داعش کے خاتمے کا اعلان بڑی کامیابی ہے، دنیا کو اسکا خیر مقدم کرنا چاہیئے، ڈاکٹر قندیل عباس

  • منگل, 28 نومبر 2017 13:54

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبررساں ادارہ)ڈاکٹر سید قندیل عباس کاظمی سینیئر تجزیہ کار ہیں۔ وہ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ مختلف یونیورسٹیز میں لیکچر دینے کے علاوہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ ان دنوں قائداعظم یونیورسٹی میں سکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ میں خدمات سرانجام دے رہیں۔ مشرق وسطٰی، عالمی تعلقات اور کرنٹ افیئرز کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں بھی فرصت کے لمحات میں شریک ہوتے ہیں۔ مشرق وسطٰی کے موجودہ حالات سے متعلق انکی رائے اور تجزیات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔شیعہ نیوز نے سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل پانے والے کثیر الملکی فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے موضوع پر ڈاکٹر سید قندیل عباس کاظمی سے ایک انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جو کہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ادارہ

شیعہ نیوز : داعش کو پوری دنیا کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا تھا، ایران نے اسی داعش کے خاتمے کا اعلان کیا ہے، مگر اسکا خیر مقدم نہیں کیا گیا، وجہ کیا ہے۔؟
ڈاکٹر قندیل عباس: اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش کسی ایک ملک کیلئے پریشانی کا باعث نہیں تھی اور اس داعش کو ختم کرنے کیلئے کئی کثیر الملکی فوجی اتحاد بھی تشکیل پائے تھے۔ یہاں تک کہ امریکہ جو کہ خود ایک بڑی عالمی فوجی قوت ہے، اس نے بھی کہا تھا کہ داعش کو ختم کرنا ایک دو برس کی بات نہیں بلکہ اس میں بیس سال لگ جائیں گے، تو جس داعش کو امریکہ جیسی قوت بیس سال میں ختم کرنے کا منصوبہ رکھتی تھی، اسی داعش کو ایرانی اتحاد نے بڑے مختصر سے عرصے میں ختم کر دیا ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ میرے خیال میں اس کامیابی کا پوری دنیا کو خیر مقدم کرنا چاہیئے تھا اور بالخصوص ان ممالک کو خصوصی طور پر اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے تھا، جو کہ داعش سے زیادہ خائف تھے اور اس کے خاتمے کیلئے منصوبہ بندی میں مصروف عمل تھے۔ جہاں تک عرب دنیا کی جانب سے اسے نہ سراہے جانے کا سوال ہے تو اس میں تعصب کی بو آتی ہے۔

شیعہ نیوز : سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے کثیر الملکی اتحاد میں پاکستان نے شمولیت اختیار کرکے ایک خاص پلڑے میں اپنا وزن نہیں ڈال دیا۔؟
ڈاکٹر قندیل عباس: میرے خیال میں پاکستان کا اس اتحاد کے حوالے سے اب تک جو کردار رہا ہے، وہ مثبت ہے۔ یہ کردار مثبت اس لئے ہے کہ پاکستان نے واضح طور پر پہلے دن سے ہی یہ کہا ہے کہ اگر یہ اتحاد کسی بھی اسلامی ملک کیخلاف ہوا تو پاکستان اس سے علیحدگی اختیار کر لے گا۔ حال ہی میں اس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق آرمی چیف اور اس اتحاد کے کمانڈر جنرل راحیل شریف نے بھی اپنی تقریر میں یہ کہا ہے کہ یہ اتحاد کسی خاص ملک یا مسلک کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی فرقہ کے خلاف۔ پاکستان کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے بھی لگ بھگ یہی موقف اپنا یا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کا پہلے بھی کردار بہت نپا تلا رہا ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے مابین تناؤ کو کم کرنے میں بھی پاکستان نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے اور اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت اسے غیر جانبدار رہنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ہمیں اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کو اس زاویے سے بھی دیکھنا چاہیئے کہ پاکستان اس اتحاد کے غیر جانبدارانہ کردار میں مددگار ثابت ہوگا۔

شیعہ نیوز : آئین و قانون میں لکھا ہے کہ پاکستان کسی بھی اسلامی ملک کیخلاف محاذ آرائی میں شامل نہیں ہوگا، جبکہ یہ اتحاد تو پہلے سے ہی یمن پہ حملہ آور ہے۔؟
ڈاکٹر قندیل عباس: دیکھیں جب یمن کیخلاف فوجی کارروائی کیلئے پاکستان سے فوجی تعاون مانگا گیا تو پاکستان نے دباؤ کے باوجود انکار کیا۔ پاکستان کی فوج نے مسترد کیا کہ وہ کسی بھی دوسرے اسلامی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی یہی موقف اپنایا اور عرب اتحاد کی جانب سے اصرار کے باوجود یمن کیلئے پاکستان نے فوج نہیں دی، چنانچہ امید یہی رکھنی چاہیے کہ پاکستان کے اس اتحاد میں جانے سے کثیر الملکی فوجی اتحاد کی دوسرے اسلامی ممالک کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات معدوم ہوں گے، ناکہ پاکستان کسی بھی اسلامی ملک کے خلاف جارحیت کا حصہ بنے گا۔

شیعہ نیوز : کیا یہ بات باعث حیرت نہیں کہ بشمول سعودی عرب جن ممالک کے اسرائیل کیساتھ خفیہ یا اعلانیہ تعلقات ہیں، وہ اس اتحاد کا حصہ ہیں اور جو ممالک اسرائیل کیخلاف ہیں، وہ اتحاد میں شامل ہی نہیں۔؟
ڈاکٹر قندیل عباس: اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ کئی اسلامی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ اور اعلانیہ تعلقات موجود ہیں۔ ہر ملک کی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے تعین کے بعد ترتیب پاتی ہے۔ اگر کوئی ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں مفاد دیکھتا ہے تو وہ تعلقات قائم کرتا ہے۔ کسی دوسرے ملک کی خواہش پہ وہ اپنی خارجہ پالیسی ترتیب نہیں دیتا۔ عرب ممالک کچھ علاقائی اور کہیں عالمی مفادات کے ضمن میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ اپنی بقاء اب ان تعلقات میں مضمر سمجھتے ہیں، کیونکہ کچھ بھی ہو، شروع سے ان کی خارجہ پالیسی امریکہ کے ساتھ ہم آہنگ رہی، جبکہ خطے میں اسرائیل کا کردار امریکی پولیس مین کا ہے، چنانچہ وہ ایسی پالیسی اختیار کرنے کی جانب جا ہی نہیں سکتے کہ جو امریکہ و اسرائیل کے ساتھ متصادم ہو۔ البتہ یہ بھی حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ ان کے یہ اعلانیہ یا خفیہ تعلقات بھی ریاستی سطح پر ہیں، عوامی سطح پہ نہیں ہیں۔ ان ممالک کے عوام بھی اسرائیل سے تعلقات کو اتنا ہی ناپسند کرتے ہیں کہ جتنا دیگر مسلم ممالک کے عوام۔

شیعہ نیوز :کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے کہ عرب ممالک کی بقاء اور استحکام امریکہ اور اسرائیل کیساتھ تعلقات میں پنہاں ہے۔؟
ڈاکٹر قندیل عباس: نہیں میں نے یہ نہیں کہا کہ ان کی بقاء اس میں ہے، میں نے کہا ہے کہ وہ ایسا سمجھتے ہیں۔ عرب ممالک اپنی ترقی اور بقاء دونوں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ یہ امریکہ یا اس کے حلیف ممالک کی مرہون منت ہے، چنانچہ خطے میں بھی وہ اپنا ایسا کردار ادا کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ جو ان کی خوشنودی پر مبنی ہے، تاہم یہ ان کی خام خیالی ہے کہ ان کی بقاء صرف امریکہ اور اس کی ایماء پہ تشکیل پانے والی پالیسی میں ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دنیا نے دیکھا ہے کہ جب امریکہ کو ضرورت نہیں رہتی تو ایسی سوچ کے حامل رہنماؤں کا کیا انجام ہوا۔ صدام، قذافی، حسنی مبارک کی جب ضرورت ختم ہوئی تو ان کا کیا حال ہوا۔ عرب ممالک کے رہنماؤں کو ڈکٹیٹروں کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی دانش و بصیرت کو خرچ کرکے اپنے مفاد میں ایسی پالیسیاں ترتیب دینی چاہیئے کہ جو خطے کے بھی مفاد میں ہوں اور مسلم ممالک بھی اس سے مستفید ہوں، کیونکہ جب عوام اٹھ کھڑے ہوں تو سامنے بادشاہت ہو یا شہنشاہت، قائم نہیں رہ پاتی اور نہ ہی کوئی بیرونی قوت معاون رہتی ہے۔ آپ خود ہی دیکھ لیں کہ تمام تر کوششوں اور حربوں کے باوجود بشارد حکومت کو نہیں گرایا جاسکا۔ اگر اقتدار کی حیات امریکہ اور اسرائیل کی ہی مرہون منت ہوتی تو بشارد حکومت بھی اپنا وجود کھو چکی ہوتی، مگر وہ قائم ہے۔

شیعہ نیوز : سعودی عرب ہر اس ملک کیخلاف محاذ کیوں کھول رہا ہے، جو اسرائیل مخالف قوتوں کا منبع یا مرکز ہو، گرچہ انکے ساتھ سعودی عرب کے کوئی تنازعات ہوں یا نہ ہوں۔؟ جیسے شام، ایران، لبنان وغیرہ۔ یہ اسرائیل مخالف ہیں اور سعودی عرب انکے خلاف متحرک، ایسا کیوں ہے۔؟
ڈاکٹر قندیل عباس: نہیں ایسا نہیں ہے۔ اسرائیل فیکٹر بہت نچلی سطح پر ہے، گرچہ ہے سہی، مگر اسرائیل اتنی بڑی قوت و طاقت بھی نہیں کہ سعودی عرب اس کے وجود اور مفاد کے تحفظ کیلئے اتنا سرگرم ہو۔ مسئلہ کچھ اور ہے۔ وہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر دو قوتوں کے مابین بالادستی کی لڑائی ہے۔ پہلی قوت وہ ہے، جو ڈکٹیٹر شپ یا بادشاہی کی صورت میں ایک طویل عرصہ سے اس خطے کے عوام پر مسلط ہے۔ اس قوت کا شکار تقریباً تمام عرب عوام رہے ہیں اور بیشتر ابھی تک اسے سہنے پر مجبور ہیں۔ بحرین میں، سعودی عرب، خلیج وغیرہ میں۔ یہ وہ قوت ہے، جو اپنی حاکمیت کو دوام بخشنے کیلئے کثیر الجہتی تدبیروں پہ عمل پیرا رہتی ہے اور جہاں سے بھی یہ قوت اپنے لئے خطرہ اٹھتا محسوس کرتی ہے، اس خطرے کا سدباب کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری اور بڑی قوت عوامی ہے، جو کہیں بھی کسی بھی وقت آتش فشاں کی طرح امڈتی ہے اور مسلط طاقت و قوت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتی ہے۔ خطے میں اس عوامی قوت کا پہلا اور بہترین اظہار انقلاب اسلامی ایران کی صورت میں ہوا۔ جہاں پرانی شہنشاہیت کے خلاف عوام اٹھے اور وہاں مکمل طور پر نظام کی تبدیلی عمل میں آئی۔ انقلاب ایران کی صورت میں جو اسلامی بیداری کی لہر عیاں ہوئی تو اس سے سب سے زیادہ خطرہ انہی شاہوں، بادشاہوں نے محسوس کیا، جو حاکمیت کا دوام چاہتے تھے۔ اب جہاں جہاں اسلامی بیداری کی لہر پھیلی، وہاں اول الذکر قوت کمزور یا ختم ہوئی، تو بنیادی طور پر شام، عراق، لبنان یا یمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے حلیف ممالک کی جانب سے جو محاذ کھولے گئے، وہ اس بیداری سے پیوسہ قوت کیخلاف کھولے گئے، جو بالآخر حاکمیت پسند، شاہی قوت کے سامنے قیام کی قوت و طاقت رکھتی ہے۔

شیعہ نیوز : سعودی سربراہی میں کثیر الملکی اتحاد کا حصہ بننے میں پاکستان کا کیا مفاد ہے۔؟ اور اگر نہیں بنتا تو نقصان کیا ہے۔؟
ڈاکٹر قندیل عباس: پاکستان ایک فوجی قوت ہے۔ اسلامی دنیا میں اس کا اپنا ایک خاص مقام ہے اور اسلامی دنیا کی اکلوتی ایٹمی طاقت بھی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج عملی جنگ کے تجربات رکھتی ہے، چنانچہ ایسا نہیں کہ اسلامی دنیا میں اس کی فوجی قوت و استعداد کو آسانی کے ساتھ نظر انداز کیا جاسکے۔ پاکستان کی شمولیت کے بناء اگر کوئی فوجی اتحاد بالخصوص اسلامی دنیا میں اگر کوئی اتحاد تشکیل پاتا ہے تو وہ بے معنی ہے اور عالمی سطح پہ اتنا موثر کردار ادا نہیں کرسکتا۔ چنانچہ پاکستان کی شمولیت سے اس اتحاد کی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے، اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس اتحاد کی کمانڈ بھی ایک پاکستانی ریٹائرڈ جنرل کو سونپی گئی ہے۔ اب اس اتحاد میں جانے کا پاکستان کو ایک بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ وہ اس کے ذریعے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو بھی مزید فروغ دے سکتا ہے اور اس اتحاد کے ذریعے دیگر ممالک کے مابین بھی تناؤ، کشیدگی کو ختم کرنے میں بھی رول پلے کرسکتا ہے۔ جہاں تک حصہ نہ بننے کی صورت میں نقصان کا تعلق ہے تو میرے خیال میں معاملات سے باہر رہنے سے اصلاح و بہتری کا امکان بھی کم ہو جاتا ہے اور کردار بھی محدود رہتا ہے۔

شیعہ نیوز : کیا یہ اتحاد کشمیر، فلسطین جیسے دیرینہ مسائل کے حل میں بھی معاون و موثر ثابت ہوگا۔؟
ڈاکٹر قندیل عباس: اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ابھی تو یہ کثیر الملکی اتحاد اپنے ابتدائی سٹیج پر ہے۔ ابھی تو اس کا اسٹرکچر بھی نہیں بن پایا۔ کن معاملات میں کیا کردار ادا کرے گا، ابھی تو اس کے اغراض و مقاصد بھی مکمل طور پر عیاں نہیں۔ اس کے کردار کے تعین اور اہداف کے حصول میں ابھی بہت وقت ہے۔ جہاں تک ریاستوں کے معاملات ہیں تو ان میں یہ اتحاد کچھ بھی نہیں کر پائے گا۔ اس کے علاوہ اس اتحاد کے رکن ممالک کے مابین بھی اختلافات، تحفظات موجود ہیں، ظاہر ہے ایسی صورت میں یہ اتحاد کس طرح یا کس حد تک موثر ہوگا۔ جہاں رکن ممالک کے مفاد کو خطرہ ہوگا، تو وہ اپنا مفاد مقدم رکھیں گے یا اس اتحاد کا۔ لٰہذا اس اتحاد سے متعلق اتنی بھی دور رس نتائج کی حامل امیدیں وابستہ نہیں رکھنی چاہیئے۔

شیعہ نیوز : سعودی شہزادوں کو قید کیا گیا ہے، معاملہ کرپشن کا ہے یا کچھ اور۔؟
ڈاکٹر قندیل عباس: گرچہ کرپشن کا نام لیا جا رہا ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے کا معاملہ محسوس ہوتا ہے۔ بتیس سالہ محمد بن سلمان عملی طور پر معاملات اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں اور اپنے اقتدار کیلئے وہ جہاں جہاں سے خطرہ محسوس کرتے ہیں، وہ اسے کاؤنٹر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں ایک بہت بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے، جو اس سے قبل نہیں ملتی۔ شاہ سلمان سے قبل سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ایک مخصوص لائن پہ لگی بندھی تھی اور عالمی و خطے کی سیاست میں اتنی فعال نہیں تھی، جبکہ بیرونی دنیا میں عسکری مداخلت بھی نہ ہونے کے برابر تھی، بلکہ شاہ سلمان سے قبل سعودی عرب نے خارجی جنگوں سے اپنا دامن حتی الوسع بچائے رکھنے کی کوشش کی، تاہم شاہ سلمان کے برسر اقتدار آنے کے بعد خارجہ پالیسی میں تبدیلی آئی، جو کہ بڑی تبدیلی ہے۔ شام، یمن، بحرین میں سعودی عرب کا کردار اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اب ایک بادشاہت یعنی شاہی نظام کی موجودگی میں عوامی حمایت و تعاون کے بناء اس جارح پالیسی کے ساتھ بیرونی دنیا میں جانا کتنا دانشمندانہ فیصلہ ہے، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.