تازہ ترین

6 ستمبر، وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ

  • بدھ, 06 ستمبر 2017 13:12

تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

کوئی بھی قوم اپنے دفاع سے غافل نہیں رہ سکتی۔ دفاع جتنا مضبوط ہو قوم بھی اتنی ہی شاندار اور مضبوط ہوتی ہے۔ 6ستمبر 1965 کی جنگ پاکستانی قوم کیلئے ایک وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ ہے۔ 1965ء کی جنگ میں پاک فوج نے ملک کی سرحدوں کا دفاع باوقار انداز میں موثر بناتے ہوئے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ جنگ ستمبر میں بھی قوم کے بہادر سپوتوں نے جان کے نذرانے پیش کئے اور آج جب قوم کو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا سامنا ہے، تو بھی افواج پاکستان کے جانباز جان کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ 6 ستمبر کا دن وطن عزیز کے دفاع کیلئے عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں کچھ دن انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن کے باعث ان کا تشخص ایک غیور اور جرات مند قوم کا ہوتا ہے۔ آج کے دن وطن عزیز کے ہر فرد کو عہد کرنا ہے کہ وہ وطن عزیز کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو زندگی کی سب سے پہلی اور بڑی ترجیح بنا کر اس شعور کو اگلی نسلوں تک پہنچا ئیں گے۔ 6ستمبر 1965ء پاکستان کی تاریخ کے باب کا ایک سنہری ورق ہے، جب بھارت کی افواج نے اپنی جارحیت سے لاہور، سیالکوٹ، چونڈہ و دیگر مقامات پر حملہ کرکے پاکستان کے عوام کی آزای چھیننے کا ناپاک منصوبہ کامیاب کرنا تھا، انہوں نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ لاہور کو فتح کر کے رات لاہور یتیم خانہ میں فتح کا جشن منائیں گے۔ اللہ کے فضل کرم اور ہماری بہادر افواج نے میجر عزیز بھٹی شہید اور ان جانثار ساتھیوں کی عظیم شجاعت سے دشمنوں کے عزائم خاک میں ملا دئے اور انہیں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر شکست فاش دی۔

قوموں کی داستان عروج و زوال سے مزین ہے۔ چاہے یہ قومی تشخص کی بنیاد مذہب پر ہو یا جغرافیائی حدود پر۔ پاکستان خوش قسمتی سے وہ خطہ ہے کہ جو دونوں دولتوں سے مالا مال ہے۔ ہر قوم کی تاریخ میں وقت کچھ ایسی گھڑیاں ضرور لاتا ہے۔ جب ذاتی مفاد، جان و مال ملکی و اجتماعی مفادات کے آگے ہیچ ہوجاتے ہیں۔ ان آزمائش کی گھڑیوں میں جب قوم اپنے فرض سے آنکھیں چراتی ہیں۔ کڑیل جوان میدان جنگ کی بجائے گھر میں چھپنے کو ترجیح دیں، تو ایسی قوموں کے مقدر میں آنے والا لمحات کا سورج خوشی و مسرت نہیں بلکہ اپنوں کی لاشوں کے ساتھ ساتھ غلامی کی نہ ٹوٹنے والی زنجیر لے کر آتا ہے اور پھر بسا اوقات اُس طوق کو اتارنے میں صدیاں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک گھڑی 6 ستمبر 1965ء کو پاکستان کی تاریخ میں بھی آئی تھی۔ لیکن سلام ہیں اس قوم کو، جس نے اپنے فرائض سے آنکھیں نہیں چرائیں۔ ان نوجوانوں کو جن کے لیے ملکی سلامتی ان کی اپنی جان و مال سے کہیں زیادہ تھی۔ سلام ہے، ان شہیدوں کو سلام ہے، جنہوں نے اپنے جسموں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر شہادت کا رتبہ پایا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ صریح موت ہے۔ لیکن ڈر کا ان کے عمل سے شائبہ تک نہ تھا۔ ان ماؤں کو جنہوں نے ملکی سلامتی کو اپنے بیٹوں سے زیادہ جانا، ان بیویوں کو جنہوں نے سہاگوں کی لاشوں پر نوحہ نہ کیا۔ بلکہ فخر سے سر اٹھا کر کہا کہ میرا شوہر شہید ہے۔

6 ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخر دن ہے، جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کردیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے۔ پاکستان پر 1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دو قومی نظریہ، قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا۔ جسے جری قوم نے کمال و قار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا۔ دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اُسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔ جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھی اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اور مقصد تھا۔ تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔ اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار، مزدور، کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ ’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔‘‘

ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائزہ لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان نے وہ کون سا عنصر اورجذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔ مثلاً ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحد’’رن آف کچھ‘‘ پر طے شدہ قضیہ کو ہندوستان نے بلا جواز زندہ کیا فوجی تصادم کے نتیجہ میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کردیا کہ آئندہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ جنگ کے لئے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا اس کے باوجود پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہ کئے تھے۔ چھـ ستمبر کا دن ہم یوم دفاع کے طور پرمناتے ہیں۔ اس دن انڈیا نے پاکستان پر حملہ کردیاتھا اور الحمداللہ ہمارے لوگوں نے اور پاک فوج نے اس موقع پردشمن کو ایسادندان شکن جواب دیاجسکی مثال پوری دنیامیں نہیں ملتی ہے۔آج بھی اسی جذبہ کی ضرورت ہے، اس وقت بھی امریکہ نے اپنے دوستی کا حق ادا کیاتھاکہ ہماری فوجی امداد بندکردی تھی اور انڈیاکاساتھـ دیاہے اور آج بھی ہماری حالت ایسی ہے کہ ہم اپنے ماضی سےذرا سا بھی سبق نہیں لے چکے ہیں ہمارا ہر حکمران امریکہ کی جھولی میں بیٹھنا پسند کرتا ہے، حالانکہ ہمارے پڑوس میں چین ایک ایسی طاقت ہے، جس کی بھی پوری دنیامیں مثال نہیں ہے۔ اس وقت بھی عوام نے امریکہ کی اس ہٹ دھرمی کو بری طرح محسوس کیااوراس کی مخالفت کی لیکن ہمارے حکمرانوں کے کان پر جوں تک ناں رینگی اوراب بھی یہی حال ہے کہ ہم داخلی طورپراس بری طرح امریکہ کی دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں ہمارے اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور ہزاروں بندوں کو اس کی جنگ میں شہید کروا کر اب بھی ہماری ہرتان امریکہ پرہی ٹوٹتی ہے۔

اس دن ہم نے متحد ہو کر 17 دن تک بھارت کا مقابلہ کیا تھا، سترہ دن کی جنگ میں ہم نے بہت کچھـ کھویا، لیکن قوم ایسی متحد تھی ہر کوئی ایکدوسرے سے بازی لےجانے کی کوشش میں تھا ہر ایک دوسرے کے لئے اپنی جان نثار کرنے کے واسطے تیار تھا۔ لیکن اب پھر اس جذبوں کو ابھرانے کی ضرورت ہے، دراصل ہم کو اس بری طرح ایکدوسرے سے علیحدہ کرنےکی منظم کوشش کی جارہی ہے اور ہم ہیں کہ دشمن کی اس چال کو یا تو سمجھـ نہیں رہے یا کہ شتر مرغ کی طرح اپنی چونچ کو ریت میں دبا رہے ہیں۔ 65ء کے بعد ہماری قوم زلزے پر اکٹھی ہوئی پھر ہم لوگ سیلاب پر اکٹھے ہوئے، لیکن ہمارے حکمران ایسے نااہل ہیں کہ انہوں نے ہی اپنی سیاست سے ہم کو ایکدوسرے سے ایسا بیگانہ کردیا ہے کہ اگر اب کوئی سڑک پر حادثہ سے مر بھی رہا ہے تو ہم لوگ کھڑے ہو کر تماشہ ضرور دیکھتے ہیں، اس کے لئے کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھاتے کہ اس کی جان بچائی جاسکے۔

6 ستمبر کا دن پاکستان کا یوم دفاع وہ جرأت اور بہادری کی تاریخ رقم ہوئی، جو رہتی دنیا تک درخشاں رہے گی۔ پاکستان کو سیاسی و معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ محب وطن، باکردار اور با صلاحیت قیادت کو آگے لا کر ایک نئے پاکستان کی تشکیل کی جائے اور اس کے لئے ہر پاکستانی کو موجودہ انتخابی نظام کے خلاف منظم، موثر اور پر امن جدوجہد کرنا ہے۔ کیونکہ اس وقت ملک و قوم کا بد ترین دشمن کرپٹ، فرسودہ انتخابی نظام ہے۔ پاکستان کی تکمیل اور ترقی کے لئے عوام کو موجودہ نظام انتخاب کے خلاف 6 ستمبر والے عزم کے ساتھ یہ جنگ جیتنی ہو گی تا کہ پاکستان ایشیاء کا باوقار ملک اور پاکستانی باحمیت اور خوشحال قوم بن سکیں۔ یوم دفاع پاکستان مناتے ہوئے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری بہادر افواج کے ہمراہ بھارتی جارحیت کے خلاف تمام قوم نے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ساتھ دیا۔ یہ تاریخی دن مناتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے وطن عزیز کے دشمن ہمیں ہمارے وطن کو داخلی و خارجی طور پر ناپاک سازش کر کے کھوکھلا کرنے کے درپے ہیں، جبکہ ہماری بہادر افواج دہشت گردوں کیخلاف نارتھ وزیرستان میں نبرو آزما ہے۔ یہ دہشت گرد مسجدوں کو بھی تباہ کرتے رہیں ہے اور معصوم جانوں کو لقمہ اجل بناتے رہے ہیں۔ یہ دہشت گرد ہمارے ایئر پورٹوں پر حملے کرکے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان غیر محفوظ ملک ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دفاع آزادی پاکستان کی جنگ میں تمام قوم نے دن رات کام کر کے افواج پاکستان کی سپلائی لائن کو قائم رکھا اور دشمن کے ارادے خاک میں ملائے۔ان حالات میں ملک کے حکمران جماعتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کی آزادی کی حفاظت کیلئے پاکستان کو سیاسی و اقتصادی اور سماجی طور پر کامیاب کریں کیونکہ داخلی انتشار کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ ملک میں غربت، جہالت، بے روزگاری اور امیرو غیرب کے بے پناہ فرق کو بھی دور کر کے ہم اپنی عوام کو آزادی کے ثمرات سے مستفید کرسکتے ہیں، جس کیلئے ملک کے جاگیرداروں و سرمایہ داروں اور سیاستدانوں سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ ملک سے 200ارب ڈالر کی لوٹی ہوئی رقم سوئس بینکوں سے واپس لائی جائے اور قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کا سختی سے محاسبہ ہو۔ اس لئے ہماری حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کی آزادی کے دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی طرح مثالی کردار کا مظاہر کریں، جس نے اپنی تمام جائیداد قوم کے نام وقف کردی تھی اور سرکاری خزانے سے ایک روپیہ تنخواہ وصول کرتے تھے۔ دفاع پاکستان کو مضبوط کرنے کیلئے ہمیں اقتصادی خود کفالت کی پالیسی اپنا کر قومی صنعت وز راعت کی مثالی طور پر جلد از جلد ترقی دینی چاہئے اور تعیش کی اشیاء کی درآمدات پر پابندی عائد کرکے ملک میں لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کی لعنتوں کو جلدی ختم کرنا چاہئے۔

عیاشی اور اسراف جذبہ ایثار و شہادت کو ختم کر دیتے ہیں، اس وقت بھی ہماری قوم ومصائب و آلام اور مشکلات میں گھری ہوئی ہے، ناامیدیوں اور مایوسیوں کے منحوس سائے ہیں، دیکھا جائے تو موجودہ وقت میں وہ جذبے عنقا ہیں۔ ہمیں اسی جذبہ اتحاد کی ضرورت ہے، جو پاکستان کو بحرانوں سے نکال سکے، ملک و قوم کو ترقی کے راستے پر ڈالنے ،سمت اور رفتار کے درست کرنے، کھرے کھوٹے کو الگ کرنے، سچ جھوٹ کو عیاں کرنے، کے لیے ایسے لمحات ضروری ہوتے ہیں، جب اسے کسی چیلنج کا سامنا ہوتا ہے اس سے قوم کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ بقول علامہ اقبال
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

ستمبر کا مہینہ ہم کو یہ یاد دلاتا ہے کہ فوج، عوام اور حکومت مل کر مشکل سے مشکل حالات کا بخوبی مقابلہ کر سکتی ہے۔ 6 ستمبر 1965 ء کو بھارت نے جب پاکستان پر شب خون مارا تو وہ اس وقت اپنی افرادی قوت، اسلحہ کے انبار اور عالمی سپر طاقتوں کی سر پرستی کی وجہ سے تکبر، غرور تھا، مگر بھارت کو اس جنگ میں منہ کی کھانی پڑی۔ پاکستان کی عوام اور افواج نے بھارت کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ پاکستانی قوم نے ستمبر 1965ء کی جنگ میں اپنا دفاع کر کے پوری دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم ایک نا قابل تسخیر قوم ہیں، پاکستان کے بہادر فضائیہ، بری اور بحری افواج نے بے مثال اور حیرت انگیز کارنامے سر انجام دیئے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے پاس بہت ہی کم جنگی سازوسامان تھا، جبکہ بھارت کے پاس کئی گنا زیادہ افواج اور اعلیٰ جنگی ہتھیار اور سازوسامان تھا۔ تاہم ایک طاقت پاکستان کے پاس تھی، جو بھارت کے نصیب میں کبھی نہیں ہو سکتی، وہ ہے ایمانی جذبہ، بلاشبہ پاکستان نے یہ جنگ جذبے سے جیت کر غزوہ بدر کی تاریخ دہرادی تھی۔ دس گنا بڑی دشمن کی فضائیہ، جذبہ شہادت سے لیس ہوابازوں کے سامنے نہ ٹھہر سکی۔ دشمن طاقت کے زور پہ لڑتا ہے، جبکہ مسلمان جذبہ ایمانی اور جذبہ شہادت سے۔ یہی کامیابی کا راز ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.