ایران کی نیوکلیئر پیشرفت پر ایک نظر

  • بدھ, 11 اپریل 2018 11:01

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )تحریر: عرفان علی

9 اپریل سال 2006ء کو محمود احمدی نژاد کی صدارت کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران نے کم درجے پر یورینیم افزودگی کا کامیاب تجربہ کیا۔ ایران کے ہجری شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے وہ 20 فروردین کا دن تھا، اس لئے 9 اپریل یا 20 فروردین کو ایران میں ہر سال ’’روز ملی فناوری ہستہ ای‘‘ یعنی یوم قومی ایٹمی ٹیکنالوجی کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ اس سال بھی ایران میں اس دن جشن کا سماں تھا، نیوکلیئر میلہ سجایا گیا، جہاں موجودہ صدر حسن روحانی مہمان خصوصی تھے۔ اس تقریب میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران کی تازہ ترین کامیابیوں کا چرچا تھا اور اسکی نمائش بھی کی گئی۔ صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جب سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے گروپ پانچ جمع ایک (یا۔۔ای تین جمع تین) سے بین الاقوامی معاہدہ ہوا ہے، تب سے ایران کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں پیش رفت اور کامیاب منصوبوں کی تعداد 200 ہے۔ پچھلے سال تینتالیس منصوبوں کا افتتاح ہوا اور اس سال 83 منصوبوں کا افتتاح ہوا۔ اس دن کی مناسبت سے دس اپریل بروز منگل مجھ حقیر کو سحر اردو ٹی وی کے سیاسی ٹاک شو ’’انداز جہاں‘‘ میں اظہار خیال کے لئے مدعو کیا گیا جبکہ میزبان جناب سید علی عباس رضوی کے ساتھ پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر راشد عباس نقوی صاحب تہران اسٹوڈیو میں براجمان تھے۔ اسی لئے اس ناچیز کو یہ مناسب لگا کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران کی کامیابیوں اور تازہ ترین پیش رفت پر ایک تازہ نگاہ دوڑائی جائے، تبھی یہ جان پائیں گے کہ ایران کیوں اس ایک دن کو اپنی قومی عظمت و افتخار کا دن قرار دے کر جشن مناتا ہے۔

ایران نے جن کامیابیوں کو نمائش کے لئے پیش کیا، وہ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی، نیوکلیئر فشن، نیوکلیئر ادویات اور ایٹمی بجلی گھر سے متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر تیل کی صنعت میں سینٹری فیوج مشین کا استعمال۔ یہ انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ سینٹری فیوج مشین کا ایک استعمال یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے سے گیس اور تیل کے لئے ڈرلنگ میں مدد لی جاتی ہے اور فضلہ یا نامطلوبہ مواد کو مطلوبہ مواد سے علیحدہ کیا جاتا ہے یا ٹھوس اشیاء کو مایع سے علیحدہ کیا جاتا ہے اور اس طرح کم وقت میں زیادہ اور اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ایران کی دوسری کامیابی لیزر اسپیکٹرو میٹر کی تیاری ہے۔ یاد رہے کہ نینو ٹیکنالوجی ایران پہلے ہی حاصل کرچکا ہے۔ تازہ ترین تیسری اہم کامیابی ریڈیو فارماسیوٹیکل کے شعبے میں ہے، جو ادویات سے متعلق ہے اور سرطان (کینسر) جیسے موذی مرض میں اور خاص طور مردانہ تولیدی نظام میں سرطان کے علاج کی ادویات کی تیاری ہے۔ یہ وہ اہم شعبہ ہے کہ ایران کے اہم ترین نیوکلیئر سائنسدان مجید شھریاری اس پر کام کرنے کی وجہ سے شہید کئے گئے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے ایک مرتبہ خاص طور پر شہید شہریاری اور اس شعبے کا تذکرہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت ایران کے دشمن یہ ادویات (یعنی ریڈیو فارماسیوٹیکل) میں ایران کو محروم رکھنے کے درپے ہیں۔ ایران کو باہر سے بھی یہ ادویات میسر نہیں اور جو ایران کے اندر اس شعبے میں کام کرتے ہیں، دشمن ان کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں۔ رہبر معظم کا کہنا تھا کہ ایران کے دیگر نیوکلیئر سائنسدان بھی مسعود علی محمدی، داریوش رضائی نژاد، مصطفٰی احمدی روشن وغیرہ کو بھی اسی لئے شہید کیا گیا کہ وہ ایسے ہی اہم منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔ اس سلسلے کے ایک اور شہید رضا قشقائی تھے۔

ایران نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ کامیابیاں بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی ہیں۔ صرف حکومت اسلامی ایران نے نہیں بلکہ پوری ملت ایران نے عالمی سطح کی مفلوج کر دینے والی پابندیوں کا سامنا کیا۔ ایران کو مختلف شعبوں میں اقتصادی نقصانات پہنچائے گئے، جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا ٹرائل کیا گیا، دیگر ممالک کو امریکہ نے دھمکیاں دے کر ایران سے تجارتی لین دین، حتٰی کہ سائنسی و طبی تعاون بھی نہیں کرنے دیا۔ ایران کے مسافر بردار طیاروں کے حادثات کی ایک وجہ یہ تھی کہ دیگر ممالک کو دباؤ ڈال کر پابند کر دیا گیا تھا کہ ایران کے مسافر بردار طیاروں کے اسپیئر پارٹس دیگر ممالک ایران کو برآمد نہ کریں۔ جعلی ریاست اسرائیل کے نسل پرست صہیونی دہشت گردوں پر مشتمل ایجنسی موساد کو مامور کیا گیا کہ ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو ہدف بناکر قتل کرے۔ یہ کوئی ایسی باتیں نہیں جسے ایران کا الزام قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے بلکہ خود اسرائیلی اس کا انکشاف کرچکے ہیں، انہوں نے اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کتاب اسی سال 30 جنوری کو شایع ہوئی ہے، جو یدیعوت اہارونوت کے رونن برگ مین نے لکھی ہے۔ ’’رائز اینڈ کل فرسٹ: اسرائیل (کی جانب سے) ہدف بنا کر (سیاسی اہداف کیلئے) قتل کرنے کی خفیہ تاریخ‘‘ میں موساد ہی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج اور شین بیت کے اہلکاروں نے جو قتل کئے ہیں، یعنی ستر سال میں دو ہزار سات سو قتل کے بارے میں لکھا ہے۔ ایک ہزار انٹرویوز اور ہزاروں دستاویزات کی بنیاد پر چھ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب امریکی روزنامے نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر فہرست میں شامل ہے۔

یہ کوئی نیا انکشاف نہیں۔ سال 2012ء میں ’’ہرمجدون کے مخالف جاسوس: اسرائیل کی خفیہ جنگوں کے اندر (کی کہانی)‘‘ ڈان راویو اور یوسی میلمن کی اس مشترکہ تصنیف میں جولائی 2012ء میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران نیوکلیئر سائنسدانوں کو اسرائیلی ایجنسی موساد نے قتل کروایا۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف امریکی سازشوں اور اسرائیل کے کردار پر نیویارک ٹائمز کے ڈیوڈ سینجر نے بھی کم از کم دو کتابوں میں امریکی حکمران شخصیات اور اداروں کے بعض اہم اجلاسوں کی اندرونی روداد بیان کی ہیں۔ موساد نے عالم اسلام کے خلاف حتٰی کہ بعض یورپی ممالک کے خلاف جو کارروائیاں کی ہیں اس پر رونالڈ پیئن کی کتاب ’’موساد، اسرائیل کا خفیہ ترین ادارہ‘‘ 1990ء میں شایع ہوچکی ہے۔ مراکش کے حکمران شاہ حسن نے اپنے سیاسی مخالف مہدی بن برکہ کو مروانے کے لئے موساد اور فرانسیسی اداروں کی مدد لی تھی۔ مصری ایٹمی سائنسدان پروفیسر یحیٰ المشھدی کی مسخ شدہ لاش ملی، جو امریکہ اور روس سے اس شعبے کی تعلیم و تربیت لے چکا تھا اور ایک معاہدے کے تحت عراقی نیوکلیئر اتھارٹی کے ساتھ کام کر رہا تھا اور فرانس میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا تھا، جہاں اسے قتل کر دیا گیا۔ بس فرق یہ ہے کہ دیگر مسلمان یا عرب ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت سے روکنے کی اسرائیلی سازش اس لئے کامیاب ہوگئی کہ وہ ممالک امریکہ پر یا دیگر مغربی ممالک پر انحصار اور اعتماد کرتے تھے یا پھر انکی صفوں میں صہیونیوں کے آلہ کار زیادہ بااثر اور طاقتور تھے، لیکن ایران ان سازشوں کے باوجود اپنی دھن کا پکا نکلا اور یورینیم کی افزودگی کرکے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ ایران کو اس سے روکنے کے لئے امریکہ کے سازشی کردار کی تفصیلات خود سابق امریکی وزرائے خارجہ کونڈالیزا رائس اور ہیلری کلنٹن نے بھی اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتب میں بیان کی ہیں۔ ایران سے دشمنی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ایران کی فلسطین پالیسی ہے، یعنی فلسطین میں صرف فلسطینی آباد ہوں اور غیر ملکی جو یہاں لا کر بسائے گئے ہیں، وہ اپنا ناجائز قبضہ ختم کریں اور یہاں کے اصل باشندے ریفرنڈم کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں۔

اب ایک اور مرتبہ ایران کو گھیرنے کی سازش پر عمل ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بارہا اعلان کرچکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ گروپ پانچ جمع ایک (یا ای تین جمع تین) کے معاہدے سے بحیثیت ایک فریق دستبردار ہو جائیں گے اور ساتھ ہی وہ یورپی یونین پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی ایران کو جھکنے پر مجبور کرے، تاکہ ایران انکی دھمکیوں کی وجہ سے اپنا میزائل پروگرام جو کہ عالمی قوانین کی رو سے قانونی اور جائز ہے، اسے بھی روک دے۔ ایرانی قیادت اس ناجائز مطالبے کو مسترد کرچکی ہے۔ اگر اگلے ماہ صدر ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو ایران کے صدر حسن روحانی کا تازہ ترین موقف یہ ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس کے منفی اثرات دیکھ کر امریکہ خود اپنے فیصلے پر پشیمان ہونے پر مجبور ہو جائے گا، کیونکہ ایران ہر نوعیت کے ممکنہ منظر نامے کے لئے خود کو تیار کرچکا ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اگر نیوکلیئر معاہدہ ختم ہوا تو ایران انٹرنیشنل لاء کے مطابق یورینیم کی 20 درجے تک افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کر دے گا، جیسے وہ معاہدے سے پہلے کر رہا تھا۔ ایران اس طرح کہہ بھی سکتا ہے اور کر بھی سکتا ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد چالیسویں سال جب ہم ایران کو دیکھتے ہیں تو یہ ایک ایسا ملک بن چکا ہے کہ جس کو مشرق وسطٰی کے فیصلوں سے منہا نہیں کیا جاسکتا اور اس کی شرکت کے بغیر علاقائی معاملات حل نہیں ہوتے۔

ایران اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے کہ جسے اس کے بدترین دشمن و مخالف بھی ریجنل پاور یا علاقائی طاقت مانتے ہیں اور تھامس فریڈمین جیسا اسرائیل نواز امریکی یہودی دانشور تو (نیویارک ٹائمز میں) ایک کالم میں ایران کو ریجنل سپرپاور لکھ چکا ہے۔ ایران کا موازنہ اگر ہم اپنے ملک پاکستان سے کرلیں تو صرف ایک مثال ہی کافی ہوگی کہ نیوکلیئر اسلحہ سے لیس عالم اسلام کا پہلا ملک پاکستان ہے، لیکن یہاں زمین کے اوپر چلنے والی ٹرین کا نظام درست نہیں کیا جاسکا جبکہ ایران کے دارالحکومت تہران میں گذشتہ کئی برسوں سے زیر زمین میٹرو ٹرین بھی کامیابی سے چل رہی ہے! قصہ مختصر یہ کہ ایران سے دنیا کو یہ حیات بخش پیغام ملا ہے کہ امریکہ، جعلی ریاست اسرائیل اور انکے اتحادیوں کے کھوکھلے وجود سے بے خوف ہوکر ملتیں اپنے آپ پر اعتماد کرکے انحصار طلبی سے جان چھڑائیں تو ایٹمی ٹیکنالوجی بھی کوئی ایسا مشکل شعبہ نہیں کہ اس کے پرامن استعمال کے لئے امریکہ یا کسی دوسرے ملک سے مدد کی ضرورت ہو۔ ایران کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان، عرب اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک بھی ایجادات کرسکتے ہیں، علمی پیش رفت کرسکتے ہیں، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی و عسکری شعبوں میں ترقی کرسکتے ہیں اور ایران خود ایک ماڈل ہے، جس نے یہ سب کچھ کرکے دکھا دیا ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی ایران کا نعرہ ہی یہی ہے: جی ہاں! ہم کرسکتے ہیں!

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.