سید جیکاک سے سید صادق شیرازی تک

  • منگل, 13 مارچ 2018 13:58

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ ) تحریر: محمد صرفی

تقریباً ستر برس پہلے دوسری عالمی جنگ کے دوران ایک شخص جس کی شکل صورت جنوبی ایران کے باشندوں سے زیادہ نہیں ملتی تھی، بصرہ کے راستے ایران میں داخل ہوا اور بختیاری قبائل کے ایک قبیلے "موری" میں جا کر چرواہے کا کام شروع کر دیا۔ موری قبیلہ خوزستان اور چار محال کے درمیان خانہ بدوشی کرتا تھا۔ یہ شخص جو خود کو گونگا اور بہرہ ظاہر کرتا تھا، جس طرح چپ چاپ آیا اسی طرح خاموشی سے چل دیا۔ "مسٹر جیکاک" درحقیقت برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی کا ایجنٹ تھا، جو سات برس خاموشی اور چرواہے کی مشقت برداشت کرنے کے بعد اب ایک عابد اور زاہد شخص میں تبدیل ہوچکا تھا اور البتہ بختیاریوں سے بھی زیادہ بختیاری ہوگیا تھا۔ اس کے جوتے عصا کے اشارے سے اکٹھے ہو جاتے تھے اور آگ اس کی داڑھی کو نہیں جلاتی تھی۔ سادہ لوح افراد کو کیا معلوم تھا کہ "مقناطیس" نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور فائر پروف مادہ بھی کچھ ہوتا ہے۔

لوگوں نے اس برطانوی انٹیلی جنس ایجنٹ سے اس قدر کرامات کا مشاہدہ کیا کہ اس کے گرویدہ ہوگئے اور وہ سید جیکاک کے نام سے معروف ہوگیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عملی طور پر ایران کے تیل کے ذخائر سے مالا مال جنوبی علاقے اس کے کنٹرول میں تھے۔ سید جیکاک پوری طرح چوکنا تھا کہ ان علاقوں سے خام تیل کی برطانیہ ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ اس نے اپنا یہ مشن انجام دینے کیلئے ایک نیا مذہبی فرقہ بھی تشکیل دے دیا، جس کا نام "طلوعی" تھا۔ اس فرقے کے عقائد میں دنیا کی مذمت، دنیا کو مکمل طور پر ترک کرنے اور مٹی اور خام تیل کو حقیر اور پست سمجھنا شامل تھا۔ جب ایران میں خام تیل کی صنعت کو قومیانے کی مہم شروع ہوئی تو سید جیکاک نے بھی اپنی مہم کا آغاز کر دیا۔ طلوعی فرقے سے وابستہ افراد کی زبان پر صبح شام یہ ورد جاری تھا: "تو کہ مہر علی مین دلتہ، نفت ملی سی چنتہ؟" یعنی "تو جس کے دل میں حضرت علی علیہ السلام کی محبت ہے، قومی تیل سے کیا لینا دینا ہے؟"

15 فروری 2017ء کے دن امریکی کانگریس نے ایران سے متعلق بعض سیاسی و سکیورٹی ماہرین کو دعوت دی، تاکہ وہ “Iran under supervision” کے عنوان سے منعقد ہونے والی میٹنگ میں شریک ہو کر اسلامی جمہوریہ سے مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کو مفید مشورے فراہم کریں۔ یہ میٹنگ اس وقت منعقد کی گئی جب نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو برسراقتدار آئے کچھ ہی دن گزرے تھے اور وائٹ ہاوس ایران کے خلاف حکمت عملی تشکیل دینے میں مصروف تھا۔ اس میٹنگ میں جن افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا، ان میں سے ایک "اسکاٹ موڈل" بھی تھا۔ موڈل تیرہ برس تک امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے میں کام کرتا رہا ہے۔ وہ کئی سالوں تک سی آئی اے کے اسپشل آپریشن سیکشن میں بھی سرگرم رہا ہے جبکہ مشرق وسطٰی خاص طور پر افغانستان اس کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ وہ تین زبانوں پرتگالی، فارسی اور اسپینش پر عبور رکھتا ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مغربی انٹیلی جنس ایجنٹس کی خام تیل سے دلچسپی وراثتی ہے۔ موڈل اس وقت "ریپیڈن گروپ" نامی کمپنی کا منیجنگ ڈائریکٹر ہے۔ یہ کمپنی انرجی خاص طور پر خام تیل کے شعبے میں جنوب مغربی ایشیا میں کام کر رہی ہے۔

اسکاٹ موڈل نے ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک سات نکات پر مبنی روڈ میپ بیان کیا۔ گذشتہ ایک سال کے دوران ایران کے اندر بہت کم ہی ایسے بدامنی کے واقعات رونما ہوئے ہیں، جو موڈل کے اس روڈ میپ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ موڈل اپنے روڈ میپ کے نکتہ نمبر 6 میں لکھتا ہے:"ایران میں نافذ سیاسی نظام درحقیقت ایک مذہبی نظام حکومت ہے، جس میں سیاسی طاقت ایک عالم دین کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جبکہ عراق میں روایتی طرز فکر کے حامل علماء کا خیال ہے کہ ایک عالم دین کو سیاست سے دور رہنا چاہئے۔ ہمیں اپنے عرب اتحادیوں کو اس کام کی ترغیب دلانی ہے کہ وہ ایک روایتی اور زیادہ معتدل طرز فکر ہونے کے ناطے نجف کی حمایت کریں۔ یہ مسئلہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت ولایت فقیہہ کے مقابلے میں معروف ترین اور محترم ترین مذہبی شخصیات جیسے آیت اللہ صادق شیرازی وغیرہ کی ترویج کی جائے۔ عراق میں ایسی مذہبی شخصیات کو اٹھایا جائے، جو زیادہ نرمی دکھانے والے اور سیاسی امور سے دور رہنے والے ہوں۔"

چند دن پہلے لندن میں شیرازی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے ایرانی سفارتخانے پر حملہ اسی تناظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ایسا شخص انتہائی سادہ لوح ہے، جو یہ خیال کرے کہ یہ حملہ برطانوی حکومت خاص طور پر برطانوی انٹیلی جنس ایجنسیز کی مداخلت کے بغیر انجام پایا ہے۔ حملہ آور افراد کم ترین رکاوٹ کے بغیر ایرانی سفارتخانے میں داخل ہوئے اور برطانوی پولیس کی آنکھوں کے سامنے تین گھنٹے تک سفارتخانے کے احاطے میں بدمعاشی کرتے رہے۔ اسی طرح برطانوی حکومت کے حمایت یافتہ ذرائع ابلاغ ان تمام واقعات کو براہ راست طور پر براڈ کاسٹ کرتے رہے۔ جب یہ افراد پورے سکون سے اپنی پوری کارروائی مکمل کرکے ایرانی سفارتخانے سے باہر نکلتے ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے!

شیرازی فرقہ یا وہی "برطانوی تشیع" مذہب برحق تشیع کے غیر حقیقی اور شدت پسندانہ چہرے کا پرچار کرنے میں مصروف ہے۔ یہ فرقہ شیعہ مذہب میں طرح طرح کی خرافات ڈال کر اس مذہب کے اصلی اہداف جو انقلابی پن اور ظلم کے خلاف جدوجہد پر مبنی ہیں، پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس فرقے نے شیعہ مذہب کو محض زنجیر زنی، تلوار کا ماتم، آگ پر چلنا وغیرہ جیسے اقدامات تک محدود کر رکھا ہے، جبکہ شیعہ سنی تفرقہ اور مذہبی منافرت کے فروغ کے ایجنڈے پر بھی کاربند نظر آتا ہے۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران اتحاد بین المسلمین کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ایران تمام مسلمانان عالم کو اپنے حقیقی دشمنوں یعنی امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں متحد ہو جانے کی دعوت دیتا ہے۔ شیرازی فرقہ درحقیقت عالمی استعماری قوتوں کی پالیسیوں پر گامزن ہو کر خود مذہب تشیع میں بھی انحرافات اور خرافات پھیلا رہا ہے، جبکہ عالم اسلام میں شیعہ سنی تفرقہ اور دشمنی پھیلانے میں مصروف ہے۔

برطانوی شیعہ تکفیر کی راہ پر گامزن ہے اور وہ ہاتھ اور آواز جسے اسلام دشمن طاقتوں یعنی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اٹھنا چاہئے، تشیع کے نام پر اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف ہی اٹھا رہا ہے۔ یہ خود کو شیعہ کہتے ہیں جبکہ دنیا میں واحد شیعہ حکومت کے خلاف عالمی استعمار برطانیہ کی گود میں بیٹھ کر اس کی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔ اس فرقے کو برطانوی حکومت نے دسیوں سیٹلائٹ چینل دے رکھے ہیں جبکہ برطانیہ کے سرکاری چینل بی بی سی کے دروازے بھی ان پر کھلے ہیں۔ جس دن مرجع عالیقدر آیت اللہ میرزای شیرازی بزرگ نے برطانوی حکومت کے خلاف تمباکو کی فروخت سے متعلق اپنا تاریخی فتویٰ صادر کیا، اسی دن سے برطانیہ کی لومڑی صفت حکومت نے "لندنی مرجع تقلید" پالنے کے منصوبے کا آغاز کر دیا۔ لندن میں بیٹھے یہ جعلی مرجع تقلید اسلامی سرزمینوں خاص طور پر فلسطین میں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی بدمعاشی پر کوئی ردعمل نہیں دکھاتے اور انہیں اس بارے میں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی، جبکہ دوسری طرف کربلا جیسے عظیم اور تاریخ ساز واقعے سے انہیں صرف زنجیر زنی کا سبق ہی حاصل ہوا ہے۔

عالمی استعمار اور مستبد نظاموں کو نہ صرف اس انحرافی فرقے سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ لندن کے علاوہ خلیجی عرب ریاستوں میں اس فرقے کو باقاعدہ دفاتر کھول کر آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت بھی فراہم کرتے ہیں۔ جب ایک برطانوی انٹیلی جنس ایجنٹ کرامات کا حامل ولی بن سکتا ہے تو اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں کہ برطانوی شیعہ ملکہ برطانیہ کیلئے شجرہ بنا کر اسے سید زادی بھی ثابت کر دکھائے۔ خطے میں برطانیہ کی ناک زمین پر رگڑی جا چکی ہے اور اب وہ اپنی اس شکست کا بدلہ لینے کے درپے ہے۔ لندن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے پر حملہ ایک انتہائی پست اور احمقانہ اقدام تھا، جس کا نتیجہ شیرازی فرقے کے چہرے سے نقاب ہٹنے اور اس کا حقیقی مکروہ چہرہ سامنے آنے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ایم آئی 6 کو چاہئے کہ وہ لینگلی میں بیٹھے اپنے سربراہوں کے منصوبوں پر عمل پیرا ہونے کی بجائے تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں، کیونکہ اب سید جیکاک جیسے افراد کا زمانہ گزر چکا ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.