تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ٹریفک وارڈن پولیس نے محرم الحرام میں ماتمی جلوسوں کی گزرگاہوں پرآپریشن کرکے غیر قانونی تعمیرات کا صفایا کر دیا، اس کے علاوہ متعدد غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈے بھی سیل کر دیئے گئے۔

اطلاعات کے مطابق ایس ایس پی ٹریفک یاسر آفریدی کی ہدایات پر ایس پی ہیڈکوارٹر ریاض احمد نے مختلف ٹیمیں تشکیل دیں، جنہوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں آپریشن کرکے تجاوزات کا صفایا کر دیا جبکہ کار سرکار میں مداخلت پر 45 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ جلوسوں کی راہ میں روکاوٹ بننے والے متعدد غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈے بھی سیل کر دیئے گئے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین کی محرم الحرام سے قبل مذہبی رہنمائوں، علمائے کرام اور سماجی رہنمائوں سے ملاقات کا سلسلہ جاری، ایم ڈبلیو ایم کے وفد نے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی کی قیادت میں آل پاکستان انجمن تاجران کے چیئرمین خواجہ شفیق سے ملاقات کی، ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکرٹری سیاسیات مہر سخاوت علی، شہوار حیدر اور ملک عامر کھوکھر موجود تھے، خواجہ شفیق احمد نے مجلس وحدت مسلمین کے وفد سے ملاقات کے دوران محرم الحرام سے قبل امن اور اتحاد و وحدت کی فضا ہموار کرنے کے لیے ملاقاتوں کو خوش آئند قرار دیا، خواجہ شفیق احمد نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران تاجران کی جانب سے عزاداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا

ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار نقوی نے خواجہ شفیق کی جانب سے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی تمام مذاہب کے علمائے کرام، مذہبی رہنما اور سماجی شخصیات کے ساتھ مل کر جنوبی پنجاب میں امن کے حوالے سے بھرپور کردار ادا کریں گے، محرم الحرام کے دوران انجمن تاجران کی جانب سے تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، محرم ہمیں ایک دوسرے کو برداشت، صبر اور بردباری کا درس دیتا ہے۔

صوبائی سیکرٹری سیاسیات مہر سخاوت علی نے کہا کہ ہم محرم الحرام سے قبل ایسی فضا ہموار کرنا چاہتے ہیں جو باقی صوبوں اور اضلاع کے لیے نمونہ عمل ہو، اُنہوں نے کہا کہ انتظامی سطح پر اُن افراد کو نظرانداز کیا جاتا ہے جو عوامی طاقت ہوتے ہیں، مجلس وحدت مسلمین عوامی طاقت کی حامل جماعتوں اور شخصیات کو ساتھ لے کر چلے گی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ لاہور میں تنظیم کے مرکزی صدر کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین کنونشن نے شرکا کو بتایا کہ ملک بھر کے تمام ڈویژن میں مرکزی عہدیدران کے دورہ جات کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے، رابطہ مہم میں فعال اراکین اور سابقین کو کنونشن میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا ہے۔

چیئرمین نیئر عباس جعفری نے بتایا کہ تین روزہ کنونشن 15 ستمبر سے مرقد شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر شروع ہوگا، کنونشن میں طلبہ کے فکر و شعور کی بلندی اور اعلی اخلاق سے مزین رکھنے کیلئے مختلف پروگرامات منظم کئے جا رہے ہیں جبکہ کنونشن کے پہلے روز شہدا ملت جعفریہ کو خراج عقیدت پیش کرنے اور انکی یاد کو تازہ کرنے کیلئے "شبِ شہدا" کا اہتمام کیا جائے گا اور ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی قبر پر اسکاؤٹ سلامی ہو گی جس میں شہدا کی فیمیلز بھی شرکت کریں گی۔ شب شہدا میں علماء کرام کے خطاب کیساتھ ساتھ دستہ امامیہ کے احمد ناصری اور عاطر حیدر ترانہ شہادت اور نوحہ خوانی کریں گے۔ کنونشن میں ملک بھر سے ہزاروں طلبا سمیت سینئرز سابقین علما شرکت کریں گے۔ کنونشن کے آخری روز مرکزی صدر کا انتخاب و اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنونشن کے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

مرکزی صدر سید سرفراز نقوی کا کہنا تھا کہ آ ئی ایس او کا مرکزی سالانہ 46 واں مہدویت امید بشریت کنونشن تنظیم کی فعالیت کا آئینہ دار ہونے کے علاوہ اتحاد و وحدت کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔ کنونشن کے ایجنڈے کے بارے مزید بتایا کہ عالمی کانفرنس بعنوان مہدویت امید بشریت ہفتہ کو منعقد ہوگی جس میں سربراہ مجلس وحد ت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، مولانا ضیا شاہ بخاری سمیت بیرون ملک سے اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

کنونشن کے دوسرے روز جشن مباہلہ کا انعقاد ہوگا جس میں آغاز سخاوت قمی کا خصوصی خطاب ہوگا جبکہ معروف منقبت خواں مقدس کاظمی منقبت خوانی کریں گے۔ کنونشن کے دیگر اہم پروگرامات میں سابقین اجتماع، محبین کنونشن اور تعلیمی کانفرنس شامل ہیں۔ اجلاس میں امامیہ چیف اسکاؤٹ زاہد مہدی، مرکزی نائب صدر علی کاظمی، مرکزی جنرل سیکرٹری انصر مہدی، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نثار کاظمی، سینیئر نائب صدر مدثر عباس، مرکزی سیکرٹری تعلیم یاور عباس، مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت قاسم شمسی، مرکزی رہنما نوید شریک تھے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) حجاج کرام کی واپسی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

منیٰ میں نماز ظہر تک رمی جمرات ہوتے ہی مناسک حج مکمل ہوگئے جس کے بعد حجاج کرام کی واپسی کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔

حجاز مقدس میں موجود 20 لاکھ سے زائد حجاج کرام نے شیطانوں کو کنکریاں ماریں۔ نمازظہر تک یہ عمل کرنے کےساتھ ہی مناسک حج بھی مکمل ہوگئے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) حزب اللہ کےسربراہ سید حسن نصراللہ نے داعش کو امریکی پیداوار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کو صیہونی اہداف کی تکمیل کے لیے بنایا گیا ہے۔

مشرقی لبنان میں دہشت گردی کے خلاف، حزب اللہ اور لبنانی فوج کے مشترکہ فوجی آپریشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آپریشن کے دوران پورا علاقہ دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد ہوگیا ہے اور یہ نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے کے عوام کی بڑی کامیابی ہے۔

سید حسن نصراللہ نے واضح کیا کہ، سارے صیہونی اور خاص طور سے صیہونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاھو، عراق، شام اور لبنان میں داعش کی شکست پر آنسو بہا رہے ہیں۔حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اٹھائیس اگست کا دن، تاریخ میں لبنان کو دوسری بار آزاد کرانے کے دن طور پر یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح سن دوہزار میں لبنان کو پہلی بار آزاد کرایا گیا تھا اور اسرائیل کو لبنان سے نکال باہر کیا گیا تھا اسی طرح آج اس ملک کی سرزمین پر کوئی بھی دہشت گرد باقی نہیں بچا ہے۔حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گردوں پر حزب اللہ نیز لبنانی اور شامی فوج کی برتری پورے خطے کے لیے ایک عظیم فتح ہے۔سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آج لبنان اور پورے مشرق وسطی کے لیے تاریخی اور یادگار دن ہے۔قابل ذکر ہے کہ پیر کے روز مشرقی لبنان کے تمام علاقے داعشی دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد ہوگئے ہیں۔ دہشت گرد گروہ داعش کے عناصر کو لے کر آخری بس پیر کی رات راس بعلبک کے کوہستانی علاقے سے باہر نکل گئی ہے۔

دہشت گرد گروہ داعش نے اتوار کے حزب اللہ لبنان اور لبنانی فوج کے محاصرے میں آنے کے بعد، جنگ بندی کو قبول کرتے ہوئے حزب اللہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔پیر کے روز ہی شامی فوج اور حزب اللہ کے جوانوں نے شام کے علاقے مغربی القلمون کو بھی داعشی دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا تھا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی رہنماء و بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ جب تک روابط مستحکم نہیں ہونگے، تب تک ہم کبھی بھی دہشتگردی کے خلاف نہیں لڑ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنی قیادت میں نیٹو بنا سکتا ہے تو پاکستان اور ایران کیوں دہشتگردی کے خلاف ایک اتحاد نہیں بناسکتے۔؟ مذہبی اور ثقافتی طور پر منظم روابط کی اشد ضرورت ہے۔ جس طرح امریکہ نے مسلمان ممالک میں نفرتیں پیدا کرنے کے لئے فرقوں کو ہوا دی ہے۔ اس کو ختم کرنے کے لئے پاکستان اور ایران کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ ہمسایہ ممالک ہونے کیساتھ ساتھ ہم مذہبی رشتے سے بھی منسلک ہے۔ اس لئے اسلامی دنیا بھی انہی دو ممالک سے توقع رکھتی ہے۔ مسلم دنیا میں امریکہ نے فساد برپا کیا ہے اور امریکہ کی وجہ سے آج دنیا میں امن کی حالت بہتر نہیں ہے۔ پاکستان اور ایران کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کو قریب لانے کے لئے وفود کا تبادلہ کریں۔ جب تک ہم اپنے اختلافات کو ختم نہیں کرتے، اس وقت تک ہم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونگے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے معزول ولیعہد کے حامی شہزادوں اور فضائیہ کے افسروں کے لئے ایک خفیہ جیل بنارکھی ہے۔

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اکیس جون کواپنے بھتیجے محمد بن نایف کو ولیعہدی کے عہدے سے برطرف کرکے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نیا ولیعہد بنادیا تھا۔ محمد بن سلمان کو نیا ولیعہد بنائے جانے کے صرف تین دن بعد سعودی عرب کے اکیس شہزادوں نے سعودی فرمانروا کے نام ایک خط ارسال کرکے ان کے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔

العہد الجدید ویب سائٹ جس نے محمد بن نایف کے خلاف محمد بن سلمان کی بغاوت کا پردہ فاش کیا تھا سعودی دربار کے قریبی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ محمد بن سلمان نے محمد بن نایف کے حامی شہزادوں اور فضائیہ کے افسروں کے لئے ایک خفیہ جیل بنا رکھی ہے جو ریاض کے جنوب مغربی علاقے القدیہ میں ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ ابھی تک معزول ولیعہد محمد بن نایف کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ انہیں آخری بار اسی دن دیکھا گیا تھا جب نئے ولیعہد محمد بن سلمان کی بیعت کی تقریب جاری تھی اور اس کے بعد ان کی رہائشگاہ کے اندر کی ان کی صرف چند تصویریں ہی سامنے آئی ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے تلعفر کی آزادی کے لئے شروع ہونے والے آپریشن کے تیسرے دن جنوب مشرق کی جانب سے داعش کے خلاف حملے شروع کئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عراقی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے جنوب مشرقی محاذ سے دہشتگردوں کے خلاف ایسے عالم میں کارروائی شروع کی ہے کہ صیہونی و تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی صفوں میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور وہ بکھرنے لگے ہیں- رپورٹوں کے مطابق عراقی رضاکار فورس کے توپخانوں نے مشرقی تلعفر مین داعش کے اہم اڈوں پر گولہ باری کی ہے اور الحشدالشعبی کے جوان شہر میں دو کلومیٹر اندر تک گھس گئے ہیں تاکہ تلعفر کے اندر داعش کا گھیرا مزید تنگ کر دیں-

درایں اثنا تلعفر میں داعش کے سرغنوں نے اپنے دہشتگرد عناصر کو فرنٹ لائن پر روانہ کیا ہے تاکہ وہ تلعفر کے تیل کے کنوؤں میں آگ لگا دیں حس سے عراقی فوج اور رضاکار فورس کی پیشقدمی کو روک سکیں - اس رپورٹ کے مطابق تلعفر کو آزاد کرانے کی کارروائی میں عراقی فوج کی راہ میں حائل ایک اور بڑی رکاوٹ وہ بارودی سرنگیں ہیں کہ جو داعش نے آپریشن شروع ہونے سے پہلے بچھائی ہیں- بعض عراقی ذرائع تلعفر میں صیہونی تکفیری گروہ داعش کے ایک سرغنے اور اس کے چار ساتھیوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے- عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کے حکم سے شمالی عراق میں داعش کے آخری ٹھکانے تلعفر کو دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائی اتوار کو شروع ہوئی ہے-

رپورٹ: ایس جعفری

شہر قائد میں پولیس پر حملوں کے بعد کالعدم دہشتگرد تنظیم انصار الشریعہ میں پھوٹ پڑگئی ہے، اختلافات کے بعد کالعدم تنظیم کے دو دھڑوں میں خونریزی کا آغاز ہوگیا ہے، کراچی میں پولیس پر حملہ کرنے اور ان کی ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کے خلاف مبینہ طور پر کالعدم انصار الشریعہ نامی نیا گروپ سرگرم ہوگیا، پیر کی صبح نادرن بائی پاس کے قریب گلشن معمار کی جھاڑیوں سے تین مغویوں کی لاشیں ملیں، جن کے چہرے اور سروں پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا اور لاشیں ویرانے میں پھینک دی گئیں، مقتولین کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے، اطلاعات ہیں کہ یہ لاشیں پولیس کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کی ہیں، جنہیں کالعدم انصار الشریعہ نے نشانہ بنایا ہے، جس نے اپنا پمفلٹ بھی ساتھ پھینکا ہے، دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس پر حملوں میں کالعدم تنظیم ہی ملوث ہے اور پولیس کو گمراہ کرنے کیلئے پمفلٹ پھینکا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج صبح سائٹ سپر ہائی وے تھانہ کی نیو سبزی منڈی پولیس چوکی کی حدود گلشن معمار نادرن بائی پاس کی جھاڑیوں سے 3 افراد کی لاشیں ملیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر مقتولین کی لاشوں کو تحویل میں لے کر پولیس کارروائی کیلئے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتولین کی عمریں 35 سے 40 سال کے درمیان معلوم ہوتی ہیں، مقتولین کے چہروں اور سروں پر نائن ایم ایم پستول کی گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔

مقتولین کی لاشوں کے پاس سے ایک پمفلٹ بھی ملا ہے، جس پر تحریر ہے کہ جو بھی کالعدم تنظیم پولیس پر حملہ کرے گی، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور جو پولیس والوں کو نشانہ بنائے گا، اس کا یہی انجام ہوگا۔ ملنے والے پمفلٹ میں لکھا گیا ہے کہ جماعت انصار الشریعہ پاکستان کے ہاتھوں کراچی میں سکیورٹی اہلکاروں اور غریب پولیس اہلکاروں سمیت پولیس کے رضاکاروں کے قتل میں شامل موساد اور انڈین ایجنٹوں کے دہشتگرد اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں اور یہ ان پولیس اہلکاروں کے رضاکاروں کے قتل کا بدلہ ہے اور آئندہ بھی بدلہ لیا جائے گا، جبکہ جو لوگ غیر ملکی قوتوں کیلئے اپنا ایمان فروخت کرچکے ہیں، ان کو انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ راہ راست پر آجائیں اور تنظیم کا نام استعمال کرنا چھوڑ دیں، یہ دعویٰ جماعت انصار الشریعہ پاکستان کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی نے لاشوں کے پاس پھینکے جانے والے پمفلٹ میں کیا ہے۔

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کا یہ پہلا واقعہ پیش آیا ہے کہ کسی جہادی تنظیم کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کو قتل کیا گیا ہے، جبکہ مقتولین کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ بعد ازاں پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد مقتولین کی لاشوں کو سرد خانے منتقل کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں کالعدم تنظیم ملوث ہے اور پولیس کو گمراہ کرنے کیلئے پمفلٹ پھینکا گیا ہے۔ دوسری طرف اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں کالعدم انصار الشریعہ کے دو گروپوں کے درمیان پولیس پر حملوں کو لے کر اختلافات ایک دم شدت اختیار کر گئے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت انصار الشریعہ میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں، جس کے بعد اس کالعدم جماعت کے دو گروپ کام کر رہے ہیں، جس میں ایک گروپ پولیس پر حملوں کی حمایت کرتے ہوئے ہر ہفتے پولیس پر حملے کر رہا ہے، جبکہ اس کالعدم تنظیم کا دوسرا گروپ پولیس پر حملوں کی مخالفت کر رہا ہے۔ پولیس پر حملوں کے بعد سے ان تمام حملوں کی ذمہ داری پولیس نے جماعت انصار الشریعہ پر ڈالی تھی اور اس کالعدم تنظیم کے دوسرے گروپ سے جو کہ پولیس پر حملے کر رہی ہے، اس سے لاتعلقی کرچکی ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس پر حملے نہ رکنے پر جماعت انصار الشریعہ کے عہدیداران نے مختلف تنظیموں سے مشورہ کرکے اس دوسرے گروپ کے کارکنان کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات کر لئے گئے ہیں، جس کے بعد آج صبح نادرن بائی پاس سے 3 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ کالعدم انصار الشریعہ کے موجودہ پمفلٹ کے بعد کراچی میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے کہ کیا انصار الشریعہ نامی کالعدم تنظیم نے کراچی میں سکیورٹی اداروں پر کی جانے والی کارروائیوں پر دوسرے گروپ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے؟ پولیس خود اس معمہ پر حیران ہے کہ کیا ان دونوں دہشتگردی کے واقعات میں انصار الشریعہ ملوث ہے یا اس کی آڑ میں کوئی اور تنظیم نیا فساد پیدا کرنا چاہتی ہے۔ کراچی میں پولیس پر حملوں کے بعد کالعدم انصار الشریعہ میں واقعی پھوٹ پڑ گئی ہے کہ جسکے بعد دو دھڑوں میں خونریزی کا آغاز ہوگیا یا پھر کالعدم تنظیم نے پولیس کو گمراہ کرنے کیلئے گلشن معمار کی جھاڑیوں سے برآمد شدہ تین لاشوں کے قریب پمفلٹ پھینکا ہے، یہ بات ابتک معمہ بنی ہوئی ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاک فضائیہ کے پائلٹ راشد منہاس شہید کا 46 واں یوم شہادت اتوار کو ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ 17 فروری 1951ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے راشد منہاس نے سینٹ پیٹرک کالج سے سینئر کمیبرج پاس کیا، ان کے خاندان کے متعدد افراد پاکستان کی مسلح افواج میں اعلی عہدوں پر فائز تھے، جس نے ان کے دل میں موجود مادر وطن کے دفاع کے جذبے کو مزید تقویت دی اور اپنے ماموں ونگ کمانڈر سعید سے جذباتی وابستگی کی بناء پر 1968ء میں پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔ 1971ء میں راشد مہناس نے اکیڈمی سے جنرل ڈیوٹی پائلٹ کی حیثیت سے گریجویٹ کیا اور انہیں کراچی میں پی اے ایف بیس مسرور پر تعینات کیا گیا تاکہ لڑاکا پائلٹ کی تربیت حاصل کرسکیں۔ 20 اگست 1971ء کو راشد منہاس مسرور بیس کراچی سے اپنی تیسری تنہا پرواز کے لئے جب وہ T-33 جیٹ سے روانہ ہونے لگے تو ان کا انسٹرکٹر مطیع الرحمن ان کے ساتھ زبردستی طیارے میں سوار ہوگیا۔ مطیع الرحمن طیارے کو بھارت کی حدود میں لے جانا چاہتا تھا۔

راشد منہاس نے بھرپور مزاحمت کی لیکن کامیاب نہ ہونے پر مطیع الرحمن کے عزائم خاک میں ملاتے ہوئے طیارے کا رخ زمین کی جانب کردیا، اس طرح طیارہ بھارتی سرحد سے صرف 32 میل پہلے ٹھٹھہ میں گر کر تباہ ہوگیا۔ وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے راشد منہاس کو ان کی بے مثال قربانی پر اعلی ترین فوجی اعزار نشان حیدر سے نوازا گیا، وہ اعلی ترین فوجی اعزاز حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے واحد افسر ہیں جنہوں نے اپنی جان قربان کرکے ملک کے دفاع اور حرمت کی لاج رکھی۔ راشد منہاس کو 21 اگست 1971ء کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، نوجوان پائلٹ کے پورے خاندان سمیت پاک فضائیہ اور دیگر مسلح افواج کے عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔