حدیدہ جنگ پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا تجزیہ

  • پیر, 18 جون 2018 15:34

* 17 کے قریب ممالک کہ جن کے ساتھ ابھی فرانس بھی شامل ہو چکا ہے انھوں نے حدیدہ سے بارودی سرنگیں ڈی فیوز کرنے کا اعلان کیا. اور جو چھپایا گیا وہ زیادہ بھیانک اور خطرناک تھا یعنی حدیدہ پر نا جائز قبضہ کرنا.

* 18 مصری بحریہ اپنی پوری قوت کے ساتھ بمبارمنٹ کر رہی ہے. اور امریکی اسرائیلی اور عربوں کی فضائیہ فورسسز حدیدہ کو سرنڈر ہونے پر مجبور کرنے کے لئے ہر متحرک چیز کو نشانہ بنا رہی ہیں.

* کرائے کے قاتلوں کی سوڈانی ، اماراتی ، سعودی ، امریکی اور کئی ایک افریقی ممالک کی زمینی فوجیں حملہ آور ہیں.

* مقامی وطن کے غدار بیرونی فنڈد جنوبیین ، شمالیین ، لیبرل ، سلفی ، اصلاحی (اخوان المسلمین) اور کانگرسی سب فورسسز بھی حدیدہ پر قبضہ کرنے کیلئے استعمال ہو رہی ہیں.

* بڑی تعداد میں بکتربند گاڑیاں ، کئی ایک ممالک کے جنگی جہاز اور اپاچی ہیلی کاپٹرز نے علاقے پر سایہ کیا ہوا ہے. اور جنگی بحری بیڑے حدیدہ پر قبضہ کرنے کے لئے ہر اطراف سے پہنچ کر حدیدہ پر قبضہ کرنے کے لئے حملہ آور ہیں.

* حدیدہ کے معرکے کیلئے دسیوں ٹی وی چینلز شبانه روز نشریات چلا رہے ہیں.

* لوگ قبروں سے نکل سے نکل کر اتحادی فورسسز کی مدد کر رہے ہیں جیسے عفاش اپنی قبر سے نکلا ہے.

* حدیدہ کے سقوط کے لئے نفسیاتی جنگ پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے.

* دنیا جہان کی سیٹلائٹس ، جاسوسی طیاروں اور جدید ترین الات کو حدیدہ کی طرف موڑ دیا گیا ہے. تاکہ اس پر قبضہ کر سکیں.

* مشایخ اور بااثر شخصیات کو خریدنے کے لئے بھاری بھرکم مال ودولت کا لالچ دیا گیا تاکہ حدیدہ پر قابض ہو سکیں.

* عایش ، عزان جیسے دیگر بہت سے معروف چہروں سے بھی نقاب الٹ چکا ہے. اور وہ حدیدہبپر قابض ہونے کے لئے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہے ہیں .

* عرب لیگ نے اپنے اجلاس میں حدیدہ پر حملے کی حمایت کردی ہے.

* سلامتی کونسل کے متعدد ھنگامی اجلاس بھی حدیدہ پر حملے کی تائید کے لئے منعقد ہوئے ہیں. اور اعلانات کئے ہیں کہ بڑی تعداد میں انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہے. یعنی لوگ حدیدہ چھوڑ کر نکل جائیں اور شہر دشمن کے حوالے کر دیں. یہ سب کچھ جس کا ذکر ہوا ایک براعظم کے سقوط یا ایک ملک جیسے 20 دم ن میں عراق نے سقوط کیا تھا اس کے لئے کافی تھا. لیکن تمام تر حیلوں اور طاقت کے استعمال کے باوجود ساحلی ضلع پر قبضہ نہ کر سکے. حالانکہ عسکری طور پر اسے سقوط کر جانا چاہئے تھا. اس کے بعد انکا قبضہ کرنے کے خواب کا دائرہ تنگ ہوا تو ائر پورٹ پر قبضہ انکا ھدف قرار پایا. اب انکی فقط یہ حسرت ہے ایک ائر پورٹ پر ایک فوٹو بنا لیں. 
آخر دشمن اتنا عاجز اور ذلیل کیوں نظر آ رھا ہے. متعدد ممالک اور انکی مشترکہ فورسسز ، جدید ترین اسلحہ اور اسلحہ واموال کی بھرمار کے باوجود ذلت ورسوائی کے ساتھ عاجز ہیں. 
خدا کی قسم اور پھر خدا کی قسم اگر پا پیادہ لوگ جنگی طیاروں سے روپوش ہو سکتے اور دشمن کے پاس باقی ساری طاقت ہوتی تو پھر بھی وہ جنوب کے کئی ایک اضلاع اور عدن سمیت کئی ایک شہروں پر چند دنوں میں کنٹرول کر چکے ہوتے .

ابھی تک تو حدیدہ کا معرکہ ہے اور اتنے عاجز وبے بس ہیں. عثمانی سلطنت نے ایک دن میں قبضہ کیا تھا اور.1962 میں مصر نے چند گھنٹوں میں قبضہ کر لیا تھا. کیا ہوا کہ آج حدیدہ کے پاس اتنی بڑی قوت اور طاقت ہے. اور یہ کس نوعیت کے لوگ ہیں جو اسکی حفاظت اور دفاع کر رہے ہیں. جو نہ پیچھے ھٹتے ہیں بلکہ بڑھ چڑھ کر حملہ کر کے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں. حدیدہ جو کچھ ہو رھا ہے وہ درحقیقت ایک معجزہ ہے.
یقین جانئے مجھے اتنی مقاومت کا اندازہ نہیں تھا. اور کسی بھی صحرائی علاقے پر اتنی مقاومت کی امید نہ تھی. دشمن کی کمر توڑ دینے کے لئے پہاڑی علاقوں پر اعتماد تھا. جہاں پر دشمن کی ناک زمین پر رگڑنے کا بہترین میدان ہو گا. لیکن آج حدیدہ نےکہا کہ چھوڑ دیں ان تجزئیات کو میرے دامن میں ایسے مرد مومن ہیں جو اللہ کے مجاہد اور انصار ہیں. اور بہادر عوام ہیں. 
بڑے مؤثر تجزیہ نگاروں کی تحلیل سے توار کی دھار کی خبر سچی ہے. انتظار کرو اور دیکھو.

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.