شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستان و ہندوستان میں شوال المکرم کا چاند نظرنہیں آیا دونوں ممالک میں عیدالفطر 16 جون بروز ہفتہ ہوگی۔

شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں چیرمین مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت ہوا اور زونل کمیٹیوں کے اجلاس صوبائی دارالحکومتوں میں ہوئے، اس کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی چاند کی شہادتوں کا انتظار کیا جاتا رہا لیکن ملک بھر میں کہیں سے بھی چاند کی شہادت موصول نہیں ہوئی جس کے بعد عیدالفطر 16 جون بروز ہفتہ ہوگی۔

ادھر ہندوستان سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جمعرات کے روزماہ شوال المکرم کا چاند دہلی کے علاوہ بنگال، بہار، آسام، آندھراپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ اوراترانچل سے عدم رویت کی شہادتیں موصول ہوئیں۔ لہذا مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد دہلی کی طرف سے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم شوال المکرم (عیدالفطر) 16؍جون 2018 ء ہفتہ کے روز ہے۔

کالم نگار: مظہر برلاس

پاکستان اس وقت زرعی، آبی اور معاشی مشکلات سمیت اندرونی اوربیرونی خطرات سے دوچارہے۔ پچھلے 35 ، 40 سالوں میں ملک کو اس قدر لوٹا گیا کہ آج ملکی معیشت برباد ہے۔ اگلا م نظر کس طرح خوفناک اور خطرناک ہوگا، اس کاجائزہ بعد میں لیتے ہیں، پہلے ایک ایسا واقعہ سن لیں جسے سن کر پاکستان سے پیار کرنے والوں کو سکون ملے گا۔

یہ 2004 کا واقعہ ہے، بوسنیا ہرزگوینا کے شہر سرائیوو میں یوتھ ڈویلپمنٹ پیس کانفرنس ہو رہی تھی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے نوجوان شریک تھے۔ کانفرنس میں معذوروں کی نمائندگی امریکہ کے وکٹر اور پاکستان سے شفیق الرحمٰن نے کی۔ شفیق الرحمٰن بتاتے ہیں کہ ’’میرے لئے فخر تھاکہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب نائن الیون کے بعد دنیا افغانستان کی خبروں سے پاکستان کو منسلک کر رہی تھی۔ پاکستان کا تاثر مسخ کیاجارہاتھا۔

چونکہ میرا پہلا عشق پاکستان ہے، اس لئے میرے لئے یہ خبریں بہت تکلیف دہ تھیں مگر پھر قدرت میرے لئے ایک ایسا لمحہ لے آئی جب میںسینہ تان کر کانفرنس میں شریک ہو گیا۔ اس کی وجہ کانفرنس میں میری مترجم ایک 30سالہ خوبصورت لڑکی تھی۔

نیلی آنکھوںاور سنہرے بالوں نے اس کے حسن کو چارچاند لگا رکھے تھے۔ تعارف ہوا تو میں نے بتایا کہ میں پاکستان سے ہوں۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ میری مترجم آگے بڑھی۔

اس نے میرا ہاتھ تھاما، اسے چوما، چوم کر آنکھوں سے لگایا۔ اس غیرمتوقع حرکت پر میں حیران ہوا۔ وہ میری حیرت کو دیکھ کر بولی ’’کاش ہماری نسلوں میں پاکستانی پیدا ہونا شروع ہوجائیں۔‘‘ یہ جملہ سننے کے بعد میں مزید حیرت میں ڈوب گیا۔ میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا تو وہ کہنے لگی ’’کیا آپ مجھ سے شادی کرسکتے ہیں؟‘‘ پہلی ہی ملاقات میں ایسے جملے سن کر مجھے مزید حیرت ہوئی۔

خیر میں نے اسے بتایا کہ میں شادی کرچکا ہوں مگر آپ بتایئے کہ آپ ایسا کیوں چاہتی ہیں؟ اس نے بتانا شروع کیا کہ’’ جب سربیا کے غنڈے ہم مسلمان لڑکیوں کی عزتوں سے کھیلنا چاہتے تھے تو اس وقت ہمیں بچانے والے پاکستانی فوج کے جوان تھے۔ بین الاقوامی امن فوج میں شامل پاکستانی جوانوں نے نہ صرف ہمیں بچایا بلکہ وہ ہمیں اپنے کیمپوں میں لے گئے

۔انہوں نے ہمیں اپنی بہنوں اوربیٹیوں کی طرح رکھا۔ جب وہ ہمیں کھانا دیتے تھے تو خود نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے پوچھنے پربتاتے تھے کہ ہمارا روزہ ہے۔ کچھ ہفتوں بعد ہمیں پتا چلا کہ وہ ہمیں اپنے راشن سے کھانا دے کرخود بھوکے رہتے ہیں۔ وہ پاکستانی فوجی جوان ہمارے بچوں سے بہت پیارکرتے تھے، ہمارے بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے، ہماری حفاظت کرتے ہوئے کچھ پاکستانی جوان شہید بھی ہوگئے تھے۔ تم پاکستانی عظیم لوگ ہو۔‘

‘ اس کے اس جملے نے میرا سرفخر سے بلند کردیا۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اپنی بہن سمجھتے ہوئے دعا دی اور پھر اس سے کہا کہ ’’پاکستان کی فوج ہم پاکستانیوں کےلئے فخر کا باعث ہے۔ دنیا میں اگر کسی نے غریب اور متوسط طبقے کے افراد پرمشتمل شاندار ادارہ دیکھناہو تو وہ پاکستانی فوج کو دیکھ لے۔‘‘ یہ واقعہ 2004میں ہوچکاہے مگراب جب میں سیاستدانوں کی طرف سے فوج پر تنقید کے مناظر دیکھتا ہوں تو پھرسوچتا ہوں کہ فوج کو برا کہنے والے سیاستدان کبھی اپنے بچوںکو سرحدوں پر بھیجیں تو انہیں پتا چلے کہ دھرتی سے عشق نبھانا کیا ہوتا ہے.....‘‘

میں نے پچھلے کالم میں علامہ راجہ ناصر عباس کی کچھ گفتگو شامل کی تھی، آج کچھ مزید باتیں شامل کردیتا ہوں۔ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ، پاکستانی سیاستدان علامہ راجہ ناصر عباس کے کلاس فیلو ہیں

۔حسن نصراللہ پچھلے چار سال سے اپنے پاکستانی دوست راجہ ناصر عباس کو نصیحت کر رہے تھے مگر اس بار انہوں نے وصیت کی کہ کبھی بھی اپنی فوج کو نہ چھوڑنا۔ ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ رہنا کیونکہ ہمیں بہت سی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں ملکوں کی افواج کو توڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسی منصوبے کے تحت لیبیا اور عراق کی فوج کو توڑا، یمن کی فوج توڑی،

اسرائیل کے مقابلے میں لبنان کی فوج نہیں بننے دی۔ دراصل یہ مسلمان ملکوں کی افواج کو توڑ کر خطے کی ازسرنو ترتیب چاہتے ہیں۔ اب ان کی ترتیب میں اور توسیع شامل ہوگئی ہے اوراب ان کا مشن پاکستانی فوج کو توڑنا ہے۔ اسے کمزور کرنا ہے کیونکہ جغرافیائی طور پر اہم ہونے کےعلاوہ پاکستان ایٹمی قوت ہے۔ آبادی بھی بھرپور ہے۔ طاقتور ملک ہے۔

اگر خدانخواستہ یہ سازش کامیاب ہوگئی تو پھر ایران اور افغانستان بھی ٹوٹ جائیں گے اسی لئے میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر حال میں اپنی فوج کا ساتھ دینا۔ آپ کا ملک اور عوام اسی صورت میں بچیں گے جب آپ کے پاس طاقتور فوج ہوگی۔

علامہ راجہ ناصر عباس کہتے ہیںکہ ’’میں اکثر سوچتا تھا کہ میرادوست کیوں یہ منظر مجھے بتاتا ہے۔ اب جب حالات میرے سامنے آئے تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ سچ کہہ رہا تھا کیونکہ میرے لئے وہ دن حیران کن تھا جب تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نے اپنی فوج کے خلاف بولنا شروع کیا۔ تب مجھے بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر کام کرنے والوں کی سمجھ آئی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک ایسا شخص جو تین بار ملک کا وزیر اعظم رہا ہو، وہ بھی ایسا کرسکتا ہے؟ اس کے خاندان نے تو پاکستان کے لئے کوئی قربانی بھی نہیں دی۔

ان کے پورے خاندان میںکوئی شہید نہیں ہے بلکہ انہوں نے تو پاکستان کو صرف لوٹا ہے۔ پاکستان نے انہیں ارب پتی بنایا اور یہ پاکستان پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ جب فاٹا میں امن ہو چکا تھا تو پھر یہ منظور پشتین کہاں سے آگیا؟ کہاں سے آگئے اچکزئی اور ’’اچکزئی نظریے‘‘ والے؟ کیوں منظورپشتین کو لاہور بلوا کر جلسے کرواتے ہیں؟ کسی بات پر اختلاف کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ آپ اپنی فوج کے خلاف باتیں کریں۔ منظورپشتین نے کیوںاسرائیلی فوج کے حق میں نعرے بازی کی؟ ہم لوگوں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہیں۔

ہم نے 20ہزار جنازے اٹھائے ہیں، حق کے لئے دھرنے دیئے ہیں مگر کبھی اپنے وطن کے خلاف بات نہیںکی۔ ہمیں یاد رکھناچاہئے کہ ہماری پہلی اور مضبوط دیوار صرف اور صرف فوج ہے۔ ہمارے معاشرے کے اندر تو اختلافات کے نام پر بہت تقسیم ہے۔ہمیں اندرونی اختلافات ختم کرکے اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہو جانا چاہئے۔‘‘

خواتین و حضرات! اگلا منظر زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کردیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید کے بعد منظور پشتین جیسے کئی گھٹیا کردار سامنے آئیں گے

۔ یہ چھوٹی چھوٹی تحریکوں کے نام پر سامنے آئیں گے۔ ان تحریکوں کو ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے پاسبان سپورٹ کریں گے۔ اس سلسلے میں گلگت میں بھی کام شروع ہوچکا ہے۔ کوئٹہ کے اندر لوگوں کو بہلانے پھسلانے والے بھی سرگرم ہیں۔ لندن میں بیٹھا ہوا ایک کالا کردارکراچی اور حیدر آباد کے کئی کرداروں سے رابطے میں ہے

۔ عید کے بعد جب شریف خاندان کے لوگوں کوسزا ہوگی تو ’’اچکزئی نظریہ‘‘ پنجاب میں نظر آئے گا۔ سڑکوں پرہنگامے ہوں گے۔ اس دوران لوڈشیڈنگ بھی ہوگی، لوگوں کوکئی اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک سیاسی جماعت پیسے کے زور پر پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائے گی

۔ ان کے سارے سوشل میڈیا کنونشن سرگرم ہوجائیں گے۔ اس دوران بیرونی میڈیا سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ چند بیرونی طاقتیں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے چکر میں ہیں۔ اسی لئے تو پاکستان کو پانی سے محروم کیاجارہا ہے۔ افراتفری، ہنگاموں اور احتجاجوں کاعروج جولائی میں ہونے والے الیکشن کو کھا جائے گا۔ جن لوگوں کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا وہ کچھ دن انتظار کرلیں کیونکہ شہبازشریف اور نواز شریف ایک نظریے پرمتفق ہوچکے ہیں۔


شریف فیملی کے جس آخری فرد کا جہاں کہیں بھی خاص رابطہ تھا، اب وہ بھی ٹوٹ چکا ہے۔ بس ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل منظرنامے کی اگلی بدصورتی بیان کر رہا ہے اور اگلی بدصورتی یہی ہوگی کہ 25جولائی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔ الیکشن جب بھی ہوئے اس سے پہلے صفائی ستھرائی ضرور ہوگی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان سے پیار کرنے والے ایک ہو جائیں کیونکہ پاکستان کے دشمن ہمارے وطن کے خلاف ایک ہوچکے ہیں اور انہیں ملک کے اندر سے ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے حامل کئی افراد میسر ہیں۔ مجھے تو بس رخشندہ نوید کا شعر یاد آ رہا ہے کہ؎
چہرہ چہرہ کھلے گلاب کو رہنے دے
مالک کچھ دن اور شباب کو رہنے دے

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بانی انقلاب اسلامی امام خمینی (رح) کی جانب سے یوم القدس کا اعلان عالم اسلام کے مظلوموں کے حق کے دفاع کا ایک اسٹریٹیجک جہادی اعلان تھا، جس سے نہ صرف فلسطین کاز بلکہ دنیا میں استعماری و استکباری نظام کو چیلینج کرنے والے نظریئے کو بھی بہت زیادہ فائدہ پہنچا۔

حضرت امام خمینی (رح) نے جب ایران کے شاہ کے خلاف اپنی تحریک کا اعلان کیا تو آپ نے اس وقت سے فلسطین کے مسئلے کو بھی اسی شدت سے اٹھایا۔ آپ نے اس وقت فلسطین کو عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا اور اس کے لئے جدوجہد کرنے کی ہمیشہ تاکید کی۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی اور امام خمینی (رح) کی رحلت کے بعد بھی یہ مسئلہ ایران کی مرکزی پالیسی کا حصہ قرار پایا۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن حضرت امام خمینی (رہ) نے ہر سال رمضان المبارک میں جمعۃ الوداع کو یوم القدس کے نام سے منانے کا اعلان کرکے سازشی عناصر کے تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

یوم القدس کے اسی اعلان کے بعد فلسطین کا مسئلہ ایک بار پھر عالم اسلام کے اہم مسئلے کی صورت میں عالمی سیاست میں نمایاں ہوا۔ اسی وجہ سے سامراجی میڈیا نے پوری کوشش کی کہ اس دن کو کم اہمیت ثابت کرے، لیکن یہ کوشش بھی ناکام ثابت ہوئی اور گذشتہ پینتیس سالوں سے اس میں ہر سال مزید بہتری آرہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ عالمی برادری کی توجہ اس مسئلہ کی طرف مبذول ہو رہی ہے اور اس کے نئے نئے زاویئے سامنے آرہے ہیں۔

ایران کی ان کوششوں کے نتیجے میں فلسطین کی آزادی کی جدوجہد تیز ہوئی اور فلسطین کی آزادی کا مسئلہ پہلے سے بڑھ کر عالمی برادری میں نمایاں ہوا۔

آج پینتیس سال بعد بھی امام خمینی (رہ) کی طرف سے اعلان کئے گئے یوم القدس کے مختلف زاویئے سامنے آرہے ہیں اور صیہونی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جمعۃ الوداع کے اسی دن نے پوری دنیا کی حریت پسند تنظیموں کو اس بات کا موقع دیا ہے کہ وہ حضرت امام خمینی (رہ) کی سامراج مخالف تحریک کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیکر بیت المقدس کی آزادی کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کریں۔ اس لئے کل بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی انتیسویں برسی کے اجتماع میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایرانی قوم ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور اس سال کاعالمی یوم القدس ماضی سے کہیں زیادہ پرشکوہ انداز میں منایا جائے گا ۔

پاکستان میں بھی امام خمینی (رح) کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے جمعۃالوداع کے موقع پر بھرپور ریلیاں نکالی جائیں گی جبکہ مرکزی ریلی کراچی میں تحریک آزادی القدس کے زیر اہتمام نکالی جائیگی ۔

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )متحدہ مجلس عمل سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی اور پاکستان میں عدلانہ نظام کے لئے جدوجہد سندھ میں ہماری اولین ترجیح ہوگی، عوامی مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مسلک کے درمیان اتحاد و وحدت کی فضاء کو بہتر بنانے کے لئے متحدہ مجلس عمل اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کراچی کے مرکز ادارہ نور حق میں ایم ایم اے کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ناظر عباس تقوی کا کہنا تھا کہ وہ قوتیں اور عناصر جو ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دینا چاہتی ہیں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں ان کو ہم کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، معاشرے سے کرپشن کے خاتمے، عوام کے استحصال، مہنگائی، بے روزگاری اور بیرونی مداخلت روکنے، پاکستان میں نظام مصطفیٰ (ص) کے قیام اور تحفظ قانون ناموس رسالت (ص) کی حفاظت کے لئے متحدہ مجلس عمل 2018ء کے الیکشن میں بھرپور قوت اور طاقت کے ساتھ میدان عمل میں آئے گی، عوام نے اُن عناصر کو مسترد کردیا ہے جنہوں نے ملک میں کرپشن کا بازار گرم کیا اور ملکی دولت کو بیرون ملک منتقل کیا، اب عوام کی نگاہیں متحدہ مجلس عمل کی قیادت کی جانب ہیں ، اب متحدہ مجلس عمل ہی پاکستان بھر میں عوامی مسائل کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

 

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )تحریر: عرفان علی

9 اپریل سال 2006ء کو محمود احمدی نژاد کی صدارت کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران نے کم درجے پر یورینیم افزودگی کا کامیاب تجربہ کیا۔ ایران کے ہجری شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے وہ 20 فروردین کا دن تھا، اس لئے 9 اپریل یا 20 فروردین کو ایران میں ہر سال ’’روز ملی فناوری ہستہ ای‘‘ یعنی یوم قومی ایٹمی ٹیکنالوجی کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ اس سال بھی ایران میں اس دن جشن کا سماں تھا، نیوکلیئر میلہ سجایا گیا، جہاں موجودہ صدر حسن روحانی مہمان خصوصی تھے۔ اس تقریب میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران کی تازہ ترین کامیابیوں کا چرچا تھا اور اسکی نمائش بھی کی گئی۔ صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جب سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے گروپ پانچ جمع ایک (یا۔۔ای تین جمع تین) سے بین الاقوامی معاہدہ ہوا ہے، تب سے ایران کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں پیش رفت اور کامیاب منصوبوں کی تعداد 200 ہے۔ پچھلے سال تینتالیس منصوبوں کا افتتاح ہوا اور اس سال 83 منصوبوں کا افتتاح ہوا۔ اس دن کی مناسبت سے دس اپریل بروز منگل مجھ حقیر کو سحر اردو ٹی وی کے سیاسی ٹاک شو ’’انداز جہاں‘‘ میں اظہار خیال کے لئے مدعو کیا گیا جبکہ میزبان جناب سید علی عباس رضوی کے ساتھ پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر راشد عباس نقوی صاحب تہران اسٹوڈیو میں براجمان تھے۔ اسی لئے اس ناچیز کو یہ مناسب لگا کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران کی کامیابیوں اور تازہ ترین پیش رفت پر ایک تازہ نگاہ دوڑائی جائے، تبھی یہ جان پائیں گے کہ ایران کیوں اس ایک دن کو اپنی قومی عظمت و افتخار کا دن قرار دے کر جشن مناتا ہے۔

ایران نے جن کامیابیوں کو نمائش کے لئے پیش کیا، وہ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی، نیوکلیئر فشن، نیوکلیئر ادویات اور ایٹمی بجلی گھر سے متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر تیل کی صنعت میں سینٹری فیوج مشین کا استعمال۔ یہ انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ سینٹری فیوج مشین کا ایک استعمال یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے سے گیس اور تیل کے لئے ڈرلنگ میں مدد لی جاتی ہے اور فضلہ یا نامطلوبہ مواد کو مطلوبہ مواد سے علیحدہ کیا جاتا ہے یا ٹھوس اشیاء کو مایع سے علیحدہ کیا جاتا ہے اور اس طرح کم وقت میں زیادہ اور اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ایران کی دوسری کامیابی لیزر اسپیکٹرو میٹر کی تیاری ہے۔ یاد رہے کہ نینو ٹیکنالوجی ایران پہلے ہی حاصل کرچکا ہے۔ تازہ ترین تیسری اہم کامیابی ریڈیو فارماسیوٹیکل کے شعبے میں ہے، جو ادویات سے متعلق ہے اور سرطان (کینسر) جیسے موذی مرض میں اور خاص طور مردانہ تولیدی نظام میں سرطان کے علاج کی ادویات کی تیاری ہے۔ یہ وہ اہم شعبہ ہے کہ ایران کے اہم ترین نیوکلیئر سائنسدان مجید شھریاری اس پر کام کرنے کی وجہ سے شہید کئے گئے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے ایک مرتبہ خاص طور پر شہید شہریاری اور اس شعبے کا تذکرہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت ایران کے دشمن یہ ادویات (یعنی ریڈیو فارماسیوٹیکل) میں ایران کو محروم رکھنے کے درپے ہیں۔ ایران کو باہر سے بھی یہ ادویات میسر نہیں اور جو ایران کے اندر اس شعبے میں کام کرتے ہیں، دشمن ان کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں۔ رہبر معظم کا کہنا تھا کہ ایران کے دیگر نیوکلیئر سائنسدان بھی مسعود علی محمدی، داریوش رضائی نژاد، مصطفٰی احمدی روشن وغیرہ کو بھی اسی لئے شہید کیا گیا کہ وہ ایسے ہی اہم منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔ اس سلسلے کے ایک اور شہید رضا قشقائی تھے۔

ایران نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ کامیابیاں بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی ہیں۔ صرف حکومت اسلامی ایران نے نہیں بلکہ پوری ملت ایران نے عالمی سطح کی مفلوج کر دینے والی پابندیوں کا سامنا کیا۔ ایران کو مختلف شعبوں میں اقتصادی نقصانات پہنچائے گئے، جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا ٹرائل کیا گیا، دیگر ممالک کو امریکہ نے دھمکیاں دے کر ایران سے تجارتی لین دین، حتٰی کہ سائنسی و طبی تعاون بھی نہیں کرنے دیا۔ ایران کے مسافر بردار طیاروں کے حادثات کی ایک وجہ یہ تھی کہ دیگر ممالک کو دباؤ ڈال کر پابند کر دیا گیا تھا کہ ایران کے مسافر بردار طیاروں کے اسپیئر پارٹس دیگر ممالک ایران کو برآمد نہ کریں۔ جعلی ریاست اسرائیل کے نسل پرست صہیونی دہشت گردوں پر مشتمل ایجنسی موساد کو مامور کیا گیا کہ ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو ہدف بناکر قتل کرے۔ یہ کوئی ایسی باتیں نہیں جسے ایران کا الزام قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے بلکہ خود اسرائیلی اس کا انکشاف کرچکے ہیں، انہوں نے اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کتاب اسی سال 30 جنوری کو شایع ہوئی ہے، جو یدیعوت اہارونوت کے رونن برگ مین نے لکھی ہے۔ ’’رائز اینڈ کل فرسٹ: اسرائیل (کی جانب سے) ہدف بنا کر (سیاسی اہداف کیلئے) قتل کرنے کی خفیہ تاریخ‘‘ میں موساد ہی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج اور شین بیت کے اہلکاروں نے جو قتل کئے ہیں، یعنی ستر سال میں دو ہزار سات سو قتل کے بارے میں لکھا ہے۔ ایک ہزار انٹرویوز اور ہزاروں دستاویزات کی بنیاد پر چھ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب امریکی روزنامے نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر فہرست میں شامل ہے۔

یہ کوئی نیا انکشاف نہیں۔ سال 2012ء میں ’’ہرمجدون کے مخالف جاسوس: اسرائیل کی خفیہ جنگوں کے اندر (کی کہانی)‘‘ ڈان راویو اور یوسی میلمن کی اس مشترکہ تصنیف میں جولائی 2012ء میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران نیوکلیئر سائنسدانوں کو اسرائیلی ایجنسی موساد نے قتل کروایا۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف امریکی سازشوں اور اسرائیل کے کردار پر نیویارک ٹائمز کے ڈیوڈ سینجر نے بھی کم از کم دو کتابوں میں امریکی حکمران شخصیات اور اداروں کے بعض اہم اجلاسوں کی اندرونی روداد بیان کی ہیں۔ موساد نے عالم اسلام کے خلاف حتٰی کہ بعض یورپی ممالک کے خلاف جو کارروائیاں کی ہیں اس پر رونالڈ پیئن کی کتاب ’’موساد، اسرائیل کا خفیہ ترین ادارہ‘‘ 1990ء میں شایع ہوچکی ہے۔ مراکش کے حکمران شاہ حسن نے اپنے سیاسی مخالف مہدی بن برکہ کو مروانے کے لئے موساد اور فرانسیسی اداروں کی مدد لی تھی۔ مصری ایٹمی سائنسدان پروفیسر یحیٰ المشھدی کی مسخ شدہ لاش ملی، جو امریکہ اور روس سے اس شعبے کی تعلیم و تربیت لے چکا تھا اور ایک معاہدے کے تحت عراقی نیوکلیئر اتھارٹی کے ساتھ کام کر رہا تھا اور فرانس میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا تھا، جہاں اسے قتل کر دیا گیا۔ بس فرق یہ ہے کہ دیگر مسلمان یا عرب ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت سے روکنے کی اسرائیلی سازش اس لئے کامیاب ہوگئی کہ وہ ممالک امریکہ پر یا دیگر مغربی ممالک پر انحصار اور اعتماد کرتے تھے یا پھر انکی صفوں میں صہیونیوں کے آلہ کار زیادہ بااثر اور طاقتور تھے، لیکن ایران ان سازشوں کے باوجود اپنی دھن کا پکا نکلا اور یورینیم کی افزودگی کرکے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ ایران کو اس سے روکنے کے لئے امریکہ کے سازشی کردار کی تفصیلات خود سابق امریکی وزرائے خارجہ کونڈالیزا رائس اور ہیلری کلنٹن نے بھی اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتب میں بیان کی ہیں۔ ایران سے دشمنی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ایران کی فلسطین پالیسی ہے، یعنی فلسطین میں صرف فلسطینی آباد ہوں اور غیر ملکی جو یہاں لا کر بسائے گئے ہیں، وہ اپنا ناجائز قبضہ ختم کریں اور یہاں کے اصل باشندے ریفرنڈم کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں۔

اب ایک اور مرتبہ ایران کو گھیرنے کی سازش پر عمل ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بارہا اعلان کرچکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ گروپ پانچ جمع ایک (یا ای تین جمع تین) کے معاہدے سے بحیثیت ایک فریق دستبردار ہو جائیں گے اور ساتھ ہی وہ یورپی یونین پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی ایران کو جھکنے پر مجبور کرے، تاکہ ایران انکی دھمکیوں کی وجہ سے اپنا میزائل پروگرام جو کہ عالمی قوانین کی رو سے قانونی اور جائز ہے، اسے بھی روک دے۔ ایرانی قیادت اس ناجائز مطالبے کو مسترد کرچکی ہے۔ اگر اگلے ماہ صدر ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو ایران کے صدر حسن روحانی کا تازہ ترین موقف یہ ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس کے منفی اثرات دیکھ کر امریکہ خود اپنے فیصلے پر پشیمان ہونے پر مجبور ہو جائے گا، کیونکہ ایران ہر نوعیت کے ممکنہ منظر نامے کے لئے خود کو تیار کرچکا ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اگر نیوکلیئر معاہدہ ختم ہوا تو ایران انٹرنیشنل لاء کے مطابق یورینیم کی 20 درجے تک افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کر دے گا، جیسے وہ معاہدے سے پہلے کر رہا تھا۔ ایران اس طرح کہہ بھی سکتا ہے اور کر بھی سکتا ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد چالیسویں سال جب ہم ایران کو دیکھتے ہیں تو یہ ایک ایسا ملک بن چکا ہے کہ جس کو مشرق وسطٰی کے فیصلوں سے منہا نہیں کیا جاسکتا اور اس کی شرکت کے بغیر علاقائی معاملات حل نہیں ہوتے۔

ایران اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے کہ جسے اس کے بدترین دشمن و مخالف بھی ریجنل پاور یا علاقائی طاقت مانتے ہیں اور تھامس فریڈمین جیسا اسرائیل نواز امریکی یہودی دانشور تو (نیویارک ٹائمز میں) ایک کالم میں ایران کو ریجنل سپرپاور لکھ چکا ہے۔ ایران کا موازنہ اگر ہم اپنے ملک پاکستان سے کرلیں تو صرف ایک مثال ہی کافی ہوگی کہ نیوکلیئر اسلحہ سے لیس عالم اسلام کا پہلا ملک پاکستان ہے، لیکن یہاں زمین کے اوپر چلنے والی ٹرین کا نظام درست نہیں کیا جاسکا جبکہ ایران کے دارالحکومت تہران میں گذشتہ کئی برسوں سے زیر زمین میٹرو ٹرین بھی کامیابی سے چل رہی ہے! قصہ مختصر یہ کہ ایران سے دنیا کو یہ حیات بخش پیغام ملا ہے کہ امریکہ، جعلی ریاست اسرائیل اور انکے اتحادیوں کے کھوکھلے وجود سے بے خوف ہوکر ملتیں اپنے آپ پر اعتماد کرکے انحصار طلبی سے جان چھڑائیں تو ایٹمی ٹیکنالوجی بھی کوئی ایسا مشکل شعبہ نہیں کہ اس کے پرامن استعمال کے لئے امریکہ یا کسی دوسرے ملک سے مدد کی ضرورت ہو۔ ایران کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان، عرب اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک بھی ایجادات کرسکتے ہیں، علمی پیش رفت کرسکتے ہیں، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی و عسکری شعبوں میں ترقی کرسکتے ہیں اور ایران خود ایک ماڈل ہے، جس نے یہ سب کچھ کرکے دکھا دیا ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی ایران کا نعرہ ہی یہی ہے: جی ہاں! ہم کرسکتے ہیں!

مولود کعبہ جانشین پیغمبر فاتح خیبر و خندق مولائے متقیان مولی الموحدین امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت پر پورے پاکستان اور دنیا کے مختلف ملکوں میں جشن و سرور کا سلسلہ جاری ہے۔

امیر المومنین حضرت علی(ع) اسلامی تاریخ کی وہ درخشاں ہستی ہیں کہ جن کا کردار ہر اعتبار سے نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ آپ اس دنیا میں تشریف لائے تو مولود کعبہ کہلائے۔ سب سے پہلے جس ہستی کو دیکھا وہ رسالت مآب (ص) ہی تھے۔آپ (ص) کے سایہ عاطفت میں ہی گھٹنوں کے بل چلے اور آغوشِ رسالت میں نشوونما پا کر بالآخر میدان جہاد کے شہسوار بن گئے۔

مولودِ کعبہ نے کائنات کی ہرشے کو اسلام کی ہی روشنی میں دیکھا۔ درسگاہِ نبوی میں تعلیم و تربیت پائی۔ معلم انسانیت جیسا معلم و مربی ملا۔ رہنے کو نبوت کا گھرانہ اور بود و باش کے لئے سرزمینِ وحی ملی۔ قرآنی آیات کی شانِ نزول کے چشم دید گواہ بنے۔

حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کا جشن پاکستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی مذہبی جوش جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہےپورے ملک کی مساجداور امام بارگاہوں کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے- عاشقان حیدر کرار جگہ جگہ لوگوں میں شربت اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں-


مولائے کائنات کی ولادت باسعادت کے موقع پر عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف، کربلائے معلی، کاظمین اور سامرہ میں بھی وسیع پیمانے پر جشن کا اہتمام کیا گیا ہےجبکہ نجف اشرف میں لاکھوں کی تعداد میں عراقی اور غیر ملکی زائرین حضرت امام علی علیہ السلام کا جشن ولادت منا رہے ہیں اور ذاکرین و شعرائے کرام بارگاہ علوی میں اپنے اپنے مخصوص انداز میں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں-


ایران میں مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر اور قم المقدسہ میں جناب فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم مطہر میں بڑی تعداد میں عاشقان اہلبیت اطہار(ع) جشن علوی میں شریک ہیں- پاکستان اور ہندوستان میں بھی جگہ جگہ محافل میلاد کا اہتمام کیا گیا ہے اور گھر گھر نذر و نیاز کا سلسلہ جاری ہے-

شیعہ نیوز جشن مولود کعبہ کے اس پر مسرت موقع پر اپنے تمام سامعین ناظرین اور چاہنے والوں کو دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ااسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کو ایک تاریخی اور سیاسی معجزہ قرار دیا ہے۔صدر رمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں ایک پروگرام میں خطاب کے دوران عشرہ فجر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی عوام کی موجودگی، ایثار و فداکاری اور استقامت و پامردی نہ ہوتی تو پہلوی حکومت کے خلاف کہ جس کا دنیا کی سبھی بڑی طاقتیں ساتھ دے رہی تھیں یہ اسلامی انقلاب کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انقلابی تحریک کے دوران سبھی طاقتوں کی یہ کوشش تھی کہ اس تحریک کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی نے عالمی سطح پر سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا کیونکہ کوئی بھی یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ ایک ایسی تحریک جس کی بنیاد ایک مرجع تقلید اور مذہبی رہنما نے ڈالی ہے اور مسجدوں اور امامبارگاہوں میں جانے والے لوگ جس کی حمایت کررہے ہیں کامیاب ہوجائے گی۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے کہا کہ اسلامی انقلاب کی وجہ سے علاقے کے بعض ممالک چراغ پا ہوگئے اور ان ملکوں کی حکومتوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش ہونے لگی جبکہ بڑی طاقتوں کے مفادات بھی خطرے میں پڑ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی انقلاب کے دشمن انتالیس سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی ایرانی عوام سے انتقام لینا چاہتے ہیں۔ صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تقریبا ایک ارب مسلمان ایران کے مشرق میں واقع ملکوں میں زندگی بسر کررہے ہیں کہا کہ اسلام ایران کے ہی راستے ان ملکوں میں پہنچا ہے کیونکہ ایرانی عوام اسلام کے پیرو ہیں اور اسلام کو پھیلانے کی ذمہ داری بھی انہوں نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران کی ٹرانزٹ پوزیشن ایک غیر معمولی پوزیشن کی حامل ہے کہا کہ ایران کے جنوب مشرق میں چابہار – زاہدن ریلوے لائن ایران کی دیگر ریلوے لائنوں سے متصل ہو کر ایک بڑے بین الاقوامی ریلوے نیٹ ورک میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کراچی کے علاقے کلفٹن زمزمہ پارک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا چینی باشدہ ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا جبکہ ایک راہگیر زخمی ہوگئے۔کراچی کے علاقے کلفٹن میں زمزمہ پارک کے قریب نامعلوم ملزمان نے 46 سالہ چینی باشندے شین زو کی کار پر فائرنگ کی جس کو پولیس نے ٹارگٹڈ حملہ قرار دے دیا۔ابتدائی طور پر کلفٹن کے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ شین زو کراچی میں قائم ایک شپنگ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے اور حملے کے وقت وہ اکیلے تھے تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کی جب ملزمان نے فائرنگ شروع کی تو اس وقت کار میں دو چینی موجود تھے تاہم دوسرا شخص وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا لیکن وہ تاحال نہیں مل پایا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو عملہ موقع پر پہنچا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا۔قبل ازیں پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے میں چینی باشندہ شین زو شدید زخمی ہوا اور دوسرے شخص حسن علی کو معمولی زخم آئے ہیں تاہم جائے وقوع سے گولیوں کے 9 خالی خول برآمد ہوئے ہیں۔علاوہ ازیں جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال میں شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ چینی باشندے کو سر اور ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے زمزمہ پارک کے قریب مبینہ فائرنگ سے چینی باشندے کے زخمی ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس جنوبی کو واقعے کی انکوائری کے احکامات جاری کیے۔وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں۔خیال رہے کہ کراچی میں چینی شہری پر حملے سے دومہینے قبل ہی چینی حکومت نے پاکستان میں کام کرنے والے اپنے تمام شہریوں کی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اسلام آباد میں قائم چینی سفارت خانے کی ویب سائٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں چینی باشندوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ہیں جبکہ اپنے شہریوں کو بلا ضرورت باہر گھومنے سے منع کرتے ہوئے گھروں کے اندر محدود ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔یاد رہے کہ 2017 میں بلوچستان میں کوئٹہ سے ایک چینی جوڑے کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار کو بریفنگ میں کہا گیاتھا کہ کوئٹہ میں اغواہونے والے چینی شہری کوئٹہ میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔چوہدری نثار نے کوئٹہ میں دو چینی باشندوں کے اغوا کے واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مختلف منصوبوں کے لیے پاکستان کے مختلف حصوں میں موجود چینی باشندوں کا ڈیٹا بینک بنانے کی ہدایت کی تھی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہیں مقبوضہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، بھارتی مظالم اور اس زمرے میں پاکستان کے موقف کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔تلاوت قرآن پاک سے آغاز ہونے والی اس باوقار تقریب میں مختلف مقررین نے مسئلہ کشمیر پر اپنا اظہار خیال کیا۔خصوصا پاکستان کے قونصل جنرل عرفان محمود بخاری نے نہایت عمدگی اور تفصیل سے مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی۔ان کی تقریر کے ساتھ بڑی اسکرین پر چلنے والے سلائیڈ شو ان کے خطاب کو مزید قابل فہم بنا رہے تھے۔علاوہ از ایں، ایرانی عوام کی سہولت کے لئے قونصل جنرل پاکستان کی تقریر ساتھ ساتھ فارسی زبان میں بھی ترجمہ کی گئی۔واضح رہے کہ تقریب کے اہتمام میں کونسل آف آرٹ خراسان رضوی نے بھی بھرپور تعاون کیا۔کونسل آف آرٹ خراسان رضوی کے سربراہ میثم مرادی بیناباج کا اس موقع پر کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی ایران نے ہمیشہ سے مظلومین جہان کی دادرسی کی ہے اور مستقبل میں بھی اپنے آرمانوں پر استقامت کیساتھ عمل پیرا کریگا۔انہوں نے عندیہ دیا کہ ایرانی عوام ہنرمندوں کی میٹھی زبان کے توسط سے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریگی۔اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کے سابق رکن ڈاکٹر قاسم جعفری نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور مسلمان عالم کے اتحاد اور اتفاق پر زور دیتے ہوئے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیا۔سیمینار کے اختتام پر قونصلر جنرل عرفان محمود بخاری نے ترکی اور عراقی سفارتکاروں سمیت پاکستان اور ایران کے مختلف اہم شخصیات کے نمائندوں میں اعزازی شیلڈ پیش کیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا ہے کہ افغانستان پاکستان پر الزام تراشی سے اجتناب کرے اور دونوں ممالک تعاون کو مزید بہتر بنائیں۔کابل میں پاک-افغان مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر تہمینہ جنجوعہ نے حال ہی میں افغان دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کی اور افغانستان کو بم دھماکوں کی مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کردی۔

سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد آج صبح کابل پہنچا، وفد میں وفد میں اعلیٰ عسکری اور سول حکام بھی شامل ہیں۔اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ پاک-افغان مذاکراتی عمل کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کا ایکشن پلان برائے تعاون کلیدی اہمیت کا حامل ہے اور اقدامات باہمی روابط مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل میں پاک-افغان حکام کے درمیان سیکیورٹی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور باہمی تجارت پر گفتگو ہوگی۔مشترکہ ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ وزیراعظم پاکستان اور افغان صدر کے درمیان ملاقات میں طے پایا تھا۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے باہمی رابطے معطل ہونے کا تاثر دیا جا رہا تھا۔اس سے قبل این ڈی ایس سربراہ اور افغان وزیر داخلہ نے بھی گزشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے دوران افغان وفد نے افغانستان میں ہونے والے دھماکوں میں پاکستان کی سرزمین استعمال ہونے سے متعلق کچھ مبینہ ثبوت پیش کیے تھے۔جس پر پاکستان نے افغانستان کے فراہم کردہ ثبوت پر مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کابل میں 3 بڑے دہشت گرد حملے ہوئے، جس کے دوران 100 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔گذشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان نے افغانستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر افغان حکومت کے ردعمل کو بیرونی عناصر کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کا نتیجہ قرار دیا تھا۔