شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)ایک مشہور عرب روزنامہ نے اپنی ایک تحلیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فلسطینی تحریک مقاومت حماس کی طرف سے شام پر امریکی حملوں کی مذمت اورصدربشارالاسد کی حمایت جاری رکھنے کے اعلان سے صیہونی حکومت وحشت زدہ ہے۔

روزنامہ رائے الیوم نے اپنے ایک تحلیلی رپورٹ میں لکھا کہ فلسطینی تحریک مقاومت حماس کی طرف سے شام پر امریکی حملوں کی مذمت اورصدربشارالاسد کی حمایت کی جاری رکھنےکے اعلان سے صیہونی حکومت وحشت زدہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ فلسطینی مقاومت کی طرف سے دمشق حکومت کی بھرپور حمایت کے اعلان سے صیہونی حکام میں جو خوف طاری ہوچکی ہے وہ ان کے بیانات سے پوری طرح دیکھا جاسکتا ہے۔

دریں اثنا صیہونی صحافی شمریت میر نے اپنے مضمون میں لکھاکہ مختلف فلسطینی گروہوں کے درمیان اختلافات موجود ہونے کے باوجود انہوں نے امریکہ کی قیادت میں شام پر جارحیت کی مذمت کی ۔

انہوں نے کہاکہ فلسطین کی تمام پارٹیوں نے شام پر امریکہ ،برطانیہ اورفرانس کے حملوں کی مذمت کی جبکہ قطر اور سعودی عرب ان حملوں کی حمایت میں آگے آئے جبکہ مصر اوراردن نے کوئی واضح مؤقف پیش نہیں کیا۔

واضح رہے کہ فلسطین کی اسلامی تحریک مقاومت حماس نے اپنے حالیہ بیان میں شام پر گذشتہ ہفتے امریکی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مسلمان ملک کی خودمختاری اورپوری مسلمہ امہ پر حملہ قراردیا۔حماس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ شام پر امریکہ اوراسکے اتحادیوں کاحملہ صیہونی ریاست کے دفاع اور اس کی سازشوں کو تسلسل فراہم کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ وہ شام میں عام شہریوں کے تحفظ کیلئے بمباری کررہا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ ) ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں حملے کے ردِعمل میں ’علاقائی نتائج‘ کی تنبیہ کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کی تفتیش سے پہلے ہی انھوں نے یہ حملہ کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس غیر ذمہ دارانہ حملہ کے علاقائی نتائج مرتب ہوں گے اور اس کے ذمہ دار مغربی ممالک ہوں گے۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ ) حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ شام کے خلاف جو جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جو آزادی اور مزاحمتی تحریکوں کے خلاف ہے، یہ جنگ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔‘

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ڈائیلاگ، ہم آہنگی، سیاسی عمل میں شمولیت، گڈ گورننس اور انسانی حقوق کا احترام کر کے نوجوانوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوئیٹریس نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسند گروہوں کا ہدف نوجوان ہوتےہیں کیونکہ وہ تبدیلی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگوئیٹریس نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو ذمہ دار شہری بنانے کے لیےاقدامات کیے جانے چاہئیں اور خاص طور پر ڈائیلاگ، ہم آہنگی، سیاسی عمل میں شمولیت، گڈ گورننس اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اس موقع پردہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جرأت سے مقابلہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نفرت کا پرچار کر کے نوجوانوں کو عدم برداشت اور تشدد کی جانب مائل کیا جاتا ہے اور غیرملکی مداخلت، قبضہ، سیاسی و اقتصادی ناانصافی، امتیازی سلوک جیسے عمل بھی انتہاپسندی پروان چڑھاتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )امریکہ کی جانب سے شام پر میزائلی حملے پر روس اور شام نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی دھمکی کے بعد شام پر فوری میزائلی حملے سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ

فوری طور پر شام پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔

ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر نے لکھا کہ انہوں نے شام پر حملے کے وقت کا اعلان کبھی نہیں کیا تاہم حملہ جلد بھی ہوسکتا ہے اور اس میں دیر بھی ہو سکتی ہے!

گزشتہ روز امریکی صدر نے روس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیمیائی حملوں کے ردعمل میں پہلے سے زیادہ بہتر نتائج دینے والے امریکی میزائل شام کو نشانہ بنانے آرہے ہیں لہذا روس اپنے بچاؤ کی تیاری کر لے، روس کو ایسے ملک کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا جو معصوم لوگوں پر زہریلی گیس کا حملہ کرکے لطف اندوز ہوتا ہو۔

امریکی الزامات اور دھمکیوں پرروس نےامریکہ کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شام میں کیمیائی حملے کا الزام ’اسکرپٹڈ ڈرامے‘ کا حصہ ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے اگر اس بے بنیاد اور جھوٹے واقعے کو جواز بنا کر امریکا شام میں حملہ آور ہوتا ہے تو اسے سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ دو دنوں میں شام پر حملے سے متعلق حلیف ممالک کے ساتھ مل کر فیصلہ کرلیں گے لیکن اب وہ روس کے سخت رد عمل کے بعد اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

 

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے چار فریقی عرب کمیٹی کے ایران مخالف اعلامیہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ اعلامیہ جو عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل کی موجودگی میں جاری ہوا من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کی شب ریاض کے اختتامی اعلامیے میں دعوی کیا کہ ایران، عرب ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کر رہا ہے اور یہ اقدام علاقے کی سلامتی اور سیکورٹی کے لئے خطرناک ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اسی طرح اپنے تکراری دعوے میں ایران کے تین جزائر تنب کوچک، تنب بزرگ اور بوموسی کی ملکیت کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے دعوے کی بھی حمایت کی۔

بہرام قاسمی نے چار فریقی عرب کمیٹی کی آٹھویں وزراتی کمیٹی کی جانب سے ایران مخالف بیانات کو سختی سے مسترد اور اسے بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیز بیانات سے علاقائی امن و استحکام پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس اعلامیے میں دشمنانہ اور غلط رویہ اختیار کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خطے کے بعض ممالک دشمنوں جیسا موقف اپناتے ہوئے دانستہ طور پر مسلمانوں کے دشمنوں کی خواہشات پرعمل کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمنی اور بدگمانی کا طریقہ اپنانے کے غلط راستوں پر گامزن ہیں۔

بہرام قاسمی نے اس امید کا اظہار کیا کہ عرب لیگ کے سربراہی اجلاس جس کا انعقاد چند روز بعد ہوگا، خطے کی اصل مشکلات کو روشناس کرانے اور اس کے حل کے لئے عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان تعمیری تعاون کو فروغ دینے کے لئے اہم کردار ادا کرے۔

واضح رہے کہ عرب لیگ کا سربراہی اجلاس اتوار 15 اپریل کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقد ہوگا۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ فرانسیسی حکام کو سعودی عرب کے نا تجربہ کار اور جنگ پسند ولیعہد کی مہم جوئی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کل فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس جو خود 1+5 کا رکن ہے اس سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ وہ سعودی عرب کے جھوٹے اور تکراری الزامات اور دعووں میں آجائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب شروع سے ہی جوہری معاہدے کی مخالفت میں بیانات دے رہا تھا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان میں ہونے والے دعووں کے بر خلاف ایران، علاقے میں قیام امن اور دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد کی اور مذاکرات اور گفتگو کو مغربی ایشیا کے علاقے میں امن و آشتی کے لئے واحد راستہ قرار دیتا ہے۔

بہرام قاسمی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ میزائلی پروگرام ایران کا اندرونی موضوع ہے، کہا کہ فرانس کے حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کا میزائلی پروگرام دفاع کے لئے ہے اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسی طرح فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان میں علاقے کے بعض ملکوں اور گروہوں کے لئے ایران کی جانب سے ہتھیاروں کی ترسیل کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کیا۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ فرانس کے حکام کو اپنے عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی ترسیل کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئیے اس لئے کہ ان ہتھیاروں سے سعودی حکام یمن کے نہتے اور مظلوم عوام کا خون بہا رہے ہیں۔

 

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )بعض پریس ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ شام پر امریکی حملے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔

بعض امریکی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکام نے شام پر حملہ کرنے کے لئے تمام وسائل منجملہ جنگی طیارے، بحری جنگی بیڑے، اور فوج کو آمادہ کر لیا ہے اور امریکی فوجی کمانڈر شام پر حملہ شروع کرنے کے لئے صرف امریکی صدر ٹرمپ کے احکامات کے منتظر ہیں۔فاکس نیوز ٹی وی نے بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں شام پر امریکی حملہ شروع ہو جائے گا۔ ان ذرائع‏ کے مطابق شام کی فضا میں کوئی مسافربردار طیارہ دور دور تک نہیں دیکھا جا رہا ہے۔امریکہ نے شام پر حملے کا بہانہ بنانے کے لئے پرانا راگ الاپتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ حکومت شام نے غوطہ شرقی میں واقع دوما کے علاقے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہیں اور اس کے اس اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔حکومت شام کے خلاف اس الزام کے تحت ایسی حالت میں ماحول سازگار بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ غوطہ شرقی میں دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک، شام میں اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لئے نئی سازش رچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )متحدہ مجلس عمل سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی اور پاکستان میں عدلانہ نظام کے لئے جدوجہد سندھ میں ہماری اولین ترجیح ہوگی، عوامی مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مسلک کے درمیان اتحاد و وحدت کی فضاء کو بہتر بنانے کے لئے متحدہ مجلس عمل اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کراچی کے مرکز ادارہ نور حق میں ایم ایم اے کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ناظر عباس تقوی کا کہنا تھا کہ وہ قوتیں اور عناصر جو ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دینا چاہتی ہیں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں ان کو ہم کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، معاشرے سے کرپشن کے خاتمے، عوام کے استحصال، مہنگائی، بے روزگاری اور بیرونی مداخلت روکنے، پاکستان میں نظام مصطفیٰ (ص) کے قیام اور تحفظ قانون ناموس رسالت (ص) کی حفاظت کے لئے متحدہ مجلس عمل 2018ء کے الیکشن میں بھرپور قوت اور طاقت کے ساتھ میدان عمل میں آئے گی، عوام نے اُن عناصر کو مسترد کردیا ہے جنہوں نے ملک میں کرپشن کا بازار گرم کیا اور ملکی دولت کو بیرون ملک منتقل کیا، اب عوام کی نگاہیں متحدہ مجلس عمل کی قیادت کی جانب ہیں ، اب متحدہ مجلس عمل ہی پاکستان بھر میں عوامی مسائل کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

 

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )تحریر: عرفان علی

9 اپریل سال 2006ء کو محمود احمدی نژاد کی صدارت کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران نے کم درجے پر یورینیم افزودگی کا کامیاب تجربہ کیا۔ ایران کے ہجری شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے وہ 20 فروردین کا دن تھا، اس لئے 9 اپریل یا 20 فروردین کو ایران میں ہر سال ’’روز ملی فناوری ہستہ ای‘‘ یعنی یوم قومی ایٹمی ٹیکنالوجی کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ اس سال بھی ایران میں اس دن جشن کا سماں تھا، نیوکلیئر میلہ سجایا گیا، جہاں موجودہ صدر حسن روحانی مہمان خصوصی تھے۔ اس تقریب میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران کی تازہ ترین کامیابیوں کا چرچا تھا اور اسکی نمائش بھی کی گئی۔ صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جب سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے گروپ پانچ جمع ایک (یا۔۔ای تین جمع تین) سے بین الاقوامی معاہدہ ہوا ہے، تب سے ایران کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں پیش رفت اور کامیاب منصوبوں کی تعداد 200 ہے۔ پچھلے سال تینتالیس منصوبوں کا افتتاح ہوا اور اس سال 83 منصوبوں کا افتتاح ہوا۔ اس دن کی مناسبت سے دس اپریل بروز منگل مجھ حقیر کو سحر اردو ٹی وی کے سیاسی ٹاک شو ’’انداز جہاں‘‘ میں اظہار خیال کے لئے مدعو کیا گیا جبکہ میزبان جناب سید علی عباس رضوی کے ساتھ پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر راشد عباس نقوی صاحب تہران اسٹوڈیو میں براجمان تھے۔ اسی لئے اس ناچیز کو یہ مناسب لگا کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران کی کامیابیوں اور تازہ ترین پیش رفت پر ایک تازہ نگاہ دوڑائی جائے، تبھی یہ جان پائیں گے کہ ایران کیوں اس ایک دن کو اپنی قومی عظمت و افتخار کا دن قرار دے کر جشن مناتا ہے۔

ایران نے جن کامیابیوں کو نمائش کے لئے پیش کیا، وہ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی، نیوکلیئر فشن، نیوکلیئر ادویات اور ایٹمی بجلی گھر سے متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر تیل کی صنعت میں سینٹری فیوج مشین کا استعمال۔ یہ انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ سینٹری فیوج مشین کا ایک استعمال یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے سے گیس اور تیل کے لئے ڈرلنگ میں مدد لی جاتی ہے اور فضلہ یا نامطلوبہ مواد کو مطلوبہ مواد سے علیحدہ کیا جاتا ہے یا ٹھوس اشیاء کو مایع سے علیحدہ کیا جاتا ہے اور اس طرح کم وقت میں زیادہ اور اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ایران کی دوسری کامیابی لیزر اسپیکٹرو میٹر کی تیاری ہے۔ یاد رہے کہ نینو ٹیکنالوجی ایران پہلے ہی حاصل کرچکا ہے۔ تازہ ترین تیسری اہم کامیابی ریڈیو فارماسیوٹیکل کے شعبے میں ہے، جو ادویات سے متعلق ہے اور سرطان (کینسر) جیسے موذی مرض میں اور خاص طور مردانہ تولیدی نظام میں سرطان کے علاج کی ادویات کی تیاری ہے۔ یہ وہ اہم شعبہ ہے کہ ایران کے اہم ترین نیوکلیئر سائنسدان مجید شھریاری اس پر کام کرنے کی وجہ سے شہید کئے گئے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے ایک مرتبہ خاص طور پر شہید شہریاری اور اس شعبے کا تذکرہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت ایران کے دشمن یہ ادویات (یعنی ریڈیو فارماسیوٹیکل) میں ایران کو محروم رکھنے کے درپے ہیں۔ ایران کو باہر سے بھی یہ ادویات میسر نہیں اور جو ایران کے اندر اس شعبے میں کام کرتے ہیں، دشمن ان کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں۔ رہبر معظم کا کہنا تھا کہ ایران کے دیگر نیوکلیئر سائنسدان بھی مسعود علی محمدی، داریوش رضائی نژاد، مصطفٰی احمدی روشن وغیرہ کو بھی اسی لئے شہید کیا گیا کہ وہ ایسے ہی اہم منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔ اس سلسلے کے ایک اور شہید رضا قشقائی تھے۔

ایران نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ کامیابیاں بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی ہیں۔ صرف حکومت اسلامی ایران نے نہیں بلکہ پوری ملت ایران نے عالمی سطح کی مفلوج کر دینے والی پابندیوں کا سامنا کیا۔ ایران کو مختلف شعبوں میں اقتصادی نقصانات پہنچائے گئے، جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا ٹرائل کیا گیا، دیگر ممالک کو امریکہ نے دھمکیاں دے کر ایران سے تجارتی لین دین، حتٰی کہ سائنسی و طبی تعاون بھی نہیں کرنے دیا۔ ایران کے مسافر بردار طیاروں کے حادثات کی ایک وجہ یہ تھی کہ دیگر ممالک کو دباؤ ڈال کر پابند کر دیا گیا تھا کہ ایران کے مسافر بردار طیاروں کے اسپیئر پارٹس دیگر ممالک ایران کو برآمد نہ کریں۔ جعلی ریاست اسرائیل کے نسل پرست صہیونی دہشت گردوں پر مشتمل ایجنسی موساد کو مامور کیا گیا کہ ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو ہدف بناکر قتل کرے۔ یہ کوئی ایسی باتیں نہیں جسے ایران کا الزام قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے بلکہ خود اسرائیلی اس کا انکشاف کرچکے ہیں، انہوں نے اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کتاب اسی سال 30 جنوری کو شایع ہوئی ہے، جو یدیعوت اہارونوت کے رونن برگ مین نے لکھی ہے۔ ’’رائز اینڈ کل فرسٹ: اسرائیل (کی جانب سے) ہدف بنا کر (سیاسی اہداف کیلئے) قتل کرنے کی خفیہ تاریخ‘‘ میں موساد ہی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج اور شین بیت کے اہلکاروں نے جو قتل کئے ہیں، یعنی ستر سال میں دو ہزار سات سو قتل کے بارے میں لکھا ہے۔ ایک ہزار انٹرویوز اور ہزاروں دستاویزات کی بنیاد پر چھ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب امریکی روزنامے نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر فہرست میں شامل ہے۔

یہ کوئی نیا انکشاف نہیں۔ سال 2012ء میں ’’ہرمجدون کے مخالف جاسوس: اسرائیل کی خفیہ جنگوں کے اندر (کی کہانی)‘‘ ڈان راویو اور یوسی میلمن کی اس مشترکہ تصنیف میں جولائی 2012ء میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران نیوکلیئر سائنسدانوں کو اسرائیلی ایجنسی موساد نے قتل کروایا۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف امریکی سازشوں اور اسرائیل کے کردار پر نیویارک ٹائمز کے ڈیوڈ سینجر نے بھی کم از کم دو کتابوں میں امریکی حکمران شخصیات اور اداروں کے بعض اہم اجلاسوں کی اندرونی روداد بیان کی ہیں۔ موساد نے عالم اسلام کے خلاف حتٰی کہ بعض یورپی ممالک کے خلاف جو کارروائیاں کی ہیں اس پر رونالڈ پیئن کی کتاب ’’موساد، اسرائیل کا خفیہ ترین ادارہ‘‘ 1990ء میں شایع ہوچکی ہے۔ مراکش کے حکمران شاہ حسن نے اپنے سیاسی مخالف مہدی بن برکہ کو مروانے کے لئے موساد اور فرانسیسی اداروں کی مدد لی تھی۔ مصری ایٹمی سائنسدان پروفیسر یحیٰ المشھدی کی مسخ شدہ لاش ملی، جو امریکہ اور روس سے اس شعبے کی تعلیم و تربیت لے چکا تھا اور ایک معاہدے کے تحت عراقی نیوکلیئر اتھارٹی کے ساتھ کام کر رہا تھا اور فرانس میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا تھا، جہاں اسے قتل کر دیا گیا۔ بس فرق یہ ہے کہ دیگر مسلمان یا عرب ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت سے روکنے کی اسرائیلی سازش اس لئے کامیاب ہوگئی کہ وہ ممالک امریکہ پر یا دیگر مغربی ممالک پر انحصار اور اعتماد کرتے تھے یا پھر انکی صفوں میں صہیونیوں کے آلہ کار زیادہ بااثر اور طاقتور تھے، لیکن ایران ان سازشوں کے باوجود اپنی دھن کا پکا نکلا اور یورینیم کی افزودگی کرکے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ ایران کو اس سے روکنے کے لئے امریکہ کے سازشی کردار کی تفصیلات خود سابق امریکی وزرائے خارجہ کونڈالیزا رائس اور ہیلری کلنٹن نے بھی اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتب میں بیان کی ہیں۔ ایران سے دشمنی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ایران کی فلسطین پالیسی ہے، یعنی فلسطین میں صرف فلسطینی آباد ہوں اور غیر ملکی جو یہاں لا کر بسائے گئے ہیں، وہ اپنا ناجائز قبضہ ختم کریں اور یہاں کے اصل باشندے ریفرنڈم کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں۔

اب ایک اور مرتبہ ایران کو گھیرنے کی سازش پر عمل ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بارہا اعلان کرچکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ گروپ پانچ جمع ایک (یا ای تین جمع تین) کے معاہدے سے بحیثیت ایک فریق دستبردار ہو جائیں گے اور ساتھ ہی وہ یورپی یونین پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی ایران کو جھکنے پر مجبور کرے، تاکہ ایران انکی دھمکیوں کی وجہ سے اپنا میزائل پروگرام جو کہ عالمی قوانین کی رو سے قانونی اور جائز ہے، اسے بھی روک دے۔ ایرانی قیادت اس ناجائز مطالبے کو مسترد کرچکی ہے۔ اگر اگلے ماہ صدر ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو ایران کے صدر حسن روحانی کا تازہ ترین موقف یہ ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس کے منفی اثرات دیکھ کر امریکہ خود اپنے فیصلے پر پشیمان ہونے پر مجبور ہو جائے گا، کیونکہ ایران ہر نوعیت کے ممکنہ منظر نامے کے لئے خود کو تیار کرچکا ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اگر نیوکلیئر معاہدہ ختم ہوا تو ایران انٹرنیشنل لاء کے مطابق یورینیم کی 20 درجے تک افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کر دے گا، جیسے وہ معاہدے سے پہلے کر رہا تھا۔ ایران اس طرح کہہ بھی سکتا ہے اور کر بھی سکتا ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد چالیسویں سال جب ہم ایران کو دیکھتے ہیں تو یہ ایک ایسا ملک بن چکا ہے کہ جس کو مشرق وسطٰی کے فیصلوں سے منہا نہیں کیا جاسکتا اور اس کی شرکت کے بغیر علاقائی معاملات حل نہیں ہوتے۔

ایران اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے کہ جسے اس کے بدترین دشمن و مخالف بھی ریجنل پاور یا علاقائی طاقت مانتے ہیں اور تھامس فریڈمین جیسا اسرائیل نواز امریکی یہودی دانشور تو (نیویارک ٹائمز میں) ایک کالم میں ایران کو ریجنل سپرپاور لکھ چکا ہے۔ ایران کا موازنہ اگر ہم اپنے ملک پاکستان سے کرلیں تو صرف ایک مثال ہی کافی ہوگی کہ نیوکلیئر اسلحہ سے لیس عالم اسلام کا پہلا ملک پاکستان ہے، لیکن یہاں زمین کے اوپر چلنے والی ٹرین کا نظام درست نہیں کیا جاسکا جبکہ ایران کے دارالحکومت تہران میں گذشتہ کئی برسوں سے زیر زمین میٹرو ٹرین بھی کامیابی سے چل رہی ہے! قصہ مختصر یہ کہ ایران سے دنیا کو یہ حیات بخش پیغام ملا ہے کہ امریکہ، جعلی ریاست اسرائیل اور انکے اتحادیوں کے کھوکھلے وجود سے بے خوف ہوکر ملتیں اپنے آپ پر اعتماد کرکے انحصار طلبی سے جان چھڑائیں تو ایٹمی ٹیکنالوجی بھی کوئی ایسا مشکل شعبہ نہیں کہ اس کے پرامن استعمال کے لئے امریکہ یا کسی دوسرے ملک سے مدد کی ضرورت ہو۔ ایران کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان، عرب اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک بھی ایجادات کرسکتے ہیں، علمی پیش رفت کرسکتے ہیں، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی و عسکری شعبوں میں ترقی کرسکتے ہیں اور ایران خود ایک ماڈل ہے، جس نے یہ سب کچھ کرکے دکھا دیا ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی ایران کا نعرہ ہی یہی ہے: جی ہاں! ہم کرسکتے ہیں!