پاراچنار کے غیرت مند فرزندوں کی مقاومت کو سلام

  • جمعہ, 30 جون 2017 23:34

تحریر: عرفان علی

سانحہ پاراچنار کے بعد کوئی غیر ملکی دورہ شاید اس لئے ملتوی نہیں ہوا کہ وہاں حکمران جماعت کے سربراہ کو اگلے الیکشن کے ووٹ نظر نہیں آرہے تھے۔ قدرت خدا کی کہ احمد پور شرقیہ کے غریب اور مفلوک الحال عوام آئل ٹینکر الٹنے کے بعد تیل کو مال غنیمت سمجھ کر اسے حاصل کرنے جمع ہوگئے اور پھر یکایک دھماکے سے ٹینکر پھٹا، آگ کا گولہ بنا اور یکایک متعدد انسان لقہ اجل بن گئے۔ سانحہ پاراچنار کے بعد جن کے منہ سے نہ نکلا کہ عید پر سوگ کیا جائے، وہ سانحہ احمد پور شرقیہ پر مجسم سوگ بن کر میڈیا پر نمودار ہوئے۔ یہ ہیں وفاق پاکستان اور صوبہ پنجاب پر حکمرانی کرنے والے شریف برادران کے کارنامے۔ یہ ہیں حکمران سیاستدان! کیا دہشت گردوں کے بم دھماکوں کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرنے والے عظیم شہدائے پاراچنار کا یہ حق نہیں بنتا تھا کہ وزیراعظم غیر ملکی دورہ ملتوی کرکے اسلام آباد اترتے اور عید کا دن پاراچنار میں شہداء کے ورثاء کے درمیان گذارتے اور احمد پور شرقیہ میں تعزیت و تسلی کا کام شہباز شریف تنہا ہی کر لیتے۔ انگریزی میڈیم حکمران آج روزنامہ ڈان کا اداریہ ہی پڑھ لیں کہ اس میں بھی حکومت پر اسی وجہ سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ پاکستان کے قانون ساز اداروں کا بھی تقدس ہے، لیکن ان اداروں کی اکثریت کے سربراہ سانحہ پاراچنار کے بعد اپنی اداؤں پر غور فرمائیں کہ اس ادارے کا تقدس کون پامال کر رہا ہے، ہم کہیں گے تو شکایت ہوگی۔

مسئلہ صرف نواز شریف اکیلے کا نہیں ہے۔ کیا ملک کی اقتداری سیاست کے بڑے مثلاً آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول یا قائد حزب اختلاف در قومی اسمبلی خورشید شاہ، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان یا ان کی خیبر پختونخوا حکومت کے وزیراعلٰی پرویز خٹک سمیت ہر وہ سیاسی جماعت جو پورے پاکستان کی سیاست کی دعویدار ہے، یہ سبھی سانحہ پاراچنار کے بعد کیا کرتے رہے۔ بہت بڑا تیر مارا انہوں نے جو اخباری بیانات کے ذریعے حمایت کی۔ اگر سیاستدانوں کی پاکستان میں وہ حیثیت نہیں جو ہونی چاہیے تھی تو اس میں ان سیاستدانوں کو اپنی خامیوں اور غلطیوں پر بھی ایک احتسابی نگاہ ڈالنا چاہیے۔ جمہوریت میں بالادست ادارہ پارلیمنٹ کا ہوتا ہے، جس کے اراکین سے لے کر سربراہ تک سبھی سویلین سیاستدان ہوتے ہیں۔ سیاستدان اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کو نکالنے کے ذمے دار خود ہیں۔ ان پر تنقید کی وجہ کالی بھیڑیں ہیں اور یہاں تو میاں نواز شریف خود اپنا احتساب کریں کہ یہ دوہرا معیار کسی طور ایک وزیراعظم کے شایان شان نہیں کہ وہ پاراچنار اور احمد پور شرقیہ کے پاکستانیوں میں سے ایک کو سگا سمجھے اور دوسرے کو سوتیلا۔ ایک کے مرحومین کے لئے بیس لاکھ معاوضہ اعلان کرے تو دوسرے کے مقتولین کے لئے محض دس لاکھ جبکہ مقتولین دہشت گردی کے خلاف جنگ کی فرنٹ لائن پاراچنار کے شہداء ہیں۔

دوسرا ادارہ پاک فوج کا ہے۔ پاراچنار وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ ہے، جہاں یہ ایک طرف وفاقی حکومت کے براہ راست زیر انتظام ہے، وہیں اس کی حفاظت کی ذمے دار پاک فوج بھی ہے، جس کی طرف سے فرنٹیئر کور کے جوان یہاں مامور ہیں۔ پاراچنار کو جانے والے ہر راستے پر اتنی سخت چیکنگ کے باوجود یہاں مسلسل دہشت گردی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں بھی اداروں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں، جن کی سستی، غفلت، یا ملی بھگت سے ہی دہشت گرد اس سخت حفاظتی حصار کو توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا یہاں پاک فوج کی قیادت کی ذمے داری ہے کہ وہ داخلی احتساب پر توجہ دے۔ جب یہ سطور لکھی جا رہی تھیں تو ایک نیوز چینل نے ٹکر کی صورت میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کا بیان چلایا کہ پاراچنار کے کرنل عمر کو برطرف کرکے وہاں کرنل راشد کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ پاراچنار کو سیف سٹی بنانے کے لئے فوج کے اضافی دستے وہاں بھیجے جا رہے ہیں۔ کرنل عمر کی برطرفی پاراچنار کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، کیونکہ اس مرتبہ بھی اور ماضی میں بھی جب پاراچنار کے مظلوم و محب وطن عوام نے دہشت گردی کے بعد پرامن احتجاج کیا تو کرنل عمر کے حکم پر ان پر فائرنگ کی گئی۔

اس کالی بھیڑ کے خلاف جب پاراچنار کے شیعہ مسلمانوں نے آواز حق بلند کی تو بعض بے وقوف اور نادان خواص نے دانا دشمنوں سے زیادہ خطرناک کردار ادا کرکے اپنی احمقانہ باتوں سے پوری کوشش کی کہ دنیا کے سامنے پاک فوج اور پاراچنار کے عوام کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا جائے۔ دشمن کی سازش ناکام کرنے کی بجائے ان احمق خواص نے جو خود کو تجزیہ نگار سمجھتے ہیں، انہوں نے اپنی تصوراتی دنیا میں رہتے ہوئے ایسے مفروضے پیش کئے جیسے پاکستان کے شیعہ مسلمان پاکستانی ہی نہ ہوں بلکہ کسی دشمن ملک کے شہری ہوں۔ اب جب کرنل عمر کی برطرفی ہوچکی ہے تو زید زمان حامد اور ان جیسے دیگر خواص کو آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے چہرے پر نگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کرنل عمر کی برطرفی کا مطلب یہی ہے کہ پاک فوج نے پاراچنار کے مظلوم عوام کے مطالبے کو جائز اور مبنی بر حق تسلیم کر لیا ہے۔ پاکستان کی بری فوج کے موجودہ سربراہ پچھلی مرتبہ بھی دہشت گردی کے بعد فوری طور پر پاراچنار پہنچے تھے۔ اس مرتبہ سکیورٹی کلیئرنس کی وجہ سے تاخیر ہوئی، لیکن اس درمیان میں انہوں نے شیعہ علماء و قائدین سے رابطے کئے۔

ایک اطلاع کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے قائد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور تحریک جعفریہ کے سابق مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ افتخار نقوی جو علامہ ساجد نقوی کے بہت ہی قریبی ساتھی تصور کئے جاتے ہیں، ان سے بھی آرمی چیف کی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں آرمی چیف نے اتحاد امت کے فروغ کے لئے علمائے کرام کے کردار کو سراہا اور حقیقت یہی ہے کہ شیعہ علمائے کرام و قائدین نے پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے لئے جو قائدانہ کردار ادا کیا ہے، خواہ وہ علامہ ساجد نقوی صاحب کا متحدہ مجلس عمل اور موجودہ ملی یکجہتی کاؤنسل میں شامل ہونا ہو یا علامہ راجہ ناصر صاحب کا سنی اتحاد کاؤنسل سمیت دیگر جماعتوں اور قائدین سے قربتوں کا سلسلہ ہو، یہ عملی کردار ہے۔ یہ قائدین بظاہر الگ الگ احتجاج کر رہے تھے، لیکن دونوں کا موقف ایک ہی تھا کہ پاراچنار کے مظلوم عوام کے ساتھ انصاف کیا جائے، ان کے مطالبات مانے جائیں۔ ان سطور کی تحریر کے وقت آرمی چیف پاراچنار میں ہیں اور کرنل عمر کی برطرفی کی خبر آئی ہے۔ آج پاراچنار کے غیرت مند بیٹوں کے دھرنے کا آٹھواں روز ہے۔ ان شاء اللہ ان کے دیگر مطالبات کی منظوری کی خوش خبری بھی آج ہی آئے گی۔ آج یوم جمعہ ملک گیر یوم احتجاج کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ دونوں جماعتوں نے اپنے حامیوں کے احتجاج کی ہدایت کی ہے۔ ان سبھی کا شکریہ کہ انہوں نے پاراچنار کے غیرت مند فرزندوں کو اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا۔ مجلس وحدت مسلمین کا مرکزی احتجاجی دھرنا کیمپ اسلام آباد میں عید کے روز سے لگا ہوا ہے، جہاں سیاستدان اظہار یکجہتی کے لئے آرہے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ یہ سیاسی قائدین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی طرح پاراچنار جا کر اظہار یکجہتی کرتے۔

پاکستان کے شیعہ مسلمانوں اور پاراچنار کے غیرت مند فرزندوں کی طرف سے ہم یہ وضاحت کر دیں کہ پاکستان بنانے والوں اور اسے بچانے کی جنگ لڑنے والوں کو کسی سے حب الوطنی کی سند کی ضرورت نہیں۔ محمد علی جناح سے راجہ صاحب محمود آباد تک ان گنت شیعہ قائدین اور پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کے شیعہ سیاسی کارکنوں کے ہوتے ہوئے کوئی مملکت خداداد پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ پاراچنار کے یہ مظلوم پاکستان کے غیرت مند بیٹے ہیں۔ البتہ اداروں کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ جب پاراچنار کے غیرت مند فرزندوں کو پشاور پہنچنے کے لئے سیدھے راستے کی بجائے افغانستان کے راستے سے آنا جانا پڑے، تو وہ افغانستان کو اپنا دشمن کیوں کہیں؟ اور جب آپ اپنے ہی ہم وطن شہریوں کو پشاور تک پہنچنے کا سیف راستہ فراہم نہ کرسکیں تو براستہ افغانستان پشاور آنے جانے پر مجبور ان پاراچناریوں کو افغانستان کا ایجنٹ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اگر پاراچنار کے لوگ افغانستان کے لئے اچھے خیالات رکھتے ہیں تو اس کی معقول وجہ بھی ہے۔ جب تک تکفیری دہشت گردوں اور سہولت کاروں اور کالی بھیڑوں کو کچلا نہیں جاتا، تب تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ شیعہ مسلمان بشمول پاراچنار کے غیرت مند فرزند پاکستان کے وفادار فرزند ہیں، اسے سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کے علم کی ضرورت نہیں۔؟

پاراچنار کے غیرت مند بیٹے فخر پاکستان ہیں، فخر اسلام ہیں۔ یہ سرزمین پاکستان کے سید الشہداء علامہ عارف حسین الحسینی کی سرزمین ہے۔ آج اگر حرم بی بی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے دفاع کی جنگ میں زینبیون کا نام آتا ہے تو یہ پاکستان کے غیرت مند مسلمانوں کے لئے فخر کا احساس ساتھ لاتا ہے۔ جب تکفیری پاراچنار میں دہشت گردی کو شام سے جوڑتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زینبیون نے دفاع حرم بی بی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا حق ادا کیا ہے۔ سلام تم پر اے امام زادگان عشق! سلام تم پر اے پارا چنار کی مقدس سرزمین کے مکینو! اپنے نہیں پہچان سکے لیکن دشمنوں نے تمہارے مقام و مرتبے تعین کر دیا کہ تم حرم سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے دفاع کی جنگ کے شہید ہو اور تم بھی اس نعرے میں شامل ہو: کلنا عباسک یا زینب۔ ہم پاکستانی مسلمان تمہاری وجہ سے سربلند ہوئے ہیں۔ تم نے ہمارے عزت رکھی ہے۔ خدا تمہیں سلامت رکھے! تمہاری سربلندی ہم سب کی سربلندی ہے۔ خدا کی قسم تم نے پاکستان کا نام امام حسین علیہ اسلام کے حقیقی فرزندوں کی نظر میں محترم و معتبر کردیا ہے!


نوٹ: جب یہ مقالہ تحریر کرنا شروع کیا تو موضوع تھا ’’ اداروں کا تقدس اور کالی بھیڑیں‘‘ لیکن جب آخری پیراگراف تحریر کیا تو یہ سوچ کر عنوان تبدیل کر دیا کہ اصل نکتہ یہی ہے کہ پاراچنار کے غیرت مند فرزندوں کی مقاومت کو سراہا جائے کیونکہ اصل ایشو یہی ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.