تازہ ترین

رپورٹ: ایس ایم عابدی

سندھ اپیکس کمیٹی نے اپنے بیسویں اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ 270 قیدیوں بشمول 19 انتہائی خطرناک قیدیوں کو سینٹرل جیل کراچی سے صوبے کی مختلف جیلوں میں منتقل کیا جائیگا، انہیں ہائی سیکیورٹی قیدی قرار دیدیا گیا ہے اور ان قیدیوں کو آئندہ 10 دنوں میں صوبے کی دیگر جیلوں میں منتقل کردیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری زمینوں پر قائم ایک ہزار مدارس کے کاغذات، این او سیز وغیرہ کی چھان بین کی جائے گی اور کسی بھی مدرسے کو مرکزی شاہراہوں پر تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں 10 مزید کیسز بشمول امجد صابری ملٹری کورٹس کو بھیجنے کی منظوری دی گئی۔ صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن، ڈی جی رینجر میجر جنرل محمد سعید، صوبائی سیکریٹری داخلہ و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ کراچی سینٹرل جیل میں 270 خطرناک قیدی ہیں ان میں سے 19 انتہائی خطرناک ہیں اور یہ مختلف طریقوں سے اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انہیں آئندہ 10 دنوں میں صوبے کی دیگر جیلوں میں منتقل کردیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مقدمات ملٹری کورٹس کو بھیجے، اس مقصد کے لئے محکمہ قانون اور داخلہ اپنے مقدمات کی جانچ پڑتال اور جائزہ لینے کے بعد ضروری کاغذات کے ساتھ انہیں ملٹری کورٹس کو بھجیں۔ اجلاس میں صوبے میں مدارس میں ہونے والے اضافے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تقریباً ایک ہزار مدارس غیر قانونی طور پر سرکاری زمینوں پر قائم ہیں اور فیصلہ کیا گیا کہ ان ایک ہزار مدارس کے کاغذات، این او سیز وغیرہ کی چھان بین کی جائے گی اور کسی بھی مدرسے کو مرکزی شاہراہوں پر تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور آئی کہ گزشتہ 3 سے 4 برس کے دوران 60 مدارس تھر پارکر میں قائم کئے گئے جبکہ علاقے کی آبادی کی اکثریت ہندوؤں کی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تھر میں یہ مدارس کیوں قائم جارہے ہیں اور یہ ایک سوال طلب معاملہ ہے اور اس حوالے سے خدشات بھی موجود ہیں، لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ محکمہ داخلہ غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے مدارس کی تحقیقات کرے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گھوٹکی میں 3 مدرسے ہیں جنہیں سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر قائم کرنے پر نوٹس دیئے گئے ہیں۔

اپیکس کمیٹی میں کالعدم تنظیموں جو کہ نئے ناموں کے ساتھ کام کررہی ہیں پر بھی غور کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں، پولیس اور رینجرز ایسے کیسز کی تحقیقات اور ضروری کارروائی کریں گی۔ اجلاس میں بڑھتے ہوئے سائبر کرائم کے کیسز پر بھی غور کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ سائبر کیسز کی تحقیقات اور رجسٹر کرنے کے حوالے سے وفاقی حکومت (ایف آئی اے) سے اختیارات طلب کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی پولیس سیٹ اپ کو صرف شیڈول کیسز نہیں بلکہ اسے ایسے کیسز میں بھی کام کرنے کی مہارت کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سائبر کرائم ڈیٹیکشن سسٹم میں سرمایہ کاری کی جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دہشت گردوں کا ڈیٹا جمع کیا جارہا ہے۔ سندھ پولیس، پنجاب پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، مجرموں کے ریکارڈ کی شیئرنگ جاری ہے اور ریکارڈ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس بات کا فیصلہ اٹھارہویں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

اجلاس میں پولیس اہلکاروں کے حالیہ بڑھتے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر بھی غور کیا گیا، وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسے لازمی طور پر بند ہونا چاہیئے اور اس پر بہتر طریقے سے کام کیا جائے۔ اس پر اجلاس کو ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس نے بتایا کہ وہ پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث گینگ کو ختم کرنے کے بہت قریب ہیں۔ اجلاس میں کچے کے علاقے میں مجرموں کے آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے لئے وزیراعلیٰ سندھ پہلے ہی منظوری دے چکے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس حوالے سے فضائی سپورٹ، اضافی فورس جو کہ پولیس رینجرز اور آرمڈ فورسز کے اہلکاروں پر مشتمل ہوگی مدد لی جائے۔ اس حوالے سے آپریشن کو ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس حتمی شکل دیں گے۔ اجلاس میں مقبروں کی سیکیورٹی کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حضرت لعل شہباز قلندر اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مقبروں کو مطلوبہ پولیس فورس کی تعیناتی اور واک تھرو گیٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر کے محفوظ بنایا گیا ہے۔ دیگر مقبروں پر بھی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کا عمل جاری ہے۔

اجلاس میں شہر میں اسٹریٹ کرائمز پر بھی غور کیا گیا اور وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسٹریٹ کرمنلز کا لازمی طور پر خاتمہ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے اے جی سندھ کو ہدایت کی کہ وہ اسٹریٹ کرمنلز کے مقدمات کے حوالے سے چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ کے ساتھ بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے کیسز بھی انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت خصوصی عدالتوں میں چلنے چاہئیں، لہٰذا اے جی سندھ کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ اس حوالے سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے بات کریں۔ ڈی جی رینجرز نے اجلاس کو بتایا کہ انہوں نے 450 اسٹریٹ کرمنلز کو پولیس کے حوالے کیا اور پولیس نے بھی ایک بڑی تعداد میں اسٹریٹ کرمنلز کو گرفتار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ سے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے لہٰذا اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ اجلاس میں کاروں، موٹر سائیکلوں میں سمیں لگانے اور موبائل فون میں ٹریکنگ سسٹم کی ایکٹیویشن کے حوالے سے اقدامات پر غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے مینو فیکچررز کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کئے ہیں اور چند نے اس حوالے سے آمادگی بھی ظاہر کی ہے، مگر ابھی بھی انہیں قائل کرنے کے حوالے سے کچھ وقت درکار ہے اور جہاں تک موبائل فون کا تعلق ہے تو اس میں سسٹم موجود ہے، جس کے ذریعے انہیں بلاک اور تلاش کیا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں لینڈ گریبنگ کے معاملے پر غور کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ شہر میں ایک منظم جرم ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ سرکاری اور نجی املاک کو تحفظ فراہم کریں اور اگر ایک زمین کے کئی دعوے دار یا متعدد کاغذات سامنے آجائیں تو ان کی بورڈ آف ریونیو کی آٹو میشن برانچ سے تصدیق کرلی جائے۔ اجلاس میں 10 مزید کیسز بشمول امجد صابری ملٹری کورٹس کو بھیجنے کی منظوری دی گئی۔ ان 10 کیسوں میں عاصم کیپری، اسحاق بوبی، سمیع اللہ اور دیگر گروپس نامزد ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ حکومت نے 90 کیسز ملٹری کورٹ کو بھیجے ہیں جن میں سے 37 کیس ملٹری کورٹ میں چل رہے ہیں، جن میں 21 مقدمات میں سزا ہوچکی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت کی سفارشات پر وزارتِ داخلہ نے 69 تنظیموں کو شیڈول ون میں رکھا ہے۔ صوبائی حکومت نے 573 افراد کو شیڈول 4 میں رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ شیڈول 4 پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 7095 افغان پناہ گز ینوں کو واپس بھیجا گیا ہے۔ 3135 غیر قانونی افغانیوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں، 5073 غیر قانونی طورپر مقیم افغانیوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 888 افغانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق پشاور میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں سعودی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش ملوث ہے ،تاہم ایک منصوبے کے تحت کالعدم تحریک طالبان کے دھڑے جماعت الاحرار ان واقعات کی ذمے داری قبول کرتی آ رہی ہے۔ داعش کے سہولت کار اور دہشتگرد پیغام رسانی کیلئے سب سے محفوظ طریقہ ٹیلی گرام استعمال کرتے ہیں۔

زرائع کے مطابق چند ماہ پہلے تک کوئی بھی انٹیلی جنس ادارہ بشمول وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار عالمی تکفیری دہشتگرد داعش کے پاکستان میں وجود کو تسلیم نہیں کرتا تھا تاہم اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔انٹیلی جنس اداروں کے مطابق اس وقت سعودی دہشتگرد گروہ داعش کے کئی درجن سہولت کاروں کو کہ جن میںکالعدم سپاہِ صحابہ اور کالعدم لشکرِ جھنگوی اور دیگر تکفیری دہشتگرد گروہوں کے کئی مقامی رہنماء بھی شامل ہیں انٹیلی جنس بیورو، سی ٹی ڈی سمیت کئی دیگر اداروں کی تحویل میں ہیں،ان سے کی جانے والی تفتیش کے مطابق سعوی دہشتگرد گروہ داعش پشاورکے سربراہ کا تعلق شہرکے نواحی علاقے متنی سے ہے جو مبینہ طورپرآفریدی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے۔عام طور پر 5 یا6 افراد پر متشمل گروپ ہوتا ہے۔داعش کیلئے کام کرنے والے افراد میں سبزی فروش، موچی تک شامل ہیں جو آمدورفت اور ریکی کیلیے رکشاو ٹیکسی استعمال کرتے ہیں، ان کو ماہانہ کی بنیاد پر 20سے 35 ہزار روپے تک دیے جاتے ہیں، یہ افراد پیغام رسانی کیلیے میسجنر، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع کے بجائے سب سے محفوظ طریقہ ٹیلی گرام استعمال کرتے ہیں اور اس وجہ سے داعش کے ذمے دار افراد کی نگرانی یا گرفتار کرنا مشکل کام ہے۔

انٹیلی جنس اداروں کے مطابق گلبہار، پھندو، پتنگ چوک فقیرآباد اور یکہ توت کے علاقوں میں ان کے سلیپنگ سیل موجود ہیں اور یہی سیل شہر میں پولیس، فورسز سمیت دیگر سرکاری اہلکاروں و شخصیات اور اہلِ تشیع کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔خفیہ اداروںنے داعش کا ایک گروہ پکڑا ہے جس سے تفتیشی ٹیموں کو اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔اسی گروپ کے رہنما حمزہ عرف عبداللہ عرف راجہ عرف راجو عرف ثابت نے ریاستی اداروں کے سامنے 19افرادکے قتل کا اعتراف کیا تھا، ان مارے جانے والے افراد میں اکثریت پولیس اور فورسز کے اہلکاروں کی تھی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) ڈیرہ اسماعیل خان میں پی ٹی آئی کے ورکرز کنونشن میں شرکت کی غرض سے عمران خان کی آمد کے موقع پر شہید شاہد شیرازی اور شہید وکلا کے بچوں نے شدید احتجاج کیا۔

زرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ورکرز کنوینشن میں شرکت کے لئے ڈیرہ اسمٰعیل خان پہنچے تو ڈیرہ پریس کلب پر شھید شاہد شیرازی کی معصوم بیٹی اور دیگر شھید وکلاء کے بچوں نے شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور تکفیری دہشتگردوں کی عدم گرفتاری کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔شہید شاہد شاہ شیرازی کی بیٹی اور دیگر شھداء کے بچوں نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف نعرے درج تھے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) وزیر داخلہ کی کالعدم تنظیموں کے فرقہ پرست دہشتگردوں سے ملاقات نیشنل ایکشن پلان کے منافی ہے، کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کے شناختی کارڈ بحال کرنا قابل مذمت ہے، نواز شریف بند گلی میں جا رہے ہیں، پاکستان کی جمہوریت بادشاہت کی جدید قسم ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے فیصل آباد میں کونسل کی ملک گیر تنظیم نوء کی مناسبت سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے قرضوں کیلئے قومی املاک کو گروی رکھنا شروع کر دیا ہے، حکمران ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ عشرت العباد پر مصطفی کمال کے الزامات کی تحقیقات کی جائیں، چند مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری ختم کئے بغیر حقیقی جمہوریت نہیں آسکتی، نااہل حکومت آخری سانس لے رہی ہے، 5 سال کی مدت حکومت کی نہیں اسمبلی کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ حکومت پاکستان دشمن الطاف کی پشت پناہی چھوڑ دے، حکومت کا عمران خان کے احتجاجی پروگرام میں رکاوٹیں ڈالنا غیر جمہوری رویہ ہے،حکومت سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں سے باز رہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) چوہدری نثار علی خان نے بابائے طالبان مولانا سمیع الحق کو فورتھ شیڈول لسٹوں کا ازسرنو جائزہ لینے اور فورتھ شیڈول میں شامل تکفیری ملاؤں کے نام لسٹ سے نکالے جانے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے شیڈول فور میں شامل تکفیری دہشتگرد احمد لدھیانوی سمیت دیگر تکفیری ملاؤں کے نام لسٹ میں ڈالے جانے اور شہریت منسوخ کئے جانے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

زرائع کے مطابق بابائے طالبان مولانا سمیع الحق کی دفاعِ پاکستان کاؤنسل کی جانب سے حکومت مخالف تحریک شروع کئے جانےاور معاملات بگڑنے کی دھمکی پر وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے فورتھ شیڈول لسٹ میں تکفیری ملاؤں کے نام شامل کرنے اور پاکستانی شہریت منسوخ اور بینک اکاؤنٹ منجمد کئے جانے کے عمل سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کالعدم دہشتگرد گروہ سپاہِ صحابہ کے سرپرست اعلیٰ دہشتگرد ملاں احمد لدھیانوی سمیت دیگر تکفیری ملاؤں کے نام فورتھ شیڈول سے نکال جانے کا حکم جاری کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات اور متعلقہ محکموں کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق بابائے طالبان مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں تکفیری دہشتگرد ملاؤں کے ایک سطحی وفد نے پنجاب ہاؤس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی۔ مولانا سمیع الحق کے وفد میں شامل تکفیری ملاؤں مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا فضل الرحمن خلیل، قاری یعقوب شیخ سمیت دیگر تکفیری ملاؤںنے مولانا احمد لدھیانوی سمیت دیگر تکفیری دہشتگرد ملاؤں کے نام شیڈول فور میں شامل کرنے اورانکے بینک اکاؤنٹ منجمد کئے جانے پر اپنے شدید غم و غصے اور تحفظات کا اظہار کیا ، جس پر وزیر داخلہ چوہدری نثار نے متعلقہ محکموں سے تکفیری ملاں احمد لدھیانوی سمیت دیگر تکفیری ملاؤں کے نام شیڈول فور میں شامل کئے جانے اور انکے شناختی کارڈ اور شہریت منسوخ اور بینک اکاؤنٹ منجمد کئے جانے کے حوالے سوال کرتے ہوئے کہا کہ شیڈول فور میں شامل افراد کے شناختی کارڈ اور انکی شہریت کس طرح منسوخ کی جاسکتی ہے ؟انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو اس عمل کو درست کیا جائے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ چوہدی نثار نے بابائے طالبان مولانا سمیع الحق،مولانا احمد لدھیانوی سمیت وفد میں شامل دیگر تکفیری ملاؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام پاکستان کی طاقت، حرمت اور مان ہے، دنیا کی کوئی طاقت دین کو پاکستان سے الگ نہیں کرسکتی، پاکستان اسلامی نظریئے پر ہی قائم ہوا تھا اور اسی نظریہ پر ہی قائم و دائم رہے گا۔ وزیر داخلہ نے مولانا سمیع الحق سے وعدہ کرتے ہوئےکہا کہ تمام صوبوں کو حکم دیا گیا ہے کہ شیڈول فور لسٹوں میں شامل تکفیری ملاؤں کے ناموں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شیڈول فور میں شامل تمام شخصیات پاکستانی ہیں، انہیں شناختی کارڈ اور شہریت سے کس طرح محروم کیا جا سکتا ہے؟، اگر ایسا ہوا ہے تو اس عمل کو درست کیا جائے، آئندہ اس قسم کے فیصلوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

چوہدری نثار کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی کی بحالی میں مولانا سمیع الحق،مولانا احمد لدھیانوی اور دیگر تکفیری ملاؤں سمیت تکفیری مدارس نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔انھوں مولانا احمد لدھیانوی سمیت دیگر علمائے دیوبند کہ جو پاکستان کا اثاثہ ہیں کو کسی صورت بھی نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،اور وفاق سمیت تمام صوبائی حکومتیں ملکر دینی حلقوں کے تحفظات دور کریں گی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )شہر کراچی میں جاری شیعہ نسل کشی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے یا سعودی پلان کا ؟نیشنل ایکشن پلان اور کراچی آپریشن کالعدم تکفیری دہشتگردوں کے لئے ایک کھیل بن گیا ہے،جب تک کالعدم دہشتگرد گروہوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف صدقِ دل سے کاروائیاں نھیں ہونگی تکفیری دہشتگرد یہ خونی کھیل کھیلتے رہیں گےاور قانون نافذ کرنے والے ادارے ریفری کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے سیکریٹری جنرل ذین رضا نے کالعدم سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) کے دہشتگردوں کی جانب سے کراچی کے علاقےایف سی ایریا میں امام بارگاہ در عباسؑ پر دستی بم حملے کے بعد جائے وقوعہ کے دورے کےموقع پر وہاں موجود مومنین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات ضلع وسطی عرفان حیدر ،سیکریٹری تنظیم سازی عامر جعفری اور دیگر عہدیداران بھی انکے ہمراہ تھے۔ذین رضا نے کہا کہ محرم الحرام کے آغاز سے لیکر اب تک کراچی کے حساس علاقوں گلستانِ جوہر اور گلشن اقبال میں ملتِ تشیع پر کئے جانے والے حملوں کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو محرم الحرام کے اجتماعات کے علاوہ دیگر عوامی اجتماعات اور مقامات کی سیکیورٹی کرنے کے بجائےشھدائے کاسانحہ رساز کی یاد میں ناچنے والوں کی حفاظت میں مصروف رہی، اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی کی معروف شیعہ مقتل گاہ ایف سی ایریا کی سرزمین ایک بار پھر تکفیری دہشتگردوں کے حملے میں خون سے تر ہوگئی۔

ذین رضا نے مزید کہا کہ ملتِ تشیع پاکستان کہ جو اس پاک وطن میں سب سے ذیادہ دہشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنی ، نے ہی سب سے پہلے ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کی نا صرف حمایت کی تھی بلکہ ناصرِ ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پاک فوج کے سربراہ کو دہشتگردی کے خلاف جنگ پاک فوج کا ساتھ دینے کے لئے ایک لاکھ شیعہ جوانوں کی خدمات پیش کرنے کی بھی پیشکش کی تھی۔باوجود اس کے کہ پاکستان کے گلی کوچے شیعہ جوانوں کے پاک لہو سے تر ہیں ،ہم نے کبھی شیعہ قتلِ عام پر ملک دشمن ،اسلام دشمن بیرونی طاقتوں کو مدد کے لئے پکارا اور نا ہی کبھی اس وطن کے خلاف کھڑے ہوئے، بلکہ پاکستان میں بسنے والے شیعانِ علیؑ نے اس ملک کے دفاع اور اس کی ترقی کے لئے اپنی جا،،مال ،عزت و آبرو کو بھی قربان کرنے سے بھی کبھی گریز نھیں کیا۔

مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کے سیکریٹری اطلاعات عرفان حیدر نے اس موقع پر کہا کہ ایک جانب توملک دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان اور کراچی آپریشن شروع کیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب اسی ایکشن پلان اور آپریشن کو شیعانِ علیؑ اور عزاداری کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ تکفیری دہشتگرد گروہ کبھی دفاعِ صحابہ اور کبھی دفاعِ پاکستان کے نام پر سرِ عام ریلیاں،جلسے جلوس منعقد کرکے نیشنل ایشن پلان اور کراچی آپریشن کے منہ پر کالک مل رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔انھوں نے سوال کیا کہ کہا آرمی پبلک اسکول میں شھید ہونے والے بچوں کے نام پر گانے بنانے والوں کو پاکستان بھر میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے بچوں کے خوں بھرے چہرے دکھائی نھیں دیتے ؟کیا آرمی پبلک اسکول اور ایف سی ایریا میں شھید ہونے والے دس سالہ معصوم شھید فرا ز حسین کے خون میں فرق ہے ؟

عرفان حیدر نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہونے والی شیعہ نسل کشی میں ملوث گرفتار ایک بھی تکفیری دہشتگرد کو پھانسی نھیں دی گئی، جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتیںسعودی ایماء پر بیلنس پالیسی کے تحت شیعہ علماء و زاکرین اور رہنماؤں کے نام فورتھ شیڈیول میں ڈال کر انکی پاکستانی شہریت تک منسوخ کررہی ہے۔انھوں نے سوال کیا کہ کیا آپریشن ضربِ عضب،نیشنل ایکشن پلان اور کراچی آپریشن بانیانِ پاکستان کی اولادوں کے سفاکانہ قتلِ عام اور انکی پاکستانی شہریت منسوخ کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا ؟ اور پاکستان میں جاری نسل کشی نیشنل ایکشن پلان،کراچی آپریشن کی بنیاد ہے یا اس قتلِ عام میں سعودی پلان کا عمل دخل شامل ہے ؟

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )ڈیرہ اسماعیل خان میں محرم الحرام کا پہلا عشرہ پرامن گزرنے پر شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ تکفیری دہشتگردوں نے حاجی مورا سے 18 سالہ شیعہ نوجوان عامر حسین کو تشدد کے بعد فائرنگ کرکے شہید کردیا اور لاش کھیتوں میں پھنک کر فرار ہوگئے۔

زرائع کے مطابق شھید نوجوان عامر حسین پیشے کے اعتبار سے ٹیلر ماسٹر تھےاور امام بارگاہ کے نزدیک ہی دکان پر کام کرتے تھا۔ اطلاعات کے مطابق سید عامر حسین شاہ گزشتہ روز کام کی غرض سے دکان پر گئے، مگر رات گئے واپس نہیں آئے،جس کے بعد انکے عزیزو اقارب و دوست احباب نے انکی تلاش شروع کردی اور بلاآخر حاجی مورا کے علاقے میں واقع کھیتوں میں سید عامر شاہ کی تشدد شدہ لاش ملی ۔عینی شاہدین کے مطابق سید عامر حسین شاہ کے جسم پر انتہائی تشدد کیا گیا تھا اور بعد میں انکو جسم کے مختلف حصوں پر انتہائی قریب سے گولیا مارکر شھید کردیا گیا۔پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

زرائع کے مطابق سید عامر حسین شاہ ولد مولانا سید اقبال حسین شاہ جسمانی معذوری کا شکار ہونے کے باوجود امام بارہ کے قریب واقع اپنی دکان پر ٹیلر کا کام کرتے تھے۔اہلِ علاقہ کے مطابق شھید عامر حسین کو کالعدعم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی جانب سے متعدد بار دھمکیاں بھی دی گئیں تھی کہ وہ علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں بصورتِ دیگر انکو سنگین نتائج بھگتنے اور بعد ازاں جان سے مار دیئے جانے کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں لیکن عامر حسین بدستور بلاخوف و خطر اپنے معمولات میں مشغول رہے۔گزشتہ روز گیارہ محرم کو وہ کسی کام سے اپنی دوکان کی جانب گئے لیکن واپس نھیں آئے،گھر والوں کی تشویش کے بعد اہلِ علاقہ اور دوست احباب نے عامر شاہ کی تلاش کی اور بلاآخر عامر شاہ شھید کی تشدد شدہ لاش پاس موجود کھیتوں میں پائی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق سفاک تکفیری دہشتگردوں نے نوجوان عامر حسین شاہ کو پہلے انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر انکے جسم کے مختلف حصوں پر متعدد گولیاں مارنے کے بعد شھید کرکے انکی لاش کو کھیتوں میں پھینک کر فرار ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق شھید سید عامر حسین شاہ کی فیملی کے بیشتر افراد عاشور کی مناسبت سے ایران و عراق کی زیارات پر گئے ہوئے ہیں، جن کو سید عامر شاہ کی المناک شھادت کے حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )محکمہ انسداد دہشت گردی اور حساس اداروں نے پشاور کے علاقے فقیرآباد میں پتنگ چوک پر کاروائی کرتے ہوئے کالعدم لشکرِ جھنگوی سے تعلق رکھنے والے تکفیری دہشتگرد اور بھتہ خور عامر کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار تکفیری دہشت گرد عامر کے 2 دہشتگرد ساتھیوں قبیس عرف حمزہ ولد سید محمد ساکن افغانستان اور قاری کو پہلے ہی فائرنگ تبادلہ کے بعد گرفتار کیا جاچکا ہے۔ جن کے قبضہ سے 8 کلو گرام بارودی مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

زرائع کے مطابق سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی کاروائی کے دوران گرفتار ہونے والا تکفیری دہشتگرد عامر پہلے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا رکن تھا،بعد ازاں ٹی ٹی پی کے مقامی دہشتگرد کمانڈر سے معاملات خراب ہونے کے بعد اس نے کالعدم لشکرِ جھنگوی میں شمولیت اختیار کرلی تھی،یہاں بھی وہ اپنی من مانی اور اکھڑ پن کی وجہ سےدیگر دہشتگردوں کے درمیان کھٹکنے لگا تھا لیکن لشکرِ جھنگوی کی اعلیٰ قیادت کی مداخلت کے بعد عامر کے دیگر دہشتگردوں کے ساتھ معاملات طے پاگئے تھے۔سی ٹی ڈی زرائع کے مطابق عامر کے دو قریبی دہشتگرد ساتھی پہلے ہی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ہوچکے ہیں، جن سے تفتیش کی بنیاد پر ہی سی ٹی ڈی نے حساس اداروں کے ساتھ ملکر کاروائی کرتے ہوئے عامر کو گرفتار کیا۔

زرائع کے مطابق تکفیری دہشتگرد عامر پولیس کو فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ،پاک فوج،ایف سی اور پشاور پولیس کے جوانوں پر حملوں سمیت بھتہ خوری کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا۔گرفتار تکفیری دہشتگرد بھتہ خوری کے حوالے سے پشاور اور خیبرپختونخواہ کے دیگر شہروں میں خوف کی علامت بنا ہوا تھا،جس نے مطلوبہ ڈیمانڈ کے مطابق بھتہ نا ملنے پر لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا نشانہ بھی بنایا تھا جس کے بعد بھتہ خواری کے حوالے وہ خوف کی علامت بن چکا تھا،اس کے علاوہ عامر اغواء برائے تاوان کی بھی متعدد کاروائیوں میں ملوث رہا ہے، سی ٹی ڈی پشاور نے کامیاب کاروائی کے دوران گرفتار ہونے والے تکفیری دہشتگرد اور بھتہ خور عامر کو گرفتار کرکے تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پاکستان کے نامور عالم دین، مفسر قرآن شیخ محسن علی نجفی کو شیڈول فور میں ڈالنا اور انکے اکاونٹس کو منجمد کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے، جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

زرائع کے مطابق علامہ آغا علی رضوی نے کہا کہ شیخ محسن نجفی تمام مکاتب فکر کے لیے قابل احترام شخصیت انکے خلاف اقدام نواز حکومت کی بوکھلاہٹ اور ناعاقبت اندیشی ہے۔ انہوں نے اپنی تاریخ میں ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کے لیے عملی جدوجہد کیے اور پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی، انکو شیڈول فور میں ڈالنا اس بات کی دلیل ہے کہ الیکشن پلان کے رخ کو محب وطن پاکستانیوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے نام پر نواز حکومت محب وطن پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ نواز حکومت پہلے ایکشن پلان کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کی کوشش کرتی تھی اب تمام دہشتگرد مخالف اور اتحاد بین المسلمین کے لیے کام کرنے والے علماء کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انکا یہ عمل کن طاقتوں کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شیخ محسن علی نجفی کو فوری طور شیڈول فور سے خارج کرکے انکے منجمد اکاونٹس کو کھول دیا جائے، بصورت دیگر گلگت بلتستان بھر میں احتجاجی تحریک کا آغا ز کیا جائے گا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کوئٹہ اور ٹیکسلا میں میں شیعہ ہزارہ خواتین اور امام بارگاہ کے متولی اور ان کے دوست کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد بلوچستان میں ٹرین پر بم دھماکوں اور کراچی میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا شروع ہونے والا نیا سلسلہ ثابت کرتا ہے کہ کالعدم تکفیری دہشتگردوں کے سہولت کار موجود ہیں، جن پر ہاتھ ڈالنے کی اشد ضرورت ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک 8 میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے ماہرِ تعلیم منصور ذیدی کی شھادت اور انکے بیٹے سمیت 3 شیعہ جوانوں کے شدیدی زخمی ہونے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کیا۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں قانون کی عمل داری کو یقینی بناتے ہوئے کالعدم تکفیری دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔

شھدائے کوئٹہ، شھدائے ٹیکسلا اور کراچی میں شھیدہونے والے ماہرِ تعلیم منصور صادق ذیدی کے گھر والوں کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ جب تک کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ اور ان کے سہولت کاروں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، اس وقت تک ملک میں امن ایک خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن میں ٹیکسلا میںامام بارگاہ کے متولی اور انکے دوست کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی اور اسی روز ہی کوئٹہ میں چار شیعہ خواتین کو بس سے اتار کر گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا، اور آج رات کراچی میں ماہرِ تعلیم اور قومی اثاثے سید منصور صادق ذیدی کی شھادت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا اصل مسئلہ قانون پر صحیح طرح سے عمل داری نہ ہونا ہے۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی اور عسکری قیادت سی پیک کی تکمیل میں سنجیدہ ہے تو پھر فوری طور پر کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں اور انکے سہولت کاروں کو ختم کیا جائے، کیونکہ دہشت گردی اس ملک کی ترقی میں اہم رکاوٹ ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے محرم الحرام میں امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے حساس مقامات پر فوج تعینات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔