تازہ ترین

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )شھید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی 29 ویں برسی کی مناسبت سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیرِ اہتمام 6 اگست بروز اتوار پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی "مہدیؑ برحق کانفرنس" میں شرکت کے لئے مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سینکڑوں ذمہ داران و کارکنان پر مشتمل قافلہ بذریعہ ٹرین اسلام آباد روانہ ہوگیا۔قافلے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں سمیت مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژں ضلع وسطی،ضلع شرقی،ضلع ملیر،ضلع غربی اور ضلع کورنگی کے ذمہ داران و کارکنان کی کثیر تعداد شامل ہے۔

زرائع کے مطابق شھید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 29 ویں برسی کی مناسبت سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیرِ اہتمام 6 اگست بروز اتوار پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں "مہدیؑ برحق کانفرنس" کا انعقاد کیا جا رہا ہے،جسمیں ملک بھر سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے لاکھوں زمہ داران و کارکنان سمیت دیگر شیعہ و سنی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان بھی شرکت کریں گے۔کانفرنس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری (حفظ اللہ) خصوصی خطاب فرمائیں گے۔کانفرنس سے خطاب کرنے والے دیگر رہنماؤں میں سنی اتحاد کونسل پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ حامدف رضا،پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکریٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور، پیر معصوم شاہ نقوی اور ڈاکٹر امجدعلی چشتی سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مرکزی قائدین خطاب فرمائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سینکڑوں ذمہ داران و کارکنان کا قافلہ مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سینئر رہنماؤں احسن رضوی اور جعفر زیدی کی قیادت میں اسلام آباد روانہ ہوگیا۔قافلے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ تنظیم سازی کے مرکزی کوآرڈینیٹر شفقت لانگاہ،مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے رہنماء ظہیر حیدر اور آصف صفوی سمیت مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی،ضلع ملیر،ضلع شرقی،ضلع غربی اور ضلع کورنگی کے ذمہ داران و کارکنان کی کثیر تعداد شامل ہے۔

مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کا وفد اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت دیگر مرکزی قائدین سے بھی خصوصی ملاقات کرے گا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) وطنِ عزیز پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے ملک دشمن، کرپٹ حکمرانوں کو نشانِ عبرت بنا کر وطنِ عزیز پاکستان اور اس کی عدلیہ کو ایک بار پھر زندگی عطا کی ہے۔پاکستان کی عوام اب وطنِ عزیز میں خون کی ہولی کھیلنے والے تکفیری درندوں اور انکے سہولت کاروں کے ہولناک انجام کی منتظر ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے ترجمان و سیکریٹری اطلاعات عرفان حیدر نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پانامہ کیس کے تاریخی فیصلے سنائے جانے کے بعد مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے دفتر سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں کیا۔عرفان حیدر کا کہنا تھا شریف خاندان پاکستان میں کرپشن کی اعلیٰ ترین اور منفی خصوصیات کا حامل خاندان ہے، اس خاندان کے بڑے، بچے بوڑھے جوان حتٰی کہ شریف خاندان کی خواتین بھی کرپشن میں اپنی مثال آپ ہیں، جس کی زندہ مثال اس خاندان کی چشم و چراغ مریم نواز ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے خلاف تمام الزامات اپنی جگہ ایک حقیقت رکھتے ہیں جو کہ قوم کے سامنے روزِ روشن کی طرح سے عیاں ہیں لیکن نا جانے کیا وجہ ہے کہ چند مخصوص سیاسی و مذہبی جماعتوں کے علاوہ ان کرپٹ حکمرانوں کے خلاف اس تندہی سے آواز بلند نا کی گئی کہ جس طرح اس سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ملک و ملت کا پیسہ لوٹ کر عیاشی کرنے والے حکمرانوں کے خلاف اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے تھا، تاکہ یہ بدبخت کرپٹ حکمران پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچتے اور نوبت یہاں تک نا آتی۔

عرفان حیدر نے اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وطنِ عزیز کو دیمک کیطرح کھا جانے والے شریفوں کو فقط نا اہل قرار نا دیا جائے بلکہ ان شرفاء کی جانب سے لوٹے گئے قوم و ملت کے پیسے کو وطن واپس لانے کا عملی اقدام کیا جائے تاکہ ملک میں خوشحالی آئے، بیروزگاری کا خاتمہ ہو،اور ان حکمرانوں کو سرِ عام تختہ دار پر لٹکا کر نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ پھر سے کوئی پانامہ کیس معرضِ وجود میں نا آئے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے ترجمان و سیکریٹری اطلاعات عرفان حیدر کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج وطنِ عزیز پاکستان میں معصوم لوگوں کے پاک لہو سے ہولی کھیلنے والے تکفیری دہشتگردوں اور ان کے سیاسی، سماجی، مذہبی، روحانی اور نظریاتی سہولت کاروں کا جلد اور فوری خاتمہ ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کو کرپٹ حکمرانوں اور تکفیری دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں نے ہر دن ناصرف خون کے آنسو رلایا ہے بلکہ ان آنسوؤں سے کہیں زیادہ خون بہایا ہے جس کا حساب ہونا ابھی باقی ہے، اور ملک و ملت کے مظلوم شھداء باالخصوص سانحہ آرمی پبلک اسکول، سانحہ پارا چنار، کوئٹہ و مستونگ کے سانحات اور کراچی سمیت ملک بھر میں شھید ہونے والے پاک افواج کے افسروں، جوانوں اور عام عوام کے قاتل سفاک تکفیری دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کے بھیانک انجام کے منتظر ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کے سیکریٹری جنرل زین رضا رضوی کے مستعفی ہونے اور بعد ازاں بحیثیت سیکریٹری خیرالعمل فاؤنڈیشن کراچی منتخب ہونے کے بعد مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کی شوریٰ کا اجلاس مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سیکریٹرل جنرل میثم عابدی کی صدارت میں منعقد ہ ہوا جس میں مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کے سابق سیکریٹری سیاسیات سید ثمر عباس زیدی بھاری اکثریت سے آئندہ دو سال کے لئے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے-

زرائع کے مطابق مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کی شوریٰ کا اجلاس مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سیکریٹرل جنرل میثم عابدی کی زیرِ صدارت ڈویژن آفس انچولی بلاک 20 میں منعقد ہ ہوا جس میں مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کےتمام یونٹس نے بھرپور شرکت کی، جبکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی کوآرڈینیٹر برائے تنظیم سازی شفقت لانگاہ خصوصی طور پر ضلعی شوریٰ کے اجلاس میں شریک ہوئے۔اس سے قبل مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کے نئے سیکرٹری جنرل کے لئے دو نام پیش کئے گئے، جن میں سابق ضلعی ڈپٹی سیکریٹری جنرل عسکری رضوی اور سابق ضلعی سیکریٹری سیاسیات سید ثمر عباس زیدی کے نام شامل تھے۔مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کی شوریٰ کے اراکین نے اکثریت رائے سےسید ثمر عباس زیدی کو آئندہ دو سال کے لئے سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی کوآرڈینیٹر شفقت لانگاہ نے نو منتخب سیکرٹری جنرل سے حلف لیا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے منتخب ہونے والے سیکرٹری جنرل سید ثمر عباس زیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انشاء اللہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں مستضعفین کے حقوق اور ظالموں کے خلاف ہر وقت میدان میں رہے گی۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کی شوریٰ کے اجلاس و تنظیم سازی میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی کوآرڈینیٹر شفقت لانگاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل میثم عابدی،ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مبشر حسن،ڈویژنل رہنماء سید زین رضا رضوی اور کاظم عباس کے علاوہ دیگر ضلعی رہنمائوں،ضلعی شوریٰ کے اراکین اور کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) ماہ صیام تزکیہ نفس کا مہینہ ہے اس مقدس مہینہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں صوم و صلوۃ کے ذریعے اپنی اندرونی کثافتیں صاف کرنے کا موقع عطا کرتا ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے وحدت ہاوس سولجربازار میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کہانہوں نے کہا اس ماہ مبارک میں ہمیں ایثار و قربانی کے جذبات کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔سحری و افطاری کے اوقات میں عزیز و اقربا کی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ان کا مزید کہان تھا جو لوگ رمضان کے دنوں میں چوربازاری اور خود ساختہ مہنگائی کرتے ہیں ۔وہ روزداروں کی مشکلات میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں ۔اس طرح کے اعمال روزہ کی قبولیت میں مانع ہیں۔ایسے لوگوں روزہ کے روحانی فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔

علامہ مقصود ڈومکی کا کہنا تھا کہ روزہ محض بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنے تمام اعضا کو غیر شرعی امور سے دور رکھنے کا نام ہے صبر، برداشت اور رواداری اس مقدس مہینے کے خصوصی انعام ہیں روزے کا حقیقی لطف ان انعامات کے حصول میں ہے اور یہ تبھی حاصل ہوتے ہیں جب نفس کے ساتھ جہاد میں ثابت قدمی اور استقامت اختیار کی جائے۔اس موقع پر صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانادوست علی سعیدی،علامہ نشان حیدر ،یقوب حسینی ، علی حسین نقوی عالم کربلائی ،آصف صفوی ،مولانا نقی حیدری ،شفقت لانگا۔حیدر زیدی،ناصر حسینی و دیگر بھی موجود تھے

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کا خاتمہ کیا جائے، ہر وہ آواز جس سے تفرقہ کی بو آئے دشمن کی آلہ کار ہے، علماء کرام اتحاد و وحدت کے پیغام کا پرچار کرکے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائیں، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر ملک کے اثاثوں پر حملے کرنے والے تکفیری دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کریں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل سید میثم عابدی نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر علامہ نشان حیدر ساجدی، علامہ علی انور جعفری، علامہ مبشر حسن، علامہ صادق جعفری، کاظم عباس اور میر تقی ظفر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ میثم عابدی نے شرکائے اجلاس گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے وطن سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کے خاتمے کیلئے متحد ہو،جہاں کرپشن ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے تو وہیں دہشت گردی کا شکار محب وطن عوام کو ظالموں کی صف میں کھڑا کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔

میثم عابدی کا مزید کہنا تھا کہ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دی جائے اور مظلوم کی داد رسی کی جائے، لیکن ہمارے ریاستی اداروں کا دستور ہی نرالہ ہے کہ بیلنس پالیسی کے نام پر محب وطن عوام کو دہشت گردوں کے برابر کھڑا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ریاستی ادارے پاکستان کی سلامتی چاہتے ہیں تو کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاکستان سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کا خاتمہ کریں۔ ایم ڈبلیو ایم کراچی کے سیکریٹری جنرل نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر ملک کے اثاثوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کریں، تاکہ وطن کو دہشت گردی سے نجات دی جاسکے، اور ملک کے باسی امن و سکون سے زندگی گزار سکیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام" لبیک یارسول اللہﷺ کانفرنس" باغِ مصطفیٰ گراؤنڈ لطیف آبادنمبر8 حیدر آباد میں منعقد ہوئی، جس میں سندھ بھر سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ہزاروں کارکنوں اور شیعہ سنی افراد کے علاوہ مسیحی برادری کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے سلسلے میں پنڈال میں کیک بھی کاٹا گیا۔کانفرنس سے شرکا نے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی،مذہبی و لسانی تعصب ، انتہاپسندی ،عدم رواداری اور تکفیریت کو وطن عزیز کی سالمیت و استحکام کے خلاف زہر قاتل اور سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ قومی وحدت کی جڑیں کمزور کرنے میں ان عوامل کا بنیادی کردار ہے۔ کانفرنس میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا،چرچ آف پاکستان کے مرکزی صدر و نامور مسیحی رہنما فادر ڈینئل فیاض، اصغریہ آرگنائزیشن کے صدر فضل حسین اصغری،پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ مرزا یوسف حسین جمعیت علما اسلام،آل پاکستان مسلم لیگ،جعفریہ الائس پاکستان ،قومی عوامی تحریک،انجمن نوجوانان اسلام کے رہنماؤں کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے رہنما بھی موجود تھے۔جنہوں نے اپنے خطابات میں اتحاد و اخوت کی ضرورت پر زور دیا۔

زرائع کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے زیرِ انتظام "لبیک یا رسول اللہ ﷺ کانفرنس " سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ارض پاک پر شیعہ سنی جھگڑے کا کوئی وجود نہیں۔مخصوص تکفیری گروہوں اسلام دشمن ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک میں تفرقہ بازی پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔کسی کے مقدسات کی توہین کی اسلام میں قطعاََ گنجائش نہیں۔ہمیں ایسی شر پسندی کا دانشمندی اور بصیرت سے مقابلہ کرنا ہوگا جو اسلام کے مضبوط بازوں شیعہ سنی طاقتوں کو آپس میں لڑا کر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے ایسے پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کی جس میں تمام مذاہب کو بلاتخصیص مکمل طور پر مذہبی آزادی حاصل ہو ۔کسی بھی مذہبی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا ناقابل معافی جرم ہے۔ہندووں ،مسیحیوں اور ملک میں بسنے والے دیگر مذاہب کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔حکومت کی طرف سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت ملک میں تکفیری گروہوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ سرعام تکفیریت کے فتوی جاری کر کے ملک میں انتشار اور نفرت کو فروغ دینے والے عناصر کو سیاسی دھارے میں شامل کرکے اس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کی جا رہی کہ پاکستان کی اکثریت انتہا پسندی کی حامی ہے۔جو عالمی سطح پر وطن عزیز کی ساکھ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ان ملک دشمن عناصر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ملک کی محب وطن جماعتوں کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔مختلف دہشت گرد تنظیمیں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر وحشیانہ طرز عمل کی مرتکب ہو رہی ہیں جن کا مقصد اقوام عالم کے سامنے اسلام کے تشخص کو بدنما کر پیش کرنا ہے۔ان عناصر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا مزید کہنا تھا کہ القائدہ، طالبان داعش سمیت تمام تکفیری دہشت گرد گروہ پیشہ وراجرتی قاتل ہیں۔ پاکستان میں موجود لشکر جھنگوی بھی انہی جماعتوں کی ایک شاخ ہے جس کی بیخ کنی کے بغیر امن و سلامتی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے نیشنل ایکشن پلان کو اخباری بیانات تک محدود کر رکھا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گرد طاقتوں کے سہولت کار نیشنل ایکشن پلان کو سرعام چیلنج کر رہے ہیں۔ کالعدم مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے دہشتگرد ساز فیکٹریاں کھول رکھی ہیں جبکہ حکمران ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کا دعوی کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام معتدل سیاسی و مذہبی جماعتیں ان عناصر کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ ملک امن و آشتی کا گہوارہ بن سکے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحا کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ حکومت نیشنل ایکشن پلا ن کے نام پر تکفیری دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ملک کی محب وطن مذہبی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی کی حکومتی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس ملک کی بقا نظام مصطفے ﷺ میں مضمر ہے جس کے لیے شیعہ سنی مسالک ایک پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔ مسیحی رہنما فادر ڈینئل فیاض نے کہا کہ ہم سب ملک کر تکفیریت کے خلاف صف آرا ہو سکتے ہیں ۔آج کے دن ہمیں اس عزم کا عہد کرنا ہو گا۔انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کے موقعہ میں مسیحی برادری اور مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔

لبیک یا رسول اللہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود ڈومکی کا کہنا تھا کہ لبیک یارسول اللہ ﷺ کانفرنس شیعہ سنی اخوت واتحاد کی مظہر اور تکفیری طاقتوں سے بیزاری و نفرت کا اظہار ہے۔اس مثالی اجتماع میں ہمیں تجدید عہد کرنا ہو گا کہ وطن عزیز کی بقا و سالمیت کے لیے تکفیری گروہوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔کانفرنس میں علامہ حیدر علی جوادی،جانی شاہ،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری علامہ احمد اقبال ، علامہ مرزا یوسف حسین ،مولانا غلام حر شبیری،علامہ مختار امامی،علامہ مقصود علی ڈومکی،علامہ دوست علی سیدی،علامہ باقر زیدی،علامہ نشان حیدر ساجدی،علامہ علی انور،علامہ مبشر حسن ،علامہ علی انور،علامہ احسان دانش،علی حسین نقوی،یعقوب حسینی ،آفتاب میرانی،الفت عالم کربلائی،فدا حسین شاہ،فرمان شاہ،قاسم جعفری ،فضل حسین نقوی ،جمیعت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی رہنماتاج محمد ناہیوں،تنظیمِ عزاء حیدرآباد کے رہنما علیم حیدر تقوی،کے علاوہ دیگر مذہبی وسماجی رہنما موجود تھے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) آج کا دن مسلمانوں اور مسیحی برادری دونوں کے لئے اہمیت کا حامل اور خوشی کا دن ہے،حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کر کے ہم دنیا بھر میں امن اور محبت کی شمع روشن کر سکتے ہیں،دنیا میں جابرانہ نظام کیخلاف عملی جدو جہد کے لئے انبیاء علیہماالسلام کی زندگیاں ہمارے لئے نمونہ عمل ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یوم ولادت پیغمبرخداحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور محسن ملت بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی یوم پیدائش کے موقع پرقوم کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں کیا۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ابنیاء کرام ؑ نے اپنی زندگیاں ظلم اور ظالمانہ نظام کے خلاف جدو جہد اور خدائے بزرگ و برتر کے حقیقی پیغام کو بنی نوع انسان تک پہنچانے کے لئے وقف کی،آج کے ظالم قوتوں کیخلاف اور مظلومین جہاں کی حمایت میں آواز بلند کرنے والے ہی انبیاء کرام ؑ کے حقیقی پیروکار ہیں،مسیحی برادری وطن عزیز میں بسنے و الے ہمارے بھائی ہیں،اور یوم ولادت پیغمبر خدا حضرت عیسی ؑ کی پرمسرت خوشیوں میں ہم ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں،پیغمبر خدا حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان کے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان مکمل نہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ حکمران اور سیاسی اشرافیہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار و نظریات سے کوسوں دور ہیں،آج کے دن قوم کو عہد کرنا ہوگا کہ ہم وطن عزیز سے اس طبقاتی نظام کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کر کے پاکستان کو قائد اور اقبال کے افکارو نظریات کے مطابق ایک اسلامی جمہوری ریاست بنانے میں عملی جد وجہد کریں،عدل و انصاف پر مبنی نظام مملکت کے بغیر معاشرتی تفریق اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں،پاکستان کو درپیش مشکلات اور تمام تر چیلنجز سے نجات قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کےزریں اصولوں کی پیروی میں پناہ ہے،موجودہ حکمران اور سیاسی اشرافیہ کی یہ کوشش ہے کہ اس فرسودہ طبقاتی نظام کے ذریعے ملکی وسائل اور عوام پر مسلط رہے،وقت آن پہنچا ہے کہ وطن عزیز پر مسلط خاندانی و مورثی سیاست کا خاتمہ کر کے صالح ،باکردار اور تعلیم یافتہ لوگوں کو منتخب کرکے ملک میں حقیقی تبدیلی کا آغاز کرے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) بحرینی بادشاہی حکومت کی جانب سے عوام پر مظالم انتہائی قابل مذمت ہیں ۔پاکستان کو چاہئے کہ وہ بحرینی شہنشاہیت کی جمہوریت نواز اور حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے عوام پر ظلم وستم میں مددگار نہ بنے ، بلکہ ایک ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے بحرینی حکومت اورعوام کے درمیان مسائل کے حل کے لئے سہولت کار کا کردارادا کرے۔ سیکورٹی گارڈز کے نام آل خلیفہ کی خواہش پر بحرینی عوام پر مظالم کے لئے پاکستانیوں کو کرائے کا فوجی مت بنایا جائے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی نے بحرینی ا پوزیشن چینل اللؤلؤۃ ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ناصر عباس شیرازی کا کہنا تھا کہ جس طرح بحرینی آمرانہ حکومت بحرینی عوام کے ساتھ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی پر پابندی جیسے عوام دشمن اقدامات کر رہی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی اور ان ظالمانہ اور جابرانہ ا قدامات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ بحرین میں بد ترین انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیداروں کی خاموشی کے پس پردہ ان کے اپنے مفادات ہیں جن کے حصول کے لئے وہ آل خلیفہ حکومت کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرتی آئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرز عمل نے استعماری طاقتوں کے دہرے معیار کو مذید عیاں کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد مسلمان حکمرانوں کی جانب سے نماز جمعہ پرپابندی مذہبی آزادی کے اسلامی ا ور بین الاقوامی قوانین کی بدترین مثال ہے جس کی اسلامی تاریخ میں بھی کوئی مثال نہیں ملتی ۔

ناصر شیرزای نے کہا کہ ایک طرف بحرینی بادشاہت اصل بحرینیوں کی شہریت منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کر رہی تھی تو دوسری جانب غیر ملکیوں کو شہریت دینے کے عمل کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہے تا کہ وہ بحرین پر اپنے غاصبانہ اقتدار کو دوام دے سکے، عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آل خلیفہ کی عوام دشمن پالیسوں کی سخت مزمت کرتے ہیں۔ انہوں نے بحرینی عوام کی پرامن جد جہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی بھی کیا۔ ایک سوال کے جواب میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ اظہار رائے کا حق اور مذہبی آزادی آفاقی اور بین الاقوامی ہر شخص کا ایسا پیدائشی اوربنیادی حق ہے جن کی عالمی سطح پرمسلمہ انسانی حقوق میں ضمانت دی گئی ہے ۔ان کی خلاف ورزی تمام آسمانی ور اور زمینی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ آل خلیفہ حکومت کی جانب سے عائد کردہ ان پابندیوں کے خلاف بحرینی عوام کو عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکٹا نے کا پورا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ بنیادی محور ہے کہ وہ مسلم ممالک کے تنازعات میں غیر جانبدار رہ کر ان ایشوز کو حل کرنے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کر ے۔ پاکستان کو بحرینی حکمرانوں اور عوام کے جمہوری حقوق اورسماجی انصاف کے معاملے پر دونوں فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنا چاہئے نہ کہ پاکستانیوں کو آل خلیفہ کی منشا پر بحرینی عوام پر ظلم وستم توڑنے کے لئے سیکورٹی گارڈز کی صورت میں کرائے کے فوجی فراہم کرے ۔ انہوں نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانیوں کو آل خلیفہ کی ایماء پر بحرینی عوام پر مظالم کے لئے بھیجنے کا سلسلہ بند کرے کیونکہ ایسا کرنا بذات خود آل خلیفہ شہنشاہیت کے مظالم میں حصہ دار بننے کے مترادف ہے ۔

انہوں نے بحرینی انتہائی معتبر مذہبی شخصیت آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخی اور ان کو جبری طور پر ملک بدر کرتے کی حکومتی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شیخ عیسی ٰقاسم وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بے پناہ مظالم کے باوجود بحرینی عوام کو قانون ہاتھ میں لینے سے سختی کے ساتھ روک رکھا ہے اور انہیں پر امن جدوجہد کی ہمیشہ ترغیب دی ہے ۔ اس طرز عمل پر حکومت کو ان کا شکر گزار ہونا چاہئے تھا مگر انہوں نے الٹا شیخ عیسیٰ قاسم کو ہی اپنے مشق ستم کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔

ناصر شیرازی کا کہنا تھا کہ دنیا کی کوئی حکومت تنقید سے مبرا نہیں ہے آزادی رائے کی آزادی دنیا کے ہر قانون بشمول اسلامی اوربین الاقومی قوانین جس میں اجازت ہے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے ۔ اور یہ حق شیخ عیسیٰ قاسم کا بھی حاصل ہے ۔ کسی بھی شہری کا حق شہریت منسوخ کرنا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی خلاف ورزی ہے بلکہ تمام بین الا قومی قوانین کے بھی خلاف ہے ۔ اور پھر ایک ایسی شخصیت جو کہ عوام کے دل و جان میں بستی ہو ان کی شہریت منسوخ کرنا جان بوجھ کر عوام کو بند گلی میں دھکیلنے کے مترادف ہے جو ہر لحاظ سے قابل مذمت فعل ہے اورعالمی برادری کو اس پر خاموش نہیں رہنا چاہئے ورنہ ان کے بارے میں انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بعض عوام کے اندر بچا کچھ تاثر بھی ختم ہو جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ بحرینی عوام کی جدو جہد اس لحاظ سے قابل فخر ا ور قابل ستائش ہے کہ نہ ختم ہونے والے شاہی مظالم کے باوجود ا نہوں نے صبر اورا ستقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور پرامن جدو جہد ترک کر کے عسکریت پسندی یا تشدد کو نہیں اپنایا ، یہ ایک آئیڈیل جدو جہد ہے جسے ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاآل خلیفہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیںبلکہ وہ ہمیشہ اپنے آقاوں امریکہ اسرائیل اور برطانیہ کے خیر خواہ رہی ہے ۔ ایریل شیرون کی آخری رسومات میں شرکت کر کے آل خلیفہ نے ثابت کردیا ہے کہ ان کا مظلوم فلسطینیوں کے مسائل یا عالم اسلام کے کاز سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔انہیں اسلام یا مسلمانوں سے کوئی ہمدردی یادلچسپی نہیں ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما ناصرعباس شیرازی نے بحرینی حکومت کی جانب سے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت الوفاق پر پابندی اور الوفاق کے سربراہ ممتاز عالم دین شیخ علی سلمان کو بے بنیاد الزامات کے تحت سنائی گئی سزا کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان کے فوری اور غیر مشروط رہائی اور ان کے خالف سیاسی انتقام کے تحت بنائے گئے مقدمات واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی کا صوبائی سیکرٹریٹ لاہور میں اہلسنت جماعتوں کے رہنماؤں پیر عثمان نوری سنئیر نائب صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب ،محسن گیلانی رہنما نوری فاونڈیشن پاکستان،علامہ جاوید اکبر ثاقی چیئرمین تحریک وحدت اسلامی پاکستان،ڈاکٹر امجد چشتی جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے پاکستان نیازی گروپ سے ملاقات کی۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی اور اہلسنت جماعتوں کے رہنماؤں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ پنجاب کے سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا ۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان پنجاب کے صوبائی سیکریٹریٹ میں اہلسنت علماء نے ماہ مبارک ربیع الاول میں شیعہ سنی وحدت کے بے مثال عملی اقدامات پر مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا شکریہ ادا کیا،اہلسنت علماء کرام نے موجودہ ملکی صورت حال اور مشرقی وسطی میں تکفیریوں کے شکست پر پاکستان میں داعش اور تکفیریوں کے ہمدروں کے پروپیگنڈے کی بھر پور مذمت کی۔

اہلسنت رہنماؤں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت دیگر قیادت کی جانب سے اتحاد امت کے لئے کوششوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں انشااللہ شیعہ سنی مل کر تکفیریوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیں گے۔اہلسنت رہنماؤں نے یمن کے سمندری حدود میں پاکستانی بحری عملے پر سعودیوں کی حملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کی خاموشی کو قابل تشویش قرار دیا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی سفیر کو طلب کرکے بے گناہ پاکستانیوں کے قتل پر آل سعود سے احتجاج کرے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )سرور کائنات حضرت محمد مصطفے ﷺ کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لیے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام لبیک یارسول اللہﷺ کانفرنس کا انعقاد آج 25دسمبربروز اتوار لطیف آبادنمبر8 حیدر آباد میں ہو گا جس میں سندھ بھر سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے کارکنان سمیت شیعہ و سنی عوام لاکھوں کی تعداد میں شرکت کریں گے۔ شیعہ سنی علما ،اکابرین اور مقتدر شخصیات بھی اس پرنور محفل کا حصہ ہوں گے۔

زرائع کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی کا کہنا ہے کہ لبیک یارسول اللہ کانفرنس اتحاد و اخوت کا عملی اظہار ہو گی۔کانفرنس کے انعقاد کا مقصد رحمت العالمین کے درس اخلاق کی موجودہ دور میں اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں تمام مسالک کے مابین وحدت و اخوت اور رواداری کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔اسلام دشمن قوتیں امت مسلمہ کی دو مضبوط طاقتوں شیعہ اور سنی کے مابین اختلاف پیدا کر کے رسول ﷺ کے دین کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔دنیا بھر میں جاری دہشت گردی کا تعلق اسلام سے جوڑ کر اسلامی تشخص کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ہم رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنا کر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اسلام کے لبادہ اوڑھ کر معصوم افراد کے گلے کاٹنے والوں کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔یہ مکروہ دہشت گرد صیہونی اورنصرانی ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف پیشہ ور قاتل ہیں۔

علامہ مختار امامی کا مزید کہنا تھا کہ ارض پاک پر ہونے والی دہشت گردی کے واقعات اور لاقانونیت عدم تحفظ کے احساس کو تقویت دے رہے ہیں۔عوام کے اندر پیدا ہونے والی اس مایوسی کا سبب نا اہل حکمران ہیں۔جنہوں نے ملک کو داخلی اور خارجی سطح پر کمزور کیا ہے۔دنیا میں عالم اسلام کے باوقار مقام کے لیے تعلیمات اسلامی کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا لبیک یارسول اللہ ﷺ کانفرنس حیدر آباد کی تاریخ میںسنہرے لفظوں سے لکھی جائے گی۔

علامہ مختار امامی کا کہنا تھا کہ حیدرآباد میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے زیرِ اہتمام منعقدہ "لبیک یا رسول اللہ ﷺ" کانفرنس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے دیگر مرکزی و صوبائی قائدین کے علاوہ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا بھی خصوصی خطاب فرمائیں گے۔