تازہ ترین

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے 'رخصت کے بعد دوبارہ ذمے داریاں سنبھال لیں اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے 18ویں اجلاس میں شرکت کی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کو ہٹانا چاہتی ہے، لیکن وفاقی حکومت اس کے خلاف ہے۔تاہم وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ آئی جی سندھ 15 دن کی چھٹی پر گئے تھے اور انھوں نے خود اس کی درخواست دی تھی۔بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اے ڈی خواجہ کو رخصت پر بھیجنے سے روک دیا تھا۔

یاد رہے کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ 19 دسمبر کو 'رخصت پر چلے گئے تھے، میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی جی سندھ کو اس لیے 'جبری رخصت پر بھیجا گیا کیوں کہ سندھ حکومت کے پولیس کانسٹیبلز کی بھرتیوں اور پولیس افسران کی معطلی کے معاملے پر ان سے اختلافات تھے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ 'آئی جی سندھ بڑے سکون کے ساتھ اجلاس میں بیٹھے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ مجھ پر سندھ حکومت کا کوئی دباؤ نہیں۔ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو اسٹریٹ کرائمز کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ 'مجھے اسٹریٹ کرائم فری کراچی چاہیئے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے عوام کو ہر جرم کی شکایت پولیس اور رینجرز کی ہیلپ لائن پر درج کروانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروانے میں مکمل تعاون نہیں کر رہی، ٹی وی پر ابھی تک دہشت گردوں کی خبریں چلتی ہیں، انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی روک تھام بھی نہیں ہوسکی اور کالعدم تنظیموں کے لوگ ابھی تک کھلے عام جلسے کر رہے ہیں، لیکن وفاقی حکومت اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کر رہی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کو خط لکھا جائے کہ غیر قانونی اسلحہ بنانے کی فیکٹریوں اور دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، کیونکہ سندھ میں اب تک جتنا بھی اسلحہ پکڑا گیا، اس کا 40 فیصد مقامی طور پر تیار کیا گیا تھا۔

ہوم سیکریٹری سندھ شکیل منگنیجو نے اجلاس کو بتایا کہ:

سندھ سے گرفتار 16 تکفیری دہشت گردوں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔
فوجی عدالتوں کی جانب سے 16 تکفیری دہشتگردوں کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے اور مزید 19 مقدمات زیر سماعت ہیں۔
سندھ کی لیگل کمیٹی نے 9 مزید مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔
سندھ حکومت کی سفارش پر 62 کالعدم تنظیموں کے نام فرسٹ شیڈول میں ڈالے گئے۔
سندھ میں 92646 افغان شہریوں کی رجسٹریشن ہوئی۔
سندھ نے 94 مدارس کی فہرست وزارت داخلہ کو بھیجی ہے، ان کو بھی فرسٹ شیڈول میں ڈالا جائے گا۔
581 مختلف افراد کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا۔
کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ اور ڈی جی رینجرز سندھ محمد سعید نے پہلی مرتبہ اجلاس میں شرکت کی، اس موقع پر سینئر وزیر نثار کھوڑو، چیف سیکریٹری رضوان میمن، مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو، گورنر سندھ کے نمائندے صالح فاروقی، مشیر قانون مرتضٰی وہاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی، ہوم سیکریٹری شکیل منگنیجو اور دیگر موجود تھے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کوئٹہ میں کالعدم تکفیری سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کیجانب سے مغربی بائی پاس پر ایف سی کی گاڑی پر بم حملے کے نتیجے میں 6 اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ترجمان ایف سی کے مطابق اہلکار ٹریننگ کے لئے فائرنگ رینج پر جارہے تھے کہ کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی جانب مغربی بائی پاس پر زیر زمین پہلے سے نصب دھماکا خیز مواد پھٹ گیا جس سے ایف سی کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور گاڑی میں موجود ایف سی کے 6 اہلکار زخمی ہوگئے، زخمی اہلکاروں کی شناخت نائک لطیف، نائب صوبیدار محمد شفیع، سپاہی سیف الرحمان، سپاہی قائم خان، حوالداراول الرحمان اور سپاہی رضا الرحمان سے ہوئی ہے۔

ایف سی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے اور جائے وقوعہ پر بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی پہنچ گیا ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) کسی بھی مسلک کے مقدسات کی توہین ناجائز ہے، گالیاں دینا ہمارا شعار ہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام فاسد ہے، جس میں تحریک جعفریہ کی بحالی میں مجھے انصاف نہیں ملا تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔ پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام کے قائل ہیں، کسی خاص برانڈ کا اسلام قبول نہیں کریں گے۔ عزاداری میں وہ شریک ہو جو بم دھماکے برداشت کرنے کی جرات رکھتا ہو، ہمیں کنٹینروں کے حصار، خاردار تاروں کے جھنڈ اور سنگینوں کے سائے میں عزاداری قبول نہیں۔ عزاداری کے خلاف درج ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل اور اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسلامی تحریک کے سینیئر نائب صدر مرحوم وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ کے قصر زینب میں منعقدہ چہلم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چہلم سے علامہ عارف واحدی، صوبائی صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری، علامہ مظہر عباس علوی، وفاق المدارس الشیعہ کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ محمد افضل حیدری، مجمع اہل بیت پاکستان کے سیکرٹری علامہ شبیر حسن میثمی، وفاق علماء شیعہ پاکستان علامہ رضی جعفر نقوی، محمد شفیع پتافی، سکندر رضا نقوی، مرکزی صدر جے ایس او حسن عباس اور دیگر نے خطاب میں مرحوم وزارت نقوی کی سیاسی، مذہبی اور سماجی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ایشیاء میں کوئی مسلح جدوجہد کامیاب نہیں ہوئی، قیام پاکستان اور ایران میں انقلاب اسلامی عوامی جدوجہد سے آئے۔ میں ملک کا طاقتور حصہ ہوں، ہمیں عسکری ونگ کی ضرورت ہے نہ ہی اس کے قائل ہیں۔ میں عوامی جدوجہد پر یقین رکھتا ہوں، مسلح جدوجہد کا محتاج نہیں۔ پاکستان میں کوئی گروہ یا فرد ایسا نہیں جس کے خلاف ملت جعفریہ کو مسلح جدوجہد کی ضرورت ہو۔ ایک دہشت گرد گروہ کے آرمی چیف کے نام کھلے خط کا حوالہ دیتے ہوئے قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ گالیاں دینا مرد کا کام نہیں، دہشت گرد گروہ سپہ سالار سے التجائیں کر رہا ہے کہ انہیں ہمارے ساتھ بٹھائیں، میری کوئی مجبوری ہے اور نہ ہی میں نے کسی سے مذاکرات کی التجا کی ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ وہ اتحاد بین المسلمین کے بانی ہیں، ملی یکجہتی کونسل کے ضابطہ اخلاق پر عراق کی مرجعیت اور ولی امرمسلمین نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ خاندانی نسب اور دولت نہیں، انسان کا حوالہ وہ نیک اعمال ہیں جو وہ دنیا میں سرانجام دیتا ہے۔ وزارت نقوی کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک جعفریہ کو کسی مسلح جدوجہد کی ضرورت نہیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آرمی کی قیادت میں تبدیلی کا ملکی حالات پر اثر نہیں ہونا چاہیے، نیشنل ایکشن پلان اور ضرب عضب کے مطابق فرقہ واریت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔ ہم نے 14 سال صبر و تحمل سے کام لیا، تحریک جعفریہ پر پابندی میرٹ پر ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذہبی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور پاکستان میں اتحاد امت کو ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر تنظیمی شکل دی، جس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تشیع کو دباؤ اور خوف میں رکھنا ممکن نہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نےکہا ہے کہ بیرونی خطرات کے پیش نظر گروہ بندی نہیں صف بندی کی ضرورت ہے، پنجاب میں دہشتگردوں کی نرسریاں ختم کرنے کیلئے رینجرز آپریشن کی ضرورت ہے، ’’سیاست بذریعہ دولت اور دولت بذریعہ سیاست‘‘ کا چلن ختم ہونا چاہیئے، بارود والوں کا دور ختم اور درود والوں کا دور شروع ہونیوالا ہے۔

زرائع کے مطابق لاہور کی ضلعی کابینہ کے عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان نے پاکستان کیخلاف گٹھ جوڑ کر رکھا ہے، افغانستان کا صدر بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے حکمرانوں پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلنا چاہیئے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ بھارت دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کو بنجر بنانے کی سازش کر رہا ہے، ہماری حکومت بھارتی آبی دہشتگردی کیخلاف عالمی سطح پر آواز اُٹھائے۔

صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے، قوم حکمرانوں سے مایو س اور اہل سیاست سے بیزار ہے، پاکستان کا اسلامی تشخص ختم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، محب وطن اور عوام دوست قوتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، 2017ء الیکشن کا سال ثابت ہوگا۔ سنی اتحاد کونسل کے کارکنان الیکشن کی تیاریاں شروع کر دیں، پنجاب میں آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے جنوبی پنجاب دوسرا وزیرستان بن چکا ہے، حکومت کالعدم تنظیموں کی بیرونی فنڈنگ نہیں روک سکی، کالعدم تنظیموں کا نام بدل کر کام کرنا حکومت کی نااہلی ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج نے بے شمار قربانیاں دیں اور آئندہ بھی پاک فوج ملکی سلامتی کے لئے کردار ادا کرتی رہے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو آڈیٹوریم میں افسروں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ضرب عضب میں بے شمار قربانیاں دیں، ضرب عضب میں افسروں کی قربانیاں اور قائدانہ کردار قابل فخر ہے پاک فوج آئندہ بھی قومی سلامتی سے متعلق اپنا اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج نے پیشہ وارانہ امور، ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی اظہار خیال کیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی تصادم کی جانب بڑھ رہی ہے، ہم کل ہوا کی مخالف سمت اڑان بھرنے کا اعلان کریں گے۔

زرائع کے مطابق حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) میں اکثریت عقل کے اندھوں کی ہے، ہم مفاہمت اور محبت والی فضا کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، لیکن (ن) لیگ سیاسی تصادم کی جانب گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج حکمران نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کی بات کرتے ہیں، جبکہ جنرل (ر) راحیل شریف کے دور میں یہ جرأت کسی میں نہیں تھی، یہ کون ہوتے ہیں جو جائزہ لینے کی باتیں کرتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان عوام نے منظور کیا تھا، لیکن (ن) لیگ نے طاقت کے بل پر پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا۔

مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو کوئی آمر نہیں روک سکتا، بے نظیر اور نواز شریف کے راستے بھی روکے گئے، لیکن ان کی جدوجہد کا راستہ نہیں روکا جا سکا، ہمارے رہنماؤں کے خلاف کیسز بنے، لیکن ہم خاموش رہے، ہمارے قائد کو پھانسی دی گئی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اذیت ناک اموات فتح کی علامت بن جاتی ہیں۔ مشیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ آج بھی ہمیں کسی کا خوف نہیں، جبکہ ہم نے کل ہوا کی مخالف سمت اڑان بھرنے کا فیصلہ کرنا ہے اور اس اڑان میں ہم تنہا نہیں ہوں گے، بلکہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیا جائے گا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے واضح کیا ہے کہ تحریک جعفریہ کا فرقہ واریت سے کبھی تعلق رہا اور نہ ہی کوئی عسکری ونگ ہے تو اسے ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

زرائع کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی آفس سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے صحافی سلیم صافی کے مورخہ 24 دسمبر کو گڈ کالعدم، بیڈ کالعدم کے عنوان سے کالم، 25 دسمبر 2016ء کو جرگہ پروگرام میں موقف کو من گھڑت اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موصوف نے اپنی تحریر و تقریر میں دو بڑے جھوٹ بولے ہیں۔ ایک یہ کہ تحریک جعفریہ فرقہ واریت پھیلانے میں شریک رہی اور دوسرا یہ کہ تحریک جعفریہ نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے اپنے عسکری ونگ کے ساتھ تعلق ختم کر دیا ہے۔ یہ دو کھلے جھوٹ ہیں، تحریک جعفریہ کا فرقہ واریت سے دور کا بھی تعلق نہیں رہا، تحریک جعفریہ کا کبھی کوئی عسکری ونگ نہیں تھا، جس سے تعلق ختم کرنے کا سوال پیدا ہو۔

علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ موصوف صحافی تکفیریوں کے کھلے حامی اور ہمیں تکفیریوں کے برابر لانے کی ظالمانہ پالیسی کو بڑھاوا دیتے رہے ہیں۔ ہم موصوف کی افتراء پردازیوں کے پس منظر اور پیش منظر کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس حوالہ سے کسی خیرخواہ کو تبصرہ اور تجزیہ وغیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیراعظم نواز شریف سے سبکدوش ہونے والے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے ملاقات کی۔

زرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف سے سبکدوش ہونے والے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں قومی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے قومی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دینے پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی خدمات کو سراہا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقرری کے بعد سے پاک آرمی میں بڑے پیمانے پر تقرریاں و تبادلے جاری ہیں اور ڈی جی آئی ایس آئی کو صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی بنا دیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )میجرجنرل محمد سعید کو ڈی جی رینجرز سندھ جب کہ میجر جنرل ندیم انجم کو آئی جی ایف سی بلوچستان تعینات کردیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج میں تقرریوں اور تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے تحت میجر جنرل محمد سعید کو لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کی جگہ ڈی جی رینجرز سندھ تعینات کردیا گیا جب کہ لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن کی جگہ میجر جنرل ندیم انجم کو آئی جی ایف سی بلوچستان تعینات کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 7 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدے پر ترقی دی جن میں ترقی پانے والے تمام افسران کی نئی پوسٹنگ بھی کردی گئی ہے اور ان ہی تقرریوں اور تبادلوں کے تحت ڈی جی رینجرز سندھ بلال اکبر کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دیئے جانے کے بعد جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کیا گیا ہے اور آئی جی ایف سی بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل شیرافگن کورکمانڈر بہاولپور لگادیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کراچی میں برآمد ہونیوالے چپ تعزیہ کے جلوسوں کی سیکیورٹی پر مرکزی اجتماع کے مقامات اور روٹس پر مجموعی طور پر 8628 پولیس افسران و جوانوں کو تعینات کیا جارہا ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار اے آئی جی آپریشنز سندھ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو مورخہ 8 ربیع الاول چپ تعزیہ سیکیورٹی اقدامات پر مشتمل ایک رپورٹ میں بتائی۔ شیراز نذیر نے آئی جی سندھ کو بتایا کہ نشتر پارک تا حسینیہ ایرانیاں ہال جلوس کے لئے 5020 جبکہ رضویہ سوسائٹی تا امام بارگاہ شاہ نجف جلوس کے لئے 3608 پولیس افسران اور جوانوں کو سیکیورٹی فرائض پر مامور کیا جارہا ہے۔ آئی جی سندھ نے رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس کو جاری ہدایات میں کہا کہ لاڑکانہ، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص اور باالخصوص کراچی میں سیکیورٹی اقدامات کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے تمام تر فوکس 12 ربیع الاول کے مرکزی اجتماعات، جلوسوں، محافل میلاد، نعت، وعظ، تقاریر و دیگر کی سیکیورٹی پر رکھا جائے۔

اس ضمن میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے باہمی مشاورت اور ان کی تجاویز کی روشنی میں مرتب کردہ سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد کو ہر سطح پر ٹھوس اور غیرمعمولی بنایا جائے۔