تازہ ترین

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)وحدت یوتھ راولپنڈی کی ڈسٹرک کونسل کا اجلاس مرکزی ڈپٹی سیکریٹری برادر وفا عباس اور سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین راولپنڈی علامہ اکبر کاظمی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے برادر وفا عباس کا کہنا تھا کہ آج نوجوان نسل کو سیرت محمد و آل محمد پر چلنا ہے۔ آج دشمن براہ راست امام زمانہ سے جنگ کا خواب دیکھ رہا ہے اور ایسے میں ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ اکبر کاظمی کا کہنا تھا کہ 6 اگست کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں مہدی برحق کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان بھر سے شیعہ سنی حضرات شرکت کریں گے۔ یہ اجتماع قائد شہید علامہ عارف الحسینی کی 29 ویں برسی کی مناسبت سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ برادر وفا کا کہنا تھا شہید کی برسی کے اس اجتماع کی تشہیری مہم میں جوانوں کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنڈی اور اسلام آباد میں جوان عوامی رابط مہم شروع کرکے اس عظیم اجتماع میں عوام الناس کو دعوت دیں اور ان کی شرکت کو یقینی بنائیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)شیعہ علماء کونسل سندھ کے نائب صدر و پولیٹیکل سیکرٹری محمد یعقوب شہباز نے شہید علامہ حسن ترابی کی گیارہویں برسی کے موقع پر کہا ہے کہ 14 جولائی 2006ء حسن ترابی کی شہادت کا دن ہے، علامہ حسن ترابی پورے پاکستان میں اپنی شخصیت میں اپنی مثال آپ تھے، آپ ہر جگہ جا کر محبت و بھائی چارگی کی بات کرتے تھے، علامہ حسن ترابی پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیتے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی زندگی کا باقی ماندہ عرصہ بھی آپ نے اتحاد کیلئے وقف کر دیا، جس کی ایک بہترین مثال متحدہ مجلس عمل ہے، جس میں ملک بھر کے مکاتب فکر کے علماء موجود تھے، اس تنظیم کا مقصد بھی پاکستان میں اتحاد کیلئے راہیں ہموار کرنا تھا۔ اپنے بیان میں یعقوب شہباز نے کہا کہ شہید نے پاکستان میں موجود ہر طبقے کیلئے کام کیا اور اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہر تنظیم اور نیٹ ورک کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ہر ایک کے حق کی بات کرتے نظر آئے، چاہے وہ فلسطین کا مسئلہ ہو یا کراچی میں دہشتگردی کا مسئلہ ہو، چاہے لبنان یا غزہ ہو، ہر جگہ ہمیشہ حق کی صف میں نظر آئے، لیکن جب دشمن ہر محاذ پر علامہ حسن ترابی کی استقامت کو دیکھ کر ناکام ہوگیا، تو دشمن نے پوری منصوبہ بندی کے ذریعے آپ کو ایک خودکش حملے کے ذریعے شہید کر دیا، آج تک آپ کی خدمات کو سیاسی اور مذہبی حلقوں میں یاد رکھا جاتا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود ڈومکی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر میں دہشت گردوں کی رہائی اور صوبائی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویئے کیخلاف 14 جولائی کو وارثان شہداء کے ہمراہ یوم احتجاج منائیں گے، چیف جسٹس، آرمی چیف اور بلاول بھٹو سانحہ سیہون و جیکب آباد کے دہشت گردوں کی رہائی کا فوری نوٹس لیں، سندھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پورے ملک کے امن کے لئے خطرہ ہیں، سندھ حکومت وارثان شہداء جیکب آباد و شکارپور سے کئے گئے معاہدے پر عملدر آمد کرے، سندھ بھر سے دہشت گردی کے جن مراکز کی نشاندہی کی گئی تھی ان کیخلاف بھرپور ایکشن لیا جائے، سندھ میں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کو رہا کیا جا رہا ہے، سندھ سمیت ملک بھر دہشت گردوں کے ہمدرد اور سہولت کار پیدا کئے جا رہے ہیں، سانحہ جیکب آباد و سیہون شریف میں ملوث دہشت گردوں کی رہائی باعث تشویش و اضطراب ہے، کراچی میں مسجد نور ایمان کے باہر بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ یوم احتجاج پر جیکب آباد پریس کلب کے سامنے علامتی علامتی دھرنا دیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں مولانا نشان حیدر ساجدی، مولانا سید اظہر نقوی، مولانا صادق جعفری، میر ظفر تقی و دیگر موجود تھے۔

علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ سندھ میں دہشت گردوں کو ایک طرف رہا کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف وہ جیلوں سے فرار ہو رہے ہیں، صوبہ سندھ سمیت پورے ملک میں دہشت گردوں کے ہمدرد اور سہولت کار پیدا کئے جا رہے جن سے دہشت گردی کو تقویت ملی اور واقعات میں اضافہ ہوتا آیا ہے، جیکب آباد اور سیہون شریف کے سانحات میں ملوث دہشت گردوں کی رہائی نے پوری قوم کو تشویش اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے، سندھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پورے ملک کے امن کے لئے خطرہ ہیں، سندھ کی سرزمین ہمیشہ محبت و امن کا گہوارہ رہی ہے اس میں نفرتوں اور بدامنی کے بیج بونے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کے خلاف قوم اور ریاستی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ان مراکز اور سہولت کاروں کی نشاندہی ہم مسلسل حکومت اور انتظامیہ سے کرتے رہے مگر اس سنگین مسئلے کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا گیا، سانحہ شب عاشور جیکب آباد کے عوام کے لئے قیامت صغریٰ سے کم نہ تھا، جس میں 28 معصوم جانیں شہید جبکہ 69 افراد زخمی ہوئے، ان شہداء میں انیس معصوم بچے بھی شامل تھے، سانحے کے فورا بعد اس وقت کے نا اہل ایس ایس پی کے حکم پر پولیس نے نہتے عوام پر گولیاں چلادیں، جس کے نتیجے میں واپڈا ملازم محمد شریف جتوئی شہید ہوگئے، ہماری درخواست کے باوجود آج تک پولیس اس مظلوم شہید کی ایف آئی آر درج کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔

علامہ مقصود ڈومکی کا کہنا تھا کہ جیکب آباد سانحہ میں ملوث بدنام زمانہ دہشت گرد ایک سال کے اندر باعزت بری کردیئے گئے اور آج وہ پھر دندناتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم واضح طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ جیکب آباد غیر محفوظ ہوچکا ہے، جیکب آباد اور شکارپور کے اضلاع میں موجود دہشت گردی کے مراکز اور سہولت کار عوام کے لئے خطرہ ہیں، یہاں کے عوام خصوصا اہل تشیع ان کے نشانے پر ہیں، ایک طرف دہشت گرد رہا کردیئے گئے تو دوسری جانب ایس ایس پی جیکب آباد نے حال ہی میں جیکب آباد کے شیعہ مدارس، امام بارگاہوں اور شخصیات سے بھی سیکورٹی واپس لے لی ہے جو کہ قابل مذمت ہے، ایس ایس پی جیکب آباد سیکورٹی کے سلسلے میں تعاون نہیں کر رہا، سیکورٹی کے حوالے سے خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری جیکب پولیس کے اعلی حکام پر ہوگی۔ علامہ مقصود ڈومکی کا کہنا تھا کہ سانحہ سہون شریف کے متاثرین کو بھی سندہ حکومت نے فراموش کر رکھا ہے، درجنوں زخمیوں کو حکومتی وعدوں کے باوجود ابھی تک امدادی رقوم فراہم نہیں کی گئیں، مناسب طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث ان کے زخم ناسور بن گئے، جبکہ سانحے کے بعد گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کو رہا کردیا گیا ہے، چھ ماہ کا طویل عرصہ گذر گیا مگر اتنے بڑے سانحے کے مجرموں کو بے نقاب نہیں کیا جا سکا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سانحے میں گرفتار افراد جن کو پولیس اور حساس اداروں نے سہولت کار بتایا وہ پیپلز پارٹی کے ایم این اے رفیق جمالی کے انتہائی قریبی افراد ہیں، جن میں پی پی کے ممبر ضلع کونسل منیر جمالی بھی شامل ہیں، قانون کی نظر میں مجرم کا سہولت کار اور جرم کو چھپانے میں اعانت کرنے والا اور انفارمیشن نہ دینے والا برابر کے مجرم ہیں، انتہائی حساس کیس میں ان پولیس اہلکاروں نے مجرمانہ کردار ادا کیا، دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہوئے کیس کو تباہ کیا گیا اور مجرموں کو چھڑانے کی دانستہ کوشش کی گئی، تفتیشی افسر امان اللہ سدھایو، ایس ایچ او علی انور بروہی نے اسلحہ اور ریکوری ظاہر نہیں کی، جبکہ جائے وقوعہ پر حاضر گواہ اے ایس آئی سہراب اڈھو نے بیان تبدیل کئے، پی ڈی ایس پی عطا محمد سومرو نے دہشت گردوں کے اعترافی بیانات اور گواہیاں پیش نہیں کیں، جبکہ سرکاری وکیل انور مہر نے 190 کا نوٹس نہ لے کر سہولت دی۔ علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ہمارا چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف آف آرمی اسٹاف ، سندہ حکومت اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ ہے کہ سہون شریف اور جیکب آباد میں دہشت گردوں کی رہائی کا فوری نوٹس لیں، سندھ حکومت اور اپیکس کمیٹی نے سندھ بھر سے دہشت گردی کے جن مراکز کی نشاندہی کی تھی ان کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بدنام زمانہ دہشت گردوں کی رہائی اور حکومت و انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ رویئے کے خلاف ہم وارثان شہداء کے ہمراہ 14 جولائی کو یوم احتجاج منا رہے ہیں، بروز جمعہ سندھ بھر میں احتجاجی جلوس نکلیں گے، کراچی میں جامع مسجد نورایمان کے باہر بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرہ ہوگا جبکہ جیکب آباد مرکزی امام بارگاہ سے صبح دس بجے وارثان شہداء کا احتجاجی جلوس نکلے گا اور پریس کلب کے سامنے علامتی علامتی دھرنا دیا جائے گا، ہم سندھ کی سول سوسائٹی، میڈیا، سیاسی، مذہبی جماعتوں اور غیور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر ہمارے لئے افسوس کا باعث ہے کہ سانحہ شکارپور اور جیکب آباد میں بعض نام نہاد مدارس ملوث رہے اور جب دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تو جے یو آئی کے بعض مقامی رہنماء ان کی حمایت میں نکل آئے، جس سے بہت سارے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں، میں جے یو آئی کی صوبائی اور مرکزی قیادت سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس صورتحال کی حساسیت کو روکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم فلسطینی اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے غاصب اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی عوام کے قتل عام اور مودی سرکار کے ہاتھوں کشمیری عوام کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، انڈین وزیراعظم مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل دو انسان دشمن اور اسلام دشمن حکومتوں کے گٹھ جوڑ کی نشاندہی کرتا ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے کوئٹہ میں پولیس افسران اور کارکنوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لئے کومبنگ آپریشن کی ضرورت ہے جو بلاتخصیص ہر علاقہ میں شروع ہونا چاہییئے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مولانا عبدالعزیز کے قریبی ساتھی کے مطابق لال مسجد آپریشن کے 10 سال مکمل ہونے پر کانفرنس کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں شرکت کے دعوت نامے صدر، وزیراعظم، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، وفاقی کابینہ اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو روانہ کیے جائیں گے۔ شیعہ نیوز کے مطابق لال مسجد آپریشن کے 10 سال مکمل ہونے پر کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ کانفرنس لال مسجد میں 7 جولائی کو طے کی گئی، اس کانفرنس کا انعقاد شہداء فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا جائے گا۔

خطیب لال مسجد کے ساتھی کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے درخواست منگل (16 مئی) کے روز کیپیٹل ایڈمنسٹریشن میں دائر کردی جائے گی تاکہ ان کے پاس تمام شکایات کو دور کرنے کے لیے کثیر وقت میسر ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کانفرنس کے دعوت نامے رواں ہفتے اہم مذہبی و سیاسی شخصیات، ملکی قیادت اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو روانہ کردیئے جائیں گے۔

خطیب لال مسجد کے ساتھی کے مطابق اہم شخصیات کو دعوت نامے بھیجوانے سے منتظمین پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ مقامی انتظامیہ سے کانفرنس کے انعقاد کی اجازت حاصل کرسکیں اور مہمانوں کو بھی پروگرام میں شرکت کے لیے شیڈول مقرر کرنے کا وقت مل جائے۔ دریں اثناء شہداء فاؤنڈیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں حکومت سے این او سی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کانفرنس کا انعقاد مسجد کے اندر کیا جائے گا۔

تاہم دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ حکومت کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ کانفرنس کی اجازت دے یا اس سے انکار کردے کیونکہ مسجد سرکاری املاک میں شامل ہے اور مولانا عبدالعزیز کو مسجد کے خطیب کی ذمہ داریوں سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مولانا عبدالعزیز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے فورتھ شیڈول کے تحت کالعدم بھی قرار دیا جاچکا ہے۔

لیکن ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی ان حضرات کو کسی اجازت نامے کی ضرورت ہے کیونکہ ابھی 7 ماہ قبل ہی کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کی جانب سے اسلام آباد کے آبپارہ چوک پر دفعہ144 نافذ ہونے کے باوجود جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے کالعدم جماعتوں کےسرغنہ شریک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ کالعدم جماعت کے اس جلسہ کو ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسر، ٹریفک پولیس کے ساتھ ساتھ 1122 کی ایمبولینس بھی فراہم کی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ اطراف کی چھتوں پر ایف سی اور پولیس کے جوان بھی موجود تھے۔ ملک میں نیشنل ایکشن پلان اور وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود اسلام آباد میں ڈھکے چھپے نہیں بلکہ کھلے عام جلسہ کرنے والے تکفیریوں کو تحفظ فراہم کر کے حکومت پہلے ہی ثابت کر چکی ہے کہ اجازت نامے فقط شیعہ پرامن جلوس کے لئے ضروری ہوتے ہیں، دہشتگرد تکفیری کالعدم جماعتیں حکومتی پابندیوں اور اجازت ناموں سے مستثنی ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اسلامی اتحادی افواج کا معاملہ نازک ہے، پاکستان کو اس اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہیے، یہ واضح نہیں کہ اتحاد کارروائی کس کے خلاف کرے گا، نواز شریف کے ہر آرمی چیف سے تعلقات کشیدہ رہے، بہت مذاق اڑ چکا، نواز شریف کی جگہ ہوتا تو استعفیٰ دے دیتا۔ نواز شریف کے دور حکومت میں سول ملٹری تعلقات میں ہمیشہ کشیدگی رہی، آصف نواز،وحید کاکڑ،جہانگیر کرامت کےساتھ کشیدگی رہی، نواز شریف اور راحیل شریف کے درمیان معاملات بس ٹھیک تھے۔ یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروبرام الیونتھ آور میں شرکت کے دوران میزبان وسیم بادامی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کچھ نہ کچھ ایسا کرتے ہیں جس سے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی آجاتی ہے اس لیے ان کی ہر دور میں اپنے آرمی چیف سے تعلقات میں کشیدگی رہی،آصف نواز،وحید کاکڑ،جہانگیر کرامت کے ساتھ کشیدگی رہی، راحیل شریف سے معاملات بھی بس ٹھیک ہی تھے۔

اسلامی اتحاد کے سوال پر انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ایسا فوجی اتحاد نہیں بننا چاہیے جو فرقہ وارانہ ہو، اسلامی ملکوں کی اتحادی افواج کا معاملہ نازک ہے، پاکستان کو اسلامی ملکوں کی اتحادی فوج کا حصہ نہیں بننا چاہیے، اسلامی اتحادی فوج کی کامیابی کے امکانات ہوں تو حصہ بنے، یہ بات مبہم ہے کہ اسلامی اتحادی فوج کس کے خلاف کارروائی کرے گی، سعودی عرب،ایران اور ترکی کے درمیان پاکستان رابطہ کار ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) فوجی عدالت سے سزا یافتہ مزید 4 خطرناک دہشت گردوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 4 خطرناک دہشت گردوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ سزا پانے والے دہشت گردوں میں ہارون الرشید ولد میاں سیدعثمان ، گل رحمان ولد زرین، احمد علی ولد بخت کرم اور اصغر خان ولد عزیزالرحمان شامل ہیں۔ آئی ایس پی آرکے مطابق چاروں دہشت گرد کالعد م تحریک طالبان پاکستان کے سرگرم رکن تھے، یہ دہشت گرد شہریوں اورسیکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ تعلیمی اداروں کی تباہی میں ملوث تھے، انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا، ان کے خلاف مقدمات کی سماعت فوجی عدالت میں ہوئی، فوجی عدالت نے انہیں مقدمے کی سماعت کے بعد سزائے موت سنائی تھی جنہیں خیبرپختونخوا کی جیل میں تختہ دارپرلٹکایا گیا۔

تحریر: ابو فجر لاہوری

لگتا ہے یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ دہشتگرد امن کا پرچار کریں گے، ظالم خود ہی ظلم کیخلاف لیکچر دیں گے، کافر مسلمانوں کو اسلام کی زریں اصولوں کی تعلیم دیں گے، بلی دودھ کی حفاظت کرے گی، شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیئں گے۔ اسرائیل اور امریکہ جو مسلمانوں کے سکہ بند دشمن ہیں، وہ اسلام کے مرکز میں بیٹھ کر مسلمانوں سے دوستی کا پرچار کریں گے۔ ایسا ہی واقعہ سعودی عرب میں دیکھنے کو ملے گا، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلم حکمرانوں کے سامنے اسلام کے روشن پہلوؤں پر خطاب کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونیوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے دورے کے دوران 50 اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کریں گے اور ان کے ساتھ ظہرانے میں بھی شرکت کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس موقع پر اسلامی سربراہان مملکت سے اہم خطاب بھی کریں گے، جس میں ان کا موضوع "اسلام اور اس کے روشن پہلو" ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 مئی کو اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچیں گے، جہاں وہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان کیساتھ ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر سعودی عرب میں اسلامی ممالک کے سربراہان کیساتھ مل کر عالمی سطح پر دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے ایک نئی بنیاد استوار کرنے کی کوشش کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر سعودی عرب کے بعد اسرائیل اور ویٹی کن بھی جائیں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے آخری دنوں میں سعودی عرب اور امریکہ کے مابین کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور اس کی وجہ یمن، شام اور ایران کی طرف سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کو قرار دیا جاتا رہا، تاہم اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کیساتھ تعلقات کا ایک نیا باب شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک اعلٰی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ ٹرمپ اس دوران ریاض حکومت کیساتھ 100 بلین ڈالر سے زائد مالیت کے مختلف عسکری سمجھوتوں کو حتمی شکل دے دیں گے۔ ان معاہدوں کے تحت سعودی عرب کو جدید اسلحہ بھی فراہم کیا جائے گا۔

امریکہ کی یہ پالیسی رہی ہے کہ پہلے وہ ممالک کو ڈراتا ہے، جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اسے بتایا جاتا ہے کہ ہماری سی آئی اے نے رپورٹ دی ہے کہ فلاں ملک آپ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اگر آپ اس کی "جارحیت" سے بچنا چاہتے ہیں تو فوراً ہم سے جدید اسلحہ خریدو، فرضی دشمن سے خوفزدہ وہ ملک مان جاتا ہے اور امریکہ اسی بنیاد پر اسے اپنا اسلحہ مہنگے داموں فروخت کر دیتا ہے۔ امریکہ نے یہی کارڈ سعودی عرب میں کھیلا، مشرق وسطٰی میں جان بوجھ کر منظم سازش کے تحت ایسی فضا پیدا کی، عراق، شام اور یمن کو جنگ میں جھونکا اور پھر سعودی عرب کو ایران سے ڈرانے لگا۔ اس صورتحال میں سعودی عرب کا خوفزدہ ہونا فطری امر ہے، کیونکہ داعش کا قیام ہو یا بے گناہ اور نہتے یمنیوں پر آگ و خون کی بارش، اس جارحیت کا ذمہ دار سعودی عرب ہی ہے۔ اب امریکہ نے سعودی عرب کو اسی "چارج شیٹ" کے تحت خوفزدہ کیا ہے۔ وائٹ ہاوس نے سعودی عرب کو یہ باور کروا دیا کہ ایران اب اس سعودی جارحیت کا بدلے لینے کیلئے تیار ہے۔ جس پر سعودی عرب نے خوفزدہ ہو کر امریکہ سے بھاری اسلحہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا کھلا دشمن ڈونلڈ ٹرمپ خود چل کر سعودی عرب آ رہا ہے۔

اس حوالے سے یہ حقائق کھلی کتاب کی طرح واضح ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر منتخب ہوتے ہی مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیا اور پوری دنیا میں دہشتگردی کا ذمہ دار بھی مسلمانوں کو ٹھہراتے ہوئے متعدد مسلم ممالک کے شہریوں کا امریکہ میں داخلہ بند کر دیا۔ آج وہی امریکہ جو مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیتا ہے، مسلمان حکمرانوں کو "امن" کا سبق پڑھانے آ رہا ہے۔ امن کے اس سبق کا نصاب یہ ہوگا کہ امریکہ سے اسلحہ خریدو، اس اسلحے سے وہ دہشتگرد ختم کر دو جو تم میں سے ہی ہیں اور ہم نے انہیں اسی مقصد کیلئے بنایا، تاکہ اپنا اسلحہ بیج سکیں۔ ٹرمپ مسلمانوں کو یہ بھی یقین دلائیں گے کہ ہم (یہود ونصاریٰ) آپ کے گہرے دوست ہیں، قرآن مجید میں جو آیت ہے کہ یہود ونصاریٰ کبھی آپ کے دوست نہیں ہوسکتے، وہ اب متروک ہوچکی ہے، اس لئے اس کو پہلے تو قرآن سے نکال دیا جائے اور اگر نکالا نہیں جا سکتا تو کم از کم اس پر عمل نہ کیا جائے اور اس آیت کو نظر انداز کر دیا جائے۔

ٹرمپ صاحب خادمین حرمین شریفین کی "خدمت" سے فیضیاب ہو کر سیدھا اسرائیل جائیں گے، جہاں اسرائیلی قیادت کو یقین دلایا جائے گا کہ "میں تمام مسلمانوں کو رام کر آیا ہوں، اب اسرائیل کو مسلمانوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔" اس کے بعد ٹرمپ کا اگلا پڑاؤ ویٹی گن میں ہوگا، جہاں ٹرمپ پوپ کو یہ یقین دلائیں گے کہ مسیحیت نے آج اسلام کو سرنگوں کر لیا ہے۔ پوپ اس شاندار کامیابی پر ٹرمپ کو اقتدار کی طوالت کی دعا دیں گے۔ بہرحال یہ زمینی حقائق اور کھلی حقیقتیں ہیں، لیکن مجھے ہنسی اس بات پر آ رہی ہے کہ ٹرمپ مسلمانوں کو امن کا درس دیں گے۔ آج کے دور کا سب سے بڑا لطیفہ اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ پوری دنیا کو بدامنی کی آگ میں جھونکنے والے امن کا پرچار کریں گے، 900 چوہے کھا کر بلی حج کو سعودی عرب چلی۔

 

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے لاپتا افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت قومی اداروں کو انتقامی کاروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ہمارے متعدد علما اور کارکنوں کو ان کے گھروں سے اٹھانے کے بعد نہ کسی عدالت کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی معلومات ان کے خاندان کو مہیا کی جارہی ہے۔ ریاستی اداروں کا یہ جارحانہ طرزعمل بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملت تشیع کے ساتھ ساتھ اہلسنت برادران بھی اس ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ اہل سنت سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد رات کی تاریکی میں گھروں سے اٹھائے گئے اور طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں کی جا سکی۔ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اگر ملکی سلامتی یا قومی مفادات کے برعکس سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔ لیکن پُرامن شہریوں کو بلاجواز گھروں سے اٹھا کر غائب کر دینا قانون و انصاف سے متصادم ہے اور اغوا کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک آزاد و خودمختار جمہوری ریاست میں اپنے شہریوں کے ساتھ اس طرح کا ظالمانہ سلوک بدترین عمل ہے۔ سپریم کورٹ کو ریاستی اداروں کے ہاتھوں عام شہریوں کے اغوا کے خلاف ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکن گزشتہ کہیں ماہ سے لاپتہ ہیں۔ ہم حکومت کے اس ناروا رویہ خلاف 21 مئی کو نشتر پارک میں ایک عظیم الشان کانفرنس کریں گے۔ استحکام پاکستان و امام مہدی ؑ کانفرنس ظلم و استحصال اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف محبان وطن کی موثر اور مضبوط آواز ثابت ہو گی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ نااہل کرپٹ حکمران امریکا اور اسکی غلام عرب بادشاہتوں کے ہاتھوں ملکی بقاء و سالمیت کا سودا کر چکے ہیں، کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور انتہاپسند فرقہ پرست عناصر کو دہشتگردی و بربریت و فرقہ واریت پھیلانے کیلئے کھلی چھوٹ دینا، دہشتگرد عناصر کو ہیرو بنا کر پیش کرنا اور انہیں قومی دھارے میں لانا ملک و قوم کو امریکی و عرب بادشاہتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے، محب وطن ملت تشیع مملکت خداداد کو امریکی بلاک سے نکالنے اور قائد و اقبال کے پاکستان کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی، 21 مئی کو نشترپارک میں منعقد ہونے والی استحکام پاکستان و امام مہدی کانفرنس پاکستان پر مسلط خائن و نااہل کرپٹ حکمرانوں کیجانب سے ملک و قوم کو امریکی و عرب بادشاہتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھانے کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے سنگ میل ثابت ہوگی، ان خیالات کا اظہار ڈویژنل سیکریٹری جنرل سید میثم عابدی، علامہ مبشر حسن، علامہ صادق جعفری، علامہ علی انور، علامہ اظہر نقوی، علامہ سجاد شبیر رضوی، علامہ احسان دانش، تقی ظفر و دیگر رہنماؤں نے کانفرنس کی تشہیری و رابطہ مہم کے سلسلے میں شہر کے مختلف اضلاع کے دورہ جات کے دوران تنظیمی و عوامی میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

رہنماؤں نے کہا کہ وطن عزیز میں محب وطن شیعہ علماءکرام و جوانوں کی گمشدگی ہو یا شیعہ نسل کشی و عزاداری نواسہ رسول سید الشہداؑ کو محدود کرنے کی سازش، کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو کھلی چھوٹ دیکر انہیں ہیرو بنا کر قومی دھارے میں لانے کی سازش ہو یا پھر نیشنل ایکشن پلان پر اسکی روح کی مطابق عملدرآمد نہ کرنا ہو، ان سب کے پیچھے حکومتی اور ریاستی اداروں کی صفوں میں موجود کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی سہولت کار ضیاء باقیات کا منحوس ہاتھ ہے، جو امریکا اور اسکی غلام عرب بادشاہتوں کی ایماء پر ان تمام سازشوں پر کاربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام تر مشکلات و بحرانوں کی اصل وجہ ہر دور کے حکمرانوں کیجانب سے امریکا اور عرب بادشاہتوں کا غلامی کا طوق اپنے گلے میں سجائے رکھنا ہے، حکمرانوں کی امریکا نواز پالیسیوں کی وجہ سے ہی آج تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو سکا، کیونکہ دہشتگردی میں ملوث کالعدم تنظیموں اور انتہاپسند فرقہ پرست عناصر کے تانے بانے امریکا اور اسکی اتحادی عرب بادشاہتوں سے ملتے ہیں، جو ان دہشتگرد عناصر کے خلاف کسی بھی قسم کی مؤثر کارروائی اور ان کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں، لیکن امریکی کاسہ لیس حکمران پر واضح ہو جانا چاہیئے کہ منجی بشریت حضرت امام مہدی (عج) کے جلد ظہور کے ساتھ ہی امریکا اور اسرائیل اپنے مغربی و عرب اتحادیوں سمیت نیست و نابود ہو جائیں گے اور پاکستان سمیت جہان بشریت عدل و انصاف، امن و سلامتی سے پُر ہو جائیگا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 21 مئی کو نشترپارک میں منعقد ہونے والی استحکام پاکستان و امام مہدی کانفرنس بھی انہیں اہداف کے حصول کیلئے سنگ میل ثابت ہوگی۔

 

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام 16 مئی یوم مردہ باد امریکا کی مناسبت سے نمائش چورنگی تا کراچی پریس کلب مردہ باد امریکا ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں طلباء و طالبات، نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں نے شرکت کرکے امریکا اور اسکی ناجائز اولاد اسرائیل سے اظہار بیزاری کیا۔ ریلی سے جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کراچی کے صدر مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی، مرکزی رکن نظارت آئی ایس او پاکستان علامہ احمد اقبال رضوی، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان علامہ مختار احمد امامی، ہئیت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ کے جنرل سیکرٹری علامہ باقر زیدی، مسلم لیگ (ن) علماء و مشائخ ونگ کے رہنماء ازہر علی شاہ ہمدانی، مولانا طالب موسوی نے خطاب کئے۔ اس موقع پر علامہ صادق رضا تقوی، آغا مبشر زیدی، علامہ مبشر حسن بھی موجود تھے۔ ریلی کے اختتام پر امریکی و اسرائیلی پرچم بھی نذر آتش کئے گئے۔ شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احمد اقبال نے کہا کہ 16 مئی وہ دن ہے کہ جب کرہ عرض پر انسانیت کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش کو پروان چڑھایا گیا اور استکباری طاقتوں نے اسرائیل کو وجود بخشتے ہوئے انبیاء کی سرزمین پر فلسطین میں بسنے والے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو وجود میں لانے کا سب سے بڑا سبب امریکا اور برطانیہ ہیں، جو آج بھی اقوام متحدہ میں اس کے حامی اور پشت پناہ ہیں۔

ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاضی احمد نورانی کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کے تمام حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور شیطان بزرگ و دشمن اسلام امریکا اور اسکے حواریوں سے اظہار برأت کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج امریکی ایماء پر اسرائیل فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اور مسلمان ممالک کے حکمران خاموش ہیں، قبلہ اول کی پامالی کو 67 برس بیت گئے ہیں اور عالم اسلام کے حکمران اب تک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ لیگی رہنماء ازہر علی شاہ ہمدانی نے عالم اسلام میں بسنے والے مسلمانان عالم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر لازم ہے کہ وہ ذات واحد کے علاوہ کسی بھی خود ساختہ سپر پاور اور فرعون صفت طاقت سے مرعوب نہ ہوں، دنیا بھر کے مظلوم عوام کے قاتلوں امریکا و اسرائیل سے اظہار برأت کریں، آج دنیا بھر میں امریکا اور اسرائیل کے مظالم لوگوں پر آشکار ہوگئے ہیں، امریکی مظالم نے مسلمانوں کی حالت تباہ کر دی ہے۔

ہئیت آئمہ مساجد کے جنرل سیکرٹری علامہ باقر زیدی کا کہنا تھا کہ مسلمان اگر آج بھی اسرائیل کے خلاف متحد نہ ہوئے تو انہیں مزید ظلم و بربریت کا سامنا کرنا پڑے گا، آئی ایس او نے دنیا کو غاصب صہونیوں کا اصل چہرہ دیکھانے کیلئے ریلی نکالی، جس کا حکم ہمیں شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی نے دیا اور انکے فرمان پر آئی ایس او نے لبیک کہا، اس عظیم الشان ریلی پر تمام شرکاء کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور سلام پیش کرتا ہوں کہ اس شدید گرمی کے عالم میں انہوں نے ریلی میں شرکت کرکے امریکا اور اسرائیل سے اظہار بیزاری کیا، دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش تمام مشکلات کا واحد حل اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مسلمان متحد نہ ہوئے تو اسرائیل اور استعماری طاقتیں دوسرے اسلامی ممالک کو خانہ جنگی میں ملوث کر دیں گے۔