تازہ ترین

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج نے بے شمار قربانیاں دیں اور آئندہ بھی پاک فوج ملکی سلامتی کے لئے کردار ادا کرتی رہے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو آڈیٹوریم میں افسروں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ضرب عضب میں بے شمار قربانیاں دیں، ضرب عضب میں افسروں کی قربانیاں اور قائدانہ کردار قابل فخر ہے پاک فوج آئندہ بھی قومی سلامتی سے متعلق اپنا اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج نے پیشہ وارانہ امور، ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی اظہار خیال کیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پاک فوج کے نومنتخب سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والےکالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے 4 سفاک تکفیری دہشت گردوں کی سزا کی توثیق کردی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 4 تکفیری دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی، ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات کی سماعت کی گئی، شواہد کی روشنی میں انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ سزا پانے والے چاروں تکفیری دہشت گردوں کا تعلق کالعدم سپاہِ صحابہ اور کالعدم لشکرِ جھنگوی سے ہے اور یہ تمام دہشتگرد عام شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور اے ایس ایف اہلکاروں کے قتل کے علاوہ کراچی ایئرپورٹ فورسز کے قافلے پرحملے میں بھی ملوث تھے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سزا پانے والے تکفیری دہشت گردوں نے مجموعی طور پر 58 افراد کو قتل کیا جب کہ گل زرین ولد گل شریف پولیس کانسٹیبل سرتاج کے قتل میں ملوث تھا جب کہ دیگر دہشت گردوں میں عطاالرحمان ولد فقیرمحمد، محمد صابر ولد الطاف گل اور فاروق بھٹی ولد محمد اسحاق شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق سزائے موت پانے والے تکفیری دہشت گرد کراچی میں سی آئی ڈی بلڈنگ، آئی ایس آئی آفس سکھر پر حملے میں بھی ملوث تھے جب کہ ایس ایس پی چودھری محمد اسلم کوبھی اِن ہی دہشت گردوں نے قتل کیا، اِن دہشت گردوں نے ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت 226 افراد کوحملوں میں زخمی کیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )صوبہ بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے حرمزئی میں سیکیورٹی فورسز کی سرچ آپریشن کے دوران کاروائی میں کالعدم لشکرِ جھنگوی کے 5 دہشتگرد جہنم واصل ،جبکہ کئی دہشتگردوںکو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

زرائع کے مطابق پشین میں سیکیورٹی فورسز نے حرمزئی کے علاقے میں کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ لشکرِ جھنگوی کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی۔ اس دوران تکفیری دہشت گردوں نے سیکویرٹی فورسز کے جوانوں فائرنگ پر کردی جس سےسے 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جب کہ فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی میںملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ لشکرِ جھنگوی کے 5 دہشت گرد واصلِ جہنم ہوگئے۔سیکویرٹی فورسز نے کئی تکفیری دہشتگردوں کو حراست میں لئے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ مارے جانے اور گرفتار دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری تعداد اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیے گئے تکفیری دہشت گردوں کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے، جب کہ علاقے میں اب بھی سیکیورٹی انتہائی سخت ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور اس میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھا جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کل پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے ہی روز انہوں نے پشاور اور شمالی وزیرستان کا دورہ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دورہ پشاور اور شمالی وزیرستان کے دوران فاٹا، خیبرپختونخوا اورمالاکنڈ کی سیکورٹی صورتحال جب کہ آپریشنز، بحالی وتعمیرنو کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

آرمی چیف قمر باوجوہ نے بہادر قبائلیوں، افسران، فوجی، ایف سی اور پولیس کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو جاری رکھیں گے اور کسی بھی دہشت گرد کو واپسی کی اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 'بحیثیت آرمی چیف پاکستان کا دفاع اور سلامتی کے علاوہ ملک کو درپیش بیرونی اور اندرونی خطرات سے نمٹنا میرا بنیادی مقصد ہوگا۔انھوں نے پاک۔افغان بارڈر منیجمنٹ کو موثر بنانے کے لیے ایف سی کی مہارت کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔شمالی وزیرستان کے دورے پر آرمی چیف کو ایجنسی کی سیکیورٹی کی صورت حال، متاثرین کی واپسی کے مرحلے اور تعمیراتی کام کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ 'دہشت گردی کے خلاف جنگ پورے عزم کےساتھ جاری رہے گی اور اس کو منطقی انجام تک پنچادیا جائے گا اور اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

جنرل قمرباجوہ نے ایک ایسے وقت میں فوج کی کمان سنبھالی ہے جب جوان آپریشن سے حاصل ہونے والے فوائد کو مزید مضبوط کررہے ہیں جبکہ وہ نئے مرحلے کا فیصلہ کریں گے جس کا لائحہ عمل گزشتہ آپریشن سے مختلف بھی ہوسکتا ہے۔دوسری جانب لائن آف کنٹرول کی صورت حال بھی کشیدہ ہے جہاں گزشتہ چند مہینوں کے دوران شہریوں اور فوجیوں سمیت 53 افراد شھید ہوچکے ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ تحریک طالبان پاکستان نے کراچی پولیس کے سابق اہلکار کوٹی ٹی پی کراچی کا نیا امیر مقرر کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں داؤد محسود کو کراچی کا نیا امیر مقرر کیا گیا ہے۔

زرائع کے مطابق کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کراچی کا مقرر کئے گئے نئے امیر حاجی داؤد محسود کرکا تعلق اچی پولیس سے تھا اور وہ ضلع ملیر میں واقع قائد آباد تھانے میں بطور ہیڈ کانٹیبل تعینات تھا۔ داؤد محسود ٹی ٹی پی کے امیر حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا اور اس نے اس سے قبل بھی کراچی میں ٹی ٹی پی کیلئے بہت سے کام کیے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں ٹی ٹی پی کے امیر ملا فضل اللہ کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی رہبری شوریٰ (مرکزی شوریٰ) نے حاجی داؤد محسود کو ٹی ٹی پی حلقہ کراچی کا امیر مقرر کیا ہے اور ٹی ٹی پی کے تمام گروپس داؤد محسود کے فیصلوں کی پاسداری کریں۔

کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے سینئر افسر راجہ عمر خطاب کے مطابق ٹی ٹی پی کا ضلع ویسٹ میں مضبوط نیٹ ورک تھا، لیکن کراچی آپریشن کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پے در پے کارروائیوں کے بعد ضلع ویسٹ میں ان کا نیٹ ورک تقریباً ختم ہوگیا ہے، تاہم ضلع ایسٹ میں کچھ علاقے ہیں جہاں انکا نیٹ ورک کسی بھی طرح سے موجود ہے اور وہی علاقے داؤد محسود کا ہدف ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ داؤد محسود کو امیر مقرر کرنے کی ویڈیو جاری کرنے کا اہم مقصد کراچی سے فنڈ ریزنگ کرنا ہے، محسود قبیلے کے لوگوں کو، چاہے وہ دہشت گردی میں ملوث ہوں یا نہ ہوں یہ پیغام پہنچانا ہے کہ ٹھیلوں، پتھاریداروں اور تھلوں کے پیسے چندے کے نام پر انھیں دیئے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی داؤد محسود ٹی ٹی پی کیلئے کراچی سے فنڈنگ کرتا رہا ہے، داؤد محسود قائد آباد کے علاقے کا ہی رہائشی ہے اور پولیس کا سابقہ اہلکار ہونے کی وجہ سے اسے علاقے کے بارے میں کسی بھی دوسرے ٹی ٹی پی کمانڈر سے زیادہ معلومات ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارت کاروں کے کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کالعدم سپاہِ صحابہ،لشکرِ جھنگوی اور تحریک طالبان سے روابط ہیں، وہ سی پیک منصوبے کو تباہ اور پاک چین تعلقات کو متاثر کرنا چاہتے تھے، ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی کے بعد اب بھارت نے ویانا کنونشن اور عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

زرائع کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے اپنے دفتر میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سفارت خانے کے 8 اہلکار، را اور آئی بی کے ایجنٹ، پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہیں، ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی کے بعد اب بھارت نے سفارتی آداب، ویانا کنونشن اور عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان میں اپنے کارندوں کے ذریعے تخریبی کارروائیاں کروا رہے تھے، بھارتی ہائی کمیشن میں تعنیات 8 اہلکار پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں، بھارت پاک افغان تعلقات کی خرابی پر بھی عمل پیرا تھا اور تجارتی سرگرمیوں کی آڑ میں اپنے کارندوں کا جال بچھا رہا تھا۔

نفیس زکریا نے نیوز بریفنگ میں یہ بھی کہا کہ بھارت پاکستانی سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں دراندازی کے ذریعے ہمارے قومی مفاد کو گزند پہنچانا چاہتا تھا، نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو حراست میں لے کر ہراساں کیا گیا، جو ویانا سفارتی کنونشن کی خلاف ورزی تھی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سفارت خانے کے اہلکاروں کو ویانا کنونشن کے تحت حراست سے سفارتی استثنٰی حاصل ہے، پاکستان ویانا کنونشن کا احترام کرتا ہے، بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات کمرشل قونصلر راجیش کمار اگنی ہوتری، فرسٹ سیکرٹری کمرشل انوراگ سنگھ، ویزا اتاشی امردیپ سنگھ، اسٹاف ممبر دھرمندرا، اسٹاف ممبر وجے کمار ورما، اسٹاف ممبر مادھون نندا کمار را کے ایجنٹ جبکہ فرسٹ سیکرٹری پریس بلبیر سنگھ، اسسٹنٹ پرسونل ویلفیئر آفیسر جیا بھالن، انڈین انٹیلی جینس بیورو کے اہلکار تھے، بھارتی اہلکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیئے جانے کے بارے معاملہ زیر غور ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے بہاولپورمیں کارروائی کے دوران دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کالعدم سپاہِ صحابہ کے 2 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔

زرائع کے مطابق ترجمان کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈٰ) نے بتایا ہے کہ سی ٹی ڈی لاہور نے بہاولپورمیں کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2 تکفیری دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ گرفتار تکفیری دہشت گردوں میں انعام اور عابد شامل ہیں جنہیں ہارون آباد بس اسٹینڈ سے گرفتار کیا گیا۔دونوں تکفیری دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت)سے ہے۔سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق تکفیری دہشتگردوں نے پلاسٹک کے بیگ میں بارود چھپا رکھا تھا اور وہ ہارون آباد بس اسٹینڈ کو دھماکے سے اڑانا چاہتے تھے، دہشت گردوں کے قبضے سے پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز سمیت دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )ڈیرہ اسماعیل خان میں محرم الحرام کا پہلا عشرہ پرامن گزرنے پر شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ تکفیری دہشتگردوں نے حاجی مورا سے 18 سالہ شیعہ نوجوان عامر حسین کو تشدد کے بعد فائرنگ کرکے شہید کردیا اور لاش کھیتوں میں پھنک کر فرار ہوگئے۔

زرائع کے مطابق شھید نوجوان عامر حسین پیشے کے اعتبار سے ٹیلر ماسٹر تھےاور امام بارگاہ کے نزدیک ہی دکان پر کام کرتے تھا۔ اطلاعات کے مطابق سید عامر حسین شاہ گزشتہ روز کام کی غرض سے دکان پر گئے، مگر رات گئے واپس نہیں آئے،جس کے بعد انکے عزیزو اقارب و دوست احباب نے انکی تلاش شروع کردی اور بلاآخر حاجی مورا کے علاقے میں واقع کھیتوں میں سید عامر شاہ کی تشدد شدہ لاش ملی ۔عینی شاہدین کے مطابق سید عامر حسین شاہ کے جسم پر انتہائی تشدد کیا گیا تھا اور بعد میں انکو جسم کے مختلف حصوں پر انتہائی قریب سے گولیا مارکر شھید کردیا گیا۔پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

زرائع کے مطابق سید عامر حسین شاہ ولد مولانا سید اقبال حسین شاہ جسمانی معذوری کا شکار ہونے کے باوجود امام بارہ کے قریب واقع اپنی دکان پر ٹیلر کا کام کرتے تھے۔اہلِ علاقہ کے مطابق شھید عامر حسین کو کالعدعم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی جانب سے متعدد بار دھمکیاں بھی دی گئیں تھی کہ وہ علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں بصورتِ دیگر انکو سنگین نتائج بھگتنے اور بعد ازاں جان سے مار دیئے جانے کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں لیکن عامر حسین بدستور بلاخوف و خطر اپنے معمولات میں مشغول رہے۔گزشتہ روز گیارہ محرم کو وہ کسی کام سے اپنی دوکان کی جانب گئے لیکن واپس نھیں آئے،گھر والوں کی تشویش کے بعد اہلِ علاقہ اور دوست احباب نے عامر شاہ کی تلاش کی اور بلاآخر عامر شاہ شھید کی تشدد شدہ لاش پاس موجود کھیتوں میں پائی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق سفاک تکفیری دہشتگردوں نے نوجوان عامر حسین شاہ کو پہلے انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر انکے جسم کے مختلف حصوں پر متعدد گولیاں مارنے کے بعد شھید کرکے انکی لاش کو کھیتوں میں پھینک کر فرار ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق شھید سید عامر حسین شاہ کی فیملی کے بیشتر افراد عاشور کی مناسبت سے ایران و عراق کی زیارات پر گئے ہوئے ہیں، جن کو سید عامر شاہ کی المناک شھادت کے حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )شہر قائد کے علاقے گڈاپ میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب رینجرز کے سرچ آپریشن کے دوران جہنم واصل ہونے والے کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ کے چاروں دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے۔

زرائع کے مطابق گڈاپ میں سندھ رینجرز کے ساتھ مقابلے میں واصلِ جہنم ہونے والے کالعدم سپاہِ صحابہ کے چاروں تکفیری دہشتگرد پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔ سندھ رینجرز کے مطابق کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر گڈاپ ٹاؤن میں رینجرز نے سرچ آپریشن کیا، کارروائی کے دوران تکفیری دہشت گردوں نے رینجرز اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ سے 4 تکفیری دہشت گرد مارے گئے۔ رینجرز کی جوابی کاروائی میں واصلِ جہنم ہونے والے کالعدم سپاہِ صحابہ کے چاروں تکفیری دہشتگردوں کی شناخت حبیب الرحمان، محمد حسین، علی مان شاہ اور گل سراب کے نام سے ہوئی ہے۔ مارے جانے والے دہشت گردوں سے ملنے والے ہتھیار پولیس کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کراچی کے علاقے گڈاپ میں سندھ رینجرز کی کاروائی میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

زرائع کے مطابق سندھ رینجرز نے خفیہ اطلاع ملنے پر گڈاپ میں کارروائی کی۔ رینجرز کی کارروائی کے دوران تکفیری دہشت گردوں نے رینجرز اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، رینجرز کی جوابی فائرنگ سے 4 دہشت گرد واصلِ جہنم ہو گئے۔ ترجمان رینجرز کے مطابق مارے جانے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) سے ہے۔ تکفیری دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد کی گئی ہے۔ کالعدم سپاہِ صحابہ کے مزید دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی پر علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ مارے جانے والے چاروں دہشت گردوں کی لاشیں اور اسلحہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔