تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب میں ایک پاکستانی شہری سمیت 6 افراد کے سر قلم کر دیئے گئےہیں۔

سعودی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایک پاکستانی شہری کو منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی جبکہ 5 سعودی شہریوں کے سر قتل کے جرم میں قلم کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ رواں برس سعودی عرب میں ایک دن میں دی جانے والی سب سے زیادہ سزائیں ہیں اور رواں برس سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 44 ہو گئی ہے۔سعودی عرب، داعش اور القاعدہ کی سزاؤں کا طریقہ ایک ہی جیسا اور بہیمانہ ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں جنوری 2014ء میں اپنے اسکول پر ایک خودکش حملے کو ناکام بنانے والے طالب علم اعتزاز حسن کے خاندان کا کہنا ہے کہ اُنہیں طالبان کی طرف سے دھمکی ملی ہے۔ ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی میں اپنے اسکول کی طرف بڑھنے والے خودکش حملہ آور کو اعتزاز حسن نے روکنے کی کوشش کی تھی اور ہاتھا پائی کے دوران دھماکے سے 15 سالہ اعتزاز نے جام شہادت نوش کیا تھا، لیکن اپنی جان کی قربانی سے اعتزاز نے اسکول کو بڑی تباہی سے بچا لیا تھا۔ خودکش حملہ آور کو اسکول پر حملے سے قبل ہی دبوچ کر اعتزاز حسن نے جس بہادری کا مظاہر کیا، اس پر نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس نوجوان طالب علم کو خراج عقیدت تحیسن پیش کیا جاتا رہا ہے۔

اعتزاز حسن کے بڑے بھائی مجتبٰی حسن بنگش نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اُنہیں ایک خط کی صورت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دھمکی ملی ہے۔ مجتبٰی حسن کا کہنا تھا کہ 3 اپریل کو اُنہیں دھمکی آمیز خط ملا تھا اور 6 اپریل کو انہوں نے پولیس میں اس کی رپورٹ درج کرائی تھی، لیکن ابھی تک انہیں کوئی سکیورٹی نہیں ملی۔ کالعدم تحریک طالبان سے منسوب خط جو اعتزاز حسن کے خاندان کو بھیجا گیا، اُس میں یہ تحریر ہے کہ "اعتراز ہیرو نہیں ہے اور میڈیا اُس کی اشتہار بازی چھوڑ دے۔"

خط میں اعتزاز کے بھائی مجتبٰی کو متبنہ کرتے ہوتے کہا گیا ہے کہ وہ میڈیا اور حکومتی اداروں سے ملنا چھوڑ دے، ورنہ نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا۔ طالبان کی اس دھمکی اور اعتزاز کے خاندان کی طرف سے تحفظ کے مطالبے پر صوبہ خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حکومت پاکستان نے اعتزاز حسن کی بہادری پر انہیں ستارہ شجاعت سے بھی نوازا تھا، جبکہ ابراہیم زئی کے سرکاری اسکول کو بھی ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا تھا۔ اعتزاز کے بھائی مجتبٰی بنگش کہتے ہیں کہ اُنہیں خدشہ ہے کہ طالبان اس اسکول کو پھر نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لئے اُنہوں نے حکام سے درخواست کی ہے کہ اسکول کی سکیورٹی کو سخت بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اُن کے بقول ابراہیم زئی میں اعتزاز کے نام سے منسوب اسکول میں لگ بھگ 450 طالب علم زیر تعلیم ہیں۔

مجتبٰی حسن کہتے ہیں کہ سلامتی کے خدشات کے سبب اُن کے خاندان کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے، اعتزاز کی موت کے بعد اُن کی زندگی صرف گاؤں کی حد تک محدود ہوگئی ہے اور وہ کہیں آجا نہیں سکتے۔ خودکش بمبار کو روکنے کی کوشش کے دوران اپنی جان کی قربانی دینے والے اعتزاز حسن کی کوشش کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی سراہا گیا تھا اور اس بارے میں بین الاقوامی نشریاتی اداروں اور اخبارات میں خبریں اور فیچر شائع ہوئے تھے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) افغانستان کے صوبہ پروان کے ایک دینی مدرسے میں بم دھماکے میں صوبائی علما کونسل کے سربراہ جاں بحق ہوگئے ہیں۔ ارنا نے خبردی ہے کہ افغانستان کے صوبہ پروان کے شہر چابکار کے ایک دینی مدرسے میں دہشت گردانہ بم دھماکے میں صوبائی علماء کونسل کے سربراہ شاہ آغا حنفی جاں بحق ہوگئے- اس دھماکے میں ان کے تین شاگرد بھی جاں بحق ہوئے ہیں - خبروں میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں کچھ کی حالت تشویشناک ہے - ابھی تک کسی شخص یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن افغان حکام اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری طالبان گروہ پر عائد کرتے ہیں

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) اطلاعات کے مطابق لڑائی 24 گھنٹے تک جاری رہی جس کے بعد طالبان نے ضلع قلعہ ذل پر قبضہ کرلیا۔ افغانستان میں طالبان جنگجوؤں نے قلعہ ذل پر مختلف اطراف سے جمعہ کی سہ پہر سے حملے جاری رکھے ہوئے تھے اور ہفتے کی دوپہر انھوں نے ضلع کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ قندوز پولیس کے ترجمان محفوظ اللہ اکبری نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی دستوں نے طالبان کا مقابلہ کیاتاہم اضافی فورس کی عدم دستیابی کے سبب ایک موقع پرانھیں لڑائی ترک کرنا پڑی۔ہونے والی جھڑپوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاع ہے تاہم تاحال تعداد واضح نہیں ہے۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں درجنوں افغان فوجی مارے اور زخمی ہوگئے اور بھاری اسلحہ پربھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ طالبان نے ضلعی پولیس ہیڈکوارٹرز، گورنر کمپاؤنڈ اور تمام سیکورٹی چیک پوسٹوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق موسم بہار میں کارروائیوں کے آغازکے بعد سے طالبان کے زیر قبضہ اضلاع کی تعداد 2 ہو گئی ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ حزب اسلامی افغانستان کے رہنما گلبدین حکمتیار سے سبق سیکھیں اور امن کے عمل میں شامل ہو جائیں۔ افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے جمعرات کو حزب اسلامی افغانستان کے رہنما حکمتیار کا ایوان صدرمیں منعقدہ تقریب میں خیرمقدم کرتے ہوئے امن کے عمل میں ان کے شامل ہونے کی تعریف کی اور کہا کہ طالبان بھی افغانستان کے امن کے عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ اور امن کا قیام، افغان عوام کی خواہش اور آرزو ہے اور حکومت کابل اور حزب اسلامی نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ قیام امن کا مکمل عزم رکھتی ہیں۔

افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے کہا کہ یہ بات سب پر واضح ہو گئی ہے کہ مخاصمت اور جنگ و جدال کے خاتمے کی امنگ و آرزو، پوری کی جاسکتی ہے۔انھوں نے علاقے کے ملکوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت کرنا بند کر دیں اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے کے بجائے کابل حکومت کی حمایت کریں۔اس موقع پر حزب اسلامی افغانستان کے رہنما گلبدین حکمتیار نے بھی کہا کہ ان کے لئے سب سے زیادہ اہم بات، جنگ کا خاتمہ اور افغانستان میں امن و استحکام کا قیام ہے۔ انھوں نے کابل حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان امن کے عمل کی حمایت کرنے پر افغان قوم کی قدردانی بھی کی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) راولپنڈی: فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے کالعدم تحریک طالبان کے 3 دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پھانسی پانے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے تھا اور اُن کے نام حسن ڈار، عمرزاردہ، حضرت علی ولد فضل ربی تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد ملکی املاک اور سیکیورٹی فورسز سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث تھے، فوجی عدالتوں کی جانب سے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد آج کیا گیا ہے۔ تینوں دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائی گئے جہاں دہشت گردوں نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور عینی شاہدین نے بھی انہیں شناخت کیا جس کے بعد انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کی 25 تاریخ کو سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث 4 دہشت گردوں جبکہ اس سے قبل 5 دہشت گردوں کو کوہاٹ جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی، تمام دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی تھی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) افغانستان میں سکیورٹی فورسز کو سرما کے مہینوں میں غیرمعمولی طور پر بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، یکم جنوری اور 24 فروری کے درمیان سکیورٹی فورسز کے807 اہلکار طالبان حملوں میں مارے گئے۔ افغانستان میں تعمیر نو کے لیے قائم امریکی محکمے سِگار نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ افغانستان میں سکیورٹی فورسز کو سرما کے مہینوں میں غیر معمولی طور پر بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری اور 24 فروری کے درمیان سکیورٹی فورسز کے807 ارکان مارے گئے۔ موسم سرما میں عمومی طور پر طالبان کی جانب سے پر تشدد کارروائیاں کم دیکھنے میں آتی تھیں لیکن اس بار طالبان نے سرکاری فوج کے خلاف اپنی لڑائی بھرپور طریقے سے جاری رکھی۔ سِگار کے مطابق گزشتہ سال جنوری سے لے کر وسط نومبر تک تقریباً 6800 افغان فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ تقریباً بارہ سو زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 65.6 فیصد افغان عوام حکومتی کنٹرول والے علاقوں میں رہتے ہیں جبکہ 25.6 فیصد افغان شہری طالبان کے کنٹرول والے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کیس کے فیصلے کے بعد عمران خان کا 10 ارب روپے آفر کا الزام سمجھ سے بالاتر ہے، ان کو یہ بات فیصلے سے پہلے کرنی چاہیے تھی، ہم نے ہمیشہ طالبان کی مخالفت کی ہے، ہزاروں افراد کے قاتل کو پھانسی کی سزا بھی کم ہے، پاکستان اور افغانستان کو معلومات کا تبادلہ کرنا چاہیے، غیر ریاستی عناصر ریاستوں کو لڑا رہے ہیں، افغانستان کا بارڈر سیل کیا جا رہا ہے مگر بھارت کا نہیں، ہمسایوں کو بدل نہیں سکتے مل بیٹھ کر بات کرنی ہو گی، تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مشال خان نے کوئی توہین نہیں کی، عمران خان ایک طرف مٹھائی کھا رہے ہیں تو دوسری طرف گالیاں دے رہے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اسفندیار خان ولی نے کہا کہ جلسے کے لئے ہجوم اکٹھا کرنا آسان ہے مگر ووٹ لینا بہت مشکل ہے، جلسے کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، عمران خان کو دس ارب روپے کی بات پانامہ کیس کے فیصلے سے پہلے کرنا چاہیے تھی، فیصلہ آنے کے بعد ایسا الزام لگانا سمجھ سے بالا تر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں وقت کی بہت اہمیت ہوتی ہے، عمران اگر سیاست دان ہوتے تو آفر والی بات سپریم کورٹ میں کرتے، افسوس ہے کہ عمران کو شاہ محمود قریشی نے بھی یہ مشورہ نہیں دیا حالانکہ وہ کافی منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ اسفندیار ولی نے کہا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے بننی چاہیے تھی، اختلافی نوٹ ہر فیصلے میں آتے ہیں مگر اصل فیصلہ اکثریت کا ہی ہوتا ہے، اگر کیس کے فیصلے سے پہلے جے آئی ٹی بنائی جاتی تو زیادہ اچھا ہوتا۔ سربراہ اے این پی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ طالبان کی مخالفت کی ہے، ہزاروں افراد کے قاتل احسان اللہ احسان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے، ایسے لوگوں کے لئے تو پھانسی کی سزا بھی بہت کم ہے، ہزاروں مرد خواتین اور بچوں کا خون کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو معلومات کا تبادلہ کرنا چاہیے، غیر ریاستی عناصر ریاستوں کو لڑا رہے ہیں، افغانستان کا بارڈر سیل کیا جا رہا ہے مگر بھارت کا نہیں۔

اسفندیار ولی نے کہا کہ چین، روس اور پاکستان مسئلہ افغانستان کے حل کے لئے افغانستان کی شمولیت کے بغیر مذاکرات چاہتے ہیں، افغانستان کے بغیر بات کرکے یہ تینوں ملک کیا ثبوت دینا چاہ رہے ہیں۔؟ ہم ہمسایوں کو بدل نہیں سکتے اس لئے مل بیٹھ کر بات کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بہت خطرناک بات ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں حوصلہ اور برداشت نہیں رہا، طلباء تنظیمیں غلط نہیں مگر ان کا استعمال غلط ہوتا ہے، تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مشال خان نے کوئی توہین مذہب نہیں کی، اس واقعہ کے ملزموں کے ساتھ کسی صورت نرمی نہیں کرنی چاہیے ورنہ اور لوگوں کو بھی شہہ ملے گی، مشال قتل کیس کے تمام مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت یہی کہتی ہے کہ ہم نے بہت کام کیا، پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، عمران خان ایک طرف مٹھائی کھا رہا ہے تو دوسری طرف گالیاں دے رہا ہے۔ یہ لوگ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کررہے، ہم عمران یا زرداری کے ساتھ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں۔

 

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) پاکستان میں دہشتگردی کا بازار گرم کرنیوالے اور آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے لیاقت علی عرف احسان اللہ احسان کسی دہشتگردی کیس کا سامنا نہیں کرے گا کیوں کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے اسے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ طالبان کے راز سکیورٹی فورسز کو بتائے گا جس کے بدلے میں اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق احسان اللہ احسان کو یہ بھی یقین دلایا گیا ہے کہ اس کیخلاف درج مقدمات کی بھی سماعت نہیں کی جائے گی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ احسان اللہ احسان کے سرنڈر میں ایک اور معروف دہشتگرد اور پنجابی طالبان کے کمانڈر عصمت اللہ معاویہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عصمت اللہ معاویہ نے ہی فوج کیساتھ احسان اللہ احسان کا رابطہ کروایا۔ عصمت اللہ معاویہ پہلا تحریک طالبان پاکستان کا انتہاپسند کمانڈر تھا جس نے جولائی 2014ء میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی پر ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ عصمت اللہ معاویہ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا قریبی دوست ہے اور اسی دوستی کی بدولت وہ احسان اللہ احسان کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوا۔

عصمت اللہ معاویہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ احسان اللہ احسان کو تب سے جانتا ہے جب وہ تحریک طالبان پاکستان کا نیا نیا ترجمان منتخب ہوا تھا۔ عصمت اللہ معاویہ کے مطابق 20 ماہ قبل معاہدے کے تحت اس کی واپسی کے بعد ان کا دوبارہ رابطہ ہوا، جو احسان اللہ احسان کی واپسی تک برقرار رہا۔ معاویہ کے بقول احسان اللہ احسان نے اچھا فیصلہ کیا اور واپسی کی راہ لی۔ ذرائع کے مطابق عصمت اللہ معاویہ نے فوجی حکام کو بتا دیا تھا کہ احسان اللہ احسان ہتھیار ڈالنے پر رضا مند ہے اور براہ راست فوجی حکام سے بات کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق احسان اللہ احسان نے فوجی قیادت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد 6 فروری کو اپنے آپ کو بیوی اور بیٹے سمیت پاک افغان بارڈر کے علاقے چمن میں فوج کے حوالے کر دیا لیکن اس کے سرنڈر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس (17 اپریل 2017ء) تک خفیہ رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس تاخیر کا مقصد خاص معلومات کا حصول اور ان کی تصدیق بتایا گیا ہے۔ جس کے بعد پاک فوج نے بہت سے کامیاب آپریشنز کئے۔

احسان اللہ احسان کے سرنڈر ہونے کے اعلان کے بعد جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ احسان اللہ احسان کو افغان صوبے پکتیکا سے دیگر 2 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم اسد منصور نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ احسان اللہ احسان کیساتھ گرفتار ہونیوالے دیگر 2 رہنما کون ہیں۔ جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب احسان اللہ احسان نے سرنڈر کیا اس وقت وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ تھا۔ احسان اللہ احسان مہمند ایجنسی کا رہائشی ہے اور پشتو زبان کا شاعر بھی ہے۔ اس نے اردو شاعر احمد فراز کی عشقیہ شاعر کو بھی پشتو میں ترجمہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاں سکیورٹی اداروں سے اس کیخلاف کیسز نہ چلانے کی یقین دہانی کروائی ہے وہیں اسے تحفظ، رہائش اور کھانا بھی دینے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ ذرائع نے کہا ہے کہ اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ احسان اللہ احسان کو تحفظ، رہائش اور کھانا کتنی مدت تک دیا جاتا رہے گا۔

عصمت اللہ معاویہ جو تحریک طالبان چھوڑ چکا تھا ستمبر 2014ء میں اس کا تعلق ایک اور جہادی گروہ "انصارالمجاہدین" سے پتہ چلا تاہم معاویہ کی جانب سے جاری ویڈیو جس میں کہا گیا تھا کہ وہ افغانستان میں نیٹو اور ایساف فورسز پر حملے جاری رکھیں گے، اس ویڈیو میں عصمت اللہ معاویہ کو طالبان کا لیڈر ظاہر کیا گیا تھا۔ عصمت اللہ معاویہ کا تعلق پنجاب کے شہر وہاڑی سے ہے تاہم اب وہ پشاور میں سخت سکیورٹی میں گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہا ہے۔ کسی کو یہ علم نہیں کہ وہ اب کیا کرتا ہے اور اپنی زندگی کی گاڑی کیسے چلا رہا ہے۔ جبکہ احسان اللہ احسان کا معاملہ بھی عصمت اللہ معاویہ جیسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ عصمت اللہ معاویہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ اس کے ساتھ 85 افراد نے سرنڈر کیا ہے جن میں حکیم اللہ محسود کا سگا بھائی اور اس کا قریبی ساتھی شیخ عبدالرحیم بھی شامل تھا۔

دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس کہتے ہیں کہ ہم ایک قاتل کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں جس نے بے گناہوں کا خون بہایا ہو، جن کے ہاتھ آرمی پبلک سکول کے بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ "اسلام ٹائمز" سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ احسان اللہ احسان نے 19 ستمبر 2011ء میں کراچی میں ایس ایس پی چودھری اسلم کو قتل کیا جو دہشتگردوں کیلئے خوف کی علامت تھے۔ علامہ راجہ ناصر عباس کہتے ہیں کہ احسان اللہ احسان سمیت دیگر دہشتگردوں کو سرعام پھانسی دی جائے انہیں مراعات دینا شہداء کے لواحقین کے زخمیوں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کہتے ہیں کہ احسان اللہ احسان کے انکشافات کے بعد طالبان کی حمایت کرنیوالوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ "اسلام ٹائمز" سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم روز اول کہہ رہے تھے کہ طالبان "را" کے ایجنٹ ہیں اور را کے ایجنڈے کے تحت ہی پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو ہر صورت بھی عبرتناک سزا دی جانی چاہیے۔ جے یو پی کے مرکزی صدر اعجاز ہاشمی کہتے ہیں دہشتگرد دہشتگرد ہی ہوتا ہے، قتل و غارت کر کے معافی مانگ لینے سے دوسرے شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سرنڈر کرنیوالے دہشتگردوں کوعبرت ناک سزا دی جائے تاکہ دوسروں کوایسا فعل سرانجام دینے کی جرات نہ ہو۔

 

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) خطیب جامع مسجد پاراچنار علامہ فدا حسین مظاہری نے کہا ہے کہ دہشت گرد ملکی سالمیت کو داو پر لگانے کے لئے قبائلی روایات سے ہٹ کر اب خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ کرم ایجنسی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات سے وطن عزیز کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ پاراچنار کے مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ فدا حسین مظاہری نے کہا کہ حکومت ریاست میں حق حاکمیت کهو چکی ہے، اس لئے وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائے۔ حکمرانوں کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاراجنار کرم ایجنسی میں یہ دسواں بڑا دھماکہ ہے مگر وہ ابھی تک ایک دھماکے کے ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار نہ کرسکی۔ علامہ فدا حسین نے کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام جنازوں پہ جنازے اٹها رہے ہیں مگر دہشت گردوں کو لگام دینے والا کوئی نہیں، ایک طرف ہماری نسل کشی ہورہی ہے جبکہ دوسری طرف حکومت نے بے حسی کی انتہا کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد پیدا کرنے والی فیکٹریوں کو مسمار نہ کیا گیا اور جنت کے ٹکٹیں بانٹنے والوں کو لگام نہ دیا گیا تو اس سے پاکستان کی سالمیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ حکومت عوام سے جینے کا حق چھیننے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔