تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے لاہور میں عالمی حسینی کانفرنس بعنوان "تکفیریت اور پاکستان کو درپیش چیلنجز" سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنی فطری اتحادی ہیں، قائداعظم اور علامہ اقبال کی سوچ کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد امت ہی تمام مسائل اور پریشانیوں کا حل ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ دہشتگردی میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں، جنہوں نے مقامی شرپسندوں کو اپنا ایجنٹ بنا کر استعمال کیا اور کافر کافر کے نعرے لگوا کر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی سازش کی، لیکن سلام پیش کرتے ہیں ملت تشیع پاکستان کو جس نے ہزاروں جنازے اٹھائے، لیکن پاکستان کیخلاف ایک لفظ تک نہیں کہا، نہ ہی ملکی اداروں پر حملے کئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی میں صرف ایک گروہ ملوث ہے، اسی فکر کے لوگوں نے ہر دور میں اسلام کو نقصان پہنچایا ہے اور یہی لوگ اسلام کے مخالف بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام شیعہ اور سنی متحد ہیں اور ان کے اتحاد سے ہی تکفیری آج تنہا ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو سے لے کر اے پی ایس پر حملے تک، ایک ہی گروہ کے لوگ ملوث ہیں، آج تک کوئی شیعہ فوج یا اداروں پر حملوں میں نہیں پکڑا گیا۔ اس کے باوجود شیعہ نوجوان لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ لاپتہ شیعہ افراد کو فوری بازیاب کرایا جائے اور اگر ان کیخلاف کوئی کیسز ہیں تو عدالتوں میں چلائیں جائیں، ہم مجرموں کی حمایت نہیں کریں گے، لیکن بے گناہ نوجوانوں کا لاپتہ ہو جانا ہمارے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان شیعہ اور سنیوں نے مل کر بنایا تھا اور اس کی حفاظت بھی وہی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ کو کچھ اداروں نے ماضی میں استعمال کیا، لیکن آج وہی دہشتگرد پاکستان کی سالمیت کے درپے ہوچکے ہیں، جن کا تدارک نہ کیا گیا تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے سہولت کار حکومتوں کی صفوں میں موجود ہیں، جن کیخلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی، حکومتی صفوں میں بھی آپریشن ردالفساد کرنے کی ضرورت ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ دہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی، کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت اور سکیورٹی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اب مزید خبریں آ رہی ہیں کہ داعش نے پاکستان کا رخ کر لیا ہے، لیکن ہمارے ادارے آنکھیں موندے بیٹھے ہیں، پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی خطرے میں ہے، اس پر سرجیکل اسٹرائیک کرنے اور اس پر قبضے کی باتیں ہو رہی ہیں، امریکہ نے اگر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا تو اسے دن میں تارے دکھا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے، اگر امریکی کمانڈوز پاکستان کی زمین پر اترے تو ان کی لاشیں ہی جائیں گی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے لاہور میں مختلف وفود سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر قومی سلامتی اور سالمیت کیلئے مستقل خطرہ ہیں، دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر حکومتی ذمہ داروں کی جانب سے محض بیان بازی کرکے دیگر ذمہ داریوں سے خود کو بری الذمہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ جیسے حساس شہر میں دہشتگردوں کی کمین گاہوں کا تدارک کرنے میں حکومتی ناکامی سوالیہ نشانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم مذہبی جماعتوں اور ان کے سہولت کاروں کی بیخ کنی کے بغیر ملک میں امن کی امید محض خواب ثابت ہوگی، بلوچستان میں شرپسندوں کے تانے بانے ہمارے ازلی دشمن بھارت، امریکہ اور خلیجی ریاستوں سے ملتے ہیں، جو کالعدم جماعتوں کو اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، بدقسمتی سے حکومتی صفوں میں ایسے اراکین موجود ہیں، جو دہشتگرد گروہوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت دہشتگردی کے خاتمے میں مخلص ہے تو اپنی صفوں میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بغدادی تھانے میں علامہ حسن ظفر نقوی سے ملاقات کی اور اظہار یکجہتی کیا۔

تفصیلات کے مطابق علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بغدادی تھانے میں علامہ حسن ظفر نقوی سے ملاقات کی اور اظہار یکجہتی کیا جس کے بعد انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک میں آئین اور قانون کے تحت کاروائی کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں قانون پر عمل نہیں ہورہا، شیعہ افراد کا لاپتہ ہونا غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے، مہینوں اور سالوں سے شیعہ افراد لاپتہ ہیں اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ شیعہ عزاداری کرتے ہیں دہشتگردی نہیں، اس ملک میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ملک کو برباد کرنا چاہتے ہیں، ریاست پر حملے کرنے والوں کو کسی نے نہیں پکڑا، دہشتگرد احسان اللہ احسان کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا مگر ہمارے افراد کو لاپتہ کردیا جاتا ہے، لاپتہ افراد کے اہلخانہ روز جیتے اور مرتے ہیں اور ریاست کے ادارے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں، اداروں میں موجود کالی بھیڑیں نہیں چاہتیں کہ ملک خوشحال ہو، ہم نے ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، لوگوں سے مذاکرات بھی ہوئے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور نہ ہی ہماری بات سنی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ ہم تھک جائیں گے تو یہ اس کی بھول ہے، ہم نے 1400 سال سے یزید کا تعاقب نہیں چھوڑا، گرفتاریوں کا مسئلہ کراچی سے نکل کر ملک بھر میں پھیل جائے گا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے شروع ہونے والی جیل بھرو تحریک دن بہ دن زور پکڑتی جارہی ہے، اس موقع پر علامہ ناصر عباس جعفری نے ملت کے نام خصوصی پیغام دیا ہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہمیں شیعہ اور پاکستانی ہونے کی دہری سزا دی جارہی ہے، ہمارے پڑھے لکھے با شعور افراد کو شہید کیا جاتا رہا اور اب ہمارے جوانوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے، ان کے گھر والوں کو ان کی کوئی خبر نہیں نہ ہی انہیں عدالتوں میں پیش کیا جارہا ہے، ہمارا آئینی اور قانونی مطالبہ ہے کہ اگر ہمارے جوانوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے وگرنہ انہیں بازیاب کیا جائے۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہم نے سال بھر میں ہر دروازہ کھٹکھٹایا، اداروں سے ملاقاتیں کیں مگر ہم سے غلط بیانی کی گئی، بالآخر مولانا حسن ظفر نقوی نے گرفتاری دے کر کراچی سے جیل بھرو تحریک کا آغاز کردیا ہے، اگر ہمارے لاپتہ افراد جلد واپس نہ آئے تو یہ تحریک کراچی سے نکل کر ملک بھر میں پھیل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکمران سمجھتے ہیں کہ ہم جلد تھک کر بیٹھ جائیں گے مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے 1400 سال سے یزید کا تعاقب نہیں چھوڑا، حکمران گرفتاریوں سے تھک جائیں گے مگر ملت تشیع کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہمارے لاپتہ افراد واپس نہیں آجاتے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی نے کہا ہے کہ ایک طرف ملت جعفریہ کو دہشتگردی کا سامنا ہے تو دوسری طرف محب وطن افراد کو بے بنیاد اور غیر آئینی و قانونی طور پر کئی سالوں سے لاپتہ کیا جا رہا ہے، ایک سازش اور منصوبہ بندی کے تحت ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے، ہم مجاہد عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی کی جانب سے کراچی سے شروع کی جانے والی جیل بھرو تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں، خوش آئند بات یہ کہ اس جیل بھرو تحریک میں تمام جماعتیں متحد ہیں، علامہ حسن ظفر نقوی کے بعد مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی گرفتاری دیں گے، ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ملتان میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام منعقدہ 41 ویں ''مہدویت اُمید بشریت '' کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سید ناصر عباس شیرازی کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان سے محبت اور اس کے لئے قربانیاں دینے کی سزا دی جا رہی ہے، دشمن جان لیں کہ یہ قوم کراچی سے پاراچنار اور خیبر سے گلگت تک متحد ہے، اگر ہمارے لاپتہ جوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو ملک گیر ''جیل بھرو'' تحریک شروع کریں گے جو حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دے گی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) حسینیت ایک فکر اور ایک وژن کا نام ہے، حضرت امام حسین کی ذات گرامی اور فکر حسینیت اسلامی فلاحی معاشرے کی تشکیل کا باعث ہے، امام عالی مقام نے دین اسلام کی بقاء و احیاء کے لئے عظیم قربانی دے کر اسلام کی آبیاری کی اور یزیدیت کو واصل جہنم کیا، امام حسین نے دین اسلام کی بقاء اور احیاء کے لئے اپنی جان نثار کرکے ایثار و قربانی کی ایک عظیم تاریخ کربلا کے میدان میں رقم کی، جس سے اسلام کے احیاء اور تجدید ہوئی، اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فکر حسینیت کو عام کریں اپنے کردار و اخلاق سے یزیدیت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے جامعہ کراچی میں سالانہ عظیم الشان یوم حسین ؑبعنوان مقصد ِ قیامِ امام حسین ؑ اور ہماری ذمہ داری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یوم حسین کا اہتمام دفتر مشیر امور طلبہ اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جامعہ کراچی یونٹ کی جانب سے پارکنگ گراﺅنڈ ایڈمن بلاک جامعہ کراچی میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یزیدیت نہ اس وقت ختم ہوئی تھی اور نہ آج ختم ہوئی ہے بلکہ مختلف شکلوں میں آج بھی موجود ہے، اسلام کے نام پر مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، ہمیں متحدہ ہونے اور درس کربلا سے سیکھنے کی ضرورت ہے، آج پوری امت مسلمہ مسائل کا شکار ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ حسینیت کے جذبہ کو بیدار کیا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ قانون ساز ادارہ ہے، جس کے تقدس اور وقار کو ہر قیمت بحال رکھا جانا چاہیے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایک نااہل اور کرپٹ شخص کو تحفط دینے کے لئے ایوان کے تقدس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود انتخابی اصلاحات بل کی قومی اسمبلی سے منظوری بدعنوان عناصر کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے مابین ٹکراؤ کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دن گنے جا چکے ہیں۔ انہیں عوام کے لوٹے ہوئے پیسے کی ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔ اراکین اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں، انہیں عوامی جذبات کی ترجمانی کرنی چاہیے۔

ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بیس کروڑ عوام ملک لوٹنے والوں کا احتساب چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ قومی سرمائے کو ذاتی دولت سمجھ کر نوابوں کی طرح خرچ کیا گیا۔ عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، صحت و تعلیم جیسے حساس امور کی جانب حکومت کی عدم توجہی نے عوام کے لئے بنیادی ضروریات زندگی کو ناپید کر رکھا ہے۔ ترقی کے تمام تر دعوے طفل تسلی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بچانے کے لئے عدلیہ کے فیصلوں کا تمام مقتدر اداروں کو احترام کرنا ہوگا۔ تصادم کی راہ ملک کی مزید تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ شخصیات کا دفاع کرنے کی بجائے ملک و قوم کی سلامتی کو مقدم رکھنا ہی ملکی سالمیت و استحکام کی ضمانت ہے۔ عوام ہر اس ملک دشمن سیاست دان کے خلاف سراپا احتجاج بنے گی، جو کرپٹ عناصر کی حمایت کرے گا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے کہا ہے کہ خدا کے فضل و کرم سے اس سال ملک بھر میں محرم الحرام پُرامن رہا، لیکن جنوبی پنجاب میں عزاداروں کے خلاف بے بنیاد مقدمات تشویشناک ہیں، آئندہ جمعہ سے پہلے اگر تمام مقدمات ختم نہ کیے گئے تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

علامہ اقتدار نقوی نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں عزاداران امام حسین علیہ السلام کی جانب سے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا گیا لیکن اس کے باوجود پولیس کی جانب سے مختلف اضلاع میں انتقامی کاروائیاں حکومت کے لیے نقصان دہ ہیں، اُنہوں نے کہا کہ اگر آئندہ جمعتہ المبارک تک لاپتہ شیعہ نوجوانوں کے حوالے سے معاملہ حل نہ کیا گیا تو مرکزکے فیصلے پر لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ حکومت ہمارے صبر کو کمزوری نہ سمجھے، عزاداری سیدالشہداء نہ کبھی رُکی ہے اور نہ کوئی روک سکتا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد نقوی نے کہا ہے کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا متعصبانہ کردار ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے، رانا ثناء اللہ کھلم کھلا فرقہ واریت پھیلا رہا ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ججز کے مسلک کو نشانہ بنا کر باقر نجفی رپورٹ کا متنازعہ بنانے کی کوشش صوبائی وزیر قانون کے گھناؤنے کردار کو واضح کرنے کیلئے کافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو مسلک کے نام پر تقسیم کرنے کی اس کوشش پر سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینا چاہیے۔ پنجاب کی صوبائی کابینہ میں رانا ثناء اللہ وہ وزیر ہے جس کے کالعدم دہشتگرد تنظیموں سے سب سے زیادہ گہرے اور ذاتی تعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقر نجفی رپورٹ کی بنیاد پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو اپنے گرد گھیرا تنگ ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، اس لیے وہ اس کو روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ پاکستان میں ہونیوالے انتہا پسندی کے واقعات میں ملوث دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی رانا ثناء اللہ جیسے لوگ کر رہے ہیں، یہ عناصر ملکی ترقی و استحکام کے دشمن ہیں، ان کیخلاف ملک سے غداری کے مقدمات کا اندراج ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے جج کا تعلق مخصوص مسلک سے ظاہر کے رانا ثنا اللہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ قیام پاکستان کے روح رواں قائداعظم محمد علی جناح اور تحریک پاکستان میں اپنا پیسہ پانی کی طرح بہانے والے نواب آف محمود آباد سمیت متعدد اہم شخصیات کا تعلق اسی مسلک سے تھا۔ انہوں نے کہا رانا ثناء اللہ فرقہ واریت پھیلانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، ایسا شخص کا وزارت کے اہم منصب پر براجمان رہنا ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے، پنجاب حکومت کو چاہیے کہ رانا ثناءاللہ کو فوراً کابینہ سے الگ کرے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین نے لاہور میں سول سیکرٹریٹ کے باہر آج ہونیوالے احتجاجی دھرنے کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ مجلس نے محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے علماء و ذاکرین اور مجالس پر پابندی کے اعلان کے بعد دھرنے کی کال دی تھی جس پر محکمہ داخلہ نے پابندی کی خبر کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں علامہ مبارک علی موسوی اور سید اسد عباس نقوی کی قیادت میں وفد نے سول سیکرٹریٹ لاہور میں ایڈیشنل ہوم سیکرٹری سے ملاقات کی۔ وفد میں سید نوبہار شاہ، علامہ وقارالحسنین نقوی، خرم عباس نقوی، حسنین زیدی، رانا ماجد علی اور رائے ناصرعلی شامل تھے۔ ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کو ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں نے علماء و ذاکرین کو لائسنس لینے اور مجالس اور جلوس کی رجسٹریشن سے متعلق اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر آئینی غیر قانونی اقدامات ہے، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کرینگے، حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری نے وفد کو وضاحت دیتے ہوئے "ایکسپریس" اخبار میں چھپنے والی خبر کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے کوئی بھی ایسے احکامات جاری نہیں کیے، ہم ذرائع ابلاغ میں اس مبہم خبر کی وضاحت اور حکومت سے منسوب خبر کی تردید کریں گے، مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں نے سول سیکرٹریٹ پر ہونیوالے احتجاجی دھرنے کی منسوخی کو حکومت پنجاب کی طرف سے متنازعہ خبر کی واپسی یا تردید کیساتھ مشروط کر دیا تھا۔ تاہم آج اخبارات میں حکومت کی جانب سے تردید کے بعد ایم ڈبلیو ایم نے سول سیکرٹریٹ کے سامنے ہونیوالے احتجاجی دھرنے کی منسوخ کر دیا ہے۔