ہم جنازے اٹھاتے اٹھاتے اور ریاستی دہشتگردی سہتے سہتے تھک گئے ہیں، مولانا یوسف حسین

  • پیر, 01 مئی 2017 14:21

مولانا یوسف حسین جعفری 1949ء کو پاراچنار کے نواحی علاقے نستی کوٹ میں پیدا ہوئے، 1975ء کو محکمہ ایجوکیشن میں بحیثیت تھیالوجی ٹیچر تعینات ہوئے، اپنی اس سروس کے دوران وہ ایک طویل عرصہ تک تنظیم العلماء فاٹا کے صدر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 2000ء میں ریٹائرڈ ہونے کے بعد عوام کی خدمت کیلئے فارغ ہوئے، تو انفرادی اور تنظیمی سطح پر اپنی کوششوں کو جاری رکھا، چنانچہ 2015ء میں مجلس علمائے اہلبیت کے صدر چنے گئے، جبکہ 3 مئی 2016ء کو تحریک حسینی کے صدر منتخب ہوگئے اور اسی دن یعنی 3 مئی 2016ء کو قومی حقوق پر احتجاج کرنیکی پاداش میں انہیں اپنے 47 ساتھیوں سمیت بنوں جیل بھیج دیا گیا، پھر چھ ماہ جیل کاٹنے کے بعد 10 نومبر 2016ء کو جیل سے رہائی کے بعد تحریک حسینی کے پلیٹ فارم سے قومی اور علاقائی مسائل اٹھانے اور انکو حل کروانے میں مصروف عمل ہیں۔ کرم ایجنسی کے حالات سمیت ملکی و غیر ملکی امور پر مولانا یوسف حسین کیساتھ انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

سوال: پاراچنار کے اہل تشیع شہریوں کو پے در پے دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، دہشتگردی کی اس لہر کو روکنے کیلئے حکومت نے کیا کوئی اقدامات کئے ہیں۔؟

مولانا یوسف حسین: بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ پاراچنار کے عوام عرصہ دراز سے دہشتگردی کے نشانہ پر ہیں، لیکن آج تک  حکومت نے پاراچنار کے عوام کو تحفظ دینے کیلئے اقدامات نہیں کئے، محض چیک پوسٹیں قائم کرنے اور خندقیں کھودنے سے عوام میں خوف و ہراس تو قائم کیا جاسکتا ہے، لیکن پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔

سوال: معذرت کیساتھ، پھر امن کیسے قائم کیا جاسکتا ہے۔؟

مولانا یوسف حسین: امن قائم کرنے کیلئے امن کے دشمنوں کو ختم کرنا ہوگا، کرم ایجنسی میں موجود دہشتگردوں کو قانون کی  گرفت میں لانا ہوگا یا انجام کو پہنچانا ہوگا۔ حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی، جس کی وجہ سے دہشتگردی کے واقعات آئے روز ہو رہے ہیں اور بے گناہ لوگ شہید ہو رہے ہیں۔

سوال: گذشتہ دنوں اہل تشیع شہریوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اور اس سے قبل گاڑی میں بارود بھر کر شہر میں دھماکہ کیا گیا، کیا کرم ایجنسی کی سڑکیں فورسز کی پہنچ سے دور ہیں اور بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹوں کے باوجود کہاں سے آگئی۔؟

مولانا یوسف حسین: عوام کا تحفظ کرنا فورسز کی ذمہ داری ہے، سڑکوں پر بم کوئی فرشتے تو نصب نہیں کر جاتے، بم کس نے  نصب کیا، کیسے دھماکہ کیا اور وہ شخص پھر کہیں غائب ہوگیا۔؟ اس سے قبل بھی ریمورٹ کنڑول بم کے ذریعے ہمارے لوگوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن راستوں کو آج تک محفوظ نہیں بنایا گیا، جبکہ اس سے قبل شہر میں ہونے والا دھماکہ بھی بہت پراسرار ہے، خودکش کیسے شہر میں داخل ہو جاتا ہے۔؟ نہ یہ خودکش آسمان سے اترتا ہے اور نہ زمین سے نکلتا ہے۔

سوال: سکیورٹی ادارے تو لوگوں کی حفاظت کیلئے ہوتے ہیں، پھر دھماکے کے بعد شہداء کے ورثا پر گولیاں کیوں برسائی جاتی ہیں۔؟

مولانا یوسف حسین: فورسز کی یہ روش کوئی نئی نہیں، اس سے قبل بھی اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں، ہم نے ہر بار صبر  کا دامن تھامے رکھا، ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی بہانے سے پاراچنار کے عوام فورسز پر حملہ آور ہوں، لیکن ہم اپنے اداروں پر کبھی حملہ آور نہیں ہوئے۔ لیکن اب یہ سلسلہ ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔ ہم جنازے اٹھاتے اٹھاتے اور ریاستی دہشتگردی سہتے سہتے تھک گئے ہیں، اب مزید ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ پاراچنار کے عوام کو حکومت نے تحفظ فراہم نہ کیا تو یہ بہت بڑی غداری ہوگی۔

سوال: ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل دہشتگرد احسان اللہ احسان کو میڈیا پر ہیرو بناکر پیش کیا جا رہا ہے، کیا یہ شہداء کے خانوادوں کے زخموں پر نمک پاشی نہیں۔؟

مولانا یوسف حسین: ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس کو پہلے روز ہی سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جاتا، لیکن یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ اتنے  بڑے دہشتگرد کو میڈیا پر لایا جا رہا ہے اور اس کے انٹرویو ہو رہے ہیں۔ اب بہت سے لوگ طالبان دہشتگردوں کیلئے عام معافی کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔ یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ہے۔

سوال: کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب کی حفاظت کیلئے یمن جا رہے ہیں، کیا کہیں گے۔؟

مولانا یوسف حسین: جس گھر میں آگ لگی ہوئی ہو تو اس کے مکین پہلے اپنے گھر کی آگ بجھاتے ہیں، لیکن یہاں تو الٹی گنگا  بہتی ہے۔؟ کیا آل سعود کے فوجی کبھی پاکستان میں دہشتگردوں کو ختم کرنے کیلئے آئے۔؟ کیا سعودی حکومت نے پاکستان میں جاری دہشتگردی کے تدارک کیلئے کوئی اقدام کیا۔؟ بلکہ الٹا آل سعود نے پاکستان میں دہشتگرد بنائے، ان کو فنڈنگ کی، ان کی تربیت کی اور اب بھی ان کو سپورٹ کیا جا رہا ہے، یہ سب کچھ سعودی عرب کی نمک حلالی ہے، یمن سے حرمین کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ آل سعود سے حرمین سمیت دنیا بھر کے امن کو خطرہ ہے۔

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.