اسرائیل اور ہندوستان کا مشترکہ دشمن

  • بدھ, 05 جولائی 2017 21:36

تحریر: نذر حافی

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ممالک روابط کے مطابق مقبول ہوتے ہیں، کسی بھی ریاست کے تین طرح کے رابطے ہوتے ہیں، ایک اپنے عوام کے ساتھ، دوسرے اپنے اداروں کے ساتھ اور تیسرے بیرونی دنیا کے ساتھ۔ کامیاب ریاستیں، اپنے عوام کے لئے ٹارچر سیل اور عقوبت خانے بنانے کے بجائے، معیاری تعلیمی ادارے بناتی ہیں اور ان کے لئے صحت و روزگار جیسی بنیادی سہولتوں کو یقینی بناتی ہیں۔ عوام کی جان و مال کو اوّلین ترجیح حاصل ہوتی ہے اور عوامی شکایات کا فوراً ازالہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے چلتی ہوئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھتی ہے اور مسافر جھلس کر راکھ ہو جاتے ہیں، چونکہ ہمارے ہاں ایسی گاڑیاں چل رہی ہیں، جن میں صرف ایک ہی دروازہ ہوتا ہے اور اس سے سوار ہونا یا اترنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ ابھی تک کسی بھی ادارے نے اس پر توجہ نہیں دی کہ عوام کی جان بچانے کے لئے کم از کم گاڑیوں کے دروازوں پر ہی توجہ دی جائے، دوسری طرف ریاست کے تعلقات اپنی اداروں کے ساتھ اتنے افسوسناک ہیں کہ ریاستی ادارے ایک دوسرے سے سیکورٹی کے امور میں بھی تعاون نہیں کرتے، اگر اداروں کا باہمی تعاون یقینی ہو جائے تو ملک میں دہشت گردی، فرقہ پرستی، شدت پسندی اور دیگر جرائم پر قابو پانا کوئی شکل کام نہیں۔ تیسرا مسئلہ ریاست کے دیگر ممالک کے ساتھ روابط ہیں۔ اس سلسلے میں بھی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ ہم اپنے دوستوں اور دشمنوں کا تعین پالیسیوں اور قومی مفادات کے بجائے ڈالروں اور ریالوں کی وجہ سے کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر ہم اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں تو اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور مسٹر مودی کا دورہ اسرائیل ہماری نیندیں اُڑانے کے لئے کافی ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ اسرائیل اور ہندوستان کا مشترکہ دشمن صرف پاکستان ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیروں پر ظلم کرنے کے سارے حربے اسرائیلی ادارے ہی ہندوستانی فوجیوں کو سکھاتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور ریسرچ رپورٹس کے مطابق، موساد جس طرح انڈین فورسز کو ٹریننگ دیتی ہے، اسی طرح پاکستان کے دشمن شدت پسند ٹولوں کی بھی تربیت کرتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں کو جہاد کے نام پر موساد نے ٹریننگ دی ہے، ان کے اندر ہندوستانیوں اور اسرائیلیوں کی طرح پاکستان کی دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ وہ پورے پاکستان کو کافرستان، قائداعظم کو کافر اعظم، پاک فوج کو ناپاک فوج اور پاکستانی عوام کو واجب القتل سمجھتے ہیں۔ یہی پاکستانی فوجیوں کے سروں سے فٹبال کھیلنے کے شوقین ہیں اور انہوں نے ہی پشاور آرمی پبلک سکول کے ننھے منے بچوں کو خاک و خون میں غلطاں کیا ہے۔ اس وقت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تین روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔ یہ کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا پہلا دورہ اسرائیل ہے۔ اس دورے سے قبل بھارت میں اسرائیلی سفیر ڈینیل کارمون نے اس دورے کو ’’انتہائی غیر معمولی اور اہم‘‘ قرار دے دیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم کے دورے کی تیاریاں امریکی صدر کے دورے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر کی گئی ہیں۔[1]

یہ دورہ پورے عالم اسلام کے لئے بھی خصوصی توجہ کا حامل ہے اور اس دورے کا ایک انتہائی اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں پہلی مرتبہ سعودی عرب کی طرح بھارت نے بھی اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے فلسطین کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2015ء میں جب بھارت کے صدر پرناب مکھرجی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا تو وہ روایت کے مطابق پہلے فلسطین گئے تھے اور اُس کے بعد اسرائیل پہنچے تھے۔ سعودی عرب اور بھارت کے نزدیکی تعلقات کی وجہ سے اس مرتبہ نریندر مودی کے اس دورے میں فلسطین شامل نہیں ہے۔ سعودی عرب اور بھارت کی خارجہ پالیسی کا مشترک ہونا، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے لئے انتہائی تشویشناک ہے۔ بھارت کے جس طرح سعودی عرب اور اسرائیل کے ساتھ پہلے سے ہی وسیع پیمانے پر دفاعی معاہدے ہیں۔ بھارتی میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق آج بھارت اور اسرائیل کے درمیان ایک ارب ڈالر کے تجارتی، دفاعی اور ٹیکنالوجی کے معاہدے کئے جانے کا امکان ہے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے اپنی خبر میں بتایا کہ اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مارک سوفر نے نریندر مودی کے دورے کے موقع پر کہا کہ بھارت کو حق حاصل ہے کہ وہ دہشت گردی سے خود کو محفوظ رکھے۔ مارک سوفر کا کہنا تھا کہ بھارت اور اسرائیل ایک ہی طرح کے دشمن سے پریشان ہیں اور ان کا دشمن مشترک ہے۔[2]

موجودہ حالات میں پاکستان کو بھی اپنی کشمیر پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے مذکورہ ممالک سے اپنے روابط کا جائزہ لینا چاہیے۔ ایسے میں یہ خبر بہت حوصلہ افزا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عدلیہ پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں قانونی اور انسانی حقوق کے معاملات کی سختی سے حمایت یا مخالفت کریں، تاکہ پوری دنیا کو اپنے موقف سے آگاہ کیا جاسکے۔ اس سے قبل انہوں نے عیدالفطر کے خطبے کے دوران بھی مسلم دنیا پر بحرین، یمن اور کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت پر زور دیا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جب 2010ء میں انہوں نے کشمیر کے بارے میں بات کی تھی تو ہندوستانی حکومت نے تہران کے سامنے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔[3] اس وقت یہ تمام محب وطن پاکستانی صحافیوں، دانشورں اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مودی کے دورہ اسرائیل کو جزئیات کے ساتھ منظر عام پر لائیں۔ ہم دشمن کی سازشوں سے جتنے آگاہ ہونگے، اسی قدر اپنے ملک کا اچھی طرح دفاع بھی کرسکیں گے۔ پاکستان کے مضبوط دفاع کے لئے حالات سے درست آگاہی ضروری ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور بھارت و اسرائیل کی آنکھوں میں مشترکہ طور پر صرف اور صرف پاکستان کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.