تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی فوجیوں نے مشرقی شہر العوامیہ کو ایک بار پھرحملوں کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں مزید ایک شہری شہید ہوگیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، سعودی فوجیوں نے تیس ہزار کے آبادی والے شہر العوامیہ پر حملہ کرکے ایک اور شہری کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا ہے۔ سعودی فوجی کم سے کم ایک شخص کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ سعودی فوج نے العوامیہ کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے اور صحافیوں اور عالمی اداروں کے نمائندوں کو علاقے کی صورتحال کے جائزے کی غرض سے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ ریاض کے بعد سعودی عرب کی شاہی حکومت نے العوامیہ کے علاقے میں منظم فوجی آپریشن شروع کیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ برطانوی جریدے انڈی پینڈینٹ کے مطابق، مقامی شہریوں نے اس اخبار کو بتایا ہے کہ سعودی فوج کے حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں اب تک پچیس افراد شہید ہوچکے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاناما کیس میں نا اہلی ثابت ہونے کے بعد عوام نے نواز شریف سمیت ملک کا پیسہ لوٹنے والوں کی دولت پاکستان لانے کا مطالبہ کردیا۔

پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرارا دے دیا۔ جس کے بعد عوام نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نواز شریف سمیت ملک کا پیسہ لوٹنے والوں کی دولت پاکستان واپس لائی جائے۔

نواز شریف سمیت ملکی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے اور نشان عبرت بنایا جائے۔

عوام کا کہنا تھا کہ ملک میں پہلی بار طاقتور لوگوں کا احتساب ہورہا ہے جس پر عدالت عالیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، امید ہے کہ نواز شریف کے بعد ملکی دولت لوٹنے والے مزید بڑے چوروں کا بھی احتساب کیا جائے گا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ان کے ملک کے خلاف مزید پابندیاں عائد کیں، تو ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا امریکی پابندیوں کے باوجود ایران ترقی اور پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن رہےگا ۔

صدر روحانی نے کہا کہ جس طرح ماضی میں ایران نے سخت ترین پابندیوں کا مقابلہ کیا اسی طرح اب بھی ان کا مقابلہ کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی عوام گھبرانے والے نہیں ایرانی قوم امریکہ کے خلاف متحد ہے ۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب کے شاہی دربار نے ایک حکمنامے میں سعودی شاہ کے بیٹے اور ولیعہد محمد بن سلمان سے کہا ہے کہ وہ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے غیر ملکی سفر کے دوران ملک کی باگ ڈور خود سنبھالیں۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے شاہی دربار نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز تعطیلات منانے کے لئے بیرون ملک سفر پر جا رہے ہیں۔

بعض سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز بیمار ہیں جبکہ بعض دیگر نے سعودی شاہ کے اس اقدم کو اقتدار کی اپنے بیٹے کو منتقلی کی راہ ہموار کرنا قرار دیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بحرینی عوام نے ایک بار پھر سرکردہ مذہبی رہنما اور شیعیان بحرین کے قائد آیت اللہ عیسی قاسم کی نظربندی اور نئے فیملی قانون کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے کئے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق بحرینی عوام نے احتجاجی مظاہروں میں معروف عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی نظربندی اور نئے فیملی قانون کے خلاف نعرے لگائے اور آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی فوری رہائی اور نئے فیملی قوانین کو منسوخ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔

بحرین کے عوام نے گزشتہ منگل کے روز بھی آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی رہائی اورنئے فیملی قانون کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے تھے۔

بحرین کے بیشترعلمائے کرام نے اپنے بیانات میں شاہی حکومت کی نمائشی پارلیمنٹ میں منظور کیے جانے والے نئے فیملی قانون کی مذمت کرتے ہوئے انھیں فقہ جعفریہ کے تشخص اور فقہی احکامات کے منافی قراردیا ہے۔

سار کے علاقے میں ہونے والے مظاہرے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ فیملی قانون مذہب تشیع کی خصوصیات کے منافی ہے اور اس میں شیعہ مسلمانوں سے اپنے مذہب سے دستبردار ہونے اور شرعی احکامات کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بحرین کے فقہی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے فیملی قانون میں ایسے بہت سے نقائص موجود ہیں جو مذہبی احکامات کے منافی شمار ہوتے ہیں مثال کے طور پر اس قانون میں طلاق کے سلسلے میں شیعہ مسلمانوں کے لئے ایسے شرائط وضع کی گئی ہیں جو فقہ جعفری کے احکامات کے سراسر منافی ہیں۔

اس سے پہلے بھی بحرینی علماء،ایک بیان جاری کر کے بحرینی پارلیمنٹ میں فیملی قانونی کی منظوری کی مذمت اور اس کی فوری منسوخی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
دوسری جانب بحرین پر مسلط آل خلیفہ حکومت نے انقلابی تحریک میں شامل افراد اور فعال شخصیتوں کی شہریت سلب کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایران میں بحرین کے مذہبی پیشوا آیت اللہ عیسی قاسم کے نمائندے شیخ عبداللہ الدقاق کی اہلیہ کی شہریت بھی سلب کر لی ہے۔

بحرین میں فروری دو ہزار گیارہ سے اس ملک کی شاہی حکومت کے خلاف پرامن مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ بحرینی عوام ملک میں سیاسی اصلاحات اور مذہبی تفریق کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) جیزان کے سرحدی علاقے میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کے حملوں میں کئی سعودی فوجی ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے اس بارے میں کہا ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے القمامہ پہاڑیوں میں واقع الغاویہ فوجی ٹھکانے پر حملہ کر کے متعدد سعودی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔

اس حملے میں یمنی فوج نے سعودی عرب کی ایک فوجی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا اور کافی مقدار میں ہتھیار ضبط کر لئے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے جیزان میں الدفینیہ فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہاں فوجی ہتھیاروں کے گودام میں آگ لگ گئی۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے جیزان میں ہی الغاویہ فوجی ٹھکانے پر بھی حملہ کیا۔

واضح رہے کہ یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت میں اب تک تقریبا چالیس ہزار یمنی شہری شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔

16 جولائی 2017ء کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ سرحد پار سے دولت اسلامیہ کا اثر روکنے کے لئے راجگال میں خیبر فور آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مضبوط ہوتی ہوئی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا پاکستانی علاقے میں اثر روکنے کے لئے اس آپریشن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پارا چنار سے گرفتار ہونے والوں کا تعلق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے ثابت ہوا ہے۔ داعش کے افغانستان میں قدم جمانے کا آغاز 2014ء کے آخر میں ہوا اور وہ زیادہ نمایاں طور پر جنوری 2015ء میں سامنے آئی، جب اس نے مشرقی صوبہ ننگر ہار میں میں ایک بڑے حصے پر کنٹرول کر لیا۔ اس سلسلے میں 25 فروری 2017ء کو بی بی سی نے اپنے نامہ نگار داؤد عظمی کی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب دولت اسلامیہ مشرق وسطٰی سے باہر باضابطہ طور پر نمودار ہوئی۔ اس نے چند ہی ہفتوں میں افغانستان کے پانچ صوبوں ہلمند، ذبول، فرح، لاگر اور ننگر ہار میں مختلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اڑھائی برس سے زیادہ کی مدت میں افغانستان کے اندر داعش کا اصل چیلنج افغان طالبان کے لئے ظاہر ہوا ہے۔ داعش افغان طالبان کا غلبہ ختم کرنا چاہتی ہے، علاوہ ازیں اس کا ہدف افغانستان میں موجود القاعدہ کے جنگجو بھی ہیں۔ داعش کی کوشش یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لئے نئی بھرتی کے ساتھ ساتھ طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرے اور جو شامل نہ ہوں، ان کے خلاف کارروائی کرے۔ بظاہر ننگر ہار غیر اعلانیہ طور پر افغانستان میں داعش کا دارالحکومت ہے، جو داعش کے تصور کے مطابق دولت اسلامیہ صوبہ خراسان کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

داؤد عظمی کے مطابق ننگر ہار کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ دولت اسلامیہ خراسان کی اہم قیادت کے ٹھکانے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے قریب ہیں اور دوسرا یہاں دولت اسلامیہ کے مسلک سلفی/وہابی اسلام کے پیروکاروں کی تعداد قدرے بہتر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ شمالی افغانستان میں بھی اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں اس کا ہدف وسطی ایشیا میں چیچن اور چینی اوغر جنگجوؤں سے روابط قائم کرنا ہے۔ مختلف رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی قیادت میں نیٹو فورسز نے ابھی تک داعش کے خلاف فقط جنوبی اور مغربی افغانستان میں کارروائی کی ہے۔ اس نے کوئی کارروائی شمالی علاقوں میں موجود اور پاکستان کے بارڈر کے قریب موجود داعشی جنگجوؤں کے خلاف نہیں کی، بلکہ حال ہی میں تورا بورا کے پہاڑی سلسلے میں داعش کے داخلے اور قبضے کا اعلان ہوا ہے۔ جب کہ تورا بورا سے افغان طالبان کے خاتمے کے لئے امریکہ نے ایٹم بم کے بعد سب سے بڑے بم جسے وہ تمام بموں کی ماں کہتا ہے، استعمال کئے ہیں۔ یاد رہے کہ تورا بورا کرم ایجنسی کے نواح میں واقع ہے، جس کا ہیڈ کوارٹر پاراچنار ہے۔ بی بی سی کی مذکورہ رپورٹ میں افغان سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ داعش کے 80 فیصد جنگجو پاکستانی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باقی جنگجوؤں کا تعلق وسطی ایشیائی ممالک پر توجہ مرکوز رکھنے والی تنظیم اسلامی موومنٹ آف ازبکستان یا پھر افغان طالبان سے ہے۔ بی بی سی نے 6 جنوری 2016ء کو شمائلہ جعفری کی بھی ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس کے مطابق افغانستان کی داعش کے ریڈیو کی نشریات پاکستانی علاقوں میں سنی جانے لگیں تھیں۔ مختلف دیگر رپورٹوں کے مطابق اس FM ریڈیو کی نشریات پاکستان کے قبائلی علاقوں کے علاوہ خیبر پختواخوا کے شہری علاقوں میں بھی سنی جانے لگی ہیں۔

شمائلہ جعفری ہی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے محکمہ داخلہ نے ایک مراسلہ چیف سیکرٹری پنجاب، پولیس کے اعلٰی حکام اور وزیر اعلٰی کے سیکرٹری کو بھجوایا تھا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ دولت اسلامیہ نے پاکستان میں بھرتیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، خاص طور پر قبائلی علاقوں میں موجود پناہ گزین کیمپوں میں مقیم لوگوں کو 30 سے 50 ہزار روپے ماہوار تنخواہ پر بھرتی کرنے کے بعد ان لوگوں کو افغانستان بھیجا جاتا ہے، جہاں انہیں برین واش کرنے کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ اور دھماکہ خیزمواد استعمال کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ بھرتی ہونے والے افراد کی تربیت کے لئے دولت اسلامیہ نے پراپیگنڈا پر مبنی لٹریچر اور ویڈیو سی ڈیز بھی جاری کی ہیں، تاکہ پاکستان سے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس دہشت گرد تنظیم میں شامل کیا جاسکے۔ ان ویڈیوز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی جنگجو مارا جائے تو اس کے خاندان کی کفالت کی جائے گی۔ اس رپورٹ کے مطابق متعدد شدت پسند گروپ جیسے اسلامک موومنٹ ازبکستان، ترکستان اسلامک موومنٹ، افغانستان میں موجود ازبک اور چیچن ملیشیا، احرار الہند، جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی وغیرہ بھی دولت اسلامیہ کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان کے زیادہ تر کمانڈروں نے بھی دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اگرچہ یہ بات کہی ہے کہ پاکستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں ہیں، تاہم 2015ء سے لے کر اب تک پاکستان کے مختلف شہروں میں بلکہ تمام صوبوں اور قبائلی علاقوں میں بہت سی دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری داعش کی طرف سے قبول کی جا چکی ہے۔

گذشتہ رمضان شریف میں ہونے والی دہشت گردی کی بیشتر کارروائیوں کی ذمہ داری داعش ہی نے قبول کی ہے، اس سلسلے میں خاص طور پر پارا چنار میں ہونے والے بم دھماکوں کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے، جہاں سے جنرل آصف غفور کے مطابق داعش کے کچھ کارندے گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ یہ ہے وہ پس منظر جو ہمیں پاک فوج کے تازہ ترین اعلان اور فیصلے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاک فوج کی طرف سے شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف زمینی آپریشن خیبر فور لانچ کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے، جو افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کی طرف سے پارا چنار کے خصوصی دورے اور وہاں کے عوام کے مطالبات سے بڑھ کر ان کے ساتھ حسن سلوک کی توجیہ کرتا ہے۔ ہم ایک قدم اور آگے بڑھائیں تو افغانستان کے معاملے میں روس، چین اور پاکستان کا بڑھتا ہوا تعامل ہماری سمجھ میں آسکتا ہے۔ ہم ابھی مختلف رپورٹوں میں یہ بات دیکھ چکے ہیں کہ افغانستان میں داعش کی توجہ پاکستان، چین اور مرکزی ایشیا کی ان ریاستوں کی طرف زیادہ ہے، جو سوویت یونین کا حصہ رہی ہیں اور روس ابھی تک ان کے بارے میں بہت حساسیت رکھتا ہے۔ اگرچہ چین، روس اور پاکستان کی قربتوں کی اور بھی اہم وجوہات ہیں، لیکن ہم یہ امر نظر انداز نہیں کرسکتے کہ یہ قربتیں فقط تجارتی اور اقتصادی حوالے سے نہیں ہیں بلکہ فوجی اور عسکری حوالے سے بھی ہیں۔ علاوہ ازیں افغانستان کے حوالے سے تینوں ملکوں کے مابین کئی ایک نشستیں ہوچکی ہیں۔

ہم نے حال ہی میں ایک کالم ’’پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے اشارے‘‘ کے عنوان سے زیر بحث موضوع کے حوالے سے چند اہم نکات قارئین کی خدمت میں پیش کیے تھے اس سلسلے میں چند امور اپنے قارئین کو ایک مرتبہ پھر یاد دلاتے ہیں۔
* 30 جون 2017ء کو پاکستان کے دفتر خارجہ میں وزیراعظم کی صدارت میں خارجہ پالیسی کو ریویو کرنے کے لئے ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں وزیراعظم کو خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، عالمی اور علاقائی سطح پر نئے ابھرتے ہوئے منظر نامے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم کے میڈیا آفس نے اس حوالے سے جو بیان جاری کیا ہے، اس کے مطابق وزیراعظم نے چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری، سی پیک کا آغاز، امریکہ سے اسٹرٹیجک ڈائیلاگ، روس کے ساتھ مضبوط تعلقات، مرکزی ایشیا کے ساتھ بہتر ہوتے ہوئے پاکستان کے تعلقات اور شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی رکنیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
* پاکستان اور روس تاریخی طور پر ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں اور پاکستان نے گذشتہ اپنی پوری تاریخ میں کمی بیشی کے ساتھ ہمیشہ امریکہ کے اتحادی کا کردار ادا کیا ہے، لیکن حالات تبدیل ہونے کے بعد 2016ء میں پاکستان اور روس نے پہلی مشترکہ فوجی مشقوں کا اہتمام کیا، جس کا نام فرینڈشپ 2016ء رکھا گیا تھا۔ یہ نام علامتی طور پر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اشارہ کر رہا ہے کہ 2016ء سے روس اور پاکستان کے مابین ایک نئی فرینڈشپ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

* 28 دسمبر 2016ء کو پاکستان، روس اور چین کے مابین ایک کانفرنس ماسکو میں منعقد ہوچکی ہے۔ اس سہ فریقی کانفرنس کا اصل موضوع افغانستان ہی تھا۔ چنانچہ اس بیٹھک کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں تینوں ملکوں نے افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا۔ نیز افغانستان کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورت حال پر متنبہ کیا۔ اس سلسلے میں روسی ترجمان ماریہ زخاروف نے کانفرنس کے بعد کہا کہ تینوں ممالک نے کابل حکومت اور طالبان کے درمیان حائل رکاوٹوں کو ہٹانے کے لئے لچکدار رویہ پر بھی اتفاق کیا ہے۔
* نیوز ڈیسکن کی ایک رپورٹ جو 25 فروری 2017ء کو شائع ہوئی، میں روس کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے روابط کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سرد جنگ کے تلخ مخالفین کے مابین قربت کے شواہد نظر آرہے ہیں۔ ایشیا میں سیاسی اور تزویراتی فضا کی تبدیلی نے دونوں ملکوں کو قریب آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مبصرین کے نزدیک اس قربت کی بنیادی وجہ پاک چین تزویراتی روابط ایک طرف اور چین روس تزویراتی روابط دوسری طرف ہیں۔ روس اور پاکستان کو قریب لانے میں چین نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش کے خلاف پاکستان نے جو حکمت عملی تیار کی ہے، ’’خیبر فور‘‘ اس کا فقط ایک اظہار ہے۔ خیبر فور درحقیقت اس امر کا اعلان ہے کہ پاکستان اپنے خلاف پنپتی ہوئی دہشتگردی کی ایک نئی جنگ جو داعش کے عنوان سے اس پر مسلط کی جائے گی، سے پوری طرح باخبر ہے۔ علاوہ ازیں چین اور روس کو بھی اس کا پوری طرح ادراک ہے۔ چین، روس اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون کو بھی داعش کی بڑھتی ہوئی قوت سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ شمالی اور مشرقی افغانستان میں داعش کو جس انداز سے مختلف صوبوں میں بڑھنے، پھیلنے اور مضبوط ہونے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ اسے تینوں ممالک نظرانداز نہیں کرسکتے۔ نیز داعش کے حربے بیک وقت تینوں ممالک کے لئے خطرے کا باعث ہیں۔ رہا امریکہ اور بھارت کا کردار تو وہ آہستہ آہستہ دنیا کے لئے واضح ہو جائے گا، جبکہ ان تینوں ممالک کے لئے بالکل واضح ہوچکا ہے، تینوں ممالک کے درمیان بیٹھکیں اور قربتیں اسی ادراک کی غماز ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ملاقات کی ہے، جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ اس موقع پر امیر جماعت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے حکمرانوں کی کرپشن کو بےنقاب کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، دونوں رہنماؤں کی ملاقات اسلام آباد میں ہوئی، اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری سیاسیات اسد نقوی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر عباس شیرازی، علامہ اقبال بہشتی، جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم اور ملی یکجہتی کونسل کے رہنما ثاقب اکبر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پانامہ کیس کے بعد وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے، انہیں مستعفی ہو جانا چاہئے۔ ملاقات میں رہنماوں نے سانحہ پاراچنار میں دہشتگردی کی کے واقعے کی مذمت کی اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رکن مرکزی شوریٰ، مجلس علمائے شیعہ اور متحدہ علماء محاذ کے سربراہ علامہ مرزا یوسف حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے دو اہم شہروں کراچی اور کوئٹہ کو مقتل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، بلوچستان حکومت ہوش کے ناخن لے اور بے گناہ شیعہ افراد کی نسل کشی کی روک تھام کرے اور کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے روزے دار بہن بھائی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگرد عناصر کو گرفتار کرکے جلد فوجی عدالتوں میں پیش کرے، کیونکہ عدلیہ کی کوتاہیوں کی وجہ سے آج بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کوئی بھی کسی بھی انسان کو قتل کر دیتا ہے، کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی توہین رسالت کے نام پر۔

اپنے مذمتی بیان میں علامہ مرزا یوسف حسین نے مزید کہا کہ کراچی میں شیعہ نوجوان کی شہادت انتہائی تشویشناک ہے، یہ قتل قانون نافذ کرنے والوں کے اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ دہشتگردوں کا نیٹ ورک ختم کر دیا گیا ہے، اگر نیٹ ورک ختم ہوگیا ہے، تو محسن نامی شیعہ نوجوان جو قائدآباد کے علاقے میں اپنی ہیئر ڈریسر کی دکان پر نوحہ چلاتا تھا، اس کا اس طرح قتل نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں شیعہ نوجوان کی ٹارگٹ کلنگ نے سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو اس دہشتگردی کے اس طرح کے واقعات کی ان کے ہونے سے قبل ہی میں سرکوبی کرے اور قاتلوں کو فوری سزا دے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر بریگیڈئر جنرل احمد رضا پودستاں نے پاکستانی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ ایرانی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ورنہ یہ کام ایران کو کرنا پڑےگا۔ مہر نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر بریگیڈئر جنرل احمد رضا پودستاں نے پاکستانی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ ایرانی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ورنہ یہ کام ایران کو کرنا پڑےگا۔ انھوں نے کہا کہ میرجاوہ سرحد پر دہشت گردانہ حملہ غافلگیرانہ اور بزدلانہ حملہ تھا کیونکہ ایرانی سرحدی محافظ ، پاکستانی سرحدی محافظوں کی طرف سےمطمئن تھے۔ انھوں نے کہا کہ میر جاوہ حملہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ناکامی اور کمزوری کا مظہر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر پاکستانی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کوئي کارروائی نہ کی تو پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ایران کا مسلّم حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ، دہشت گردوں کو اپنی سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔