مار دیا جائےیا اغواءکر لیا جائے ہر صورت جدوجہد سے باز نہیں آئینگے، ناصر شیرازی

  • پیر, 04 دسمبر 2017 17:47

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سید ناصر عباس شیرازی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس سے قبل مرکزی سیکرٹری سیاسیات کی ذمہ داری انکے پاس تھی۔ ناصر شیرازی آئی ایس او پاکستان کے بھی مرکزی صدر رہے ہیں جبکہ متحدہ طلباء محاذ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اپنی سیاسی دانست کی بدولت بہت قلیل عرصے میں ایم ڈبلیو ایم کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہ صرف متعارف کروایا بلکہ شہرت کی بلندیوں پر بھی پہنچایا۔ ناصر شیرازی پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ حلیم طبیعت کے مالک ہیں۔ شیعہ سنی اتحاد اور پاکستان میں قیام امن کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھی تحریک کے روح رواں ہیں۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی رٹ پٹیشن بھی دائر کرنے کے بعد اس کی پیروی کر رہے تھے کہ اغواء کر لئے گئے۔ ایک ماہ کی قید کے بعد بازیاب ہوئے تو سب سے پہلے "شیعہ نیوز " نے ان کیساتھ گفتگو کی، جو قارئین کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔(ادارہ)

شیعہ نیوز : سب سے پہلے تو آپکو اور آپکے اہلخانہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ آپ خیر و عافیت سے گھر واپس پہنچ گئے، یہ بتایئے کہ وہ کون لوگ تھے، جنہوں نے آپکو اغواء کیا اور انکے مقاصد کیا تھے۔؟
ناصر عباس شیرازی: مجھے اغواء کرنیوالے لوگ کسی سکیورٹی ادارے کے اہلکار ہی تھے، وہ کس ادارے کے تھے یہ مجھے علم نہیں۔ واپڈا ٹاؤن سے یکم نومبر کو مجھے اس وقت اغواء کیا گیا، جب میں اپنی اہلیہ اور بچوں کیساتھ خریداری کے بعد واپس گھر جا رہا تھا، مجھے 2 ماہ اور 2 سال کے بچوں کے سامنے گھسیٹ کر گاڑی سے نکالا گیا اور 2 سے 3 گاڑیاں تھیں، جن میں وہ لوگ سوار تھے۔ انہوں نے وہاں سے مجھے اغواء کیا اور کسی نامعلوم جگہ پر جا کر بند کر دیا۔ کچھ عرصہ وہاں رکھا گیا، اس کے بعد مجھے ایک اور جگہ پر منتقل کر دیا گیا۔ اس دوسری جگہ کا بھی مجھے علم نہیں کہ وہ کون سی جگہ تھی۔ بہرحال اغواء کاروں نے ملک کے آئین کو پامال کیا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا اور مجھے، جو ایک سیاسی جماعت کا کارکن ہوں، اغواء کیا گیا۔ جہاں تک ان کے مقاصد کی بات ہے تو مجھے نہیں معلوم انہوں نے مجھے کیوں اغواء کیا، وہ کیا چاہتے تھے، یا ان کے پیچھے کون تھا۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ مجھے اغواء کرنیوالوں کے مقاصد کیا تھے۔

شیعہ نیوز : آپکی جماعت تو اسکا ذمہ دار پنجاب حکومت اور رانا ثناء اللہ کو ہی ٹھہراتی رہی اور مسلسل احتجاج میں پنجاب حکومت کو ہی نشانہ بنایا جاتا رہا۔؟
ناصر عباس شیرازی: ویسے دیکھا جائے تو بحیثیت صوبے کے وزیر قانون کے طور پر شہریوں کے تحفظ ذمہ داری رانا ثناء اللہ پر ہی عائد ہوتی ہے، لاہور جیسے شہر سے ایک بندہ اغواء ہو رہا ہے اور لاہور پولیس اور پنجاب حکومت کو پتہ ہی نہیں چلتا؟ جس ادارے نے بھی اغواء کیا تھا، وہ فرشتے آسمان سے تو نہیں اترے تھے، یہیں سے ہیں نا، لیکن پنجاب حکومت ایک ماہ میں میرا سراغ نہیں لگا سکی، میں مسلسل ایک ماہ جبری قید میں رہا، پنجاب حکومت نے میری بازیابی کیلئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس اغواء میں رانا ثناء ہی ملوث دکھائی دیتا ہے۔ پولیس مسلسل عدالت میں ٹال مٹول سے کام لیتی رہی، یہ سب پولیس کی غفلت کا نتیجہ اور صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔

شیعہ نیوز : دوران حراست اغواء کار آپ سے کس قسم کے سوالات کرتے رہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: ان کے سوالات بے مقصد تھے، بے تکے سوالات کرتے رہے، یہ کہ مجلس وحدت مسلمین کی قریبی جماعتیں کون سی ہیں، کن کن جماعتوں کیساتھ آپ کے تعلقات بہت اچھے ہیں، کون سی جماعت آپ سے دور ہے، کس جماعت کیساتھ آپ کی نہیں بنتی، گلگت بلتستان میں مجلس وحدت مسلمین کی پوزیشن مضبوط کیوں ہے۔ آپ وہاں الیکشن میں کیوں حصہ لے رہے ہیں۔ آپ لوگوں کی جماعت کے مقاصد کیا ہیں۔ وغیرہ وغیرہ، یہ وہ سوالات تھے، جو عام سے بھی سادہ ہیں۔ یہ سب باتیں تو عام ہیں، بچہ بچہ جانتا ہے ایم ڈبلیو ایم کا منشور کیا ہے، ہم سیاست میں کن جماعتوں کے ہم خیال ہیں، لیکن حیرت ہے کہ وہ اس قسم کے بے تکے سوالات کرکے پتہ نہیں کیا جاننا چاہتے تھے۔

شیعہ نیوز : لیکن رانا ثناء اللہ کو آپکی جماعت خصوصی طور پر ہدفِ تنقید کیوں بنا رہی ہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: رانا ثناء اللہ وہ وزیر قانون ہیں، جنہوں نے خود قانون اور آئین کو پامال کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے پاکستان کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے لاہور ہائیکورٹ میں رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ ہر فرد ریاست میں قانون اور آئین کے سامنے جوابدہ ہے، پھر رانا ثناء اللہ کیوں نہیں، میرے اغواء میں رانا ثناء اللہ ہی ملوث ہے، مجھے میرے اڑھائی سال کے بیٹے کے سامنے اغواء کیا گیا۔ کیا کوئی قانون، آئین یا اخلاقیات اس حرکت کی اجازت دیتے ہیں؟ مجھے اغواء کرنیوالوں نے قانون شکنی کی۔ انہوں نے اپنے ہی ملک کا آئین پامال کر دیا، جس کی حفاظت کا انہوں نے حلف اٹھا رکھا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔

شیعہ نیوز : آپکو جس جگہ پر رکھا گیا، وہ کیسی تھی؟ کوئی حوالات تھی یا کوئی گھر تھا۔؟
ناصر عباس شیرازی: مجھے ایک تنگ و تاریک جگہ پر رکھا گیا تھا، میرے اغواء سے صرف یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جس کی لاٹھی ہے، بھینس اسی کی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر کی بات نہیں کی جا سکتی، یہاں تو پھر طاقتور منہ زور ہو جائے گا، جس کے پاس 4 بندے ہوں گے، وہ منہ زور ہو جائے گا۔ جب معاشرے میں قانون و انصاف کی حکمرانی نہ رہے تو معاشرے بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں اور پاکستان کو بھی اسی بگاڑ کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں امن قائم ہو، یہاں قانون کی عملداری ہو، یہاں وحدت کو فروغ ملے، میرا جرم کیا تھا؟ یہی کہ میں وحدت کی بات کر رہا تھا، میں نے شیعہ اور سنی کو متحد کیا، میں نے تکفیریوں کو بے نقاب کیا، میں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اور اس کے جواب میں مجھے اغواء کر لیا گیا۔

شیعہ نیوز : سکیورٹی ادارے جب بھی کسی کو اغواء کرتے ہیں، کوئی جرم ہوتا ہے تو اٹھاتے ہیں۔؟
ناصر عباس شیرازی: میرا کوئی جرم ہے تو عدالتیں موجود ہیں، وہاں میرے خلاف رٹ دائر کریں، میرا جرم ثابت کریں، میرا کوئی جرم ثابت ہوتا ہے تو میں سزا کیلئے تیار ہوں، لیکن یہ کون سا قانون ہے کہ بے جرم و خطا آپ کسی شہری کو اٹھائیں، بلکہ معصوم بچوں کے سامنے اٹھائیں اور ایک ماہ تک اسے جبری قید میں رکھیں، عدالت میں ٹرائل ہو تو پیش نہ کریں۔ یہ کونسا قانون ہے، یہ تو جنگل کا قانون ہوا، پاکستان میں تو باقاعدہ ایک آئین موجود ہے، قانون ہے، عدالتیں ہیں، ان سب کی موجودگی میں اگر کوئی اس قسم کی حرکت کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کی مخالفت کر رہا ہے، وہ کوئی ثبوت رکھتے ہیں تو عدالت میں پیش کریں۔ ایسے اغواء کرکے تو وہ اپنا کیس کمزور کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو ایسے کلچر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں کو آئین کی سربلندی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔ ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھے۔

شیعہ نیوز : ایک وزیر قانون کیسے قانون شکنی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: پنجاب سے اغواء ہوا ہوں تو ذمہ دار پنجاب حکومت ہے، جس نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ صوبے میں جنگل کا قانون ہے۔ شریف برادران نے ہمیشہ انتقامی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ یہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو دوسروں کو انسان نہیں سمجھتے۔ یہ ملک کو اپنی جاگیر سمجھ لیتے ہیں، پھر انہیں ایسے دو چار وزیر بھی مل جاتے ہیں، جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں، وہ بھی ان کی ہر ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں، یہی اصل میں ان کو بھی گمراہ کرتے ہیں، ان کی گردن کا سریا اصل میں یہی وزیر ہوتے ہیں، جیسے رانا ثناء اللہ نے پنجاب کے وزیراعلٰی کو مٹھی میں لے رکھا ہے، پنجاب کا پورا کنٹرول وزیر قانون کے ہاتھ میں ہے۔ وہی سکیورٹی فورسز کی بھی نگرانی کرتا ہے، وہی کابینہ کمیٹی برائے امن و امان سمیت صوبے کے دیگر معاملات چلاتا ہے۔ اجلاسوں کی صدارت کرتا ہے، سب کچھ ایک وزیر کے ہاتھ میں دیدیا گیا ہے، اب اگر کوئی بقول چودھری شیر علی مجرمانہ ذہنیت کا مالک ہو اور اس کے ہاتھ میں اقتدار آجائے تو انجام یہی ہوگا کہ کوئی ملک میں آزادانہ گھوم پھر نہیں سکے گا۔ رانا ثناء اللہ کے کارنامے میڈیا والے جانتے ہیں، شائع یا نشر اس لئے نہیں کرسکتے کہ وہ اقتدار میں ہے، جس دن رانا ثناء اللہ کا اقتدارختم ہوگیا، وہ بے نقاب ہو جائے گا۔ میڈیا اس کی اصلیت بے نقاب کرے گا۔ اس کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو چودھری شیر علی سے پوچھیں، جنہیں شہباز شریف نے خاموش رہنے کا کہا ہے۔ ورنہ ماضی قریب میں جب چودھری شیر علی نے رانا ثناء اللہ کا کچا چٹھہ کھولا تھا تو لیگی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی اور پارٹی ٹوٹنے کے قریب تھی، لیکن شہباز شریف نے دونوں کو بیان بازی سے روک دیا اور معاملہ سرد پڑ گیا۔ کچھ عرصے بعد یہ معاملہ پھر گرم ہوگا اور دونوں بیچ چوراہے ایک دوسرے کی ہنڈیا پھوڑیں گے، وہ وقت قریب ہے۔

شیعہ نیوز : آپکا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔؟
ناصر عباس شیرازی: آئندہ کا لائحہ عمل میری سیاسی جدوجہد ہے، جسے جاری رکھوں گا، جلد ہی اعلٰی قیادت سے ملاقات کروں گا۔ ملاقات میں ہم ایم ڈبلیو ایم کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ہم نے آئندہ 2018ء کے الیکشن میں بھی بھرپور طریقے سے حصہ لینا ہے، اس کی حکمت عملی طے کی جائے گی اور میں نے رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی جو رٹ پٹشین دائر کی ہوئی ہے، اس کی بڑھ چڑھ کر پیروی کروں گا۔ ہم ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ہر شہری کو وہ حقوق ملیں، جو اسے آئین دیتا ہے۔ ہم ملک میں جنگل کا قانون نہیں چاہتے، ہم پرامن پاکستان کے قیام کیلئے سرگرم ہیں اور ان شاء اللہ ہم پاکستان کو قائد کا حقیقی پاکستان بنائیں گے۔ ہم آمروں کی پیداوار سے ملک کو نجات دلائیں گے، کرپشن اور انتہا پسندی کا خاتمہ کریں گے۔ ہمارے سیاسی جدوجہد کا مقصد پرامن اور خوشحال پاکستان ہے، جس میں تمام مکاتب فکر اور مذاہب کو مکمل مذہبی آزادی ہوگی۔ ہم پہلے بھی اسی کاز کیلئے جدوجہد کر رہے تھے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ یہ اغواء اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہمیں ہمارے مشن سے نہیں روک سکتے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم جہاں شیعہ سنی کو ایک دوسرے کے قریب لائے ہیں وہاں دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی قریب لائیں اور پاکستان میں ایسا امن قائم کریں کہ دنیا مثال دے۔ امن کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، ہم تکفیریوں کے روز اول سے مخالف تھے اور اب بھی ان ملک دشمنوں اور اسلام دشمنوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔

شیعہ نیوز : جن جن سیاسی و مذہبی جماعتوں نے آپکی بازیابی کیلئے ایم ڈبلیو ایم کا ساتھ دیا، انکے حوالے سے کچھ کہیں گے۔؟
ناصر عباس شیرازی: جی بالکل، میں مجلس وحدت مسلمین، تحریک انصاف، سنی اتحاد کونسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پاکستان عوامی تحریک، جماعت اسلامی، امامیہ آرگنائزیشن سمیت دیگر سیاسی، سماجی رہنماؤں اور صحافی دوستوں کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے میری بازیابی کیلئے اپنے اپنے طور پر کوشش کی اور ایم ڈبلیو ایم کا ساتھ دیا۔ یقیناً میری حمایت ایک سیاسی جماعت کے کاز کی حمایت تھی، جن دوستوں نے میرے اہل خانہ کی بھی ڈھارس بندھائی، بالخصوص اپنے وکلاء دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں۔ جن دوستوں نے پاکستان میں اور جنہوں نے کربلا میں میری بازیابی کیلئے دعائیں کیں، ان بہنوں، ماؤں اور بھائیوں اور بزرگوں کا ممنون ہوں اور دعاگو ہوں، اللہ تعالٰی ان تمام احباب کی توفیقات خیر میں اضافہ فرمائے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.