تازہ ترین

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے 'رخصت کے بعد دوبارہ ذمے داریاں سنبھال لیں اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے 18ویں اجلاس میں شرکت کی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کو ہٹانا چاہتی ہے، لیکن وفاقی حکومت اس کے خلاف ہے۔تاہم وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ آئی جی سندھ 15 دن کی چھٹی پر گئے تھے اور انھوں نے خود اس کی درخواست دی تھی۔بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اے ڈی خواجہ کو رخصت پر بھیجنے سے روک دیا تھا۔

یاد رہے کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ 19 دسمبر کو 'رخصت پر چلے گئے تھے، میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی جی سندھ کو اس لیے 'جبری رخصت پر بھیجا گیا کیوں کہ سندھ حکومت کے پولیس کانسٹیبلز کی بھرتیوں اور پولیس افسران کی معطلی کے معاملے پر ان سے اختلافات تھے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ 'آئی جی سندھ بڑے سکون کے ساتھ اجلاس میں بیٹھے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ مجھ پر سندھ حکومت کا کوئی دباؤ نہیں۔ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو اسٹریٹ کرائمز کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ 'مجھے اسٹریٹ کرائم فری کراچی چاہیئے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے عوام کو ہر جرم کی شکایت پولیس اور رینجرز کی ہیلپ لائن پر درج کروانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروانے میں مکمل تعاون نہیں کر رہی، ٹی وی پر ابھی تک دہشت گردوں کی خبریں چلتی ہیں، انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی روک تھام بھی نہیں ہوسکی اور کالعدم تنظیموں کے لوگ ابھی تک کھلے عام جلسے کر رہے ہیں، لیکن وفاقی حکومت اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کر رہی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کو خط لکھا جائے کہ غیر قانونی اسلحہ بنانے کی فیکٹریوں اور دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، کیونکہ سندھ میں اب تک جتنا بھی اسلحہ پکڑا گیا، اس کا 40 فیصد مقامی طور پر تیار کیا گیا تھا۔

ہوم سیکریٹری سندھ شکیل منگنیجو نے اجلاس کو بتایا کہ:

سندھ سے گرفتار 16 تکفیری دہشت گردوں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔
فوجی عدالتوں کی جانب سے 16 تکفیری دہشتگردوں کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے اور مزید 19 مقدمات زیر سماعت ہیں۔
سندھ کی لیگل کمیٹی نے 9 مزید مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔
سندھ حکومت کی سفارش پر 62 کالعدم تنظیموں کے نام فرسٹ شیڈول میں ڈالے گئے۔
سندھ میں 92646 افغان شہریوں کی رجسٹریشن ہوئی۔
سندھ نے 94 مدارس کی فہرست وزارت داخلہ کو بھیجی ہے، ان کو بھی فرسٹ شیڈول میں ڈالا جائے گا۔
581 مختلف افراد کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا۔
کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ اور ڈی جی رینجرز سندھ محمد سعید نے پہلی مرتبہ اجلاس میں شرکت کی، اس موقع پر سینئر وزیر نثار کھوڑو، چیف سیکریٹری رضوان میمن، مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو، گورنر سندھ کے نمائندے صالح فاروقی، مشیر قانون مرتضٰی وہاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی، ہوم سیکریٹری شکیل منگنیجو اور دیگر موجود تھے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کوئٹہ میں کالعدم تکفیری سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کیجانب سے مغربی بائی پاس پر ایف سی کی گاڑی پر بم حملے کے نتیجے میں 6 اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ترجمان ایف سی کے مطابق اہلکار ٹریننگ کے لئے فائرنگ رینج پر جارہے تھے کہ کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی جانب مغربی بائی پاس پر زیر زمین پہلے سے نصب دھماکا خیز مواد پھٹ گیا جس سے ایف سی کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور گاڑی میں موجود ایف سی کے 6 اہلکار زخمی ہوگئے، زخمی اہلکاروں کی شناخت نائک لطیف، نائب صوبیدار محمد شفیع، سپاہی سیف الرحمان، سپاہی قائم خان، حوالداراول الرحمان اور سپاہی رضا الرحمان سے ہوئی ہے۔

ایف سی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے اور جائے وقوعہ پر بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی پہنچ گیا ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیر اطلاعت سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ وفاق نیشنل ایکشن پلان پر صحیح عمل پیرا نہیں جب کہ وفاق نے مدارس سمیت غیرقانونی اسلحہ کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔

زرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی میں صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان لڑائی کروانے کی کوشش کی گئی لیکن اداروں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کے نتائج سامنے آئے ہیں، نئے کور کمانڈر بہت نرم مزاج آدمی ہیں، نئے ڈی جی رینجرز بھی بہت اچھے ہیں جب کہ آئی جی سندھ اور کورکمانڈرنے سندھ حکومت کے اقدامات پراطمینان ظاہرکیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائم اہم مسئلہ ہے کیونکہ ہم اوپر کچھ بھی کریں لیکن اگر گلیوں میں عوام محفوظ نہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، یہ اہم معاملہ ہے لہذا وزیراعلیٰ نے اسٹریٹ کرائم ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مولا بخش چانڈیو نےکہا کہ وفاق نیشنل ایکشن پلان پر صحیح ردعمل نہیں دے رہا، وفاق نے مدارس سمیت غیرقانونی اسلحہ کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی،کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیموں کے حوالے سے وفاق کی کوئی پالیسی نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس کرنے اوردکھانے کو کچھ نہیں رہا جب کہ راحیل شریف کے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے سکون کا سانس لیا، اسلحہ یہاں نہیں بنتا لیکن یہاں آرہا ہے اور اس کو روکنا وفاق کی ذمہ داری ہے تاہم وفاق سندھ کے ساتھ پنجاب کے شہروں میں بھی بدامنی پھیلانا چاہتا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاق کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

زرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید ، صوبائی چیف سیکریٹری، سینیئر وزیر نثار کھوڑو اور مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کے علاوہ آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے بھی شرکت کی، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا اور ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید نے اپنا چارج سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جب کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی 12 روز کی جبری رخصت کے بعد دوبارہ چارج سنبھالا ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے شرکا کو بتایا کہ 16 تکفیری دہشت گردوں کو ملٹری کورٹ سزائے موت کی سزا دے چکی ہے جب کہ 19 مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں۔ سندھ کی لیگل کمیٹی نے مزید 9 کیسز ملٹری کورٹس کے لئے کلئیر کئے ہیں۔

اجلاس کے بعد مولا بخش چانڈیو نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اجلاس کے دوران کراچی میں امن کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے، سندھ میں اداروں کو لڑانے کی کوشش کی گئی لیکن ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے یہ تاثر ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ وفاق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا، کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیموں سے متعلق وفاق کی کوئی واضح پالیسی نہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) کسی بھی مسلک کے مقدسات کی توہین ناجائز ہے، گالیاں دینا ہمارا شعار ہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام فاسد ہے، جس میں تحریک جعفریہ کی بحالی میں مجھے انصاف نہیں ملا تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔ پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام کے قائل ہیں، کسی خاص برانڈ کا اسلام قبول نہیں کریں گے۔ عزاداری میں وہ شریک ہو جو بم دھماکے برداشت کرنے کی جرات رکھتا ہو، ہمیں کنٹینروں کے حصار، خاردار تاروں کے جھنڈ اور سنگینوں کے سائے میں عزاداری قبول نہیں۔ عزاداری کے خلاف درج ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل اور اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسلامی تحریک کے سینیئر نائب صدر مرحوم وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ کے قصر زینب میں منعقدہ چہلم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چہلم سے علامہ عارف واحدی، صوبائی صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری، علامہ مظہر عباس علوی، وفاق المدارس الشیعہ کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ محمد افضل حیدری، مجمع اہل بیت پاکستان کے سیکرٹری علامہ شبیر حسن میثمی، وفاق علماء شیعہ پاکستان علامہ رضی جعفر نقوی، محمد شفیع پتافی، سکندر رضا نقوی، مرکزی صدر جے ایس او حسن عباس اور دیگر نے خطاب میں مرحوم وزارت نقوی کی سیاسی، مذہبی اور سماجی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ایشیاء میں کوئی مسلح جدوجہد کامیاب نہیں ہوئی، قیام پاکستان اور ایران میں انقلاب اسلامی عوامی جدوجہد سے آئے۔ میں ملک کا طاقتور حصہ ہوں، ہمیں عسکری ونگ کی ضرورت ہے نہ ہی اس کے قائل ہیں۔ میں عوامی جدوجہد پر یقین رکھتا ہوں، مسلح جدوجہد کا محتاج نہیں۔ پاکستان میں کوئی گروہ یا فرد ایسا نہیں جس کے خلاف ملت جعفریہ کو مسلح جدوجہد کی ضرورت ہو۔ ایک دہشت گرد گروہ کے آرمی چیف کے نام کھلے خط کا حوالہ دیتے ہوئے قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ گالیاں دینا مرد کا کام نہیں، دہشت گرد گروہ سپہ سالار سے التجائیں کر رہا ہے کہ انہیں ہمارے ساتھ بٹھائیں، میری کوئی مجبوری ہے اور نہ ہی میں نے کسی سے مذاکرات کی التجا کی ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ وہ اتحاد بین المسلمین کے بانی ہیں، ملی یکجہتی کونسل کے ضابطہ اخلاق پر عراق کی مرجعیت اور ولی امرمسلمین نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ خاندانی نسب اور دولت نہیں، انسان کا حوالہ وہ نیک اعمال ہیں جو وہ دنیا میں سرانجام دیتا ہے۔ وزارت نقوی کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک جعفریہ کو کسی مسلح جدوجہد کی ضرورت نہیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آرمی کی قیادت میں تبدیلی کا ملکی حالات پر اثر نہیں ہونا چاہیے، نیشنل ایکشن پلان اور ضرب عضب کے مطابق فرقہ واریت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔ ہم نے 14 سال صبر و تحمل سے کام لیا، تحریک جعفریہ پر پابندی میرٹ پر ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذہبی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور پاکستان میں اتحاد امت کو ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر تنظیمی شکل دی، جس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تشیع کو دباؤ اور خوف میں رکھنا ممکن نہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نےکہا ہے کہ بیرونی خطرات کے پیش نظر گروہ بندی نہیں صف بندی کی ضرورت ہے، پنجاب میں دہشتگردوں کی نرسریاں ختم کرنے کیلئے رینجرز آپریشن کی ضرورت ہے، ’’سیاست بذریعہ دولت اور دولت بذریعہ سیاست‘‘ کا چلن ختم ہونا چاہیئے، بارود والوں کا دور ختم اور درود والوں کا دور شروع ہونیوالا ہے۔

زرائع کے مطابق لاہور کی ضلعی کابینہ کے عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان نے پاکستان کیخلاف گٹھ جوڑ کر رکھا ہے، افغانستان کا صدر بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے حکمرانوں پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلنا چاہیئے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ بھارت دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کو بنجر بنانے کی سازش کر رہا ہے، ہماری حکومت بھارتی آبی دہشتگردی کیخلاف عالمی سطح پر آواز اُٹھائے۔

صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے، قوم حکمرانوں سے مایو س اور اہل سیاست سے بیزار ہے، پاکستان کا اسلامی تشخص ختم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، محب وطن اور عوام دوست قوتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، 2017ء الیکشن کا سال ثابت ہوگا۔ سنی اتحاد کونسل کے کارکنان الیکشن کی تیاریاں شروع کر دیں، پنجاب میں آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے جنوبی پنجاب دوسرا وزیرستان بن چکا ہے، حکومت کالعدم تنظیموں کی بیرونی فنڈنگ نہیں روک سکی، کالعدم تنظیموں کا نام بدل کر کام کرنا حکومت کی نااہلی ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کا خاتمہ کیا جائے، ہر وہ آواز جس سے تفرقہ کی بو آئے دشمن کی آلہ کار ہے، علماء کرام اتحاد و وحدت کے پیغام کا پرچار کرکے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائیں، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر ملک کے اثاثوں پر حملے کرنے والے تکفیری دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کریں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل سید میثم عابدی نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر علامہ نشان حیدر ساجدی، علامہ علی انور جعفری، علامہ مبشر حسن، علامہ صادق جعفری، کاظم عباس اور میر تقی ظفر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ میثم عابدی نے شرکائے اجلاس گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے وطن سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کے خاتمے کیلئے متحد ہو،جہاں کرپشن ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے تو وہیں دہشت گردی کا شکار محب وطن عوام کو ظالموں کی صف میں کھڑا کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔

میثم عابدی کا مزید کہنا تھا کہ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دی جائے اور مظلوم کی داد رسی کی جائے، لیکن ہمارے ریاستی اداروں کا دستور ہی نرالہ ہے کہ بیلنس پالیسی کے نام پر محب وطن عوام کو دہشت گردوں کے برابر کھڑا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ریاستی ادارے پاکستان کی سلامتی چاہتے ہیں تو کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاکستان سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کا خاتمہ کریں۔ ایم ڈبلیو ایم کراچی کے سیکریٹری جنرل نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر ملک کے اثاثوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کریں، تاکہ وطن کو دہشت گردی سے نجات دی جاسکے، اور ملک کے باسی امن و سکون سے زندگی گزار سکیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی تصادم کی جانب بڑھ رہی ہے، ہم کل ہوا کی مخالف سمت اڑان بھرنے کا اعلان کریں گے۔

زرائع کے مطابق حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) میں اکثریت عقل کے اندھوں کی ہے، ہم مفاہمت اور محبت والی فضا کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، لیکن (ن) لیگ سیاسی تصادم کی جانب گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج حکمران نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کی بات کرتے ہیں، جبکہ جنرل (ر) راحیل شریف کے دور میں یہ جرأت کسی میں نہیں تھی، یہ کون ہوتے ہیں جو جائزہ لینے کی باتیں کرتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان عوام نے منظور کیا تھا، لیکن (ن) لیگ نے طاقت کے بل پر پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا۔

مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو کوئی آمر نہیں روک سکتا، بے نظیر اور نواز شریف کے راستے بھی روکے گئے، لیکن ان کی جدوجہد کا راستہ نہیں روکا جا سکا، ہمارے رہنماؤں کے خلاف کیسز بنے، لیکن ہم خاموش رہے، ہمارے قائد کو پھانسی دی گئی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اذیت ناک اموات فتح کی علامت بن جاتی ہیں۔ مشیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ آج بھی ہمیں کسی کا خوف نہیں، جبکہ ہم نے کل ہوا کی مخالف سمت اڑان بھرنے کا فیصلہ کرنا ہے اور اس اڑان میں ہم تنہا نہیں ہوں گے، بلکہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیا جائے گا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) دہشت گردی کے پیچھے امریکہ، بھارت اور اس کے ایجنٹوں کا ہاتھ ہے، امن دشمنوں کے خلاف امن دوست قوتیں متحد ہو جائیں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے دورہ سندھ پر روانگی سے قبل جامعہ رضویہ فیصل آباد میں عہدیداران و کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انکا کہنا تھا کہ تین بار پورے ملک اور پانچ بار پنجاب پر حکمرانی کرنے والوں نے ملک و قوم کو کچھ نہیں دیا، نیشنل ایکشن پلان کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار پر عمل کر کے ہی پاکستان کو آگے لے جایا جا سکتا ہے، قائد اعظمؒ راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور وہ دنیا کو اسلام کا حقیقی چہرہ دکھانا چاہتے تھے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام" لبیک یارسول اللہﷺ کانفرنس" باغِ مصطفیٰ گراؤنڈ لطیف آبادنمبر8 حیدر آباد میں منعقد ہوئی، جس میں سندھ بھر سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ہزاروں کارکنوں اور شیعہ سنی افراد کے علاوہ مسیحی برادری کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے سلسلے میں پنڈال میں کیک بھی کاٹا گیا۔کانفرنس سے شرکا نے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی،مذہبی و لسانی تعصب ، انتہاپسندی ،عدم رواداری اور تکفیریت کو وطن عزیز کی سالمیت و استحکام کے خلاف زہر قاتل اور سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ قومی وحدت کی جڑیں کمزور کرنے میں ان عوامل کا بنیادی کردار ہے۔ کانفرنس میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا،چرچ آف پاکستان کے مرکزی صدر و نامور مسیحی رہنما فادر ڈینئل فیاض، اصغریہ آرگنائزیشن کے صدر فضل حسین اصغری،پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ مرزا یوسف حسین جمعیت علما اسلام،آل پاکستان مسلم لیگ،جعفریہ الائس پاکستان ،قومی عوامی تحریک،انجمن نوجوانان اسلام کے رہنماؤں کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے رہنما بھی موجود تھے۔جنہوں نے اپنے خطابات میں اتحاد و اخوت کی ضرورت پر زور دیا۔

زرائع کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے زیرِ انتظام "لبیک یا رسول اللہ ﷺ کانفرنس " سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ارض پاک پر شیعہ سنی جھگڑے کا کوئی وجود نہیں۔مخصوص تکفیری گروہوں اسلام دشمن ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک میں تفرقہ بازی پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔کسی کے مقدسات کی توہین کی اسلام میں قطعاََ گنجائش نہیں۔ہمیں ایسی شر پسندی کا دانشمندی اور بصیرت سے مقابلہ کرنا ہوگا جو اسلام کے مضبوط بازوں شیعہ سنی طاقتوں کو آپس میں لڑا کر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے ایسے پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کی جس میں تمام مذاہب کو بلاتخصیص مکمل طور پر مذہبی آزادی حاصل ہو ۔کسی بھی مذہبی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا ناقابل معافی جرم ہے۔ہندووں ،مسیحیوں اور ملک میں بسنے والے دیگر مذاہب کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔حکومت کی طرف سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت ملک میں تکفیری گروہوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ سرعام تکفیریت کے فتوی جاری کر کے ملک میں انتشار اور نفرت کو فروغ دینے والے عناصر کو سیاسی دھارے میں شامل کرکے اس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کی جا رہی کہ پاکستان کی اکثریت انتہا پسندی کی حامی ہے۔جو عالمی سطح پر وطن عزیز کی ساکھ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ان ملک دشمن عناصر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ملک کی محب وطن جماعتوں کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔مختلف دہشت گرد تنظیمیں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر وحشیانہ طرز عمل کی مرتکب ہو رہی ہیں جن کا مقصد اقوام عالم کے سامنے اسلام کے تشخص کو بدنما کر پیش کرنا ہے۔ان عناصر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا مزید کہنا تھا کہ القائدہ، طالبان داعش سمیت تمام تکفیری دہشت گرد گروہ پیشہ وراجرتی قاتل ہیں۔ پاکستان میں موجود لشکر جھنگوی بھی انہی جماعتوں کی ایک شاخ ہے جس کی بیخ کنی کے بغیر امن و سلامتی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے نیشنل ایکشن پلان کو اخباری بیانات تک محدود کر رکھا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گرد طاقتوں کے سہولت کار نیشنل ایکشن پلان کو سرعام چیلنج کر رہے ہیں۔ کالعدم مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے دہشتگرد ساز فیکٹریاں کھول رکھی ہیں جبکہ حکمران ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کا دعوی کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام معتدل سیاسی و مذہبی جماعتیں ان عناصر کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ ملک امن و آشتی کا گہوارہ بن سکے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحا کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ حکومت نیشنل ایکشن پلا ن کے نام پر تکفیری دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ملک کی محب وطن مذہبی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی کی حکومتی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس ملک کی بقا نظام مصطفے ﷺ میں مضمر ہے جس کے لیے شیعہ سنی مسالک ایک پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔ مسیحی رہنما فادر ڈینئل فیاض نے کہا کہ ہم سب ملک کر تکفیریت کے خلاف صف آرا ہو سکتے ہیں ۔آج کے دن ہمیں اس عزم کا عہد کرنا ہو گا۔انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کے موقعہ میں مسیحی برادری اور مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔

لبیک یا رسول اللہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود ڈومکی کا کہنا تھا کہ لبیک یارسول اللہ ﷺ کانفرنس شیعہ سنی اخوت واتحاد کی مظہر اور تکفیری طاقتوں سے بیزاری و نفرت کا اظہار ہے۔اس مثالی اجتماع میں ہمیں تجدید عہد کرنا ہو گا کہ وطن عزیز کی بقا و سالمیت کے لیے تکفیری گروہوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔کانفرنس میں علامہ حیدر علی جوادی،جانی شاہ،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری علامہ احمد اقبال ، علامہ مرزا یوسف حسین ،مولانا غلام حر شبیری،علامہ مختار امامی،علامہ مقصود علی ڈومکی،علامہ دوست علی سیدی،علامہ باقر زیدی،علامہ نشان حیدر ساجدی،علامہ علی انور،علامہ مبشر حسن ،علامہ علی انور،علامہ احسان دانش،علی حسین نقوی،یعقوب حسینی ،آفتاب میرانی،الفت عالم کربلائی،فدا حسین شاہ،فرمان شاہ،قاسم جعفری ،فضل حسین نقوی ،جمیعت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی رہنماتاج محمد ناہیوں،تنظیمِ عزاء حیدرآباد کے رہنما علیم حیدر تقوی،کے علاوہ دیگر مذہبی وسماجی رہنما موجود تھے۔