تازہ ترین

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )حالیہ دنوں میں وزیرِ اعظم پاکستان کی زیرِ صدارت ہونے والے نیشنل ایکشن پلان جائزہ اجلاس میں ایسے کیا ٖفیصلےکئے گئے کہ اجلاس والے دن ہی چند گھنٹوں میں کوئٹہ اور ٹیکسلا میں شیعہ مسلمانوں پر حملوں کا آغاز ہوگیا۔کیا ہم یہ گمان نا کریں کہ ان حملوں میں نیشنل ایکشن پلان جائزہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کا عمل دخل شامل ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے سیکریٹری اطلاعات عرفان حیدرنے گزشتہ رات سینٹرم مال فیڈرل بی فیڈرل بی ایریا بلاک 22 کے عقب میں منعقد ہونے والی مجلس عزاء پر کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کے حملےکے بعد اس مقام کے دورے اور گلستانِ جوہر بلاک 8 میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے شھید ہونے والے ماہرِ تعلیم اور 7 محرم الحرام کے جلوس کے بانی سید منصور صادق ذیدی کی شھادت اور انکےجوان بیٹے کے زخمی ہونے کے خلاف جوہر چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ کرنے والے مومنین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔عرفان حیدر نے کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی جانب سے فیڈرل بی ایریا میں مجلس عزاء پر حملے میں منتظمین کے زخمی ہونے اور گلستانِ جوہر میں ماہر تعلیم اور بانئی جلوس سید منصور صادق ذیدی کی شھادت اور انکے بیٹے کے زخمی ہونے کی شدیدی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں گمان ہوچلا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی زیرِ صدارت نیشنل ایکشن پلان میں ایسے کیا فیصلہ جات کئے گئے ہیں کہ جن پر فقط گفتگو کئے جانے کے دوران چند ہی گھنٹوں میں کوئٹہ میں 3 شیعہ ہزارہ خواتین کو شناخت کرکے شھیدکیا جاتا ہے اور اس کے کچھ ہی دیر بعد ٹیکسلا میں امام بارگاہ کی متولی اور انکے دوست کو فائرنگ کرکے شھید کیا جاتا ہے۔

انھوں نےکہا کہ ہم وزیراعظم پاکستان کی جانب سے کالعدم تکفیری دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ختم کرکے ان سفاک دہشتگردوں کو سیاسی دھارے میں شریک کئے جانے کے اعلان کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کس آئین و قانون کے تحت ہزاروں پاکستانیو کے قاتل سعودی نمک خوار تکفیری دہشتگردوں کو اپنے من پسند سیاسی دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں ؟ انھوں نے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا وہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے خلاف آپریشن ختم کرنے کے بجائے ان سفاک دہشتگردوں کو قومی سیاسی دھارے میں شریک کرنے کا اعلان کا نوٹس لیتے ہوئے اس کے خلاف عملی اقدامات کریں ۔

عرفان حیدرنے کہا کہ ایک جانب تو حکومت اور انتہائی معتبر دفاعی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان کی جانب نیشنل ایکشن پلان،آپریشن ضربِ عضب اور کراچی آپریشن کی کامیابی کا بلند و بانگ دعویٰ کیا جاتا ہے اور تکفیری دہشتگردو کی کمر توڑے جانے کے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں تو دوسری جانب یہی تکفیری دہشتگرد ٹوٹی کمر کے ساتھ سرِ راہ شناخت کے بعد بانیانِ پاکستان کی اولادوں کا سفاکانہ قتلِ عام کرنے میں مصروف ہیں۔انھوں نے کہا کہ کیا کراچی آپریشن کا مطلب فقط گھروں،میدانوں اور قبرستانوں میں دبے ہتھیاروں کو برآمد کرنا ہی ہے یا ان ہتھیاروں کا استعمال کرنے والے تکفیری دہشتگردوں کا خاتمہ بھی ہے ؟انھوں نے کہا کہ ایک جانب تو کالعدم سپاہِ صحابہ،لشکرِ جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے آرمی پبلک اسکول پشاور،باچا خان یونیورسٹی اور جی ایچ کیو سمیت مساجد،امام بارگاہوں،اولایائے کرام کے مزارات،اور شیعہ و سنی عوام پر حملے کئے جاتے ہیں تو دوسری جانب ریاستی ادارے بھی نظریاتی طور پر ان کالعدم تکفیری دہشتگردوں کی شیعہ و عزاداری دشمنی کے منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عزادارئی سیدالشھداءؑ پر بے جا اور غیر قانونی پابندیاں لگانے میں مصروف ہے۔کہیں سیکیورٹی کے نام پر ملک بھر میں موبائل سروس کی فراہمی کی جاتی ہے اور کہیںمجالس اور جلوسوں کے نام پر کئی کئی دن پہلےشہر کی مارکیٹوں اور روڈوں کو کنٹینرز کے زریعے بند کردیئے جاتے ہیں اور کہیں سبیلوں پر حملے کرکے وہاں موجود جوانوں کو ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

عرفان حیدر نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری،ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ حسن ظفر نقوی اور دیگر علماء و زاکرین پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ایک جانب تو ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ دفاعِ پاکستان کے نام پر جلسے اور جلوس منعقد کرتے نظر آتے ہیں اور کہیں دفاعِ صحابہ کرام کے نام پر ریلیاں منعقد کرکے انتشار پھیلارہے ہیں، ان کے خلاف نا تو نیشنل ایکشن پلان کے تحت کوئی ایکشن لیا جاتا ہے اور نا ہی کہیں کراچی آپریشن کے تحت کوئی آپریشن کیا جاتا ہے۔

بعد ازاں عرفان حیدر نے شھید منصور صادق ذیدی کی المناک شھادت پر ان کے اہل خانہ کی خدمت میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے سیکریٹری جنرل ذین رضا کی جانب سے تعزیت پیش کی اور شھید منصور صادق کی زخمی فرزند اور دیگر زخمی جوانوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا بھی کی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان میں افغان سرحدی علاقے پنجپائی میں کاروائی کرتے ہوئے افغانستان سے لایا جانے والے بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد اور اسلحہ برآمد کرکے کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی جانب سے کوئٹہ میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا۔تکفیری دہشتگرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئےفرار۔

زرائع کے مطابق فرنٹئیر کور (ایف سی) نے ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) کے دہشتگردوں کی جانب سے افغانستان سے بھاری تعداد میں گولہ بارود کوئٹہ منتقل کئے جانے کی اطلاع ملنے پر نولہ کے علاقے میں آپریشن کیا جہاں سے 1800 کلو گرام دھماکا خیز مواد، 150 دیسی ساختہ بم (آئی ڈی ای) اور بڑی مقدار میں دیگر اسلحہ برآمد کر لیا، جبکہ تکفیری دہشتگرد رات کا تریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔فرنٹیئر کور کے حکام کے مطابق ہر آئی ای ڈی کا وزن 20 کلو گرام ہے۔ایف سی ترجمان خان واسع کا کہنا تھا کہ کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ سپاہِ صحابہ (اہلسنت والجماعت) کےدہشت گرد افغانستان سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بلوچستان منتقل کرکے دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کرنا چاہتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے مذکورہ کارروائی خفیہ اطلاع پر کی تھی تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔بعد ازاں دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے کیلئے بم ڈسپوزل اسکورڈ کو طلب کیا گیا۔

رواں سال اگست میں انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ایک بڑی دہشت گردی کی کارروائی کو ناکام بناتے ہوئے افغان خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کو گرفتار کرلیا۔سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پُرہجوم عوامی مقام پر بم نصب کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )افغان صوبے پکیتا میں افغان فورسز کے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سجنا گروپ کا دہشتگرد ترجمان رئیس خان عرف اعظم طارق اپنے بیٹے شفیق الرحمن اور دس ساتھیوں سمیت جہنم واصل ہوگیا۔

زرائع کے مطابق افغان فورسز نے صوبہ پکیتیا میں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا، جس میں متعدد تکفیری دہشتگرد واصلِ جہنم اور گرفتار ہوئے۔ اس دوران گرفتار تکفیری دہشتگردوں کے دیگر ساتھیوں کی جانب سے مزاحمت کے جواب میں فورسز کی کارروائی میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کا اہم کمانڈر اپنے 10 ساتھی دہشتگردوں کے ساتھ واصل، جہنم ہوگیا۔اطلاعات کے مطابق افغان فورسز کی جوابی کاروائی میں واصلِ جہنم ہونے والے تکفیری دہشتگرد کمانڈر کی شناخت کالعدم تحریک طالبان پاکستان سجنا گروپ کے ترجمان رئیس خان عرف اعظم طارق کے نام سے ہوئی۔دیگر مارے گئے تکفیری دہشتگردوں میں ٹی ٹی پی کے ترجمان کا بیٹا شفیق الرحمن اور تحریک طالبان پاکستان کے دیگر 9 تکفیری دہشتگرد بھی شامل ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)فاٹا گرینڈ الائنس نے کہا ہے کہ ہم اصلاحات کے حامی ہیں مگر غلط طریقے سے کسی کو قبائل کو مفلوج بنانے نہیں دینگے اور اس کے خلاف آخری حد تک جائینگے۔

زرائع کے مطابق پشاور پریس کلب میں جنوبی وزیر ستان کے ملک خان مرجان، شمالی وزیرستان کے ملک عطاء اللہ، باجوڑ ایجنسی کے ملک حفیظ الرحمن، کرم ایجنسی کے ملک دین محمد، ایف آر کوہاٹ کے ملک نائب خان اور خیبر کے ملک رازق آفریدی نے مشترکہ طور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت 70 سال بعد فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو حقیقت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، تو اس حوالے سے قبائلیوں سے مشاورت کرے اور پاکستان کے دیگر شہروں کی صف میں لانے کیلئے ہر ایجنسی میں بشمول ایف آرز کی سطح پر ایک یونیورسٹی، میڈیکل کالج، انجینئرنگ کالج، تحصیل سطح پر ہائر ایجوکیشن کے سکولز اور کالج تعمیر کرنا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے ایم این ایز اگر مخلص ہیں تو وہ میگا پراجیکٹ کی بنیاد رکھیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اصلاحات کا عمل پارلیمنٹ میں بیٹھے ممبران سے منصوب نہ کیا جائے، اصلاحاتی کمیٹی فاٹا کونسل کا اعلان کرے تاکہ وہ ایک سال کے اندر اندر قانون سازی کرتے ہوئے قبائلی حیثیت کیلئے لائح عمل تیار کرلے۔

فاٹا گرینڈ الائنس نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کیلئے حکومت فوری طور پر ایک کھرب روپے کا اعلان کرے تاکہ قبائلی علاقوں میں میگا پراجیکٹس پر کام کا آغاز ہو۔ قبائلی بچوں کیلئےسکالر شپس کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں میں مسمار کئے جانیوالے بازاروں کی تعمیر نو کی جائےاور آپریشن کے دوران افغانستان ہجرت کرنے والے قبائلیوں کو واپس بلایا جائے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کراچی کے علاقے کورنگی نمبر 4 میں تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ سے 32 سالہ شیعہ جوان سید صائم رضا رضوی شھید ہوگئے، جسدِ خاکی جناح اسپتال منتقل۔

زرائع کے مطابق کراچی کے علاقے کورنگی نمبر 4 میں ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے آفس جانے والے 32 سالہ شیعہ جوان صائم رضا رضوی شھید ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق قومی معاملات میں انتہائی متحرک سید صائم رضا آج آفس جانے کے لئے اپنے گھر سے جیسے ہی باہر نکلے تو قریبی امام بارگاہ کے پر پہلے سے گھات لگائے ہوئے کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) کے دہشتگردوں نے ان پر فائرنگ کردی اور موقع سے فرار ہوگئے۔عینی شاہدین کے مطابق صائم رضا جیسے ہی امام بارگاہ کے پاس پہنچے تو وہاں موٹر سائیکل پر پہلے سے موجود تکفیری دہشتگردوں نے ان پر فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے،صائم رضا رضوی موقع پر ہی شھید ہوگئے۔شھید صائم رضا کے جسدِ خاکی جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

شھید صائم رضا رضوی ایک انتہائی پرخلوص اور متحرک جوان تھے جو اپنے علاقے میں رہائش پزیر لوگوںکی بلا تفریق مدد کیا کرتے تھے۔قومی معاملات میں تحرک کی وجہ سے تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے ان کو پہلے بھی دھمکیاں ملتی رہی تھیں لیکن شھید صائم رضا انسانیت کی خدمت میں مصروف رہے اور دشمنانِ ملک و ملت کی آنکھ میں کانٹا بن کر چبھتے رہے، اور آج بلاآخر دینِ اسلام اور ملک و ملت کے ازلی دشمن سفاک تکفیری دہشتگرد گروہ سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) کے دہشتگردوں نے اپنی سفاکیت دکھاتے ہوئے قوم و ملت سے ایک پرخلوص،انسان دوست جوان سید صائم رضا رضوی کو ہمیشہ کے لئے جدا کردیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی خیبر ایجنسی میں پاک فوج نے مختلف کارروائیوں کے دوران 6 تکفیری دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر ایجنسی کے علاقوں ستار قلعے، نارے ناؤ اور راجگال میں تکفیری دہشتگردوں کے خلاف فضائی کارروائیوں اور زمینی آپریشن کے دوران تکفیری دہشت گردوں کے 2 ٹھکانے تباہ کیے گئے جبکہ اس دوران 6 تکفیری دہشتگرد بھی واصلِ جہنم ہوئے۔اس کے علاوہ ٹل کے علاقے میں فورسز نے کومبنگ آپریشن کے دوران ایک تکفیری دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے۔گرفتار تکفیری دہشت گرد کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی اداروں نے کومبنگ آپریشن کے دوران تیرہ تکفیری دہشتگردوں کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا۔

زرائع کے مطابق سانحہ سول اسپتال کوئٹہ کے بعد پاک فوج کے سربر اہ جنرل راحیل شریف کے حکم پر کوئٹہ سمیت ملک بھر میں تکفیری دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کومبنگ آپریشن جاری ہے۔ کوئٹہ کے علاقے خروٹ آباد میں، پولیس ایف سی اور حساس اداروں نے کومبنگ آپریشن کر کےملک دشمن،اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت)، لشکرِ جھنگوی کے 13 تکفیری دہشتگردوں کو گرفتار کرکے بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرلیا۔۔ آپریشن میں گرفتار تکفیری دہشتگردوں کے قبضے سے 13 رائفلیں، 24 پستول اور شارٹ گن برآمد ہوئیں۔ آپریشن میں تین سو سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران کئی تکفیری دہشتگردوں کو گرفتار کرکے اسلحہ بھی برآمد کر لیا تھا۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے اگست کے مہینے کی جو علامتی اہمیت ہے، اس کو ریاست دشمن عناصر سبوتاژ کرنا چاہتے تھے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)سانحہ کوئٹہ کے بعد آرمی چیف کی ہدایت پر تکفیری دہشتگردوں کے خلاف کومبنگ آپریشن جاری ہے، تکفیری دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے پنجاب کے مختلف اضلاع میں چھپے تکفیری دہشت گرد بھی گرفتار ہونے لگے ہیں۔ آپریشن کے دوران القاعدہ کے 9 اور تحریک طالبان پاکستان کے 13 تکفیری دہشت گرد گرفتار ہوئے۔

ذرائع کے مطابق سانحہ سول اسپتال کوئٹہ کے بعد پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے حکم پر ملک بھر میں تکفیری دہشتگردوں کے خلاف شروع ہونے والے کومبنگ آپریشن کی گونج پورےپنجاب میں سنائی دے رہی ہے۔پنجاب بھر میں ملک دشمن،اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگردوں کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ہے۔پنجاب کے مختلف اضلاع میں اب تک گرفتار ہونے والے تکفیری دہشتگردوں کی تعداد ا96 ہوگئی ہے۔سب سے زیادہ تکفیری دہشت گرد ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوی کے گرفتار ہوئے، کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوی کے 176 تکفیری دہشت گردوں کو پنجاب کے مختلف اضلاع سے گرفتار کیا گیا ہے،اس کے علاوہ عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ القائدہ کے 9 اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 13 تکفیری دہشتگرد گرفتار کئے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق لاہور سے کالعدم عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ القاعدہ کے 5 جبکہ ڈیرہ غازی خان سے 4 تکفیری دہشت گرد گرفتار کئے گئے، پنجاب بھر سے تکفیری دہشت گردوں کی گرفتاری سے نہ صرف ان کے نیٹ ورک کو توڑنے میں مدد ملی بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہوتی نظر آتی ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) وزیر اطلاعات پرویز رشید کہتے ہیں دہشتگردی کیخلاف نظریاتی ضرب عضب کی ضرورت ہے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونیوالی دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکی صدارتی امیدوار مسلمانوں کے نام پر انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

زرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونیوالی ندائے ملت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ دنیا دو مختلف سوچوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک تبلیغ کی جبکہ دوسری ہتھیار اور نفرت کی سوچ ہے۔تکفیری دہشت گردوں نے دنیا میں مسلمانوں کو بدنام کیا۔ جن دہشتگردوں نے مسجد نبوی پر حملہ کیا وہ شیطان کے پیروکار خارجی دہشتگرد ہیں ہیں۔ پرویز رشیدنے مزید کہا کہ امریکہ میں دو بڑی جماعتوں کے نامزد امیدوار مسلمانوں کے نام پر انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے حق میں بولنے پر ڈیموکریٹ پارٹی کی ہیلری کلنٹن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)پنجاب میں تعلیمی اداروں کی فول پروف سکیورٹی کیلئے کومبنگ آپریشن شروع ہوگیا، سرکاری اور نجی سکولوں کا محکمہ سکول ایجوکیشن سے تمام تر تفصیلات بھی طلب کر لی گئیں ہیں۔

زرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے تمام اضلاع کے ڈی پی اوز کو ہنگامی بنیادوں پر سکولوں کا دورہ کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے قانون نافذ کرنیوالے تمام اداروں کو سکولوں کی سکیورٹی کیلئے ایک ہنگامی مراسلہ جاری کیا گیا تھا جس کے پیش نظر تعلیمی اداروں کے اطراف میں کومبنگ آپریشن کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس اور دیگرقانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے ابتدائی طور پر کومبنگ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلے فیز میں اے پلس اور اے کیٹگری کے تعلیمی اداروں کے اطراف میں کومبنگ آپریشن کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے سرکاری اور نجی سکولوں کا محکمہ سکول ایجوکیشن سے تمام تر تفصیلات بھی طلب کر لی گئیں ہیں۔