شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )متحدہ مجلس عمل سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی اور پاکستان میں عدلانہ نظام کے لئے جدوجہد سندھ میں ہماری اولین ترجیح ہوگی، عوامی مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مسلک کے درمیان اتحاد و وحدت کی فضاء کو بہتر بنانے کے لئے متحدہ مجلس عمل اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کراچی کے مرکز ادارہ نور حق میں ایم ایم اے کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ناظر عباس تقوی کا کہنا تھا کہ وہ قوتیں اور عناصر جو ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دینا چاہتی ہیں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں ان کو ہم کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، معاشرے سے کرپشن کے خاتمے، عوام کے استحصال، مہنگائی، بے روزگاری اور بیرونی مداخلت روکنے، پاکستان میں نظام مصطفیٰ (ص) کے قیام اور تحفظ قانون ناموس رسالت (ص) کی حفاظت کے لئے متحدہ مجلس عمل 2018ء کے الیکشن میں بھرپور قوت اور طاقت کے ساتھ میدان عمل میں آئے گی، عوام نے اُن عناصر کو مسترد کردیا ہے جنہوں نے ملک میں کرپشن کا بازار گرم کیا اور ملکی دولت کو بیرون ملک منتقل کیا، اب عوام کی نگاہیں متحدہ مجلس عمل کی قیادت کی جانب ہیں ، اب متحدہ مجلس عمل ہی پاکستان بھر میں عوامی مسائل کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

 

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )تحریر: عرفان علی

9 اپریل سال 2006ء کو محمود احمدی نژاد کی صدارت کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران نے کم درجے پر یورینیم افزودگی کا کامیاب تجربہ کیا۔ ایران کے ہجری شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے وہ 20 فروردین کا دن تھا، اس لئے 9 اپریل یا 20 فروردین کو ایران میں ہر سال ’’روز ملی فناوری ہستہ ای‘‘ یعنی یوم قومی ایٹمی ٹیکنالوجی کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ اس سال بھی ایران میں اس دن جشن کا سماں تھا، نیوکلیئر میلہ سجایا گیا، جہاں موجودہ صدر حسن روحانی مہمان خصوصی تھے۔ اس تقریب میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران کی تازہ ترین کامیابیوں کا چرچا تھا اور اسکی نمائش بھی کی گئی۔ صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جب سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے گروپ پانچ جمع ایک (یا۔۔ای تین جمع تین) سے بین الاقوامی معاہدہ ہوا ہے، تب سے ایران کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں پیش رفت اور کامیاب منصوبوں کی تعداد 200 ہے۔ پچھلے سال تینتالیس منصوبوں کا افتتاح ہوا اور اس سال 83 منصوبوں کا افتتاح ہوا۔ اس دن کی مناسبت سے دس اپریل بروز منگل مجھ حقیر کو سحر اردو ٹی وی کے سیاسی ٹاک شو ’’انداز جہاں‘‘ میں اظہار خیال کے لئے مدعو کیا گیا جبکہ میزبان جناب سید علی عباس رضوی کے ساتھ پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر راشد عباس نقوی صاحب تہران اسٹوڈیو میں براجمان تھے۔ اسی لئے اس ناچیز کو یہ مناسب لگا کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران کی کامیابیوں اور تازہ ترین پیش رفت پر ایک تازہ نگاہ دوڑائی جائے، تبھی یہ جان پائیں گے کہ ایران کیوں اس ایک دن کو اپنی قومی عظمت و افتخار کا دن قرار دے کر جشن مناتا ہے۔

ایران نے جن کامیابیوں کو نمائش کے لئے پیش کیا، وہ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی، نیوکلیئر فشن، نیوکلیئر ادویات اور ایٹمی بجلی گھر سے متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر تیل کی صنعت میں سینٹری فیوج مشین کا استعمال۔ یہ انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ سینٹری فیوج مشین کا ایک استعمال یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے سے گیس اور تیل کے لئے ڈرلنگ میں مدد لی جاتی ہے اور فضلہ یا نامطلوبہ مواد کو مطلوبہ مواد سے علیحدہ کیا جاتا ہے یا ٹھوس اشیاء کو مایع سے علیحدہ کیا جاتا ہے اور اس طرح کم وقت میں زیادہ اور اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ایران کی دوسری کامیابی لیزر اسپیکٹرو میٹر کی تیاری ہے۔ یاد رہے کہ نینو ٹیکنالوجی ایران پہلے ہی حاصل کرچکا ہے۔ تازہ ترین تیسری اہم کامیابی ریڈیو فارماسیوٹیکل کے شعبے میں ہے، جو ادویات سے متعلق ہے اور سرطان (کینسر) جیسے موذی مرض میں اور خاص طور مردانہ تولیدی نظام میں سرطان کے علاج کی ادویات کی تیاری ہے۔ یہ وہ اہم شعبہ ہے کہ ایران کے اہم ترین نیوکلیئر سائنسدان مجید شھریاری اس پر کام کرنے کی وجہ سے شہید کئے گئے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے ایک مرتبہ خاص طور پر شہید شہریاری اور اس شعبے کا تذکرہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت ایران کے دشمن یہ ادویات (یعنی ریڈیو فارماسیوٹیکل) میں ایران کو محروم رکھنے کے درپے ہیں۔ ایران کو باہر سے بھی یہ ادویات میسر نہیں اور جو ایران کے اندر اس شعبے میں کام کرتے ہیں، دشمن ان کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں۔ رہبر معظم کا کہنا تھا کہ ایران کے دیگر نیوکلیئر سائنسدان بھی مسعود علی محمدی، داریوش رضائی نژاد، مصطفٰی احمدی روشن وغیرہ کو بھی اسی لئے شہید کیا گیا کہ وہ ایسے ہی اہم منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔ اس سلسلے کے ایک اور شہید رضا قشقائی تھے۔

ایران نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ کامیابیاں بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی ہیں۔ صرف حکومت اسلامی ایران نے نہیں بلکہ پوری ملت ایران نے عالمی سطح کی مفلوج کر دینے والی پابندیوں کا سامنا کیا۔ ایران کو مختلف شعبوں میں اقتصادی نقصانات پہنچائے گئے، جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا ٹرائل کیا گیا، دیگر ممالک کو امریکہ نے دھمکیاں دے کر ایران سے تجارتی لین دین، حتٰی کہ سائنسی و طبی تعاون بھی نہیں کرنے دیا۔ ایران کے مسافر بردار طیاروں کے حادثات کی ایک وجہ یہ تھی کہ دیگر ممالک کو دباؤ ڈال کر پابند کر دیا گیا تھا کہ ایران کے مسافر بردار طیاروں کے اسپیئر پارٹس دیگر ممالک ایران کو برآمد نہ کریں۔ جعلی ریاست اسرائیل کے نسل پرست صہیونی دہشت گردوں پر مشتمل ایجنسی موساد کو مامور کیا گیا کہ ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو ہدف بناکر قتل کرے۔ یہ کوئی ایسی باتیں نہیں جسے ایران کا الزام قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے بلکہ خود اسرائیلی اس کا انکشاف کرچکے ہیں، انہوں نے اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کتاب اسی سال 30 جنوری کو شایع ہوئی ہے، جو یدیعوت اہارونوت کے رونن برگ مین نے لکھی ہے۔ ’’رائز اینڈ کل فرسٹ: اسرائیل (کی جانب سے) ہدف بنا کر (سیاسی اہداف کیلئے) قتل کرنے کی خفیہ تاریخ‘‘ میں موساد ہی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج اور شین بیت کے اہلکاروں نے جو قتل کئے ہیں، یعنی ستر سال میں دو ہزار سات سو قتل کے بارے میں لکھا ہے۔ ایک ہزار انٹرویوز اور ہزاروں دستاویزات کی بنیاد پر چھ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب امریکی روزنامے نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر فہرست میں شامل ہے۔

یہ کوئی نیا انکشاف نہیں۔ سال 2012ء میں ’’ہرمجدون کے مخالف جاسوس: اسرائیل کی خفیہ جنگوں کے اندر (کی کہانی)‘‘ ڈان راویو اور یوسی میلمن کی اس مشترکہ تصنیف میں جولائی 2012ء میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران نیوکلیئر سائنسدانوں کو اسرائیلی ایجنسی موساد نے قتل کروایا۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف امریکی سازشوں اور اسرائیل کے کردار پر نیویارک ٹائمز کے ڈیوڈ سینجر نے بھی کم از کم دو کتابوں میں امریکی حکمران شخصیات اور اداروں کے بعض اہم اجلاسوں کی اندرونی روداد بیان کی ہیں۔ موساد نے عالم اسلام کے خلاف حتٰی کہ بعض یورپی ممالک کے خلاف جو کارروائیاں کی ہیں اس پر رونالڈ پیئن کی کتاب ’’موساد، اسرائیل کا خفیہ ترین ادارہ‘‘ 1990ء میں شایع ہوچکی ہے۔ مراکش کے حکمران شاہ حسن نے اپنے سیاسی مخالف مہدی بن برکہ کو مروانے کے لئے موساد اور فرانسیسی اداروں کی مدد لی تھی۔ مصری ایٹمی سائنسدان پروفیسر یحیٰ المشھدی کی مسخ شدہ لاش ملی، جو امریکہ اور روس سے اس شعبے کی تعلیم و تربیت لے چکا تھا اور ایک معاہدے کے تحت عراقی نیوکلیئر اتھارٹی کے ساتھ کام کر رہا تھا اور فرانس میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا تھا، جہاں اسے قتل کر دیا گیا۔ بس فرق یہ ہے کہ دیگر مسلمان یا عرب ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت سے روکنے کی اسرائیلی سازش اس لئے کامیاب ہوگئی کہ وہ ممالک امریکہ پر یا دیگر مغربی ممالک پر انحصار اور اعتماد کرتے تھے یا پھر انکی صفوں میں صہیونیوں کے آلہ کار زیادہ بااثر اور طاقتور تھے، لیکن ایران ان سازشوں کے باوجود اپنی دھن کا پکا نکلا اور یورینیم کی افزودگی کرکے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ ایران کو اس سے روکنے کے لئے امریکہ کے سازشی کردار کی تفصیلات خود سابق امریکی وزرائے خارجہ کونڈالیزا رائس اور ہیلری کلنٹن نے بھی اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتب میں بیان کی ہیں۔ ایران سے دشمنی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ایران کی فلسطین پالیسی ہے، یعنی فلسطین میں صرف فلسطینی آباد ہوں اور غیر ملکی جو یہاں لا کر بسائے گئے ہیں، وہ اپنا ناجائز قبضہ ختم کریں اور یہاں کے اصل باشندے ریفرنڈم کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں۔

اب ایک اور مرتبہ ایران کو گھیرنے کی سازش پر عمل ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بارہا اعلان کرچکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ گروپ پانچ جمع ایک (یا ای تین جمع تین) کے معاہدے سے بحیثیت ایک فریق دستبردار ہو جائیں گے اور ساتھ ہی وہ یورپی یونین پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی ایران کو جھکنے پر مجبور کرے، تاکہ ایران انکی دھمکیوں کی وجہ سے اپنا میزائل پروگرام جو کہ عالمی قوانین کی رو سے قانونی اور جائز ہے، اسے بھی روک دے۔ ایرانی قیادت اس ناجائز مطالبے کو مسترد کرچکی ہے۔ اگر اگلے ماہ صدر ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو ایران کے صدر حسن روحانی کا تازہ ترین موقف یہ ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس کے منفی اثرات دیکھ کر امریکہ خود اپنے فیصلے پر پشیمان ہونے پر مجبور ہو جائے گا، کیونکہ ایران ہر نوعیت کے ممکنہ منظر نامے کے لئے خود کو تیار کرچکا ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اگر نیوکلیئر معاہدہ ختم ہوا تو ایران انٹرنیشنل لاء کے مطابق یورینیم کی 20 درجے تک افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کر دے گا، جیسے وہ معاہدے سے پہلے کر رہا تھا۔ ایران اس طرح کہہ بھی سکتا ہے اور کر بھی سکتا ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد چالیسویں سال جب ہم ایران کو دیکھتے ہیں تو یہ ایک ایسا ملک بن چکا ہے کہ جس کو مشرق وسطٰی کے فیصلوں سے منہا نہیں کیا جاسکتا اور اس کی شرکت کے بغیر علاقائی معاملات حل نہیں ہوتے۔

ایران اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے کہ جسے اس کے بدترین دشمن و مخالف بھی ریجنل پاور یا علاقائی طاقت مانتے ہیں اور تھامس فریڈمین جیسا اسرائیل نواز امریکی یہودی دانشور تو (نیویارک ٹائمز میں) ایک کالم میں ایران کو ریجنل سپرپاور لکھ چکا ہے۔ ایران کا موازنہ اگر ہم اپنے ملک پاکستان سے کرلیں تو صرف ایک مثال ہی کافی ہوگی کہ نیوکلیئر اسلحہ سے لیس عالم اسلام کا پہلا ملک پاکستان ہے، لیکن یہاں زمین کے اوپر چلنے والی ٹرین کا نظام درست نہیں کیا جاسکا جبکہ ایران کے دارالحکومت تہران میں گذشتہ کئی برسوں سے زیر زمین میٹرو ٹرین بھی کامیابی سے چل رہی ہے! قصہ مختصر یہ کہ ایران سے دنیا کو یہ حیات بخش پیغام ملا ہے کہ امریکہ، جعلی ریاست اسرائیل اور انکے اتحادیوں کے کھوکھلے وجود سے بے خوف ہوکر ملتیں اپنے آپ پر اعتماد کرکے انحصار طلبی سے جان چھڑائیں تو ایٹمی ٹیکنالوجی بھی کوئی ایسا مشکل شعبہ نہیں کہ اس کے پرامن استعمال کے لئے امریکہ یا کسی دوسرے ملک سے مدد کی ضرورت ہو۔ ایران کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان، عرب اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک بھی ایجادات کرسکتے ہیں، علمی پیش رفت کرسکتے ہیں، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی و عسکری شعبوں میں ترقی کرسکتے ہیں اور ایران خود ایک ماڈل ہے، جس نے یہ سب کچھ کرکے دکھا دیا ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی ایران کا نعرہ ہی یہی ہے: جی ہاں! ہم کرسکتے ہیں!

مولود کعبہ جانشین پیغمبر فاتح خیبر و خندق مولائے متقیان مولی الموحدین امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت پر پورے پاکستان اور دنیا کے مختلف ملکوں میں جشن و سرور کا سلسلہ جاری ہے۔

امیر المومنین حضرت علی(ع) اسلامی تاریخ کی وہ درخشاں ہستی ہیں کہ جن کا کردار ہر اعتبار سے نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ آپ اس دنیا میں تشریف لائے تو مولود کعبہ کہلائے۔ سب سے پہلے جس ہستی کو دیکھا وہ رسالت مآب (ص) ہی تھے۔آپ (ص) کے سایہ عاطفت میں ہی گھٹنوں کے بل چلے اور آغوشِ رسالت میں نشوونما پا کر بالآخر میدان جہاد کے شہسوار بن گئے۔

مولودِ کعبہ نے کائنات کی ہرشے کو اسلام کی ہی روشنی میں دیکھا۔ درسگاہِ نبوی میں تعلیم و تربیت پائی۔ معلم انسانیت جیسا معلم و مربی ملا۔ رہنے کو نبوت کا گھرانہ اور بود و باش کے لئے سرزمینِ وحی ملی۔ قرآنی آیات کی شانِ نزول کے چشم دید گواہ بنے۔

حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کا جشن پاکستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی مذہبی جوش جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہےپورے ملک کی مساجداور امام بارگاہوں کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے- عاشقان حیدر کرار جگہ جگہ لوگوں میں شربت اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں-


مولائے کائنات کی ولادت باسعادت کے موقع پر عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف، کربلائے معلی، کاظمین اور سامرہ میں بھی وسیع پیمانے پر جشن کا اہتمام کیا گیا ہےجبکہ نجف اشرف میں لاکھوں کی تعداد میں عراقی اور غیر ملکی زائرین حضرت امام علی علیہ السلام کا جشن ولادت منا رہے ہیں اور ذاکرین و شعرائے کرام بارگاہ علوی میں اپنے اپنے مخصوص انداز میں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں-


ایران میں مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر اور قم المقدسہ میں جناب فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم مطہر میں بڑی تعداد میں عاشقان اہلبیت اطہار(ع) جشن علوی میں شریک ہیں- پاکستان اور ہندوستان میں بھی جگہ جگہ محافل میلاد کا اہتمام کیا گیا ہے اور گھر گھر نذر و نیاز کا سلسلہ جاری ہے-

شیعہ نیوز جشن مولود کعبہ کے اس پر مسرت موقع پر اپنے تمام سامعین ناظرین اور چاہنے والوں کو دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ااسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کو ایک تاریخی اور سیاسی معجزہ قرار دیا ہے۔صدر رمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں ایک پروگرام میں خطاب کے دوران عشرہ فجر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی عوام کی موجودگی، ایثار و فداکاری اور استقامت و پامردی نہ ہوتی تو پہلوی حکومت کے خلاف کہ جس کا دنیا کی سبھی بڑی طاقتیں ساتھ دے رہی تھیں یہ اسلامی انقلاب کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انقلابی تحریک کے دوران سبھی طاقتوں کی یہ کوشش تھی کہ اس تحریک کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی نے عالمی سطح پر سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا کیونکہ کوئی بھی یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ ایک ایسی تحریک جس کی بنیاد ایک مرجع تقلید اور مذہبی رہنما نے ڈالی ہے اور مسجدوں اور امامبارگاہوں میں جانے والے لوگ جس کی حمایت کررہے ہیں کامیاب ہوجائے گی۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے کہا کہ اسلامی انقلاب کی وجہ سے علاقے کے بعض ممالک چراغ پا ہوگئے اور ان ملکوں کی حکومتوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش ہونے لگی جبکہ بڑی طاقتوں کے مفادات بھی خطرے میں پڑ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی انقلاب کے دشمن انتالیس سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی ایرانی عوام سے انتقام لینا چاہتے ہیں۔ صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تقریبا ایک ارب مسلمان ایران کے مشرق میں واقع ملکوں میں زندگی بسر کررہے ہیں کہا کہ اسلام ایران کے ہی راستے ان ملکوں میں پہنچا ہے کیونکہ ایرانی عوام اسلام کے پیرو ہیں اور اسلام کو پھیلانے کی ذمہ داری بھی انہوں نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران کی ٹرانزٹ پوزیشن ایک غیر معمولی پوزیشن کی حامل ہے کہا کہ ایران کے جنوب مشرق میں چابہار – زاہدن ریلوے لائن ایران کی دیگر ریلوے لائنوں سے متصل ہو کر ایک بڑے بین الاقوامی ریلوے نیٹ ورک میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کراچی کے علاقے کلفٹن زمزمہ پارک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا چینی باشدہ ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا جبکہ ایک راہگیر زخمی ہوگئے۔کراچی کے علاقے کلفٹن میں زمزمہ پارک کے قریب نامعلوم ملزمان نے 46 سالہ چینی باشندے شین زو کی کار پر فائرنگ کی جس کو پولیس نے ٹارگٹڈ حملہ قرار دے دیا۔ابتدائی طور پر کلفٹن کے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ شین زو کراچی میں قائم ایک شپنگ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے اور حملے کے وقت وہ اکیلے تھے تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کی جب ملزمان نے فائرنگ شروع کی تو اس وقت کار میں دو چینی موجود تھے تاہم دوسرا شخص وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا لیکن وہ تاحال نہیں مل پایا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو عملہ موقع پر پہنچا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا۔قبل ازیں پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے میں چینی باشندہ شین زو شدید زخمی ہوا اور دوسرے شخص حسن علی کو معمولی زخم آئے ہیں تاہم جائے وقوع سے گولیوں کے 9 خالی خول برآمد ہوئے ہیں۔علاوہ ازیں جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال میں شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ چینی باشندے کو سر اور ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے زمزمہ پارک کے قریب مبینہ فائرنگ سے چینی باشندے کے زخمی ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس جنوبی کو واقعے کی انکوائری کے احکامات جاری کیے۔وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں۔خیال رہے کہ کراچی میں چینی شہری پر حملے سے دومہینے قبل ہی چینی حکومت نے پاکستان میں کام کرنے والے اپنے تمام شہریوں کی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اسلام آباد میں قائم چینی سفارت خانے کی ویب سائٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں چینی باشندوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ہیں جبکہ اپنے شہریوں کو بلا ضرورت باہر گھومنے سے منع کرتے ہوئے گھروں کے اندر محدود ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔یاد رہے کہ 2017 میں بلوچستان میں کوئٹہ سے ایک چینی جوڑے کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار کو بریفنگ میں کہا گیاتھا کہ کوئٹہ میں اغواہونے والے چینی شہری کوئٹہ میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔چوہدری نثار نے کوئٹہ میں دو چینی باشندوں کے اغوا کے واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مختلف منصوبوں کے لیے پاکستان کے مختلف حصوں میں موجود چینی باشندوں کا ڈیٹا بینک بنانے کی ہدایت کی تھی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہیں مقبوضہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، بھارتی مظالم اور اس زمرے میں پاکستان کے موقف کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔تلاوت قرآن پاک سے آغاز ہونے والی اس باوقار تقریب میں مختلف مقررین نے مسئلہ کشمیر پر اپنا اظہار خیال کیا۔خصوصا پاکستان کے قونصل جنرل عرفان محمود بخاری نے نہایت عمدگی اور تفصیل سے مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی۔ان کی تقریر کے ساتھ بڑی اسکرین پر چلنے والے سلائیڈ شو ان کے خطاب کو مزید قابل فہم بنا رہے تھے۔علاوہ از ایں، ایرانی عوام کی سہولت کے لئے قونصل جنرل پاکستان کی تقریر ساتھ ساتھ فارسی زبان میں بھی ترجمہ کی گئی۔واضح رہے کہ تقریب کے اہتمام میں کونسل آف آرٹ خراسان رضوی نے بھی بھرپور تعاون کیا۔کونسل آف آرٹ خراسان رضوی کے سربراہ میثم مرادی بیناباج کا اس موقع پر کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی ایران نے ہمیشہ سے مظلومین جہان کی دادرسی کی ہے اور مستقبل میں بھی اپنے آرمانوں پر استقامت کیساتھ عمل پیرا کریگا۔انہوں نے عندیہ دیا کہ ایرانی عوام ہنرمندوں کی میٹھی زبان کے توسط سے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریگی۔اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کے سابق رکن ڈاکٹر قاسم جعفری نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور مسلمان عالم کے اتحاد اور اتفاق پر زور دیتے ہوئے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیا۔سیمینار کے اختتام پر قونصلر جنرل عرفان محمود بخاری نے ترکی اور عراقی سفارتکاروں سمیت پاکستان اور ایران کے مختلف اہم شخصیات کے نمائندوں میں اعزازی شیلڈ پیش کیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا ہے کہ افغانستان پاکستان پر الزام تراشی سے اجتناب کرے اور دونوں ممالک تعاون کو مزید بہتر بنائیں۔کابل میں پاک-افغان مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر تہمینہ جنجوعہ نے حال ہی میں افغان دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کی اور افغانستان کو بم دھماکوں کی مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کردی۔

سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد آج صبح کابل پہنچا، وفد میں وفد میں اعلیٰ عسکری اور سول حکام بھی شامل ہیں۔اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ پاک-افغان مذاکراتی عمل کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کا ایکشن پلان برائے تعاون کلیدی اہمیت کا حامل ہے اور اقدامات باہمی روابط مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل میں پاک-افغان حکام کے درمیان سیکیورٹی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور باہمی تجارت پر گفتگو ہوگی۔مشترکہ ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ وزیراعظم پاکستان اور افغان صدر کے درمیان ملاقات میں طے پایا تھا۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے باہمی رابطے معطل ہونے کا تاثر دیا جا رہا تھا۔اس سے قبل این ڈی ایس سربراہ اور افغان وزیر داخلہ نے بھی گزشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے دوران افغان وفد نے افغانستان میں ہونے والے دھماکوں میں پاکستان کی سرزمین استعمال ہونے سے متعلق کچھ مبینہ ثبوت پیش کیے تھے۔جس پر پاکستان نے افغانستان کے فراہم کردہ ثبوت پر مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کابل میں 3 بڑے دہشت گرد حملے ہوئے، جس کے دوران 100 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔گذشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان نے افغانستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر افغان حکومت کے ردعمل کو بیرونی عناصر کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کا نتیجہ قرار دیا تھا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بھارتی افواج کشمیر کی جنگ میں آگ اور خون کی ہولی کھیل رہی ہیں۔ جنت جل رہی ہے اور پھول جیسے کشمیری نوجوان بارود کی آگ سے جھلس رہے ہیں مگر عالمی ضمیر خاموش ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند نوجوانوں نے کشمیر کی آزادی کے عظیم لیڈر برہان الدین وانی کی شہادت کے بعد جس جذبے، جرأت اور عزم کے ساتھ تحریک آزادی کو زندہ اور متحرک رکھا ہے وہ ہمارے دلی خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انگریزوں اور ہندوئوں نے گہری سازش کرکے مسلمانوں کو کٹا پھٹا اور لولہا لنگڑا پاکستان دیا تاکہ پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہوسکے۔ کشمیر پر بھارتی فوجی طاقت سے قبضہ اسی سازش کی کڑی تھا۔ آزادیٔ ہند ایکٹ 1935ء کا ایکٹ اور دوسرے قوانین اور معاہدوں کی روشنی میں پورے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا مگر متعصب ہندو لیڈروں نے نہ صرف آدھے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا بلکہ اقوام متحدہ میں جاکر کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی منظوری لینے کی کوشش کی مگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کشمیر کا تنازعہ استصواب کے ذریعے حل کرنے کی قرارداد منظور کی جس پر بھارتی لیڈروں نے اپنی انا، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آج تک عملدرآمد نہیں کیا۔ جب قائداعظم پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بھارت میں مقیم مسلمانوں نے ان سے سوال کیا کہ ان کا اور ان کی نسلوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ وہ بھارت کے متعصب ہندوئوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ قائداعظم نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا کہ پاکستان ہر حوالے سے دنیا کا مضبوط اور مستحکم ملک ہوگا اور بھارت کے لیڈر ہندوستان کے مسلمانوں کا استحصال کرنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے۔
اللہ کے فضل و کرم اور عوام کے جذبے سے پاکستان گوناگوں مشکلات اور مسائل کے باوجود آج بھی دنیا کا ایک آزاد ملک ہے البتہ پاکستان ستر سال گزرجانے کے بعد بھی قائداعظم کے خوابوں کیمطابق مضبوط اور مستحکم ریاست نہیں بن سکا۔ یہی وجہ ہے بھارت کے مسلمانوں کیخلاف ہر قسم کا ظلم و ستم روا رکھا جارہا ہے اور وہ متعصب اور انتہا پسند نریندر مودی کے دور میں تیسرے درجے کے شہری بن کررہ گئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کیخلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جارہے ہیں۔ اگر پاکستان مضبوط اور مستحکم ریاست بن چکا ہوتا تو متعصب ہندوئوں کو بھارتی مسلمانوں پر جبروتشدد کی کبھی جرأت نہ ہوتی۔ افسوس مفاد پرست اور موقع پرست حکمران خاندانوں نے سوہنی دھرتی کو اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہونے دیا اور اسے قرضوں کے شکنجے میں جکڑ دیا اور وہ ابھی بھی پاکستان کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ کشمیر کا مقدمہ بہت مضبوط ہے مگر کشمیریوں کو بھٹو جیسا وکیل نہیں مل سکا جس نے بہترین سفارت کاری کرکے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر روشناس کرایا۔ پی پی پی کی حکومت نے 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر قراردے کر سرکاری تعطیل کا اعلان کیا۔ آج پاکستان کا ایک بھی سیاستدان نہیں ہے جو کشمیر کاز کی وکالت کرنے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہو۔ قومی اسمبلی کی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہیں جن میں کشمیر کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کی صلاحیت اور جذبہ نہیں ہے۔ موجودہ حکمران ریاست کے مفاد کو نظر انداز کرکے اپنے سیاسی مفاد کے تابع بڑے منصبوں پر تعیناتیاں کرتے ہیں۔ عدلیہ اب تک درجنوں تعیناتیوں کو قوانین اور قواعد و ضوابط کے خلاف قرار دے کر کالعدم قراردے چکی ہے۔
ایک رپورٹ کیمطابق مقبوضہ کشمیر میں 2017ء میں 451افراد جان بحق ہوئے جن میں 125فوجی 217 حریت پسند 108سویلین شہری شامل ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور باشعور سیاستدان حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا فوجی حل کی بجائے سیاسی حل سے تلاش کیا جائے۔ بھارت اکنامک ورلڈ پاور بننے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستان کیلئے بھی پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ گیم چینجر ہے دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ وہ افہام و تفہیم سے کشمیر کا تنازعہ حل کرلیں تاکہ نئی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔ کشمیری نوجوانوں نے بے مثال قربانیاں دیکر کشمیر کے مسئلہ کو زندہ کردیا ہے۔ یہ موقع ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں کشمیر کاز کے ساتھ عملی تعاون کامظاہرہ کریں۔ کشمیر کے حریت پسندوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے ریلیاں نکالیں اور جماعتی وفود دوسرے ملکوں میں روانہ کریں۔ افسوس صد افسوس پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ(ن)، پی پی پی اور تحریک انصاف اقتدار کیلئے جنونی ہوچکی ہیں اور کشمیر انکے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔
ان جماعتوں کے لیڈر رسمی کاروائی پوری کرنے کیلئے کشمیر کے بارے میں بیان جاری کردیتے ہیں اور انکے دلوں میں مقبوضہ کشمیر کے شہید نوجوانوں اور کشمیر کی آزادی کیلئے عملی جذبہ نظر نہیں آتا۔ الیکٹرانک میڈیا جنون کی حد تک کمرشل ہوچکا ہے ۔ وہ بھی مسئلہ کشمیر کو بری طرح نظر انداز کررہا ہے اور پاکستان کے سماج میں منفیت پھیلارہا ہے۔ مثبت سرگرمیوں پر اسکی نظرہی نہیں پڑتی۔ حکومت چونکہ نااہل ہے اس میں پولیٹیکل ول (سیاسی عزم) ہی نہیں ہے لہذا وزارت خارجہ بھی تسابل اور کاہلی کا شکار ہے۔ کشمیر کے بارے میں اسکی سفارتی مہم عالمی سطح پر نظر نہیں آتی۔
آزاد کشمیر کے لیڈر بھی مصلحت کوش ہوچکے ہیں ان کی دلی خواہش ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر متحد نہ ہوں تاکہ انکی سیاسی جاگیریں انکے ہاتھ سے نکل نہ جائیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی، محمد دلاور چوہدری، محمد سعید کھوکھر، ناصر اقبال خان ، مظہر برلاس کی سرپرستی، راہنمائی اور ایڈمنسٹریشن میں ورلڈ کالمسٹ کلب قومی ایشوز پر یادگار اور معیاری فکری نشستوں کا اہتمام کرتا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر پر ’’جلتی ہوئی جنت اور جھلستے پھول‘‘ کے عنوان سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں تاریخی قومی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں ممتاز صحافیوں، دانشوروں اور سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے خطاب کیا اور کشمیر کے حریت پسندوں کو ہرقسم کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی تعاون کا یقین دلایا اور حکومت سے فعال، سرگرم اور متحرک سفارت کاری کا مطالبہ کیا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنی آزادی کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر آمادہ ہوجائے پھر اسکی آزادی کو زیادہ عرصہ نہیں روکا جاسکتا۔ ہندو اور مسلمان قوم نے دنیا کی سپر پاور برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ فرانس کے عوام نے انقلاب برپا کرکے بادشاہت سے آزادی حاصل کی۔روس کے عوام نے کارل مارکس اور لینن کی قیادت میں سرمایہ دارانہ نظام سے آزادی حاصل کی۔ چین کے عوام نے مائوزے تنگ کی قیادت میں انقلاب برپاکیا۔ جنوبی افریقہ کے عوام نے نیلسن منڈیلا کی قیادت میں نسل پرستوں سے آزادی حاصل کی۔ کشمیر کے لاکھوں شہیدوں کا خون رنگ لائے گا اور وہ وقت دور نہیں جب کشمیری عوام بھی ہندو تسلط سے آزادی حاصل کرلیں گے۔
تم نے جس خون کو مقتل میں چھپانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
ظلم کی بات ہے کیا ظلم کی اوقات ہے کیا
ظلم پھر ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے سوشکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹائو تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھائو تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دبائو تو دبائے نہ بنے

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹیل نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے لیے امریکی حکمت عملی ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے، افغانستان میں جنگ ختم کرے اور پاکستان کا اس میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کی جنوبی ایشیائی پالیسی کی کامیابی کیلئے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا جنوبی ایشیاء کی پالیسی پر عمل درآمد کررہا ہے جس میں طالبان کو مفاہمت کی طرف لانا شامل ہے۔سربراہ امریکی سینٹ کام نے کہا کہ پالیسی میں افغانستان کے طویل مسئلے کوحل کرنا بھی شامل ہے۔کچھ روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کیا تھا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے افغانستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دہشت گرد حملوں کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس صورتحال میں طالبان سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے حوالے سے امریکا کی پالیسی کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ ہم اس وقت مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہم طالبان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے، وہ دائیں بائیں ہر جگہ بے گناہ لوگوں کو قتل کررہے ہیں‘‘۔
پاک امریکا تعلقات میں تناؤ
خیال رہے کہ 2018 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔اس کے بعد امریکا نے پاکستان کی امداد بند کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھانا شروع کردیے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نورٹ کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی تک پاکستان کی معاونت معطل رہے گی۔دوسری جانب پاکستان نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ااامریکہ نے کہا ہے کہ امریکہ کا پاکستان پر حملے کا کوئی پروگرام نہیں لیکن فوری طور پر دہشت گرد عناصر کی سرکوبی بہت ضروری ہے۔
پینٹاگان کی ترجمان ڈینا وائٹ اور لیفٹیننٹ جنرل مکینزی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا حکمت عملے کے تحت پاکستان پر حملے کا کوئی پروگرام نہیں ،شام باغیوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر کیمیائی ہتھیار استعمال کررہاہے، بشار الاسد حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ترکی کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ترکی پر کرد باغیوں کے راکٹ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ڈینا وائٹ اور لیفٹیننٹ جنرل مکنیزی نے دھمکی دی کہ شامی فوج نے باغیوں پر کیمیائی حملے بند نہ کئے تو بشارالاسد کے خلاف فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ترجمان نے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان خطے کا اہم ملک ہے۔صرف افغانستان میں امن کیلئے اسلام آباد سے تعاون درکارہے۔ ایک سوال پر ڈینا کا کہنا تھا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا متاثر ہے۔ دہشتگردی کے خلاف اسلام آباد کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کے ستر فیصد حصے پر طالبان کے قبضے سے متعلق سوال پر ڈینا کا کہنا تھا ساٹھ فیصد حصے پر افغان حکومت کی رٹ ہے اور صرف چالیس فیصد حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔