تازہ ترین

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)وحدت یوتھ اسلام آباد کی یوتھ کاؤنسل کا اجلاس مرکزی سیکریٹری یوتھ ڈاکٹر یونس حیدری اورڈپٹی سیکریٹری یوتھ برادر وفا عباس  کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے  ڈاکٹر یونس حیدری کا کہنا تھا کہ 6 اگست کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں  قائد شہید علامہ عارف الحسینی کی 29 برسی کی مناسبت سےمہدی برحق کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان بھر سے شیعہ سنی حضرات شرکت کریں گے۔ڈاکٹر یونس کا کہنا تھا کہ شہید کے افکار کو زندہ رکھنا ہمارا اہم فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت کے قیام سے لے کر آج تک ہم نے شہید حسینی ؒ کی فکر کو دنیا بھر میں پہنچایا ہے اور پہنچاتے رہیں گے۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکریڑی یوتھ برادر وفا عباس نے کہا کہ اسلام آباد کے جوانوں کے لئے مرکزی برسی کی میزبانی باعث افتخار ہے۔ برادر وفا نے کہا کہ برسی کی تشہیری مہم اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے اور اس کو مزید ابھارنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوان عوامی رابط مہم شروع کرکے اس عظیم اجتماع میں عوام الناس کو دعوت دیں اور ان کی شرکت کو یقینی بنائیں۔اس موقع پہ  ضلع اسلام آباد  کے سیکرٹری یوتھ برادر علی رضا بھی موجود تھے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)وحدت یوتھ راولپنڈی کی ڈسٹرک کونسل کا اجلاس مرکزی ڈپٹی سیکریٹری برادر وفا عباس اور سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین راولپنڈی علامہ اکبر کاظمی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے برادر وفا عباس کا کہنا تھا کہ آج نوجوان نسل کو سیرت محمد و آل محمد پر چلنا ہے۔ آج دشمن براہ راست امام زمانہ سے جنگ کا خواب دیکھ رہا ہے اور ایسے میں ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ اکبر کاظمی کا کہنا تھا کہ 6 اگست کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں مہدی برحق کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان بھر سے شیعہ سنی حضرات شرکت کریں گے۔ یہ اجتماع قائد شہید علامہ عارف الحسینی کی 29 ویں برسی کی مناسبت سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ برادر وفا کا کہنا تھا شہید کی برسی کے اس اجتماع کی تشہیری مہم میں جوانوں کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنڈی اور اسلام آباد میں جوان عوامی رابط مہم شروع کرکے اس عظیم اجتماع میں عوام الناس کو دعوت دیں اور ان کی شرکت کو یقینی بنائیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما اور خطیب مسجد باب العلم علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ حکومت اور حزب اختلاف اور سیاسی و مذہبی جماعتیں افہام و تفہیم اور تحمل و برداشت سے کام لیں، تاکہ ملکی استحکام اورسلامتی کیلئے کام ہو سکے، اس وقت ملک اندرونی و بیرونی خطرات اور خلفشار میں گھرا ہوا ہے اور ہماری سرحدوں پر دشمنوں کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں، ایسے میں ہمیں ہوش اور عقلمندی سے کام لیتے ہوئے اپنے اندرونی و بیرونی مخالفین سے نمٹنا ہوگا اور ان عناصر کی سرکوبی کرنا ہوگی جو یہاں دہشت گردی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے تمام طبقات سے بھی کہا کہ وہ یکجا ہوکر کام کریں تاکہ ملک سے بے یقینی کی کیفیت کا خاتمہ ہو، یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ قوم و ملت کی خدمت کا ہے، اس وقت پاکستان میں بسنے والے تمام طبقات جس کرب و پریشانی سے گزر رہے ہیں اسے اب ختم ہونا چاہیئے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)پاراچنار میں پے در پے دہشتگردی کے واقعات کا ہونا سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین ضلع مظفرگڑھ کے سیکرٹری جنرل علی رضا طوری نے ضلعی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اتنے سخت سکیورٹی کے سخت حصار، خندقیں اور نام نہاد ریڈزون کہ جس کے نام پر لوگوں کو تنگ کیا جاتا رہا اور معیشت کا بیڑا غرق کیا جاتا رہا، کے ہوتے ہوئے عام شہری کا داخلہ مشکل تھا لیکن دہشتگرد تمام سکیورٹی کے حصار کو بڑی آسانی سے توڑ کر بے گناہ عوام کے خون سے ہولی کھیل لیتے ہیں۔ اور پھر جب مظلوم عوام اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے نکلتے ہیں تو سکیورٹی اداروں کی وردی میں ملبوس کالی بھیڑیں پرامن مظاہرین پر گولیوں کی بچھاڑ کر دیتی ہیں، جس سے دھماکے سے بچے ہوئے افراد شہید اور زخمی ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پاراچنار میں نوجوان قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی استقامت اور دیدہ دلیری کے بلبوتے پر اپنے حقوق کے حصول اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف کامیاب دھرنا دیا جس میں انہوں نے اپنے مطالبات نہ صرف منوائے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی کروا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جوانان پاراچنار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے صبر و استقامت سے ظلم کے خلاف قیام کیا، مطالبات کے پورا ہونے تک میدان میں حاضر رہے اور قوم کو سرخروہ کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین ہمارے لئے ایک وسیلہ ہے نہ کہ ہدف۔ اس وسیلے کو استعمال کرتے ہوئے قومی شعور کو بیدار کرنا ہوگا۔ اپنے حقوق کے لئے آواز کو بلند کرنا ہوگا، ظلم کے خلاف اٹھنا ہوگا۔ ہم مجلس وحدت کی قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے پاراچنار کے مومنین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پورے ملک میں احتجاجی تحریک چلا کر فرقہ واریت کی سازش کو ناکام بنایا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم آج اگر میدان عمل میں ہیں تو یہ ہم کسی فرد یا شخصیت کو خوش یا راضی کے لئے نہیں بلکہ ہمیں اللہ کی رضا اور محمد (ص) و آل محمد (ع) کی خوشنودی کے لئے کام کرنا چاہئے اور آج اگر ہم نے اپنے حقوق کے لئے آواز نہ اٹھائی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ 6 اگست 2017ء کو ہونے والی قائد شہید کی برسی میں مظفرگڑھ سے انشااللہ بھرپور نمائندگی ہوگی۔ اس حوالے سے عوامی رابطہ مہم کے لئے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، جو کہ مختلف علاقوں کا دورہ کریں گی اور اپنی کارکردگی رپورٹ 21 جولائی 2017 کو ہونے والے ضلعی کابینہ کے اجلاس میں پیش کریں گی۔ اس عوامی رابطہ مہم میں تنظیم سازی کا عمل بھی تیز کیا جائے گا۔ اس موقع پر ضلعی کابینہ کے اراکین سید عمران رضا ایڈووکیٹ، سید مظہر نقوی، سید شفقت علی، آغا سید عابد فاطمی، عدنان حیدر تہیم ایڈوکیٹ، شوکت حسین بک اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے آخر میں شہدائے ملت جعفریہ، خصوصًا شھدائے پاراچنار و کوئٹہ کی بلندی درجات کے لئے دعا اور فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس کا اختتام دعائے امام زمانہؑ سے کیا گیا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) منگل کے روز اوسلو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریکا موگرینی نے کہا ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر امریکی حکومت کے اعتراض کے باوجود اس عالمی معاہدے پر علمدرآمد جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے پر نظر ثانی کے نتیجے میں معقول یہ ہوگا کہ یہ معاہدہ باقی ہے اور اس پر عملدرآمد جاری ہے۔

انہوں نے سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان کی دوسری سالگرہ کے موقع پر آئی اے ای اے کی جاری کردہ رپورٹ میں ایک بار پھر ایران کی جانب سے اس معاہدے کی پاسداری کی توثیق کی گئی ہے لہذا اس حوالے ہماری بدگمانیاں دور ہوگئی ہیں۔

فیڈریکا موگرینی نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے کا کسی ایک ملک سے نہیں بلکہ پوری عالمی برداری سے تعلق ہے یورپی یونین اس پر عملدرآمد کی کوشش کر رہی ہے۔

تحریر: نذر حافی

nazarhaffi@ gmail.com

اتحاد امت پر سبھی زور دیتے ہیں، جو اسلحہ اٹھائے پھرتے ہیں، آپ ان سے پوچھیں تو وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ اتحاد امت بہت ضروری ہے۔ اس پر بہت کانفرنسیں ہوچکی ہیں اور بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ اتحاد امت کی خاطر جدید خطوط پر سوچا جائے اور پرانی اور تجربہ شدہ راہوں کو ترک کیا جائے۔ اب تک جو اتحاد امت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ چند مسلمان فرقوں یا ممالک کا خود مسلمان فرقوں اور ممالک کے خلاف ہی اکٹھے ہو جانا ہے۔ درحقیقت، اتحاد کسی کے خلاف اکٹھا ہونے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے ردعمل میں جمع ہو جانے کا نام اتحاد ہے۔ اتحاد بھی نماز کی طرح ایک دینی فریضہ اور مسلسل عمل ہے۔ تمام اسلامی فرق و مذاہب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان مشکلات اور اسباب، ان رویوں اور نظریات پر نظرثانی کریں، جن کی وجہ سے امت متحد نہیں ہوسکتی۔

ہمارے ہاں پاکستان میں سب سے معتدل ترین اور پیار و محبت بانٹنے والا مسلک بریلوی مسلک ہے۔ اس مسلک کو یہ خصوصیت اور خوبی حاصل ہے کہ اس نے اکثریت کے باوجود کبھی اقلیتوں پر زبردستی اپنے عقائد نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ افسوس کی بات ہے کہ کئی جگہوں پر اس مسلک کی مساجد پر قبضے کئے گئے اور اس کی کئی علمی شخصیات کو قتل کیا گیا اور اس کے نزدیک مقدس مقامات مثلاً اولیائے کرام کے مزارات پر دھماکے کئے گئے، لیکن اس کے باوجود اس مسلک نے نفرتوں، دشمنیوں اور زیادتیوں کا جواب اولیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق پیار و محبت سے دیا ہے۔ پاکستان کا مورخ یہ لکھنے میں حق بجانب ہے کہ اس مسلک نے اکثریت میں ہونے کے باوجود، اقلیتوں کا خیال رکھا اور ان سے محبت آمیز برتاو کیا۔

پاکستان میں دوسرا نمایاں مسلک اہل تشیع کا ہے۔ اہل تشیع سے دیگر مسالک کو عرصہ دراز سے یہ شکایت تھی کہ بعض شیعہ خطباء دیگر مسالک کو برداشت نہیں کرتے اور ان کی دل شکنی کرتے ہیں۔ مجھے چند سال پہلے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ جہان تشیع کے مرجع سید علی خامنہ ای ؒ نے جہاں یہ فتویٰ صادر کیا ہے، وہیں اپنی مختلف تقریروں میں بھی یہ کہا ہے کہ خبردار کسی بھی دوسرے مسلک کی دل شکنی اور ان کے مقدسات کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرنا حرام ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص ایسا فعل انجام دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا تعلق اہل تشیع کی پڑھی لکھی اور باشعور کمیونٹی سے نہیں ہے۔ اب بے شعور اور ان پڑھ آدمی تو کسی کے بارے میں بھی کچھ بھی کہہ سکتا ہے، وہ تو خود اپنے ہی علماء اور شخصیات کے بارے میں بھی نازیبا الفاظ کہہ سکتا ہے۔ لہذا ہماری مراد پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کا طبقہ ہے۔

ہمارے ہاں تیسرا نمایاں مسلک ان احباب کا ہے، جنہیں ہم سلفی، اہلحدیث یا دیوبندی کہتے ہیں۔ جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں سرگرم ہونے کی وجہ سے یہ احباب کم ہونے کے باوجود زیادہ پررنگ ہیں۔ ان مسالک کا عقیدتی و فکری مرکز تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ سعودی عرب کی بادشاہت و خلافت ہے۔ ان کے دینی مدارس کی تعداد اور ان کے عسکری تربیت شدہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر اس توانائی کو بھی مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ بھی پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اب انہیں بھی چاہیے کہ ملکی سلامتی اور اتحاد امت کے لئے اپنے رویوں پر نظرثانی کریں۔ اپنے مزاج میں لچک پیدا کریں اور سعودی عرب کو امریکہ و اسرائیل کے بجائے عالم اسلام سے قریب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

دیکھیں! اگر سعودی عرب، چھوٹے چھوٹے اور اپنے ہی بنائے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف، انتالیس اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد بنا سکتا ہے تو فلسطین اور کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے کیوں اسلامی فوجی اتحاد نہیں بنا سکتا، اگر پچپن اسلامی ممالک کے سربراہوں کو ٹرمپ کے استقبال کے لئے جمع کرسکتا ہے تو فلسطین اور کشمیر کی آزادی کے لئے، ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس، ریاض میں کیوں منعقد نہیں ہوسکتی!؟ ویسے بھی یہ ماہ رمضان المبارک ہے، اس کے آخری جمعۃ المبارک کو مسلمان یوم القدس کے نام سے مناتے ہیں، عالمی منظر نامے کے تناظر میں اس مرتبہ پاکستان کے تمام مذاہب و مسالک کو چاہیے کہ وہ مل کر یوم القدس منائیں۔

مانا کہ سعودی عرب کی کچھ مجبوریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہاں سے قدس کی آزادی کے لئے آواز بلند نہیں ہوسکتی، لیکن پاکستان میں بسنے والے سلفی و اہل حدیث اور دیوبندی حضرات کے لئے تو کوئی مجبوری نہیں، یہ تو پاکستان میں یوم القدس کی ریلیوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔ اگر سعودی عرب سے قدس کی آزادی کے لئے آواز بلند نہیں ہوسکتی تو پاکستان سے ہی یہ آواز بلند کی جائے۔ ایک اسلامی ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے پاکستان بھی کسی سے کم نہیں، پاکستان میں ہی بھرپور طریقے سے مل کر یوم القدس منایا جانا چاہیے۔ ہم کب تک کشمیر اور قدس کی آزادی کے لئے دوسروں کی طرف دیکھتے رہیں گے، اگر پاکستان کے تمام مسالک و مکاتب کے علماء مل کر یوم القدس کی ریلیوں میں شرکت کریں تو وہ پیغام جو سعودی عرب سے امریکہ و اسرائیل کو نہیں مل رہا، وہی پیغام پاکستان کی سرزمین سے انہیں مل جائے گا اور انہیں سمجھ آجائے گی کہ مسلمان قدس کی آزادی پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شامی فوج اور عوامی رضاکاروں نے پیر کے روز مغربی شام میں حماہ کے مشرقی مضافاتی علاقے سلمیہ کے مشرق میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اہم اسٹریٹیجک علاقوں سالم تین، سالم چار، سالم پانچ اور سالم چھے کو دہشت گردوں کو قبضے سے آزاد کرا لیا۔ ایک اور خبر یہ ہے کہ شمالی شام میں حلب سے ملانے والے راستے کے اطراف میں داعش دہشت گرد گروہ اور شامی فوج کے درمیان شدید جنگ جاری ہے یہ لڑائی العذیب کے علاقے میں ہو رہی ہے ۔

تحریر: ساجد مطہری

ہنگو کا شمار خیبر پختونخوا کے اہم شہروں میں ہوتا ہے، سرسبز و شاداب کھیتوں اور خوشگوار موسم کے باعث ہنگو کو صوبے بھر میں ایک منفرد مقام ہے، جعرافیائی حوالے سے دیکھا جائے تو اس کے ایک جانب ضلع کوہاٹ کا پہاڑی سلسلہ واقع ہے اور دوسری جانب اورکزئی ایجنسی اور کرم ایجنسی کی حدود بھی یہاں سے شروع ہوتی ہیں، یہاں کا کل رقبہ 1097 مربع کلومیٹر ہے اور 2004ء کے حکومتی سروے کے مطابق یہاں کی کل آبادی 391000 افراد پر مشتمل تھی، جس میں آئے دن اضافہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں کی سرزمین جو کسی زمانے میں امن کا گہوارہ سمجھی جاتی تھی، گذشتہ چند دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، سن اَسی کی دہائی میں، جہاد ِ افغانستان کی آڑ میں، سعودی عرب کی ایماء پر جنرل ضیاء الحق نے یہاں پہلی مرتبہ دہشت گردی کے کیمپ لگائے، آج ان کیمپوں کے تربیت یافتہ دہشت گرد پورے ملک میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال طالبان کا سابق سربراہ حکیم اللہ محسود ہے، جس نے ہنگو میں دہشت گرانہ تربیت پائی اور اس کے بعد اس کے کرتوتوں سے پاکستان کا بچہ بچہ بخوبی آگاہ ہے۔

ان سالوں میں اس خطے پر کیا قیامت گزری، اس کی تفصیل پھر کبھی بیان کروں گا، لیکن میں حالیہ کالم میں ہنگو کی تازہ صورتحال پر کچھ روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ گذشتہ ماہ ایک کالعدم تنظیم نے امن کمیٹی کے رکن ظہیر عباس کو دن دہاڑے گولی مار دی، اس موقع پر ظہیر عباس کے گارڈ کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور شدید زخمی ہوا، جسے انسانی ہمدردی کے تحت فوراً ہسپتال پہنچا دیا گیا اور ایک مہذب شہری کی طرح اسکی نگہداشت کی گئی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ کر چل بسا، یا پھر راز فاش نہ کرنے کے خوف سے اسے ہسپتال میں ہی قتل کروا دیا گیا۔ اس کے بعد اس کے جنازے پر جو کچھ ہوا، وہ انتہائی ہی افسوسناک ہے، ملک بھر سے دہشت گردوں کو ہنگو میں اکٹھا کیا گیا اور دہشت گردوں کے اجتماع سے اورنگزیب فاروقی نے خطاب کیا۔

اب آپ خود ہی سمجھ جائیں کہ موصوف نے تقریر میں کیا کہا ہوگا۔ سارا دن شہر دہشت گردوں کے محاصرے میں رہا اور شہر بھر میں ’’کافر کافر" کے نعرے لگتے رہے۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوئی بلکہ اس دہشت گرد ٹولے نے کچھ دن قبل ہنگو کے علاقے سنگیڑ میں واقع مسلمانوں کے ایک قبرستان کی میں قبروں کی کھلے عام بےحرمتی بھی کی ہے۔ ابھی تک وفاقی حکومت یا مقامی انتظامیہ کی طرف سے اس طرح کے واقعات کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ میں ایک پاکستانی ہونے کے ناتے ہنگو کے باشعور عوام کی طرف سے ارباب اقتدار سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ علاقے کی سلامتی اور امن کی خاطر دہشت گردوں کو لگام دی جائے۔ اگر بعد ازاں حالات مزید خراب ہوئے تو پھر مقامی لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ حکومت خود دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شامی فوج کا مشرقی حلب میں وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے شامی فوج نے کئی علاقوں کو داعش کے ناپاک وجود سے پاک کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شامی فوج کی حلب کے مشرق میں داعش کے آخری ٹھکانے المسکنہ کی جانب پیشقدمی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق شامی فضائیہ نے المسکنہ کے مشرق میں داعش کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہےجس کے نتیجے میں درجنوں داعشی ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مولانا عبدالعزیز کے قریبی ساتھی کے مطابق لال مسجد آپریشن کے 10 سال مکمل ہونے پر کانفرنس کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں شرکت کے دعوت نامے صدر، وزیراعظم، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، وفاقی کابینہ اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو روانہ کیے جائیں گے۔ شیعہ نیوز کے مطابق لال مسجد آپریشن کے 10 سال مکمل ہونے پر کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ کانفرنس لال مسجد میں 7 جولائی کو طے کی گئی، اس کانفرنس کا انعقاد شہداء فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا جائے گا۔

خطیب لال مسجد کے ساتھی کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے درخواست منگل (16 مئی) کے روز کیپیٹل ایڈمنسٹریشن میں دائر کردی جائے گی تاکہ ان کے پاس تمام شکایات کو دور کرنے کے لیے کثیر وقت میسر ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کانفرنس کے دعوت نامے رواں ہفتے اہم مذہبی و سیاسی شخصیات، ملکی قیادت اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو روانہ کردیئے جائیں گے۔

خطیب لال مسجد کے ساتھی کے مطابق اہم شخصیات کو دعوت نامے بھیجوانے سے منتظمین پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ مقامی انتظامیہ سے کانفرنس کے انعقاد کی اجازت حاصل کرسکیں اور مہمانوں کو بھی پروگرام میں شرکت کے لیے شیڈول مقرر کرنے کا وقت مل جائے۔ دریں اثناء شہداء فاؤنڈیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں حکومت سے این او سی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کانفرنس کا انعقاد مسجد کے اندر کیا جائے گا۔

تاہم دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ حکومت کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ کانفرنس کی اجازت دے یا اس سے انکار کردے کیونکہ مسجد سرکاری املاک میں شامل ہے اور مولانا عبدالعزیز کو مسجد کے خطیب کی ذمہ داریوں سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مولانا عبدالعزیز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے فورتھ شیڈول کے تحت کالعدم بھی قرار دیا جاچکا ہے۔

لیکن ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی ان حضرات کو کسی اجازت نامے کی ضرورت ہے کیونکہ ابھی 7 ماہ قبل ہی کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کی جانب سے اسلام آباد کے آبپارہ چوک پر دفعہ144 نافذ ہونے کے باوجود جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے کالعدم جماعتوں کےسرغنہ شریک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ کالعدم جماعت کے اس جلسہ کو ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسر، ٹریفک پولیس کے ساتھ ساتھ 1122 کی ایمبولینس بھی فراہم کی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ اطراف کی چھتوں پر ایف سی اور پولیس کے جوان بھی موجود تھے۔ ملک میں نیشنل ایکشن پلان اور وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود اسلام آباد میں ڈھکے چھپے نہیں بلکہ کھلے عام جلسہ کرنے والے تکفیریوں کو تحفظ فراہم کر کے حکومت پہلے ہی ثابت کر چکی ہے کہ اجازت نامے فقط شیعہ پرامن جلوس کے لئے ضروری ہوتے ہیں، دہشتگرد تکفیری کالعدم جماعتیں حکومتی پابندیوں اور اجازت ناموں سے مستثنی ہیں۔