تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) نوشہرہ کے قریب شیرآباد کے علاقے میں پولیس و سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن کے دوران کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ کا ایک دہشت گرد کمانڈر واصلِ جہنم ہوگیا ہے، جبکہ تین تکفیری دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

زرائع کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات پر پولیس اور ایلیٹ فورس نے مشترکہ طور پر سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن شروع کیا تو تکفیری دہشت گردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کی کارروائی سے ایک تکفیری دہشت گرد موقع پر ہی جہنم واصل ہوگیا جبکہ اس کے دیگر تین تکفیری دہشتگرد ساتھی اپنے آبائو اجداد کی پیروی کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ڈی آئی جی ذوالفقار حمید نے میڈیا کو بتایا ہے کہ جہنم واصل ہونے والا تکفیری دہشتگرد سعودی نمک خوار سفاک عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کا مقامی کمانڈر تھا، جس کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور 20 کلو دھماکہ خیز مواد ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقابلے کے دوران مارے جانے والے تکفیری دہشتگرد کمانڈر کے دیگر تین تکفیری دہشتگرد ساتھی فرار ہوگئے جن کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے اور جلد انہیں بھی گرفتار یا ہلاک کر دیا جائے گا۔

ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ مارا جانے والا تکفیری دہشتگرد کمانڈر اور اسکے فرار ہونے والے تینوں تکفیری دہشتگرد ساتھی پولیس اہلکاروں پر حملوں اور تحریبی کارروائیوں میں مطلوب تھے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں افغاں سرحد سے ملحقہ علاقوں میں آباد مقامی قبائل سعودی نمک خوار عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش اور دیگر تکفیری دہشتگرد گروہوںکے خطرے سے نمٹنے کے لیے سرحد پار افغانستان میں مقیم قبائل سے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔

زرائع کے مطابق کرم ایجنسی کی سرحدیں تین افغان صوبوں پکتیا، خوست اور ننگرہار سے ملتی ہیں اور ان علاقوں میں سعودی نمک خوار سفاک عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے اپنے قدم جمانے کی کوششیں شروع کر رکھی تھیں۔ کرم ایجنسی کے طوری قبائل کے ایک سرکردہ رہنما ملک نجیب طوری خیل نے میڈیا کو بتایا کہ حکام نے مقامی لوگوں کو اپنی حفاظت کے لیے انتظامات کرنے کا کہا تھا جو کہ وہ پہلے سے ہی کرتے آ رہے ہیں۔ علاقے میں پہلے تکفیری دہشتگرد گروہ طالبان کے دہشتگرد تھے، پھر القاعدہ کا گروہ آگیا اور اب پھر طالبان کا اثرورسوخ زیادہ ہو گیا ہے اور پھر درمیان میں سفاک تکفیری دہشتگرد گروہ داعش بھی آگیا ہے تو ان لوگوں سے خطرہ بتایا جا رہا ہے مگر ہمارے لوگ ڈرتے نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چند دن قبل کچھ مقامی لوگ افغانستان کھاد کی خریداری کے لیے گئے تھے کہ انھیں نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا جن کی بازیابی کے لیے بھی افغان سرحد پر آباد زازی قبائل سے بات چیت ہوئی۔ ان کے بقول اگر دونوں طرف کے قبائل کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنا لیں تو یہ پاکستان اور افغانستان میں امن کے لیے بہت نیک شگون ہو گا۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ اور قومی اسمبلی کے موجودہ رکن آفتاب احمد خان شیرپاؤ کہتے ہیں کہ یہ ایک سنجیدہ صورتحال ہے جس پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کافی سنگین خطرہ ہے اس طرف (افغانستان میں) عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش بھی ہے، طالبان بھی ہیں اور ان کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں ان کے بارے میں فوری اقدام کرنے کی ضرورت ہے حکومت پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیئے اور وہاں پر ایسے اقدام کرنے چاہیئں کہ اس خطرے سے نمٹا جا سکے۔ اس میں دونوں طرف کے قبائل کا بھی بہت اہم کردار ہے۔

افغانستان کی حکومت یہ کہتی ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے بین الاقوامی افواج کی مدد سے ان علاقوں میں آلِ سعود کے پالتو تکفیری دہشتگرد گروہ داعش اور طالبان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور داعش یہاں پسپا ہو رہی ہے۔ پاکستان میں سیاسی و عسکری عہدیدار بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ داعش کے خطرے سے آگاہ ہیں لیکن پاکستان میں اس سفاک تکفیری دہشتگرد گروہ کا کوئی منظم نظام موجود نہیںہے ،اور جو تکفیری دہشتگرد داعش کا نام استعمال کر رہے ہیں ان سمیت تمام تکفیری دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز بلا امتیاز کارروائیاں کر رہی ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )سربراہ پاک فوج جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن کا حتمی مقصد شہرمیں امن وامان کا مکمل قیام ہے کیونکہ اقتصادی ترقی اورمعاشی سرگرمیاں کراچی کے امن سے براہ راست وابستہ ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کور ہیڈ کوارٹرز کراچی میں سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں کورکمانڈر کراچی، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او اور ڈی جی رینجرز سندھ نے شرکت کی، اجلاس کے دوران آرمی چیف کو کراچی میں جاری آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ آرمی چیف نے رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت دیگر سیکیورٹی اداروں کی کامیابی کو سراہا اور سیکیورٹی فورسز کے لیے غیر متزلزل حمایت پر کراچی کے عوام کی بھی تعریف کی۔

آرمی چیف نے کراچی آپریشن کی کامیابی اوررفتارپراطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پرسکون اور پرامن ماحول کے ذریعے ملکی تعمیر و ترقی میں مدد کررہے ہیں، کراچی آپریشن کا حتمی مقصد شہرمیں امن وامان کا مکمل قیام ہے، شہر میں قیام امن کےلیے بھرپور توجہ سے کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ اقتصادی ترقی اورمعاشی سرگرمیاں کراچی کے امن سے براہ راست وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ آرمی چیف نے ایئروار کالج میں افسروں اور جوانوں سے خطاب بھی کیا، جس میں انہوں نے آپریشن ضرب عضب میں پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا اور عالمی معاملات،علاقائی سلامتی امور اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر شرکا کوآگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بری اور فضائی فوج کے درمیان ہم آہنگی قابل تعریف ہے،فضائی اور زمینی فورسز میں مطابقت کے باعث کئی اہداف حاصل کیے گئے، ہماری جنگ ہرقسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہے، دہشت گردی کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )قومی احتساب بیورو (نیب) نے سانحہ صفورا کے سہولت کار اور فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی کے وائس چیئرمین سلطان قمر صدیقی کے خفیہ اکاؤنٹس کی تلاش اور چھان بین شروع کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیب حکام نے ملزم کے تین ساتھیوں کو شاملِ تفتیش کرلیا ہے۔ تینوں افراد کا تعلق فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی سے ہے۔ فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی کے دو افسران حاجی ولی اور شاہد صدیقی نے نیب حکام کو بیان قلم بند کروا دیئے ہیں۔ دونوں افسران کو تفتیش میں مکمل تعاون کی یقین دہانی پر پانچ گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا۔ طلبی کے باوجود فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کا ایک افسر نیب کے روبرو پیش نہیں ہوا۔ نیب نے افسران سے سلطان قمر صدیقی کے غیر قانونی ذرائع آمدن اور اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کیں۔ طلب کئے گئے افسران سے ایف سی ایس ویلفیئر فنڈز میں 52 لاکھ روپے کے ہیرپھیر کی بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )بلجیئم نے اعلان کیا ہے کہ برسلز میں دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تکفیری دہشتگردوں نے فرانس میں ایک بار پھر بھی دہشت گردی کا پروگرام بنایا تھا۔

زرائع کے مطابق بلجیئم کی فیڈرل کورٹ نے اتوار کو ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ برسلز میں حملے کرنے سعودی نمک خوار تکفیری دہشتگردوں نے پہلے فرانس میں ایک بار پھر دہشت گردی کا منصوبہ تیار کیا تھا، لیکن اچانک تکفیری دہشت گردوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے برسلز میں حملوں کا فیصلہ کیا ۔

بلجیئم سے موصولہ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برسلز دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں جمعے کو گرفتار ہونے والے ایک تکفیری دہشتگرد نے، برسلز حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیرس واپس جاکے وہاں دہشت گردانہ حملہ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے بتایا کہ حملوں کے امکان کے تعلق سے تحقیقات میں تیزرفتار پیشرفت کے پیش نظر یہ فیصلہ بدل دیا گیا اور برسلز میں حملے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ بائیس مارچ کو برسلز میں آلِ سعود کے پالتو تکفیری دہشتگردوں کے حملوں میں بتیس افراد ہلاک اور تقریبا تین سو زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں کی تفتیش کے دوران، تفتیشی ٹیم کے ارکان کو معلوم ہوا کہ برسلز حملوں میں شریک تکفیری دہشت گرد، فرانس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں شریک افراد سے رابطے میں رہے ہیں۔

دوسری طرف جرمنی کے ایک اعلی سیکورٹی عہدیدار نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ سعودی و ترکی کا حمایت یافتہ عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش، جرمنی میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی کو تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی اس منصوبہ بندی کی معتبر رپورٹ ملی ہے ۔ انھوں نے اسی کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ اس رپورٹ کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیا گیا ہے اور ملک میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )گذشتہ روزبعد نمازِ جمعہ کراچی کے علاقے شفیق موڑ پرتکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ سے شدید زخمی اور بعد ازاں شھید ہونے والے نوجوان سید ہاشم رضوی کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔

زرائع کے مطابق گذشتہ روز مسجد و امام بارگاہ باب نجف بفرزون سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد گھر جانے والےسید ہاشم رضوی، انکے دوست سید علی سجاد اور انکے والد سید شاہد حسین کو اسلام دشمن، ملک دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں سپاہ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) اور لشکر جھنگوی کے تکفیری دہشتگردوں نے شفیق موڑ کے پاس نشانہ بنایا تھا ۔تکفیری دہشتگردوں کے حملے میں سید علی سجاد اور انکے والد سید شاہد حسین موقع پر شھید ہوگئے تھےجنکی نمازِ جنازہ گزشتہ رات مسجد خیرالعمل انچولی بلاک 20 میں ادا کردی گئی جبکہ دونوں شھداء کو وادئی حسینؑ قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا، جبکہ 25 سالہ نوجوان سید ہاشم رضوی شدید زخمی ہوگئے تھے جو کہ بعد ازاں زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے گزشتہ رات ہی عباسی شھید اسپتال میں شھید ہوگئے تھے۔ شھید سید ہاشم رضوی کا جسدِ مبارک گزشتہ رات مسجدِ خیرالعمل انچولی بلاک 20 منتقل کیا گیا جبکہ شھید کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ ظہرین مسجدِ خیرالعمل انچولی بلاک 20 میں ادا کردی گئی۔

اطلاعات کے مطابق شھید سید ہاشم رضوی کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ ظہرین مسجد خیرالعمل انچولی بلاک 20 میں علامہ محمد حسن کی اقتداء میں ادا کردی گئی۔شھید ہاشم رضوی کی نمازِ جنازہ کے موقع شھیدکے عزیز و اقارب کے علاوہ مجلسِ وحدتِ مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ سید حسن ظفر نقوی، مجلسِ وحدتِ مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل حسن ہاشمی،عسکری رضوی، علامہ ناظر عباس تقوی،جعفریہ لیگل ایڈکمیٹی کے سربراہ سید تصور حسین رضوی ایڈووکیٹ سمیت ہزاروں کی تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ بعد ازاں شھید کی تدفین وادئی حسین قبرستان میں کردی گئی۔

شھید سید ہاشم رضوی ابنِ سید نصیر رضوی اپنے بوڑھے والدین کے اکلوتے فرزند اور تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔شھید ہاشم رضوی نے کراچی یونیورسٹی سے اپلائیڈ فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ اپنے سبجیکٹ میں گولڈ میڈلسٹ بھی تھے۔اپنے کڑیل جوان فرزند کی خوں بھری لاش دیکھ کر بوڑھےباپ کی کمر ٹوٹ گئی اور ایک بوڑھی ماں اپنے حوش و حواس کھو بیٹھی ہےجبکہ اپنے اکلوتے اور کڑیل جوان بھائی کے خون آلود چہرے کو دیکھ کر شھید کی تینوں بہنیں شدتِ غم سے بے حال ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) آج بعد نمازِ جمعہ کراچی میں کالعدم تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے سید ہاشم رضوی زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے اب سے کچھ لمحوں قبل عباسی شہید اسپتال میں درجہ شھادت پر فائز ہوگئے۔

زرائع کے مطابق آج مسجد و امام بارگاہ باب نجف بفرزون سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد گھر جانے والے سید ہاشم رضوی، ان کے دوست سید علی سجاد اور ان کے والد سید شاہد حسین کو ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں سپاہ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) اور لشکر جھنگوی کے تکفیری دہشتگردوں نے شفیق موڑ کے پاس نشانہ بنایا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سید ہاشم رضوی اپنے دوست سید علی سجاد اور ان کے والد سید شاہد حسین کے ہمراہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد گھر واپس جارہے تھے کہ کراچی کے علاقے شفیق موڑ پر واقع نمک بینک کے سامنے پیچھے سے آنے والے موٹر سائیکل سوار سعودی نمک خوار تکفیری دہشتگردوں نے ان پر فائرنگ کردی، جس کے بعد تینوں دہشتگرد موقع سے فرار ہوگئے۔جائے وقوعہ پر موجود لوگوں نے تینوں افراد کو ایمبولینس کے زریعے عباسی شھید اسپتال منتقل کیا لیکن سید شاہد حسین اور انکے جواں سال فرزند سید علی سجاد موقع پر شھادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوگئے، جبکہ سید ہاشم رضوی سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئے تھے جن کو فوری طبی امداد کے لئے عباسی شھید اسپتال منتقل کردیا گیاتھا ، جہاں انکو انتہائی تشویشناک حالت میں آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا جہاں ڈاکٹرز سید ہاشم رضا کی جان بچانے کی جان توڑ کوششوں میں مشغول رہے لیکن سر میں گولی لگنے کی وجہ سے سید ہاشم رضا جانبر نا ہوسکے اور کئی گھنٹے تشویشناک حالت میں مبتلا رہنے کے بعد اب سے کچھ لمحوں قبل درجہ شھادت پر فائز ہوگئے۔جواں سال شھید سید ہاشم رضوی بوڑھے والدین کی اکلوتے فرزند اور تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔

اس قبل شفیق موڑ پر آلِ سعود کے پالتو تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ سے شھید ہونے والے سید شاہد حسین اور انکے جواں سال فرزند شھید سید علی سجاد کی نمازِ جنازہ اب کچھ دیر قبل بعد نمازِ مغربین مسجدِ خیرالعمل انچولی بلاک 20 میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجدعلی نقوی کی اقتداء میں ادا کردی گئی۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر شھداء کے عزیز و اقارب سمیت ہزاروں مومنین نے شرکت کی

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) آج بعد نمازِ جمعہ کراچی میں کالعدم تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ سے شھید ہونے والے سید شاہد حسین اور انکے فرزند سید علی سجاد کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔

زرائع کے مطابق آج مسجد و امام بارگاہ باب نجف بفرزون سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد گھر جانے والے سید شاہد حسین کو انکے فرزند سید علی سجاد اور ایک اور شیعہ جوان ہاشم رضوی کو ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں سپاہ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) اور لشکر جھنگوی کے تکفیری دہشتگردوں نے شفیق موڑ کے پاس نشانہ بنایا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سید شاہد حسین اپنے فرزند سید علی سجاد اور اسکے دوست ہاشم رضوی کے ساتھ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد گھر واپس جارہے تھے کہ کراچی کے علاقے شفیق موڑ پر واقع نمک بینک کے سامنے پیچھے سے آنے والے موٹر سائیکل سوار سعودی نمک خوار تکفیری دہشتگردوں نے ان پر فائرنگ کردی، جس کے بعد تینوں تکفیری دہشتگرد موقع سے فرار ہوگئے۔جائے وقوعہ پر موجود لوگوں نے تینوں افراد کو ایمبولینس کے زریعے عباسی شھید اسپتال منتقل کیا لیکن سید شاہد حسین اور انکے جواں سال فرزند سید علی سجاد موقع پر شھادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوگئے، جبکہ سید ہاشم رضوی سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئے تھے انکو فوری طبی امداد کے لئے عباسی شھید اسپتال منتقل کردیا گیا۔دونوں شھداء کے جسدِ مبارک قانونی کاروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیئے گئے جنھوں نے دونوں شھید باپ بیٹے کے جسدِ مبارک کو امام بارگاہ شہدائے کربلا انچولی بلاک 20 منتقل کردیا۔

شھید شاہد حسین اور انکے فرزند سید علی سجاد کی نمازِ جنازہ اب سے کچھ دیر قبل بعد نمازِ مغربین مسجد خیرالعمل میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی اقتداء میں ادا کردی گئی۔دونوں شھداء کی نمازِ جنازہ کے موقع شھداء کے عزیز و اقارب کے علاوہ پرمجلسِ وحدتِ مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل حسن ہاشمی،علامہ مبشر حسن،عسکری رضوی، علامہ عباس کمیلی، سلمان مجتبیٰ ، علامہ ناظر عباس تقوی،جعفریہ لیگل ایڈکمیٹی کے سربراہ سید تصور حسین رضوی ایڈووکیٹ سمیت ہزاروں کی تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ بعد ازاں دونوں شھداء کے جسدِ مبارک تدفین کے لئےوادئی حسین قبرستان روانہ کردیئے گئے جہاں دونوں شھداء کی تدفین عمل میں لائی جائے گی

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کراچی کے علاقے گلشنِ معمار میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں واصلِ جہنم ہونے والے تکفیری دہشتگرد محمد مجاہد عرف طلحہٰ کے بارے میں پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)کے اعلیٰ افسر کے اہم انکشافات سامنے آگئے۔

زرائع کےمطابق سی ٹی ڈی سندھ کے سربراہ ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے بتایا، 'مجاہد 1994 میں کراچی کے علاقے کورنگی میں پیدا ہو ا اور ایس ایم گرامر اسکول کورنگی میں آٹھویں کلاس تک تعلیم حاصل کی، 2005 میں اس نے مدرسہ عمر ابنِ خطاب کورنگی میں داخلہ لیا ، جہاں سے وہ 2008 میں حافظِ قرآن بن کر نکلا۔مجاہد نے بعد میں مدرسہ بیت الاسلام عزیز آباد میں داخلہ لیا جہاں اس کی ملاقات تکفیری دہشتگرد ضیاء الرحمٰن سے ہوئی، ضیاء نے مجاہد کو جہاد کی ٹریننگ اور اس کے بعد عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیے آمادہ کیا۔دسمبر 2012 میں ضیاء الرحمٰن، مجاہد کو تربیت کے لیے اپنے ساتھ میران شاہ لے گیا اور پھر فروری 2013 میں وہ کراچی واپس آگیا۔گلشنِ بونیر کا رہائشی تکفیری دہشتگرد ضیاء الرحمٰن، اگست 2015 میں داعش کے رہنما ازبک شہری عثمان غازی کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے قبل القاعدہ سے منسلک تھا۔

سی ٹی ڈی سندھ کے سربراہ ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی کے مطابق، 'مئی 2015 کے آغاز میں ضیاء نے الآصف اسکوائر، سہراب گوٹھ پر واقع ایک ہوٹل میں مجاہد کا تعارف تکفیری دہشتگرد کامران عرف موٹا سے کروایا، جہاں کامران نے خرچے کے لیے مجاہد کو 15 ہزار روپے دیئے اور ایک "لینوو" اسمارٹ فون دے کر اسے انڈرائیڈ ایپلیکیشن "زیلو" چلانا سکھائی جو فون میں پہلے سے موجود تھی۔وہ موبائل فون بعد میں مجاہد سے ایک اور تکفیری دہشتگرد سہیل عرف مہاجر نے لے لیا اور اسے دوسرا "ہواوے" موبائل دیا جس سے وہ رابطے میں رہے۔

سی ٹی ڈی چیف نے بتایا، 'جون 2015 میں مجاہد اور کامران عرف موٹا نے بلوچستان کے علاقے وادھ کا سفر کیا، جہاں وہ شفیق مینگل کے حجرے میں ٹھہرے۔وہاں اس کی ملاقات تکفیری دہشتگرد معاذ سے ہوئی، جس نے اسے کراچی میں اپنے لیے کام کرنے پر قائل کیا، جس پر مجاہد نے ہامی بھرلی اور کراچی واپس آگیا۔سی ٹی ڈی دستاویزات کے مطابق جولائی 2015 میں مجاہد نے ضیاء الرحمٰن کے ساتھ تربیت کے لیے ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے علاقے وادھ کا دورہ کیا ۔دستاویزات کے مطابق 'وادھ سے مجاہد کو 12-10 تکفیری دہشتگروں کے ساتھ پہاڑوں کے بیچ کہیں موجود تربیتی کیمپ لے جایا گیا۔بلوچستان میں 2 ہفتے قیام کے بعد وہ کراچی واپس آگیا اور سہیل عرف مہاجر سے قریبی تعلقات قائم کیے جس نے ایک ملاقات میں مجاہد کو 7000 روپے دیئے تھے۔اگست 2015 میں سی ٹی ڈی رپورٹ کے مطابق کامران عرف موٹا، مجاہد اور کچھ افراد کو ساتھ لے کر بلوچستان کے علاقے وادھ پہنچ گیا، جہاں انہوں نے عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش میں شمولیت کا عہد کیا۔

سی ٹی ڈی دستاویزات کے مطابق اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے یہ تکفیری دہشتگرد وادھ میں رہتے ہوئے کچھ نظریاتی اختلاف کی بناء پر دو گروہوں میں بٹ گئے۔تاہم اس تفریق کی نوعیت ابھی تک نامعلوم ہے۔اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ 'بابا جی کے نام سے مشہور ایک اور تکفیری دہشتگرد نےداعش کے ساتھ اختلافات پیدا کیے اور معاذ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا،جو حاجی صاحب کے گروہ سے منسلک تھا ۔بعد میں کامران عرف موٹا کو اپنے 6-7 تکفیری دہشتگردوں کے ساتھ وادھ سے نکال دیا گیا۔ اسی وجہ سے داعش کے کامران عرف موٹا اور حاجی گروپ کے معاذ کے راستے ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔

سی ٹی ڈی دستاویزات میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ان تکفیری دہشتگردوں کی شمالی وزیرستان ایجنسی ،میران شاہ اور وادھ بلوچستان میں یہ کہہ کر "برین واش" کی جاتی تھی کہ 'یہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امریکا کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں اور ان کے خلاف لڑنا جہاد ہے۔

1991 میں مالاکنڈ ایجنسی میں پیدا ہونے والا تکفیری دہشتگرد عبداللہ عرف کونا، 2009 میں کراچی آیا اور اُس نے چوکیدار اور مزدور کی حیثیت سے مومن آباد اور اورنگی ٹاؤن میں موجود مختلف فیکٹریوں میں کام کیا۔اُس نے ابتدائی تعلیم بھی حاصل نہیں کی اور وہ بھنگ کاعادی تھا، تاہم 2008 میں اس کی زندگی میں اُس وقت تبدیلی آئی جب وہ اپنے کزن تکفیری دہشتگرد رب نواز سے ملا، جو ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ تحریکِ طالبان سوات (ٹی ٹی ایس) سے منسلک تھا۔اس کے بعد وہ ضلع مالاکنڈ میں بٹ خیلہ آگیا، جہاں اس نے ٹی ٹی ایس کیمپ میں تربیت حاصل کی ۔ 2009 میں سیکیورٹی فورسز نے اس کیمپ پر حملہ کیا، لیکن تکفیری دہشتگرد بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اسی سال عبداللہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا، جس کے دوران 2 تکفیری دہشتگرد رضوان اور عمر مارے گئے۔

ایک اور مقابلے میں ایک تکفیری دہشتگرد واصلِ جہنم ہوا اور 3 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ سیکورٹی فورسز نے بعد ازاں تکفیری دہشتگرد وں رب نواز اور فیاض کو ایک مقابلے میں اسوقت جہنم واصل کیا جب وہ بٹ خیلہ کے ظفر پارک میں موجود تھے۔سیکورٹی فورسز نے تکفیری دہشتگرد عبداللہ کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، لیکن وہ اس وقت اپنے گھر پر موجود نہیں تھا۔ بعد میں اس نے اپنا آبائی شہر چھوڑدیا اور خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہوگیا۔

سی ٹی ڈی چیف ثناء اللہ عباسی کے مطابق عالمی تکفیری دہشتگرد داعش کراچی سمیت پورے سندھ میں اپنی جڑیں مظبوط کررہا ہے،سانحہ صفورا کا تذکرہ کرتے ہوئے ثناء اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ جسطرح صفورا واقعے میں گرفتار ہونے والے تعلیم یافتہ تکفیری دہشتگردوں نے انکشافات کیے ہیں اس سے اندازہ ہوتا کہ عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے کسطرح انتہائی خاموشی اور منظم انداز میں کراچی سمیت پورے ملک میں اپنا نیٹ ورک قائم کرلیا ہے۔سی ٹی ڈی چیف کا کہنا تھا کہ یہی وقت ہے کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت پاکستانی عوام کو وطنِ عزیز پاکستان میں موجود ان ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں باالخصوص عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش سے مقابلے کے لئے متحد ہوکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ایک سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ کراچی میں سعودی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے 2 درجن سے زائد فعال تکفیری دہشتگرد پائے گئے ہیں جو دہشت گردی کے بڑے حملوں کا منصوبہ بنارہے ہیں۔

زرائع کے مطابق گذشتہ رات گلشن معمار میں 2 تکفیری دہشتگردوں محمد مجاہد عرف طلحہ اور عبداللہ عرف کونا کی پولیس مقابلے میں واصلِ جہنم ہونے کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے سی ٹی ڈی کے ایس ایس پی جنید شیخ کا کہنا تھا کہ کراچی شہر میںعالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے 25 سے ذائد تکفیری دہشتگرد فعال ہیں جو غیرملکی اداروں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروںاور شاپنگ سینٹرز کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

زرائع کے مطابق جب ایس ایس پی جنید شیخ سے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے ملک میں عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی موجودگی کی تردید کے حوالے سے سوال کیا گیا تو جنید شیخ نے کہا کہ تکفیری دہشتگرد نظریاتی طور پر عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش سے منسلک اور صرف سوشل میڈیا کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں موجود تنظیم سے جڑے ہوئے تھے۔اُنہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ تکفیری دہشتگردملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت)، لشکرِ جھنگوی، تحریکِ طالبان پاکستان ، جنداللہ ، لشکرِ طیبہ اور القاعدہ سے منسلک رہ چکے ہیں، لیکن اب یہ عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں ۔