ایم ڈبلیو ایم 21 مئی کو نشتر پارک کراچی میں اپنی بھرپور عوامی و سیاسی طاقت کا مظاہرہ کریگی، علامہ مقصود ڈومکی

  • منگل, 16 مئی 2017 11:31

علامہ مقصود علی ڈومکی مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس سے قبل وہ ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں، وہ بلوچستان میں سکیورٹی کی ابتر صورتحال کے باوجود قومی و ملی کاموں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیتے رہے ہیں۔ ان پر کوئٹہ شہر میں ایک قاتلانہ حملہ بھی ہوچکا ہے، علامہ مقصود علی ڈومکی شہداء کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ علامہ مقصود علی ڈومکی کیساتھ 21 مئی کو نشتر پارک کراچی میں ہونیوالے اجتماع اور دیگر ملکی و غیر ملکی امور پر ایک اہم انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ 

سوال: 21 مئی کو نشتر پارک کراچی میں ہونیوالی ’’استحکام پاکستان و امام مہدی (عج) کانفرنس کے انعقاد کے مقاصد کیا ہیں۔؟

علامہ مقصود ڈومکی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، 21 مئی کو استحکام پاکستان و امام مہدی (عج) کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے، جس  کے نام و عنوان سے واضح ہے کہ ایک تو پاکستان میں مسلسل دہشتگردی کے سانحات ہو رہے ہیں، بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہو رہا ہے، حالیہ دنوں میں جیسا کہ مستونگ میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا، پاراچنار میں عاشقان اہلبیت (ع) پر پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہوئے، سندھ کے اندر سیہون شریف کا واقعہ۔ تو اس کانفرنس کا ایک اہم پیغام دہشتگردی کیخلاف ایک موثر آواز بلند کرنا ہوگا۔ وطن عزیز میں بے گناہوں کا قتل عام ہو رہا ہے، لیکن حکومتی اداروں کے اندر کچھ ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں، جو دہشتگردوں کو ہیرو بناکر پیش کر رہی ہیں، وہ دہشتگردوں کے وکیل صفائی بن جاتے ہیں، کبھی کہا جاتا ہے دہشتگردوں کیساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ ان کو عام معافی دی جائے، ایسے عناصر دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں رکاوٹ ہیں، لہذا یہ کانفرنس بنیادی طور پر پاکستان کے استحکام اور سالمیت کیلئے ہے، یہ دہشتگردی کیخلاف ہے۔ پاکستان کے اندر دہشتگردی کے مسلسل سانحات ہو رہے ہیں، حکومتی اداروں، پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے اندر کچھ ایسے عناصر موجود ہیں، جو دہشتگردوں کی ترجمانی اور سہولت کار کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ پھر میڈیا احسان اللہ احسان جیسے بدنام زمانہ دہشتگرد کو ہیرو بناکر پیش کرتا ہے، انہوں نے نورین لغاری جیسی دہشتگرد کو کس انداز میں پیش کیا۔

اس پوری صورتحال میں دہشتگردی کیخلاف مجلس وٖحدت مسلمین نے ایک مسلسل جدوجہد کی ہے، اس کا پاکستان کے اندر ایک قائدانہ کردار رہا ہے۔ ہم اس کانفرنس میں دہشتگردی کیخلاف میسج دیں گے، اس کے علاوہ ایک اور میسج حب الوطنی کا ہوگا، وہ یہ کہ پاکستان اور سندھ کے عوام اپنے وطن عزیز پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں، ہم اس کانفرنس میں وطن سے محب کا پیغام دیں گے، اس کانفرنس میں ہم ملت جعفریہ کے بے گناہ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کے حوالے سے بھی پیغام دیں گے کہ آپ بغیر کسی وارنٹ کے بے گناہ لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں، اس کے علاوہ اس کانفرنس میں ایک بہترین عنوان امام مہدی (عج) کے حوالے سے ہے، جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ سعودی عرب کے نائب ولی عہد نے ایک گستاخانہ بیان جاری کیا ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا سمیت پاکستان کے کروڑوں شیعہ، سنی مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے، پورے دنیا میں امام مہدی سے عقیدت رکھنے والے مسلمان اس بیان پر شدید مشتعل ہیں، اس کانفرنس میں ہم امام مہدی (ع) کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کریں گے، اپنی محبت و موودت کا اظہار کریں گے۔ اس کے علاوہ اس گستاخی کے حوالے سے ہم اپنا موقف پیش کریں گے کہ دشمن کی اس گستاخی کے باوجود پاکستان کے کروڑوں شیعہ، سنی عوام امام مہدی (عج) کیساتھ اپنی محبت و عشق کا اظہار کر رہے ہیں۔

شوال: اس کانفرنس میں کتنے افراد کی شرکت متوقع ہے اور کیا یہ سندھ کی سطح کا اجتماع ہے یا پاکستان بھر سے شرکت ہوگی۔؟
علامہ مقصود ڈومکی:
 اس اجتماع میں پاکستان بھر سے نمائندگی کی حد تک شرکت ہوگی، یہ سندھ سطح کا اجتماع ہے۔ مجلس وحدت  مسلمین سندھ اس اجتماع کی میزبان ہے، اس کانفرنس میں قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کا خصوصی خطاب ہوگا۔ ملک بھر سے علمائے کرام اور عمائدین اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ یہ سندھ سطح کا ایک بڑا اجتماع ہوگا۔ میں تعداد کا ٹھیک تعین تو نہیں کرسکتا، تاہم اس اجتماع میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے۔ اس اجتماع کا بڑا واضح میسج ہوگا، جو حب الوطنی اور دہشتگردی کیخلاف ہوگا۔

سوال: کیا یہ اجتماع سندھ کی سیاسی صورتحال پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔؟
علامہ مقصود ڈومکی:
 جی یقیناً، ہم پاکستان کی سیاست میں ایک اہم فریق ہیں، مجلس وحدت مسلمین کا سامراج دشمنی، دہشتگردی  کیخلاف اور حب الوطنی پر مبنی ایک اہم کردار ہے۔ قوم کو اب سمجھ آرہا ہے کہ کون لوگ ہیں، جو اس ملک کا درد رکھتے ہیں، جو انقلابی سوچ رکھنے والے ہیں۔ ہم خط امام خمینی اور شہید عارف حسینی کے پیروکار ہیں۔ ہم پاکستان کی بقاء اور سالمیت کے ضامن ہیں۔ اس اجتماع سے ایک واضح میسج جائے گا کہ ہم سندھ کی سیاست میں ایک اہم فریق ہیں، مجلس وحدت مسلمین ان انتخابات میں ایک پارلیمانی جماعت بن کر سامنے آئے گی۔ انتخابات کا موقع قریب آچکا ہے اور صف بندیاں ہو رہی ہیں، مجلس وحدت مسلمین اس اجتماع میں اپنی بھرپور عوامی اور سیاسی قوت کا مظاہرہ کرے گی۔

سوال: کیا سعودی نائب ولی عہد نے امام مہدی (عج) کے حوالے سے بیان غیر دانستہ طور پر دیدیا یا باقاعدہ سازش کے تحت اس غلیظ سوچ کی عکاسی کی گئی ہے۔؟
علامہ مقصود ڈومکی:
 اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ سعودی عرب کی طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے، ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے  یہ جملہ بھولے سے کہا ہے یا غیر دانستہ طور پر کہا ہے۔ پوری دنیا کے اندر شیعیان علی (ع) کا جو قتل عام ہو رہا ہے، اس میں براہ راست سعودی عرب کا ہاتھ ہے، نائجیریا کے شیخ ابراہیم زکزاکی سے لیکر بحرین کے معصوم انسانوں کے قتل عام تک، اس میں ڈائریکٹ سعودی عرب ملوث ہے۔ یمن میں سعودی عرب ڈائریکٹ قتل عام کر رہا ہے، شام میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں، اس میں بھی سعودی عرب کا ان ڈائریکٹ ہاتھ ہے، پاکستان میں تمام تکفیری مراکز اور دہشتگردی کے ٹریننگ کیمپس کو سعودی فنڈنگ ہو رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی زبان پر جو بات آئی ہے، یہ ان کی سازش کا حصہ ہے، یہ امام مہدی (عج) کیخلاف اپنے بغض کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور انہوں نے جو 41 ممالک کا لشکر تیار کیا ہے، اس کا مقصد بھی امام زمانہ (عج) کا راستہ روکنا ہے۔

سوال: گذشتہ دنوں جمعیت علمائے اسلام کے صد سالہ اجتماع میں امام کعبہ سمیت سعودی وزیر مذہبی امور بھی شریک ہوئے، کیا سعودی عرب اپنے ملک میں اس قسم کے اجتماع کا انعقاد اور پاکستان کے کسی وزیر کو مدعو کرسکتا ہے۔؟ کیا یہ شرکت پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں۔؟
علامہ مقصود ڈومکی: 
پاکستان کے تمام معاملات میں سعودی مداخلت ہے، پاکستان امریکی اور سعودی کالونی بن چکا ہے، یہاں وزیراعظم برائے فروخت آمادہ ہیں، یہاں راحیل شریف کی بولی لگی ہے، جب یہاں یہ لوگ اپنے آپ کو بیچنے کیلئے تیار ہوں تو آپ کس سے گلہ کریں گے۔ سعودی عرب نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اجتماع کیلئے وسیع پیمانے پر فنڈنگ کی، اس کے علاوہ پاکستان کی مختلف شخصیات کو وہ فنڈنگ کرتا رہا ہے، انہوں نے یہاں بڑے پیمانے پر ریال بہائے ہیں، میں تو افسوس کا اظہار کرتا ہوں، ایسے لوگوں پر جو اپنے مفادات کیلئے پاکستان کا سودا کرتے ہیں، وہ ملکی مفادات کا سودا کرتے رہے ہیں، نام نہاد امام کعبہ یہاں آتے ہیں اور تکفیریت کا بیج بوتے ہیں، یہاں کالعدم جماعتوں کے رہنماوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور ایک نفرت کا بیج بو کر جاتے ہیں۔ یہ پاکستان کیلئے کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ پاکستان کے کسی وزیر یا سیاسی لیڈر کو اپنے ملک میں بلائیں اور اپنے ملک میں مداخلت کروائیں۔ پاکستان میں شیعہ، سنی کا خون بہانے کیلئے سعودی عرب نے خوب ریال بہائے ہیں، لیکن وہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ ان کے ملک میں اس قسم کی تنظیمیں ہوں۔

سوال: پاکستان کی دو سرحدوں پر صورتحال بہتر نہیں، پھر عبدالغفور حیدری صاحب پر حملہ، کیا یہ پاک ایران تعلقات خراب کرنیکی سازش تو نہیں۔؟
علامہ مقصود ڈومکی:
 ہمیں مولانا عبدالغفور حیدری صاحب پر ہونے والے حملہ پر شدید دکھ ہے، ہم شہداء اور زخمیوں سے اظہار  یکجہتی اور ہمدردی کرتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس حملہ سے ایران کیساتھ تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا۔ دنیا کو معلوم ہے کہ دہشتگردی کرنے والے کون ہیں، اس واقعہ کی ذمہ داری بھی انہی دہشتگردوں کی طرف سے قبول کی گئی ہے، ہم تو مسلسل کہتے رہے ہیں کہ یہ دہشتگرد کسی کے ہمدرد نہیں ہیں، یہ ان لوگوں کو بھی کاٹنے کیلئے تیار ہیں، جنہوں نے انہیں دودھ پلایا۔ اس سے قبل مولانا فضل الرحمان پر حملہ ہوا، مولانا شیرانی پر حملہ ہوا، ہم ان سے ملاقات کیلئے گئے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ حملہ آور موقع پر پکڑے گئے، ہم تو غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ کہیں کسی دوسرے فرقہ کے بندے نے حملہ نہ کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہم بدگمانی سے بچ گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ کرنے والا دہشتگرد ٹولہ ہے، جسے داعش اور طالبان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شیعوں کا قتل عام کیا، انہوں نے سنیوں کا قتل عام کیا اور اب یہی ٹولہ دیوبندیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ مولانا پر حملہ بھی انہی نے کیا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ مولانا پر حملہ سے ایران کیساتھ تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا، ایران دہشتگردوں کیخلاف ہے، اس نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کا پرچم بلند کیا ہے اور اس بات کو مولانا فضل الرحمان بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور مولانا عبدالغفور حیدری بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ 

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.