا سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ چند بیرونی طاقتیں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے چکر میں ہیں۔ اسی لئے تو پاکستان کو پانی سے محروم کیاجارہا ہے۔ افراتفری، ہنگاموں اور احتجاجوں کاعروج جولائی میں ہونے والے الیکشن کو کھا جائے گا۔ جن لوگوں کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا وہ کچھ دن انتظار کرلیں کیونکہ شہبازشریف اور نواز شریف ایک نظریے پرمتفق ہوچکے ہیں۔


شریف فیملی کے جس آخری فرد کا جہاں کہیں بھی خاص رابطہ تھا، اب وہ بھی ٹوٹ چکا ہے۔ بس ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل منظرنامے کی اگلی بدصورتی بیان کر رہا ہے اور اگلی بدصورتی یہی ہوگی کہ 25جولائی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔ الیکشن جب بھی ہوئے اس سے پہلے صفائی ستھرائی ضرور ہوگی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان سے پیار کرنے والے ایک ہو جائیں کیونکہ پاکستان کے دشمن ہمارے وطن کے خلاف ایک ہوچکے ہیں اور انہیں ملک کے اندر سے ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے حامل کئی افراد میسر ہیں۔ مجھے تو بس رخشندہ نوید کا شعر یاد آ رہا ہے کہ؎
چہرہ چہرہ کھلے گلاب کو رہنے دے
مالک کچھ دن اور شباب کو رہنے دے