تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) معروف امریکی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن (Keith Preston) نے کہا ہے کہ آل سعود رژیم کی جانب سے العوامیہ کے شہر قطیف میں شیعہ نسل کشی کا حقیقی سبب ان کا وہابی طرز فکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حکام نے وہابی طرز فکر کی بنیاد پر یمن اور قطیف میں شیعہ نسل کشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ یاد رہے گذشتہ چند ہفتوں سے سعودی فورسز نے شیعہ اکثریتی علاقے العوامیہ کے شہر قطیف کا محاصرہ کر رکھا ہے اور طاقت کے زور پر وہاں کے مقامی افراد کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اب تک سعودی سیکورٹی فورسز کی جانب سے 30 بیگناہ شیعہ شہریوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ بڑی تعداد میں افراد کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

کیتھ پریسٹن نے اس سوال کے جواب میں کہ سعودی حکومت کی جانب سے العوامیہ کا محاصرہ کر کے شیعہ مسلمانوں کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے اور سینکڑوں شیعہ شہریوں کو اپنا گھر چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور کر دینے کی اصل وجہ کیا ہے؟ کہا: "آل سعود رژیم جو اقدامات العوامیہ میں انجام دے رہی ہے وہ یمن میں انجام پانے والے ان کے اقدامات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ سعودی حکومت اپنے ملک اور یمن میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ یمن اور قطیف میں سعودی رژیم کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی وجہ واضح ہے۔ یہ ایک منظم قتل عام ہے جس کا مقصد خطے میں شیعہ آبادی کا خاتمہ اور قلع و قمع ہے۔ ان سعودی اقدامات کے پیچھے دو بنیاد محرکات موجود ہیں۔ پہلا محرک سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی ایران اور یمن سے دشمنی اور کینہ توزی ہے۔ وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ یمن اور سعودی عرب میں موجودہ شیعہ مسلمان ایران کے اثرورسوخ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔"

امریکی سیاسی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن نے مزید کہا: "سعودی حکام امیدوار ہیں یمن میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روک سکتے ہیں۔ سعودی اقدامات کی اصل وجہ ایران اور سعودی عرب میں ٹکراو اور کشمکش کے تسلسل کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر وسیع سیاسی تنازعات میں پوشیدہ ہے۔ ایران، شام کی طرح ایک ایسا ملک ہے جو واشنگٹن کے مقابلے میں مزاحمت کر رہا ہے اور اپنے معاشرے کی ترقی اور تجدید چاہتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور خطے میں اس کے اتحادی ممالک نے واشنگٹن سے اتحاد کر رکھا ہے۔ یمن میں حوثی قبائل کے برسراقتدار آنے سے سعودی حکومت شدید پریشان ہے کیونکہ اس کی نظر میں ایران کی حامی نئی طاقت ابھر کر سامنے آئی ہے۔

سعودی حکام یمن اور قطیف میں شیعہ مسلمانوں کا خاتمہ کر دینا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں ایران کے حامی جذبات ختم کر سکیں۔ دوسرا محرک مذہبی ہے اور اس کی بنیاد وہابی طرز فکر پر ہے۔ وہابیت پر مبنی نظریات کی بنیاد پر شیعہ کافر جانے جاتے ہیں اور ان کا خون بہانا جائز ہے۔ لہذا سعودی حکومت شیعہ مسلمانوں کو نابود کرنا چاہتی ہے۔"

کیتھ پریسٹن نے اس سوال کے جواب میں کہ سعودی عرب میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات محمد بن سلمان کو طاقت کی منتقلی کے بعد پیش آئے ہیں، آپ ان حالات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ کہا: "محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی خارجہ اور داخلہ سیاست میں پیش آنے والے مسائل خاص طور پر یمن کی جنگ اور تہران ریاض تعلقات کے بارے میں شدت پسندانہ موقف اختیار کر رکھا ہے لہذا اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں کہ یمن اور العوامیہ میں شیعہ مسلمانوں پر حملے محمد بن سلمان کے برسراقتدار آنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتے ہیں۔ آپ اس بات پر غور کریں کہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کی شدت میں اضافہ اور محمد بن سلمان کی جانب سے مجوزہ اصلاحات نہ صرف ان کا ولیعہد کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد سامنے آئی ہیں بلکہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اسلحہ کی فروخت کے جدید معاہدے کے بعد بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ تمام عوامل موجودہ حالات کے معرض وجود میں آنے میں کارفرما ہیں۔"

امریکی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن نے کہا: "آل سعود خاندان نے ایک جوان شہزادے کو ولیعہد کیلئے انتخاب کیا ہے۔ یہ جوان ولیعہد سعودی عرب میں اصلاحات کے نفاذ اور تبدیلیوں کے ذریعے ملک کو اس مغربی ثقافتی ماڈل اور نیولبرل اقتصادی ماڈل کے قریب کرنا چاہتا ہے جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ محمد بن سلمان کی ولیعہد کے طور پر تقرری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دورہ سعودی عرب کے ایک ماہ بعد انجام پائی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان 110 ارب ڈالر اسلحہ خریدنے کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اب محمد بن سلمان کے ولیعہد بن جانے کے بعد یمن اور قطیف میں سعودی حملوں کی شدت میں مزید اضافہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔"

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) خطیب جامع مسجد پاراچنار علامہ فدا حسین مظاہری نے کہا ہے کہ دہشت گرد ملکی سالمیت کو داو پر لگانے کے لئے قبائلی روایات سے ہٹ کر اب خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ کرم ایجنسی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات سے وطن عزیز کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ پاراچنار کے مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ فدا حسین مظاہری نے کہا کہ حکومت ریاست میں حق حاکمیت کهو چکی ہے، اس لئے وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائے۔ حکمرانوں کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاراجنار کرم ایجنسی میں یہ دسواں بڑا دھماکہ ہے مگر وہ ابھی تک ایک دھماکے کے ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار نہ کرسکی۔ علامہ فدا حسین نے کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام جنازوں پہ جنازے اٹها رہے ہیں مگر دہشت گردوں کو لگام دینے والا کوئی نہیں، ایک طرف ہماری نسل کشی ہورہی ہے جبکہ دوسری طرف حکومت نے بے حسی کی انتہا کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد پیدا کرنے والی فیکٹریوں کو مسمار نہ کیا گیا اور جنت کے ٹکٹیں بانٹنے والوں کو لگام نہ دیا گیا تو اس سے پاکستان کی سالمیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ حکومت عوام سے جینے کا حق چھیننے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) پاراچنار کرم ایجنسی میں بارودی دھماکہ میں قیمیتی جانوں کی ضیاع سکیورٹی اداروں کی ناکامی کا ثبوت ہے،اس المناک سانحے کی شدید مذمت کرتے ہیں،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سانحہ کرم ایجنسی پر اپنے مذمتی بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ سترہ بے گناہوں کی شہادت پر حکمرانوں کی خاموشی افسوس ناک ہے،کرم ایجنسی کے عوام کو دہشتگردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہاکہ کرم ایجنسی کے مظلوم عوام داعش اور دیگر دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں،لیکن قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی ادارے الٹا پرامن عوام کو ہراساں کرنے میں مصروف ہیں،پاراچنار میں چیک پوسٹوں سے رضاکاروں کو ہٹا کر دہشتگردوں کو سیف سائیڈ دی گئی ہے،ہم ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ جب تک ان غدار دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ان کی نرسریوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی یہ حملے ہوتے رہیں گے اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا رہے گا ، اگرنیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو آج اس طرح کی مذموم کاروائیاں نہ ہوتیں ،کرم ایجنسی پارا چنار میںیہ دسواں دھماکہ ہے، پاراچنارکے مظلومین کو تحفظ دینے میں سکیورٹی ادارے وہاں کا پولیٹیکل ایجنٹ اور اسکی ٹیم ناکام ہو چکی ہے،ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد کے باوجود پاراچنار کے محب وطن عوام پر پے درپے حملے پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے،پاراچنار میں ہونے والے مسلسل دہشتگردانہ حملوں پر حکومت میڈیا اور سکیورٹی اداروں کی خاموشی بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کرم ایجنسی کے علاقہ گودر میں مسافر کوچ کو ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد سے زائد جانی ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرم ایجنسی میں ایک تسلسل اور منصوبہ بندی کے تحت محب وطن شہریوں اور آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس علاقہ کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے، جس کے باعث وقفے وقفے سے کرم ایجنسی میں دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سبطین حیدر سبزواری سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب و ردّالفساد کے بعد بھی کرم ایجنسی میں دہشتگردی کے پے در پے واقعات کا رونما ہونا افسوسناک اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ قانون نافذ کرنیوالے ریاستی اداروں کو پہلے اپنے ملک سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کیلئے عملی طور پر ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے شدت پسندی کا خاتمہ نہایت ضروری ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ علامہ ساجد نقوی نے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے شہداء کی بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) گودر سے صدہ شہر جاتے ہوئے ایک پک اپ گاڑی پر بارود سے حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 17 شیعہ مومنین شہید اور 10 زخمی ہوئے ہیں جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ۲۵ روز قبل ۳۱ مارچ بروز جمعہ پارچنا ر کےمرکزی بازار میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد شہید ہوئے تھے،جبکہ بعد از دھماکہ احتجاج کرنے والے مومنین پر بھی ایف اہلکاروں نے کرنل عمر کی ہدایت پر فائرنگ کردی تھی ، پارچنار کی عوام نے کرنل عمر کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا لیکن ریاستی اداروں نے اس پر کان تک نہیں دھرے اور آج ایک با ر پھر ایف کی کڑی سیکورٹی کے باوجود دہشتگردوںنے بارود نصب کرکے ۲۰ سے زائد شیعہ مسلمانوں کو قتل کردیا ۔

دھیاں رہے کہ پاکستان میں منظم شیعہ نسل کشی جاری ہے۔سینٹرل کرم، پاڑہ چمکنی میں صرف ایک شیعہ گاؤں ہے اور وہاں آج بم نصب کرکے دھماکہ کیاگیا ہے۔پولیٹیکل انتظامیہ کے بعد ایف سی بھی لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔ یاد رہے امن و امان بہتر کرنے کے سلسلے میں ایف سی کے کرنل عمر دو دن پہلے سینٹرل کرم کا دورہ کیا تھااور آج اسکے بعد یہاں دھماکہ ہوا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) ۱۸ مارچ ۲۰۱۳ کے روز ایک سیاسی جماعت کے تکفیری صفت دہشتگردوں نے استاد سبط جعفر زید ی کو اُس وقت شہید کیا جب و ہ اپنے کالج سے واپس گھر کی جانب جارہے تھے، اطلاعات کے مطاق لیاقت آباد کے قریب گھات لگائے دہشتگردوں میں استاد پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی جس سے سبط جعفر زیدی موقع پر ہی جامِ شہاد ت نوش کرگئے۔ آج استاد سبط جعفر زیدی کی چھوتی برسی منائی جارہی ہے، استاد آج اپنے چاہنے والوں کے درمیان نہیں لیکن محفلوں میں اپنے کلام کے ذریعہ آج بھی زندہ ہیں۔

استاد کی سادگی کا انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ایک ۱۸ یا ۱۹ گریڈ کے سرکاری افسر ہونے باوجود اپنی موٹر سائیکل پر ہر جگہ گھومتے تھے، ایک ایسے خدا صفت انسان کو محض سیاسی بالادستی قائم کرنے کے لئے کراچی شہر میں فرقہ واریت کو ہوا دینے والی ایک سیاسی جماعت کے دہشتگردوں نے بے رحمی سے قتل کردیا۔

پولیس سمیت دیگر تحقیقات اداروں کے بقول استاد شہید سبط جعفر کے قاتلوں کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا، جبکہ رینجرز کی جانب سے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے گرفتار عبید کے ٹی نامی ملعون دہشتگرد جس نے استاد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے تاحال جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے لیکن عدالت کی جانب سے اسے سزا سنانے میں تاخیر سمجھ سے بالا ہے،عبید کے ٹو کا تعلق عماد صدیقی، انیس قائم خانی گروپ سے تھا، اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی کے کالعدم سپاہ صحابہ سے قریبی مراسم قائم ہوئے تھے جسکے بعد شہر بھر میں معنظم شیعہ ٹارگیٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا، شہر بھر میں سب سے زیادہ ٹارگیٹ کلنگ ناظم آباد، لیاقت آباد اور گلشن کے علاقہ میں ہوئیں، یہ علاقہ ایم کیو ایم بالخصوص حماد صدیقی کے زیر اثر علاقہ تھے جہاں حماد صدیقی کے من پسند سیکٹرز انچارجز تعنات تھے۔

ملت جعفریہ پاکستان حکومت سندھ، اعلیٰ عدلیہ اور چیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کرتے ہیں کراچی استاد شہید سبط جعفرزید ی سمیت ہر مظلوم کے بہنے والے خون کے ذمہ داروں اور انکے سہولت کاروں کو جلد کفیر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ لواحقین اپنے پیاروں کے قاتلوں کا انتقام اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر علامہ نیاز حسین نقوی نے کہا ہے کہ ڈیرہ اسمٰعیل خان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ روکنے میں ریاستی اداروں کی ناکامی افسوسناک ہے، رینجرز آپریشن شروع کیا جائے۔ ڈی آئی خان میں شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالعدم دہشتگرد تنظیموں کا کارروائیاں جاری رکھنا سکیورٹی اداروں کیلئے چیلنج اور انٹیلی جینس اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کہ ابھی تک قاتل گرفتار ہوئے اور نہ ہی دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکا۔ ان کا کہنا تھاکہ گذشتہ 30 سال سے ملت جعفریہ پاکستان میں لاشیں اٹھا رہی ہے اور مطالبہ کررہی ہے کہ دہشتگردوں کو نکیل ڈالی جائے مگر کارروائیوں کے جاری رہنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام اور پاکستان دشمن دہشتگرد عناصر انٹیلی جینس اداروں سے زیادہ طاقتور ہیں یا ذمہ دار اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے باوجود ڈیرہ اسمٰعیل خان میں جاری دہشتگردی میں کمی نہیں آ سکی، لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں، اس پر حکومت اور چیف آف آرمی سٹاف کو سوچنا چاہیے کہ آخر کب تک ہم اپنے عزیزوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے اور بات حکمرانوں کے بیانات سے آگے نہیں بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے سرپرستوں اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں ریاستی ادارے اچھی طر ح آگاہ ہیں، فوری طور پر رینجرز آپریشن شروع کیا جائے۔

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )  آزاد جموں کشمیر شیعہ سنی وحدت و مذہبی ہم آہنگی کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہنے والے ممتاز شیعہ عالم دین و ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء علامہ تصور جوادی پر تکفیری دہشتگردوں کا حملہ، زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا، تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت المسلمین آزاد ریاست جموں وکشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا سید تصور حسین نقوی الجوادی پر دارالحکومت مظفرآباد میں ملک دشمن کلعدم تکفیری دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ اہلسنت والجماعت کے دہشتگردوں کا قاتلانہ حملہ، حملہ آوروں نے سیاہ کار میں جہلم ویلی روڈ پر پیما ہاسپٹل کے قریب علامہ تصور جوادی پر فائرنگ کی، فائرنگ کے نتیجہ میں علامہ تصور جوادی اور اہلیہ شدید زخمی جنہیں سی۔ایم۔ایچ مظفرآباد میں منتقل کردیا جہاں انکا آپریشن جاری۔ علامہ صاحب کی صورتحال نازک بتائی جارہی ہے جنہیں چار گولیاں گردن ہر لگیں ہیں، تمام مومنین سے دعا صحت کی اپیل۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) کراچی کے علاقہ اورنگی ٹاوں میں کالعدم اہلسنت و الجماعت کے دہشتگردوں نے ایک گھر میں گھس باپ شبیر حسین اوراُنکے بیٹوں وقاص اور عادل پر فائرنگ کردی جسکے نتیجے میں شبیر حسین شہید ہوگئے جبکہ ان کے دونوں بیٹے شدیدزخمی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق واقعہ اورنگی ٹاون میںواقع معراج النبی (ص) کالونی میں پیش آیا جسکے اطراف میں کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ اور داعشی دہشتگرد آباد ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات تکفیری دہشتگردوں شبیر حسین کے گھر آئے اور باہر بیٹھے چھوٹے بیٹے سے والد کے بار ے میں پوچھا ،یہ معلوم ہونے کے بعد کہ شبیر حسین گھر میں ہیں وہ اندر داخل ہوگئے اور شبیر حسین کے منہ اور پیٹ میں گولیاں برسادیں ،جبکہ وہاں موجود انکے دونوں بیٹوں کو بھی قتل کرنے کی کوشیش کی تاہم وہ شدید زخمی ہیں اور انکا علاج کیا جارہا ہے ، شبیر حسین موقع پر ہی شہید ہوگئے اور انکی میت رضویہ امام بارگاہ میں موجود ہے۔

دوسری جانب پولیس نے اس واقع کو ڈکیٹی قرار دینے کی کوشیش کی ہے، لیکن جس گھر میں یہ سانحہ رونما ہوا ہے وہاں دو الماریوں کے سوائے ایک پلنگ ہی اں غریبوں کی ملکیت تھی لہذا یہ ڈکیٹی کا نہیں بلکہ شیعہ نسل کشی کا سانحہ ہے۔ واضح رہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ کا دہشتگرد حافظ احمد بخش۹۰ کی دہائی میں بفرزون اور ضلع غربی میں اس ہی قسم کی ٹارگیٹ کلنگ میں ملوث رہا تھا جسے پولیس ڈکیٹی کا کیس قرار دیدتی رہی تاہم دہشتگرد حافظ بخش گرفتاری کے بعد انکشاف ہوکے یہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کیئے جارہے تھے۔

اس بات کا بھی دھیاں رہے کہ کراچی کا علاقہ ضلع غربی عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے لئے جنت بن گیا ہے جہاں کالعدم جماعتوں کے دہشتگرد داعش کے لئے مضبوط نیٹ ورک قائم کررہے ہیں، لہذا اس سے پہلے کہ شہر میں کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سیکورٹی اداروں کو چاہئے کہ وہ اس جانب فوری متوجہ ہوں اور ضلع غر بی میں دہشتگرد عالمی تنظیم داعش کے لئے زمینہ سازی کرنے والی تنظیم سپاہ صحابہ کے چینل کو بریک کرکے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کریں۔

Image may contain: indoor

No automatic alt text available.

Image may contain: 2 people

Image may contain: 4 people

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) کراچی کے علاقہ ملیر میں فائرنگ کے نتیجے میں حسن حید ر نامی مومن زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لئے جناح اسپتال شفٹ کیا ہے۔ شیعہ نیوز کے مطابق حسن حیدر مقامی بزنس مین ہیں ،گذشتہ رات وہ امام بارگاہ حسینی سفارت خانہ میں واقع وہ اپنی دکانوں کو بند کرکے گھر جانے کی تیار کررہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے انہیں فائرنگ کرکے زخمی کردیا، دہشتگر د موقع سے فرار ہوگئے۔

حسن حیدر کو زخمی حالت میں جناح اسپتال شفٹ کیا گیا ہے جہاں انکا علاج جاری ہے۔ واضح رہے کہ جس جگہ انہیں ٹارگیٹ کیا گیا ہے وہ مصروف ترین شاہراہ ہے، جبکہ اطراف میں ایم کیو ایم، حقیقی اور پی ایس پی کے سیکڑوں کارکن ہم وقت موجود رہتے ہیں، اسکے باوجود تکفیری دہشتگرد حسن حید ر کو باآسانی ٹارگیٹ کرکے فرارہوگئے۔