تازہ ترین

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) پنجاب میں کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کیلئے آپریشن ناگزیر ہے۔ سندھ میں آپریشن ہو سکتا ہے تو پھر صوبہ پنجاب میں تکفیری دہشتگردوںکے خلاف کارروائی میں کیا رکاوٹ ہے۔

زر ائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی پنجاب کے رہنما راؤ راحت علی خان نے سرگودہا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ نون لیگ کی حکومت کا کالعدم تکفیری دہشتگرد گرہوں کی پناہ گاہوں کو نظرانداز کرنے کا امتیازی رویہ عوام میں شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا تمام قومی اداروں کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنا آمرانہ طرز حکومت کا منہ بولتا ثبوت ہے، اسوقت کرپشن اور لوٹ مار کے خاتمہ کیلئے بنائے گئے ادارے بھی حکومتی کرپشن کا تحفظ کر رہے ہیں، لیکن تحریک انصاف کرپشن کے خلاف جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اسوقت حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں ملی بھگت سے قومی وسائل ہڑپ کر رہے ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عالمی میڈیا کے تاثر کے برعکس پاکستان ایک پرامن ملک ہے ہم نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے وہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جو افغانستان میں نیٹو کے 16 ممالک مل کر بھی حاصل نہ کرسکے۔

زرائع کے مطابق اسلام آباد میں پاک اٹلی تجارتی کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے عالمی میڈیا کے تاثر کے برعکس پاکستان ایک پرامن ملک ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں وہ کامیابیاں حاصل ہوئیں جو افغانستان میں نیٹو کے 16 ممالک نے بھی حاصل نہیں کیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے علاوہ توانائی بحران کی شدت بھی ختم کردی ہے پاکستان میں تجارت اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں ، پاکستان سرمایہ کاری کے لئے دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک ہے۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک میں وسطی ایشیائی ریاستیں، ترکمانستان اور ایران جیسے ممالک نے بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے، یہ منصوبہ خطے کی مارکیٹوں اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی مقامی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پاک فوج کے نومنتخب سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والےکالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے 4 سفاک تکفیری دہشت گردوں کی سزا کی توثیق کردی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 4 تکفیری دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی، ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات کی سماعت کی گئی، شواہد کی روشنی میں انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ سزا پانے والے چاروں تکفیری دہشت گردوں کا تعلق کالعدم سپاہِ صحابہ اور کالعدم لشکرِ جھنگوی سے ہے اور یہ تمام دہشتگرد عام شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور اے ایس ایف اہلکاروں کے قتل کے علاوہ کراچی ایئرپورٹ فورسز کے قافلے پرحملے میں بھی ملوث تھے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سزا پانے والے تکفیری دہشت گردوں نے مجموعی طور پر 58 افراد کو قتل کیا جب کہ گل زرین ولد گل شریف پولیس کانسٹیبل سرتاج کے قتل میں ملوث تھا جب کہ دیگر دہشت گردوں میں عطاالرحمان ولد فقیرمحمد، محمد صابر ولد الطاف گل اور فاروق بھٹی ولد محمد اسحاق شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق سزائے موت پانے والے تکفیری دہشت گرد کراچی میں سی آئی ڈی بلڈنگ، آئی ایس آئی آفس سکھر پر حملے میں بھی ملوث تھے جب کہ ایس ایس پی چودھری محمد اسلم کوبھی اِن ہی دہشت گردوں نے قتل کیا، اِن دہشت گردوں نے ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت 226 افراد کوحملوں میں زخمی کیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )جھنگ کے حلقہ پی پی 78 میں اپنے دہشتگرد سرغنہ مسرور نوازجھنگوی کی جیت پر کوئٹہ میں جشن منانے والے سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں نے بروری روڈ پر فائرنگ کرکے پولیس کانسٹیبل سید الیاس شاہ کو شھید کردیا۔

زرائع کے مطابق جھنگ کے حلقہ پی پی 78 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی کے دہشتگرد بیٹے مسرور نواز جھنگوی کی جیت پر کوئٹہ میں جشن منانے والے کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کو فائرنگ کرنے سے منع کرنے والے پولیس کانسٹیبل سید الیاس شاہ کو تکفیری دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے شھید کردیا اور فرار ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق کالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے دہشتگردوں نے مسرور نواز جھنگوی کی جیت کی خبر ملتے ہی کوئٹہ میں جشن منانا شروع کردیا اور کوئٹہ کے مختلف علاقوں مین شدید فائرنگ شروع کردی،اسی سلسلے میں بروری روڈ کے علاقے میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی جانب سے اپنے دہشتگرد سرغنہ مسرور نواز جھنگوی کی جیت کی خوشی میں نکالی جانے ریلی میں شریک تکفیری دہشتگردوں نے جدید ہتھیاروں سے ہوائی شروع کردی،اسی دوران وہاں سے موٹر سائیکل پر گزرنے والے کوئٹہ پولیس کے کانسٹیبل سید الیاس شاہ نے تکفیری دہشتگردوں کے فائرنگ کرنے سے روکا جس پر ان کی کالعدم سپاہِ صحابہ کے مقامی دہشتگردوں سے شدید تلخ کلامی ہوئی جس پر الیاس شاہ نے اپنے موبائل سے متعلقہ تھانے فون کیا جس پر طیش میں آکر سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں نے الیاس شاہ پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی شھید ہوگئے،جبکہ تکفیری دہشتگرد اپنے جد کی پیروی کرتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے۔

کالعدم سپاہِ صحابہ لےدہشتگردوں کی فائرنگ سے شھید ہونے والے پولیس کانسٹیبل سید الیاس کا جسدِ خاکی مقامی اسپتال پہنچایا گیا جہاں پولیس اور ایف سی کے اعلیٰ افسران اور شھید کانسٹیبل کے اہلِ خانہ اور دیگر عزیز رشتہ دار بھی پہنچ گئے۔اس موقع پر موجود پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام نا بتائے جانے کی شرط پر بتایا کہ کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی جانب سے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں عام عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مسلسل قتلِ عام کا سلسلہ جاری ہے لیکن صوبائی حکومت باالخصوص پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نھیں لائی جارہی جس کی وجہ سے عام عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں میں شدیدی مایوسی پائی جاتی ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور اس میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھا جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کل پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے ہی روز انہوں نے پشاور اور شمالی وزیرستان کا دورہ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دورہ پشاور اور شمالی وزیرستان کے دوران فاٹا، خیبرپختونخوا اورمالاکنڈ کی سیکورٹی صورتحال جب کہ آپریشنز، بحالی وتعمیرنو کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

آرمی چیف قمر باوجوہ نے بہادر قبائلیوں، افسران، فوجی، ایف سی اور پولیس کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو جاری رکھیں گے اور کسی بھی دہشت گرد کو واپسی کی اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 'بحیثیت آرمی چیف پاکستان کا دفاع اور سلامتی کے علاوہ ملک کو درپیش بیرونی اور اندرونی خطرات سے نمٹنا میرا بنیادی مقصد ہوگا۔انھوں نے پاک۔افغان بارڈر منیجمنٹ کو موثر بنانے کے لیے ایف سی کی مہارت کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔شمالی وزیرستان کے دورے پر آرمی چیف کو ایجنسی کی سیکیورٹی کی صورت حال، متاثرین کی واپسی کے مرحلے اور تعمیراتی کام کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ 'دہشت گردی کے خلاف جنگ پورے عزم کےساتھ جاری رہے گی اور اس کو منطقی انجام تک پنچادیا جائے گا اور اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

جنرل قمرباجوہ نے ایک ایسے وقت میں فوج کی کمان سنبھالی ہے جب جوان آپریشن سے حاصل ہونے والے فوائد کو مزید مضبوط کررہے ہیں جبکہ وہ نئے مرحلے کا فیصلہ کریں گے جس کا لائحہ عمل گزشتہ آپریشن سے مختلف بھی ہوسکتا ہے۔دوسری جانب لائن آف کنٹرول کی صورت حال بھی کشیدہ ہے جہاں گزشتہ چند مہینوں کے دوران شہریوں اور فوجیوں سمیت 53 افراد شھید ہوچکے ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیراعظم نوازشریف کا جنرل راشد محمود کو پیشہ ورانہ خدمات پرخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ان جیسی قیادت دہشت گردی، بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

زرائع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس میں پاک بحریہ، پاک فضائیہ اور قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے جنرل راشد محمود کو پیشہ ورانہ خدمات پرخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنرل راشد محمود نے ملٹری کیرئیر کا آغاز 1975 میں کیا، جنرل راشد محمود نے ملک کے لیے بڑی جدوجہد کی اور اپنے کیرئیر کے دوران بہت سے اہداف کامیابی سے سرانجام دیے جب کہ ملک کے لیے جنرل راشد محمود کی خدمات پر فخر ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ جنرل راشد محمود اپنے کیرئیر کے دوران سچے سپاہی ثابت ہوئے اور ان کا کردارآنے والوں کے لیے مشعل راہ ہے، جنرل راشد محمود جیسی قیادت دہشت گردی، بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے، انہوں نے افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھرپور کرداراداکیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن مکمل نہیں کرا سکے، وہ پنجاب میں فوجی آپریشن کرانے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو انصاف دلانے کا وعدہ کیا تھا جس پر رتی برابر بھی مدد نہیں کی جا سکی۔

زرائع کے مطابق نجی نیوز چینل کے اایک پروگرام میں کئے گئے سوال کے جواب میں طاہر القادری نے کہا کہ بحیثیت فوج کے ادارے کے لحاظ سے جنرل راحیل شریف نے اچھا امیج چھوڑا ہے، لیکن جب ملکی سطح پر دیکھیں تو جنرل راحیل شریف نے کچھ میدانوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن یہ کامیابیاں مکمل نہیں ہو سکیں۔ طاہر القادری نے کہا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو بالکل بھی نہیں ہوئیں، جن کے اعلانات جنرل راحیل شریف کرتے تھے لیکن ان کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا لہذا یہ ملی جلی صورت ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب میں وزیرستان کی حد تک کامیابیاں حاصل کی ہیں، کراچی کے امن و امان کی بحالی میں کافی حد تک کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن دونوں آپریشن ابھی مکمل نہیں ہو سکے، کامیابیاں ہوئی ہیں لیکن یہ سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف قومی ایکشن پلان پر عملدر آمد نہیں کرا سکے، ان کی تلخ باتیں ہوتی بھی رہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی طرف سے کھیل کھیلا جاتا رہا۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ آرمی چیف نے کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کی بات کی، اس حوالے سے یا تو ہماری سمجھ غلط تھی، ہم جنرل راحیل شریف کی بات کو سمجھ نہیں سکے، ان کے کہنے کا مقصد کچھ اور تھا یا ہمارے سمجھنے کا مقصد کچھ اور تھا، ہم جسے کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ سمجھتے تھے، ہمارے نزدیک کرپشن اور دہشت گردی کا وہ گٹھ جوڑ قطعی طور پر ختم نہیں ہوا، اگر جنرل راحیل شریف کے خیال میں کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کا کوئی اور معنی ہو تو شائد انہوں نے اس کو ختم کرلیا ہو۔

طاہر القادری نے کہا کہ جنرل راحیل پنجاب میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہے، وہ پنجاب میں آپریشن نہیں کرا سکے، پنجاب حکومت کے ساتھ ڈیڑھ سال بات چیت ہوتی رہی لیکن پنجاب حکومت نے صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی الف بھی شروع نہیں کرنے دی۔ طاہر القادری نے کہا کہ میری سوچ کے مطابق پنجاب دہشت گردوں کا نظریاتی اور افرادی گڑھ ہے جہاں دہشت گردوں کے مراکز بھی قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سارے دہشت گرد جو جنوبی وزیرستان، افغانستان اور کراچی جاتے ہیں ان ساروں کی نرسریاں پنجاب میں ہی ہیں، یہ دہشت گرد 80ء کی دہائی سے پنجاب میں پیدا ہو رہے ہیں۔ طاہر القادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے انصاف کے سلسلے میں رتی برابر بھی مدد نہیں کی جا سکی جبکہ جنرل راحیل شریف نے ون ٹو ون ملاقات میں انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خبر لیک والا معاملہ ادھورا چھوٹ گیا، سرل لیک کے حوالے سے حکومت نے کھیل کھیلا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان باتوں کا مقصد ہے کہ بہت سارے کام ایسے تھے جو کرنے کے قابل تھے لیکن وہ نہ ہو سکے، ضرب عضب اور کراچی آپریشن کامیاب رہے لیکن ابھی وہ مکمل نہیں ہوئے، اس حوالے سے معلوم نہیں کہ آنے والی فوجی قیادت اس کی تکمیل کس طرح کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے قومی ایکشن پلان کے ساتھ دھوکہ کیا لیکن جنرل راحیل شریف اس دھوکے کے جال کو ختم نہیں کر سکے، قومی ایکشن پلان کاغذوں پر دھرے کا دھرا رہ گیا اور جنرل راحیل شریف خود شکوہ کرتے رہے لیکن عملدر آمد نہیں ہو سکا۔ طاہر القادری نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کے بعد کراچی آپریشن کا کیا ہوگا؟، کیا جنرل راحیل شریف کا کام جاری رہے گا، یا حالات پلٹ کر آجائیں گے، وہاں سیاسی کھیل ہو سکتا ہے، آپ بڑے بڑے سانپ مار دیں اور چھوٹے چھوٹے سانپ کے بچے رہ جائیں تو وہ پل کر سانپ بن جائیں گے۔

ایک سوال پر طاہر القادری نے کہا کہ جنرل راحیل شریف پاکستانی شہری بھی ہیں، ان پر آئین اور ملکی سالمیت کو بچانے کی ذمہ داری ہے، ملکی سالمیت کو بچانے کا مطلب صرف بھارتی حملے سے بچانا نہیں ہے، بلکہ ملک کے اندر دہشت گردی اور کرپشن کے گٹھ جوڑ کو مٹانا بھی ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پاک افواج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ آرمی چیف نے لاہور گریژن میں فوج اور رینجرز کے افسران سے ملاقاتیں کیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے ترجمان جنرل عاصم باجوہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے لاہور گریژن میں اپنے الوداعی دورہ کے دوران فوج اور پنجاب رینجرز کے افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن اور استحکام کے قیام میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں،تاہم قربانیوں اور مشترکہ عزم سے کامیابیاں ملیں۔ واضح رہے کہ نومبر 2013 میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت رواں ماہ 28 نومبر کو ختم ہورہی ہے۔ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبریں کافی عرصے سے گرم تھیں، تاہم رواں برس جنوری میں آرمی چیف نے اپنی ملازمت میں توسیع کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ مقررہ تاریخ پر ریٹائر ہوجائیں گے. آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج ایک عظیم ادارہ ہے اور میں مدت ملازمت میں توسیع پر یقین نہیں رکھتا۔ساتھ ہی جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا، میں مقررہ وقت پر ریٹائر ہوجاؤں گا جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں پوری عزم و استقلال کے ساتھ جاری رہیں گی۔

واضح رہے کہ جنرل راحیل شریف کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے حکومت نے اب تک باضابطہ طور پر غور شروع نہیں کیا لیکن اس معاملے سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے سال کے آغاز سے ہی اس معاملے پر مشاورت شروع کررکھی ہے۔ پاک فوج کے سینئر افسران کی فہرست بہت حد تک واضح ہے، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات سینیئر ترین افسر ہیں اور ان کے بعد کور کمانڈر ملتان، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد، کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے اور انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیو ایشن لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں۔ جنرل زبیر اور جنرل اشفاق کے درمیان دو اور جنرلز بھی ہیں ، ایک ہیوی انڈسٹریل کمپلیکس ٹیکسلا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین اور دوسرے ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان، تاہم یہ دونوں افسران آرمی چیف کے عہدے کے لیے تکنیکی طور پر اہل نہیں کیوں کہ انہوں نے کسی کور کی کمانڈ نہیں کی ہے۔ اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد جو اس وقت اقوام متحدہ میں ملٹری ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں وہ پہلے ہی توسیع پر ہیں اور وہ بھی مزید پروموشن کے اہل نہیں۔ جو چار جنرلز آرمی چیف کے عہدے پر ترقی پانے کے اہل ہیں ان تمام کا تعلق پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 62 ویں لانگ کورس سے ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )شام میں سرگرم سعودی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش میں شمولیت کے لئے اسلام آباد اور پنجاب کے بعض بڑے شہروں سےکالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے دہشتگردوں کی بھرتیاں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔پاکستان سے شام جانے والے تکفیری دہشتگردوں کو ترکی کے راستے شام پہنچایا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش میں شمولیت کیلئےکالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے دہشتگردوں کی بڑی تعداد میں شام روانگی کا نا رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔پاکستانی میڈیا کی جانب سےبھی پاکستان کے شیعہ و سنی عوام سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سفاکانہ قتلِ عام میں ملوث کالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے دہشتگردوں کی عالمی سعودی دہشتگرد گروہ داعش میں تیزی سے شمولیت اور شام روانگی کے حوالے سے مسلسل خبریں اور رپورٹس منظرِ عام پر لائے جانے کے باوجود وفاقی وزیرِ داخلہ پاکستان میں داعش کے دہشتگردوں کی موجودگی کی مسلسل نفی کرتے ہوئے کالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کی سہولت کاری میں مصروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب کے بعض بڑے شہروں لاہور، سیالکوٹ، قصور اور گوجرانوالہ سے عالمی سفاک تکفیری دہشتگرد گروہ داعش میں بھرتیوں کا سلسلہ جا رہی ہے، اور ان سفاک دہشتگردوں کو بھرتی کے بعد شام بھیجا جا رہا ہے کہ جنمیں تکفیری دہشتگرد مدارس میں زیرِ تعلیم نوجوان طالبات کی بھی کثیر تعداد شامل ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ شام میں موجود کالعدم سپاہِ صحابہ کا انتہائی مطلوب دہشتگرد قاری عابد سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان سے داعش میں بھرتی کیلئے ذہن سازی کرتا ہے۔ بھرتی کیلئے تیار ہونے والے تکفیری دہشتگردوں کا رابطہ لاہور میں موجود قاری عابدکے بھانجے نبیل احمد سے کرا یا جاتا ہے، کہ جو بھرتی ہونے والے دہشتگردوں کو شام،عراق اور افغانستان بھیجنے کے معاملات کا چلاتا ہے۔اطلاعات کے مطابق قاری عابد نے حال ہی میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے 14 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو اپنے بھانجے نبیل احمد کے توسط سے براسطہ ترکی ،شام پہنچایا ہے۔ترکی کے راستے شام پہنچنے والے کالعدم سپاہِ صحابہ کے ان 14 تکفیری دہشتگردوں کا تعلق اسلام آباد سمیت لاہور،بہاولپور،فیصل آباد سمیت پنجاب کے دیگر شہروں سے ہے۔زرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری آپریشن ضربِ عضب،کامبنگ آپریشن میں کی جانے والی کاروائیوں کے دوران پاکستان میں داعش کےلئے دہشتگردوں کی بھرتیوں میں ملوث کالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے گرفتار سہولت کاروںکی جانب سے دورانِ تفتیش کئےجانے والے انکشافات کی روشنی میں حساس اداروں کی داعشی نیٹ ورک سے منسلک کالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے دہشتگردوں اور سہولت کاروں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اس کے باوجود وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے پاکستان میں موجود کالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کی جانب سے عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے لئے دہشتگردوں کی بھرتیوں اور پاکستان میں موجود داعش کے دہشتگردوں کی موجودگی کی حوالے سے مسلسل انکار نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہزاروں بیگناہ پاکستانیوں کی شھادتوں کو پاکستانی عوام باالخصوص عالمی دنیا کی نظر میں مشکوک بنا دیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ نواز شریف امیرالمومنین بننا چاہتے ہیں۔گڈ گورننس قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ضیاءالحق نواز شریف کے سیاسی باپ ہیں۔

زرائع کے مطابق کراچی کے شیو مندر میں دیوالی کی تقریبات میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ معاملات کو سنبھالنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کی حکومت گرائی اور اس کے لئے اسامہ سب لادن سے فنڈز لیتے رہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ سب دیکھ رہے ہیں اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری کشیدگی کو جی ٹی روڈ کی لڑائی ہے۔جی ٹی روڈ کی لڑائی میں عمران خان پش اپس لگا رہا ہے۔بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں دفاع پاکستان کونسل کے جلسے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اچھے اور برے طالبا ن اب بھی موجود ہیں۔ عمران اور بلاول کو احتجاج سے روکا جاتا ہے جبکہ طالبان کے حامیوں کو اجازت دی جاتی ہے۔سوال یہ کیا کہ نواز شریف بتائیں وہ کس کے وزیراعظم ہیں؟کیا آپ ملک کےوزیراعظم ہو یا طالبان کے ؟بلاول بھٹو کا موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے کہا کہ کیمرے بند ہوں تو سب کا ڈرامہ ختم ہوجائے گا۔