تازہ ترین

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت جب بھی رینجرز کی ضرورت ہوئی تو طلب کر لی جائے گی۔ کیس کی سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

زرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور پنجاب میں رینجرز تعینات نہ کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ اس دوران پنجاب حکومت نے رینجرز کی تعیناتی سے متعلق جواب جمع کرا دیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں جب بھی رینجرز کی ضرورت ہوئی، طلب کر لی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جواب جمع کرانے کیلئے مزید مہلت مانگ لی جس پر عدالت نے کی کیس سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) پنجاب میں کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کیلئے آپریشن ناگزیر ہے۔ سندھ میں آپریشن ہو سکتا ہے تو پھر صوبہ پنجاب میں تکفیری دہشتگردوںکے خلاف کارروائی میں کیا رکاوٹ ہے۔

زر ائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی پنجاب کے رہنما راؤ راحت علی خان نے سرگودہا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ نون لیگ کی حکومت کا کالعدم تکفیری دہشتگرد گرہوں کی پناہ گاہوں کو نظرانداز کرنے کا امتیازی رویہ عوام میں شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا تمام قومی اداروں کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنا آمرانہ طرز حکومت کا منہ بولتا ثبوت ہے، اسوقت کرپشن اور لوٹ مار کے خاتمہ کیلئے بنائے گئے ادارے بھی حکومتی کرپشن کا تحفظ کر رہے ہیں، لیکن تحریک انصاف کرپشن کے خلاف جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اسوقت حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں ملی بھگت سے قومی وسائل ہڑپ کر رہے ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عالمی میڈیا کے تاثر کے برعکس پاکستان ایک پرامن ملک ہے ہم نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے وہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جو افغانستان میں نیٹو کے 16 ممالک مل کر بھی حاصل نہ کرسکے۔

زرائع کے مطابق اسلام آباد میں پاک اٹلی تجارتی کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے عالمی میڈیا کے تاثر کے برعکس پاکستان ایک پرامن ملک ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں وہ کامیابیاں حاصل ہوئیں جو افغانستان میں نیٹو کے 16 ممالک نے بھی حاصل نہیں کیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے علاوہ توانائی بحران کی شدت بھی ختم کردی ہے پاکستان میں تجارت اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں ، پاکستان سرمایہ کاری کے لئے دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک ہے۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک میں وسطی ایشیائی ریاستیں، ترکمانستان اور ایران جیسے ممالک نے بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے، یہ منصوبہ خطے کی مارکیٹوں اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی مقامی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کوکسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا جب کہ قیام امن کے لیے صوبائی حکومت سے ہرممکن تعاون کیا جائے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کورہیڈ کوارٹر سدرن کمانڈ کا دورہ کیا جہاں کورکمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے آرمی چیف کا استقبال کیا جب کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔ ترجمان کے مطابق آرمی چیف کو بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جب کہ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔

پاک فوج کے سربراہ نے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کوکسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا جب کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں انٹیلیجنس اور سیکیورٹی اداروں سے تعاون کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچوں نے امن وامان کی بہتری کے لیے قربانیاں دی ہیں، سیکیورٹی اداروں ، عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی جب کہ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے صوبائی حکومت کو ہرممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
آرمی چیف نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبوں کو فول پروف سیکیورٹی دی جائے اور پسماندہ علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بھی مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )ایف سی نے خضدار میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئےکالعدم لشکرِ جھنگوی کے 10 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا جب کہ تکفیری دہشتگردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک ایف سی اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔

زرائع کے مطابق ایف سی نے ایک خفیہ اطلاع ملنے پر صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میںایک کاروائی کی، جس کے دوران ان کا تکفیری دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے ایک ایف سی اہلکار زخمی ہوگیا تاہم بعد میں مقابلے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے 10 تکفیری دہشت گردوں کوگرفتارکرلیا جن کے قبضے سے گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔سیکیورٹی زرائع کے مطابق گرفتار ہونے والے تکفیری دہشتگردوں کا تعلق ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ لشکرِ جھنگوی سے ہے اور یہ تمام دہشتگرد دہشتگردی کی مختلف کاروئیوں میں ملوث ہیں۔

گرفتار ہونے تکفیری دہشتگردوں کو سخت حفاظتی حصار میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان سے مزید تفتیش کی جائے گی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پاک فوج کے نومنتخب سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والےکالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے 4 سفاک تکفیری دہشت گردوں کی سزا کی توثیق کردی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 4 تکفیری دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی، ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات کی سماعت کی گئی، شواہد کی روشنی میں انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ سزا پانے والے چاروں تکفیری دہشت گردوں کا تعلق کالعدم سپاہِ صحابہ اور کالعدم لشکرِ جھنگوی سے ہے اور یہ تمام دہشتگرد عام شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور اے ایس ایف اہلکاروں کے قتل کے علاوہ کراچی ایئرپورٹ فورسز کے قافلے پرحملے میں بھی ملوث تھے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سزا پانے والے تکفیری دہشت گردوں نے مجموعی طور پر 58 افراد کو قتل کیا جب کہ گل زرین ولد گل شریف پولیس کانسٹیبل سرتاج کے قتل میں ملوث تھا جب کہ دیگر دہشت گردوں میں عطاالرحمان ولد فقیرمحمد، محمد صابر ولد الطاف گل اور فاروق بھٹی ولد محمد اسحاق شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق سزائے موت پانے والے تکفیری دہشت گرد کراچی میں سی آئی ڈی بلڈنگ، آئی ایس آئی آفس سکھر پر حملے میں بھی ملوث تھے جب کہ ایس ایس پی چودھری محمد اسلم کوبھی اِن ہی دہشت گردوں نے قتل کیا، اِن دہشت گردوں نے ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت 226 افراد کوحملوں میں زخمی کیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ پشین میں گزشتہ رات آپریشن کے دوران جہنم واصل ہونے والےکالعدم لشکرِ جھنگوی کے 5 تکفیری دہشتگرد سول اسپتال دھماکے میں ملوث تھے جن میں سانحہ کا ماسٹر مائنڈ بھی مارا گیا۔

زرائع کے مطابق کوئٹہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ پشین میں گزشتہ رات آپریشن کیا گیا جس میں کالعدم لشکرِ جھنگوی کے 5 دہشت گرد واصلِ جہنم ہوئے جب کہ تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 کانسٹیبل زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن میں ہلاک ہونے والے تکفیری دہشت گرد سانحہ 8 اگست میں ملوث تھے جب کہ دہشت گردوں میں سانحہ سول اسپتال دھماکے کا ماسٹر مائند جہانگیر بھی شامل تھا۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ کامیاب آپریشن سے سیکیورٹی فورسز کا مورال بلند ہوا ہے، مارے جانے والے تکفیری دہشت گردوں کو ’’را‘‘ کی سرپرستی حاصل تھی تاہم بلوچستان میں عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کا کوئی وجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ بلوچستان میں بدامنی پھیلاتی ہے، کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں سپاہِ صحابہ،لشکرِ جھنگوی اور دیگر تکفیری دہشتگرد گروہوں کو فنڈنگ کرتی ہے جب کہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ 8 اگست کو کوئٹہ کے سول اسپتال میں خودکش دھماکا ہوا تھا جس میں وکلا کی بڑی تعداد سمیت 73 افراد شھید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

تحریر: سید مجاہد علی

جھنگ کے ضمنی انتخاب میں سپہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی کے بیٹے مسرور نواز جھنگوی کی کامیابی جس کی راہ حکمران جماعت اور پیپلز پارٹی نے ہموار کی، سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں انتہا پسندی، فرقہ پرستی اور تشدد کے رجحان کو ختم کرنے کےلئے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ انتہا پسندانہ اور فرقہ پرستانہ خیالات کے حامل شخص کی کامیابی سے قومی ایکشن پلان ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا رویہ اختیار کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم جھنگ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 78 پر معتدل اور غیر مذہبی امیدواروں کی شکست سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں انتہا پسندی اور اس کے نمائندوں کے خلاف مل کر کام کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔

پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) سے روایتی سیاسی دشمنی نبھانے کے لئے اس نشست پر امیدوار کھڑا کرنا اور اس کی حمایت میں پرزور مہم چلانا ضرروی سمجھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کالعدم سپاہ صحابہ کے مولانا محمد احمد لدھیانوی کو تین روز قبل جب ہائی کورٹ نے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی تو انہوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنے ہم خیال مسرور نواز جھنگوی کے حق میں دستبردار ہونا مناسب سمجھا۔ اس طرح اعتدال پسندوں کے انتشار اور باہمی چپقلش کی وجہ سے ایک ایسا شخص کامیاب ہوا ہے جو بقول بلاول بھٹو زرداری قومی ایکشن پلان کو تباہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ملک میں سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کو برسر اقتدار میں آنے کے لئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے علاوہ ملک و قوم کے وسیع تر مفادات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

گزشتہ دو برس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اگرچہ یکساں قوت سے ان عناصر کو ختم کرنے کی بات کرتی رہی ہیں، لیکن یہ بھی مسلسل دیکھنے میں آیا ہے کہ سندھ اور کراچی میں رینجرز کی کارروائی پر پیپلز پارٹی سیخ پا ہوتی ہے اور جب پنجاب میں انتہا پسندی عناصر کے خلاف فوجی کارروائی کی بات کی جاتی ہے تو مسلم لیگ (ن) کسی نہ کسی طرح رکاوٹ بننے کی کوشش کرتی ہے۔اسی طرح فوج اور وفاق میں حکمران جماعت کے درمیان انتہا پسندی کے خاتمہ اور بھارت و افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ فوج کے نمائندے اور سیاستدان چونکہ کھل کر ان امور پر تبادلہ خیال نہیں کرتے، اس لئے مبصرین و تجزیہ کاروں کےلئے میدان کھلا رہتا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا کی صورت میں ملک میں آزادی اظہار کا انوکھا موقع بھی دستیاب ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے بیشتر چینلز اور ان پر نشر ہونے والے ٹاک شوز کے علاوہ اخباروں میں چھپنے والے کالم افواہ سازی کے اڈے بن چکے ہیں۔ ہر اینکر، مبصر، تجزیہ کار اور کالم نگار اپنی سیاسی و جذباتی وابستگی کی بنیاد پر ایک خاص طرح کی رائے سامنے لانے اور اسے ثابت کرنے کےلئے ’’مخصوص‘‘ ذرائع سے حاصل شدہ معلومات عام کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ تبصروں اور مبینہ درون خانہ اطلاعات کے اس ہجوم میں ملک کا شہری ہراساں اور بدحواس ہے اور انتہا پسند عناصر مسلسل معاشرے میں افتراق پیدا کرنے اور اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

قومی ایکشن پلان پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بھی موجود ہے لیکن یہ رائے بھی اتنی ہی شدت سے سامنے آتی ہے کہ قومی ایکشن پلان پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو رہا۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سرکردگی میں فوج کی طرف سے بھی یہ اعتراض اٹھایا جاتا رہا۔ جنرل راحیل شریف نے منگل کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتے ہوئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ حکومت بھی اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر دعوے کرتی ہے اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں بھی قومی ایکشن پلان کا راگ الاپ کر حکومت کو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔ لیکن جو مزاج اور رویہ اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، وہی دراصل ملک میں انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے۔یہ رویہ اصولوں سے بالاتر سیاسی مفادات کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اپنی صفوں سے ان عناصر کو نکالنے پر تیار نہیں جن سے انتخابی مہم کے دوران اعانت یا سیاسی فائدے کی توقع ہو۔

یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے کالعدم سپاہِ صحابہ اور کالعدم لشکرِ جھنگوی سے روابط کی خبریں عام ہونے کے باوجود، ان سے جوابدہی کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ اور اسی مزاج کی وجہ سے سندھ اور کراچی میں کارروائی کے دوران کبھی متحدہ قومی موومنٹ چیں بچیں ہوتی ہے اور کبھی پیپلز پارٹی احتجاج کرتی ہے۔ خیبرپختونخوا کی حد تک تحریک انصاف ان عناصر کی اعانت کرنے اور ان سے تعاون مانگنے میں کوئی برائی نہیں سمجھتی جو اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کےلئے انتہا پسندی اور تخریب کاری میں ملوث لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ملک کے سیاستدانوں کو اپنی ان کمزوریوں سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اہم قومی مسائل جن میں دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی اور بدعنوانی سرفہرست ہیں۔۔۔۔ کے خلاف کارروائی کےلئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے، تعاون کی راہ ہموار کریں اور خلوص نیت سے ان جماعتوں کو معاشرے سے ختم کرنے کی حکمت عملی تیار کریں۔

جھنگ میں ضمنی انتخاب کے دوران اس حلقے کی صورتحال سے آگاہ سب لوگوں کو خبر تھی کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے تصادم میں انتہا پسند امیدوار کامیاب ہو سکتا ہے۔

کالعدم سپاہِ صحابہ کا سرپرست مولانا محمد احمد لدھیانوی ہائی کورٹ سے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت ملنے سے پہلے مسرور نواز جھنگوی کی حمایت میں مہم چلاتا رہا تھا، حالانکہ یہ شخص آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب میں حصہ لے رہا تھا۔ جونہی مولانا لدھیانوی کو اندازہ ہوا کہ ان کے میدان میں آنے کی وجہ سے نہ وہ کامیاب ہوں گے اور ان کے ہم خیال شخص کی جیت بھی مشکل ہو جائے گی تو وہ فوری طور پر انتخاب سے دستبردار ہو گئے۔اس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اپنا اپنا جھنڈا اونچا رکھنے کےلئے ایک ایسے شخص کی کامیابی کی راہ ہموار کی جو واضح طور سے انتشار ، نفاق اور فرقہ واریت کا پرچار کرتا ہے۔

مسرور نواز جھنگوی کےباپ مولانا حق نواز جھنگوی نے 1985 میں سپاہ صحابہ کے نام سے ایک دہشتگرد تنظیم بنائی تھی جو ملک میں شیعہ و سنی آبادی کے خلاف نفرت پھیلانے کے علاوہ ان پر حملوں میں بھی ملوث رہی۔ اسی کی چھتر چھایا میں ملک اسحاق، ریاض بسرا اور اکرم لاہوری جیسے سفاک تکفیری دہشتگرد پروان چڑھے تھے۔ جنہوں نے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات میں ملوث کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ لشکرِ جھنگوی منظم کیا۔ یہی گروہ لشکرِ جھنگوی العالمی کے نام سے اب داعش کے ساتھ تعاون کر رہا ہے جو بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں میں بھی ملوث تھا۔اس پس منظر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اب پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب ہوا ہے۔

مسرور نواز بھی اپنے باپ حق نواز کی طرح ویسے ہی نظریات اور مذہبی عقائد کا پرچار کرتا ہے جس میں دوسرے عقائد کو مسترد کرتے ہوئے ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ اسی مزاج کو ختم کرنے کےلئے قومی ایکشن پلان پر اتفاق رائے کیا گیا تھا لیکن اس مزاج کے حامل لوگ ملک کے نظام میں علی الاعلان انتخاب جیتنے اور حکومت کے منصوبوں کا مذاق اڑانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

بیس نکاتی قومی ایکشن پلان کے بنیادی طور پر چار مقاصد ہیں۔ دہشت گردوں اور انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائی کےلئے ملک کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں میں تعاون پیدا کرنا، ملک سے مذہبی منافرت کی فضا ختم کرنے کےلئے اقدام کرنا، نفرت پھیلانے والے افراد یا تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کرنا اور ان کے مالی وسائل کا راستہ روکنا جبکہ اس کا چوتھا مقصد مدرسوں کی اصلاح ہے۔ مدرسوں کو ایک نظام کے تحت رجسٹر کرنے کے علاوہ وہاں پڑھائے جانے والے نصاب پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے قومی مقاصد سے ہم آہنگ کرنا اس کا حصہ تھا۔

قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے وفاقی حکومت کے علاوہ صوبائی حکومتوں کو بھی عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن عملی طور پر سیاسی پارٹیاں اور صوبائی و وفاقی حکومتیں ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر اور کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتی ہیں۔وفاقی حکومت ملک میں نفرت پھیلانے، فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والی تنظیموں یا افراد کے خلاف اقدام کرنے میں بھی ناکام رہی ہے اور اس حوالے سے دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔

جھنگ کا ضمنی انتخاب واضح کرتا ہے کہ ایک دوسرے کو مطعون کرنے کی بجائے ہر جماعت، لیڈر، حکومت اور ادارے کو اپنے حصے کا کام کرنے کی ضرورت ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم تکفیری دہشتگردوں کے خلاف ’نیشنل ایکشن پلان‘ اب ’نواز پلان‘ میں تبدیل ہوچکا ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ کرنے پر بلاول نے پارٹی ورکرز کنونشن میں حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’پلان پر جزوی عملدرآمد نے اسے نون لیگ کا ایکشن پلان بنا دیا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ ناکام ہوچکی ہے۔‘

زرائع کے مطابق لاہور میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے بچوں نے اپنی جانیں قربان کیں، تو دوسری جانب رائیونڈ کے نام نہاد معزز و بہادر لوگ اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ان تکفیری دہشت گردوں خلاف لڑنے حتیٰ کہ ان کے خلاف بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔‘بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’جب ہم بھی ان تکفیری دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہیں تو یہ حکمراں گھبرا جاتے ہیں اور جب ہم اس رویے سے تنگ آچکے تو ہم نے گو نثار گو کا نعرہ لگایا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’چوہدری نثار کے خلاف یہ نعرہ بلوچستان، خیبر پختونخوا یا وزیرستان میں نہیں بلکہ لاہور میں لگایا گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’وزیر داخلہ کے احتساب کے لیے آل پارٹیز کانفرنس میں متفقہ طور پر پارلیمانی قومی سیکیورٹی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن ہماری یہ مانگ پوری نہیں کی گئی۔‘چیئرمین پیپلز پارٹی نے حکومت کو تنبیہ کی کہ اگر ان کے مطالبات 27 دسمبر تک پورے نہ کیے گئے تو یہ نعرہ ’گو نواز گو‘ میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔


قبل ازیں قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کا صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ ’حکمرانو کے لیے تو جیسے کوئی کالعدم تنظیم ہے ہی نہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’حکمراں پہلے دن سے ان کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے ساتھ ہیں اور ان دہشتگرد گروہوںکی مدد سے ہی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ہیں۔‘سید خورشید شاہ نے کہا کے ان کے حالیہ دورے میں جھنگ کے مقامی لوگوں نے انہیں بتایا کہ کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ کے مشہور رہنما کے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ پارٹی کو فنڈ بھی دیتا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) پی پی 78 جھنگ کے ضمنی انتخابات میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگرد سرغنہ مسرور نواز جھنگوی کی کامیابی نے نواز حکومت باالخصوص وفاقی وزیرِ داخلہ اور نیشنل ایکشن پلان کی جانب سے ملک دشمن، اسلام دشمن تکفیری دہشتگرد عناصر کی سرپرستی کو آشکار کردیا ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے ترجمان اور سیکریٹری اطلاعات سید عرفان حیدر نے پی پی78 جھنگ کےانتخابی نتائج پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ ایک جانب تو نواز شریف کی کابینہ کے اہم رکن اور انتہائی اہم وزارت داخلہ کا قلمدان رکھنے والے چوہدری نثار ملک میں جاری دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان،کراچی آپریشن،کامبنگ آپریشن کا ڈرامہ رچاتے نھیں تھکتے تو دوسری جانب یہی وزیر داخلہ فورتھ شیڈول میں شامل کالعدم سپاہِ صحاکے دہشتگرد سربراہان اور دیگر دہشتگردوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں میں مصروف رہتے ہیں، اور ان خفیہ ملاقاتوں کے نتائج عوام دیکھتی ہے کہ فورتھ شیڈول میں شامل تکفیری دہشتگرد عناصر کو سرِ عام جلسے،جلوس ،ریلیاں منعقد کرنے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی جاتی ہی،باوجود اس کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار بذاتِ خود ان تکفیری دہشتگرد وں کہ جو فورتھ شیڈول میں شامل ہیں کی شہریت منسوخ کرنے انکے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور انکا قوم شناختی کار ڈ منسوخ کرنے کے احکامات جاری کرچکے ہوتے ہیں۔

عرفان حیدر کا کہنا تھا کہ یہ بات روزِ روشن کیطرح سے عیاں ہے ملک میں جاری دہشتگردی باالخصوص وطنِ عزیز کے شیعہ و سنی فرذندوں سمیت پاک افواج،ایف سی،پولیس،رینجرز اور حساس اداروں کے افسران اور جوانوں سمیت جی ایچ کیو ،پی این ایس مہران،آرمی پبلک اسکول،باچا خان یونیورسٹی حملوں میں یہی کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ اور مدارس ملوث ہیں کہ جن کے سربراہان کیساتھ چوہدری نثار خفیہ ملاقاتوں میں مصروف ہیں ۔وطنِ عزیز پاکستان میں دہشتگردی کے ہونے والے انتہائی المناک واقعات میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی مجرمانہ خاموشی اور منظرِ عام سے اچانک غائب ہوجانے کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں محسوس کیا گیا مگر محسوس نھیں کیا تو ملک و ملت کے دفاع کے دعویٰ کرنے والوں باالخصوص انھوں نے کہ جو یہ دعویٰ کرتے رہے کہ آپریشن ضربِ عضب،کامبنگ آپریشن،نیشنل ایکشن پلان نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے۔انھوں نےسوال کیا کہ کیا وجہ تھی کہ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف اور اہم حساس اداروں کے سربراہان نے حکومت وقت باالخصوص وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی ملک دشمن سرگرمیوں پر خاموشی اختیار کئے رکھی ؟ عرفان حیدر نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد شاید سب بڑا آپریشن کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کیا گیا کہ جس میں کراچی پولیس اور سندھ رینجرز کی جانب سے بڑی بڑی کاروائیوں کے نتیجے میں دہشتگردوں کی گرفتاریوں اور پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اسلحے کے زخیرے پکڑے جانے کی دعویٰ تو کئے گئے مگر اسی شہر کراچی کے سڑکوں پر سرِ عام جلسے،جلوس،ریلیوں کا انعقاد اور مجالس و جلوسِ عزاء اور عید میلادالنبی وﷺ کے جلسے جلوسوں پر حملے کرنے والے کالعدم دہشتگرد گرووہوں کے سفاک دہشتگردوںکے خلاف کاروائیاں نھیں کی گئیں ؟

عرفان حیدر کا مزید کہنا تھا کہ پی پی 78 کے ضمنی الیکشن میں فورتھ شیڈول میں شامل کالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے دہشتگرد سرغنہ مسرور نواز جھنگوی کی کامیابی نے یہ بات واضع کردی ہے کہ پاکستان میں نا ہی آپریشنِ ضربِ عضب بچا اور نا ہی نیشنل ایکشن پلان ذندہ رہا۔انھوں نے کہا کہ اب یہ وقت آگیا ہے کہ ملک کا قانون اور ملک کا نظام ان دہشتگردوں کو سونپا جا رہا ہے کہ جن کے اجداد نے اسی ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور اس ملک کے مظلوم عوام اور دفاع کرنے والے جوانوں کو سفاکانہ طریقے سے قتل کیا۔عرفان حیدر نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے عوام اب نا تو ان حکمرانوں کی عیاری کا شکار ہونگے اور نا ہی دہشتگردی کے خلاف آپریشن ضربِ عضب،نیشنل ایکشن پلان،کراچی آپریشن اور کامبنگ آپریشن کی کامیابیوں کے بلند و بانگ دعویٰ کرنے والوںکی چرم زبانی پاکستانی عوام کو بہلا سکے گی، بلکہ اب عوام اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کریں گے اور انشاء اللہ ان حکمرانوں کو انکے آخری انجام تک بھی پہنچائیں گے۔