تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رکن مرکزی شوریٰ، مجلس علمائے شیعہ اور متحدہ علماء محاذ کے سربراہ علامہ مرزا یوسف حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے دو اہم شہروں کراچی اور کوئٹہ کو مقتل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، بلوچستان حکومت ہوش کے ناخن لے اور بے گناہ شیعہ افراد کی نسل کشی کی روک تھام کرے اور کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے روزے دار بہن بھائی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگرد عناصر کو گرفتار کرکے جلد فوجی عدالتوں میں پیش کرے، کیونکہ عدلیہ کی کوتاہیوں کی وجہ سے آج بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کوئی بھی کسی بھی انسان کو قتل کر دیتا ہے، کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی توہین رسالت کے نام پر۔

اپنے مذمتی بیان میں علامہ مرزا یوسف حسین نے مزید کہا کہ کراچی میں شیعہ نوجوان کی شہادت انتہائی تشویشناک ہے، یہ قتل قانون نافذ کرنے والوں کے اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ دہشتگردوں کا نیٹ ورک ختم کر دیا گیا ہے، اگر نیٹ ورک ختم ہوگیا ہے، تو محسن نامی شیعہ نوجوان جو قائدآباد کے علاقے میں اپنی ہیئر ڈریسر کی دکان پر نوحہ چلاتا تھا، اس کا اس طرح قتل نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں شیعہ نوجوان کی ٹارگٹ کلنگ نے سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو اس دہشتگردی کے اس طرح کے واقعات کی ان کے ہونے سے قبل ہی میں سرکوبی کرے اور قاتلوں کو فوری سزا دے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مولانا عبدالعزیز کے قریبی ساتھی کے مطابق لال مسجد آپریشن کے 10 سال مکمل ہونے پر کانفرنس کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں شرکت کے دعوت نامے صدر، وزیراعظم، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، وفاقی کابینہ اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو روانہ کیے جائیں گے۔ شیعہ نیوز کے مطابق لال مسجد آپریشن کے 10 سال مکمل ہونے پر کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ کانفرنس لال مسجد میں 7 جولائی کو طے کی گئی، اس کانفرنس کا انعقاد شہداء فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا جائے گا۔

خطیب لال مسجد کے ساتھی کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے درخواست منگل (16 مئی) کے روز کیپیٹل ایڈمنسٹریشن میں دائر کردی جائے گی تاکہ ان کے پاس تمام شکایات کو دور کرنے کے لیے کثیر وقت میسر ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کانفرنس کے دعوت نامے رواں ہفتے اہم مذہبی و سیاسی شخصیات، ملکی قیادت اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو روانہ کردیئے جائیں گے۔

خطیب لال مسجد کے ساتھی کے مطابق اہم شخصیات کو دعوت نامے بھیجوانے سے منتظمین پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ مقامی انتظامیہ سے کانفرنس کے انعقاد کی اجازت حاصل کرسکیں اور مہمانوں کو بھی پروگرام میں شرکت کے لیے شیڈول مقرر کرنے کا وقت مل جائے۔ دریں اثناء شہداء فاؤنڈیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں حکومت سے این او سی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کانفرنس کا انعقاد مسجد کے اندر کیا جائے گا۔

تاہم دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ حکومت کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ کانفرنس کی اجازت دے یا اس سے انکار کردے کیونکہ مسجد سرکاری املاک میں شامل ہے اور مولانا عبدالعزیز کو مسجد کے خطیب کی ذمہ داریوں سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مولانا عبدالعزیز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے فورتھ شیڈول کے تحت کالعدم بھی قرار دیا جاچکا ہے۔

لیکن ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی ان حضرات کو کسی اجازت نامے کی ضرورت ہے کیونکہ ابھی 7 ماہ قبل ہی کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کی جانب سے اسلام آباد کے آبپارہ چوک پر دفعہ144 نافذ ہونے کے باوجود جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے کالعدم جماعتوں کےسرغنہ شریک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ کالعدم جماعت کے اس جلسہ کو ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسر، ٹریفک پولیس کے ساتھ ساتھ 1122 کی ایمبولینس بھی فراہم کی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ اطراف کی چھتوں پر ایف سی اور پولیس کے جوان بھی موجود تھے۔ ملک میں نیشنل ایکشن پلان اور وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود اسلام آباد میں ڈھکے چھپے نہیں بلکہ کھلے عام جلسہ کرنے والے تکفیریوں کو تحفظ فراہم کر کے حکومت پہلے ہی ثابت کر چکی ہے کہ اجازت نامے فقط شیعہ پرامن جلوس کے لئے ضروری ہوتے ہیں، دہشتگرد تکفیری کالعدم جماعتیں حکومتی پابندیوں اور اجازت ناموں سے مستثنی ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اسلامی اتحادی افواج کا معاملہ نازک ہے، پاکستان کو اس اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہیے، یہ واضح نہیں کہ اتحاد کارروائی کس کے خلاف کرے گا، نواز شریف کے ہر آرمی چیف سے تعلقات کشیدہ رہے، بہت مذاق اڑ چکا، نواز شریف کی جگہ ہوتا تو استعفیٰ دے دیتا۔ نواز شریف کے دور حکومت میں سول ملٹری تعلقات میں ہمیشہ کشیدگی رہی، آصف نواز،وحید کاکڑ،جہانگیر کرامت کےساتھ کشیدگی رہی، نواز شریف اور راحیل شریف کے درمیان معاملات بس ٹھیک تھے۔ یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروبرام الیونتھ آور میں شرکت کے دوران میزبان وسیم بادامی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کچھ نہ کچھ ایسا کرتے ہیں جس سے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی آجاتی ہے اس لیے ان کی ہر دور میں اپنے آرمی چیف سے تعلقات میں کشیدگی رہی،آصف نواز،وحید کاکڑ،جہانگیر کرامت کے ساتھ کشیدگی رہی، راحیل شریف سے معاملات بھی بس ٹھیک ہی تھے۔

اسلامی اتحاد کے سوال پر انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ایسا فوجی اتحاد نہیں بننا چاہیے جو فرقہ وارانہ ہو، اسلامی ملکوں کی اتحادی افواج کا معاملہ نازک ہے، پاکستان کو اسلامی ملکوں کی اتحادی فوج کا حصہ نہیں بننا چاہیے، اسلامی اتحادی فوج کی کامیابی کے امکانات ہوں تو حصہ بنے، یہ بات مبہم ہے کہ اسلامی اتحادی فوج کس کے خلاف کارروائی کرے گی، سعودی عرب،ایران اور ترکی کے درمیان پاکستان رابطہ کار ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) فوجی عدالت سے سزا یافتہ مزید 4 خطرناک دہشت گردوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 4 خطرناک دہشت گردوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ سزا پانے والے دہشت گردوں میں ہارون الرشید ولد میاں سیدعثمان ، گل رحمان ولد زرین، احمد علی ولد بخت کرم اور اصغر خان ولد عزیزالرحمان شامل ہیں۔ آئی ایس پی آرکے مطابق چاروں دہشت گرد کالعد م تحریک طالبان پاکستان کے سرگرم رکن تھے، یہ دہشت گرد شہریوں اورسیکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ تعلیمی اداروں کی تباہی میں ملوث تھے، انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا، ان کے خلاف مقدمات کی سماعت فوجی عدالت میں ہوئی، فوجی عدالت نے انہیں مقدمے کی سماعت کے بعد سزائے موت سنائی تھی جنہیں خیبرپختونخوا کی جیل میں تختہ دارپرلٹکایا گیا۔

تحریر: ابو فجر لاہوری

لگتا ہے یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ دہشتگرد امن کا پرچار کریں گے، ظالم خود ہی ظلم کیخلاف لیکچر دیں گے، کافر مسلمانوں کو اسلام کی زریں اصولوں کی تعلیم دیں گے، بلی دودھ کی حفاظت کرے گی، شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیئں گے۔ اسرائیل اور امریکہ جو مسلمانوں کے سکہ بند دشمن ہیں، وہ اسلام کے مرکز میں بیٹھ کر مسلمانوں سے دوستی کا پرچار کریں گے۔ ایسا ہی واقعہ سعودی عرب میں دیکھنے کو ملے گا، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلم حکمرانوں کے سامنے اسلام کے روشن پہلوؤں پر خطاب کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونیوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے دورے کے دوران 50 اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کریں گے اور ان کے ساتھ ظہرانے میں بھی شرکت کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس موقع پر اسلامی سربراہان مملکت سے اہم خطاب بھی کریں گے، جس میں ان کا موضوع "اسلام اور اس کے روشن پہلو" ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 مئی کو اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچیں گے، جہاں وہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان کیساتھ ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر سعودی عرب میں اسلامی ممالک کے سربراہان کیساتھ مل کر عالمی سطح پر دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے ایک نئی بنیاد استوار کرنے کی کوشش کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر سعودی عرب کے بعد اسرائیل اور ویٹی کن بھی جائیں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے آخری دنوں میں سعودی عرب اور امریکہ کے مابین کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور اس کی وجہ یمن، شام اور ایران کی طرف سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کو قرار دیا جاتا رہا، تاہم اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کیساتھ تعلقات کا ایک نیا باب شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک اعلٰی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ ٹرمپ اس دوران ریاض حکومت کیساتھ 100 بلین ڈالر سے زائد مالیت کے مختلف عسکری سمجھوتوں کو حتمی شکل دے دیں گے۔ ان معاہدوں کے تحت سعودی عرب کو جدید اسلحہ بھی فراہم کیا جائے گا۔

امریکہ کی یہ پالیسی رہی ہے کہ پہلے وہ ممالک کو ڈراتا ہے، جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اسے بتایا جاتا ہے کہ ہماری سی آئی اے نے رپورٹ دی ہے کہ فلاں ملک آپ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اگر آپ اس کی "جارحیت" سے بچنا چاہتے ہیں تو فوراً ہم سے جدید اسلحہ خریدو، فرضی دشمن سے خوفزدہ وہ ملک مان جاتا ہے اور امریکہ اسی بنیاد پر اسے اپنا اسلحہ مہنگے داموں فروخت کر دیتا ہے۔ امریکہ نے یہی کارڈ سعودی عرب میں کھیلا، مشرق وسطٰی میں جان بوجھ کر منظم سازش کے تحت ایسی فضا پیدا کی، عراق، شام اور یمن کو جنگ میں جھونکا اور پھر سعودی عرب کو ایران سے ڈرانے لگا۔ اس صورتحال میں سعودی عرب کا خوفزدہ ہونا فطری امر ہے، کیونکہ داعش کا قیام ہو یا بے گناہ اور نہتے یمنیوں پر آگ و خون کی بارش، اس جارحیت کا ذمہ دار سعودی عرب ہی ہے۔ اب امریکہ نے سعودی عرب کو اسی "چارج شیٹ" کے تحت خوفزدہ کیا ہے۔ وائٹ ہاوس نے سعودی عرب کو یہ باور کروا دیا کہ ایران اب اس سعودی جارحیت کا بدلے لینے کیلئے تیار ہے۔ جس پر سعودی عرب نے خوفزدہ ہو کر امریکہ سے بھاری اسلحہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا کھلا دشمن ڈونلڈ ٹرمپ خود چل کر سعودی عرب آ رہا ہے۔

اس حوالے سے یہ حقائق کھلی کتاب کی طرح واضح ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر منتخب ہوتے ہی مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیا اور پوری دنیا میں دہشتگردی کا ذمہ دار بھی مسلمانوں کو ٹھہراتے ہوئے متعدد مسلم ممالک کے شہریوں کا امریکہ میں داخلہ بند کر دیا۔ آج وہی امریکہ جو مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیتا ہے، مسلمان حکمرانوں کو "امن" کا سبق پڑھانے آ رہا ہے۔ امن کے اس سبق کا نصاب یہ ہوگا کہ امریکہ سے اسلحہ خریدو، اس اسلحے سے وہ دہشتگرد ختم کر دو جو تم میں سے ہی ہیں اور ہم نے انہیں اسی مقصد کیلئے بنایا، تاکہ اپنا اسلحہ بیج سکیں۔ ٹرمپ مسلمانوں کو یہ بھی یقین دلائیں گے کہ ہم (یہود ونصاریٰ) آپ کے گہرے دوست ہیں، قرآن مجید میں جو آیت ہے کہ یہود ونصاریٰ کبھی آپ کے دوست نہیں ہوسکتے، وہ اب متروک ہوچکی ہے، اس لئے اس کو پہلے تو قرآن سے نکال دیا جائے اور اگر نکالا نہیں جا سکتا تو کم از کم اس پر عمل نہ کیا جائے اور اس آیت کو نظر انداز کر دیا جائے۔

ٹرمپ صاحب خادمین حرمین شریفین کی "خدمت" سے فیضیاب ہو کر سیدھا اسرائیل جائیں گے، جہاں اسرائیلی قیادت کو یقین دلایا جائے گا کہ "میں تمام مسلمانوں کو رام کر آیا ہوں، اب اسرائیل کو مسلمانوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔" اس کے بعد ٹرمپ کا اگلا پڑاؤ ویٹی گن میں ہوگا، جہاں ٹرمپ پوپ کو یہ یقین دلائیں گے کہ مسیحیت نے آج اسلام کو سرنگوں کر لیا ہے۔ پوپ اس شاندار کامیابی پر ٹرمپ کو اقتدار کی طوالت کی دعا دیں گے۔ بہرحال یہ زمینی حقائق اور کھلی حقیقتیں ہیں، لیکن مجھے ہنسی اس بات پر آ رہی ہے کہ ٹرمپ مسلمانوں کو امن کا درس دیں گے۔ آج کے دور کا سب سے بڑا لطیفہ اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ پوری دنیا کو بدامنی کی آگ میں جھونکنے والے امن کا پرچار کریں گے، 900 چوہے کھا کر بلی حج کو سعودی عرب چلی۔

 

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے لاپتا افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت قومی اداروں کو انتقامی کاروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ہمارے متعدد علما اور کارکنوں کو ان کے گھروں سے اٹھانے کے بعد نہ کسی عدالت کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی معلومات ان کے خاندان کو مہیا کی جارہی ہے۔ ریاستی اداروں کا یہ جارحانہ طرزعمل بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملت تشیع کے ساتھ ساتھ اہلسنت برادران بھی اس ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ اہل سنت سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد رات کی تاریکی میں گھروں سے اٹھائے گئے اور طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں کی جا سکی۔ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اگر ملکی سلامتی یا قومی مفادات کے برعکس سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔ لیکن پُرامن شہریوں کو بلاجواز گھروں سے اٹھا کر غائب کر دینا قانون و انصاف سے متصادم ہے اور اغوا کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک آزاد و خودمختار جمہوری ریاست میں اپنے شہریوں کے ساتھ اس طرح کا ظالمانہ سلوک بدترین عمل ہے۔ سپریم کورٹ کو ریاستی اداروں کے ہاتھوں عام شہریوں کے اغوا کے خلاف ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکن گزشتہ کہیں ماہ سے لاپتہ ہیں۔ ہم حکومت کے اس ناروا رویہ خلاف 21 مئی کو نشتر پارک میں ایک عظیم الشان کانفرنس کریں گے۔ استحکام پاکستان و امام مہدی ؑ کانفرنس ظلم و استحصال اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف محبان وطن کی موثر اور مضبوط آواز ثابت ہو گی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ نااہل کرپٹ حکمران امریکا اور اسکی غلام عرب بادشاہتوں کے ہاتھوں ملکی بقاء و سالمیت کا سودا کر چکے ہیں، کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور انتہاپسند فرقہ پرست عناصر کو دہشتگردی و بربریت و فرقہ واریت پھیلانے کیلئے کھلی چھوٹ دینا، دہشتگرد عناصر کو ہیرو بنا کر پیش کرنا اور انہیں قومی دھارے میں لانا ملک و قوم کو امریکی و عرب بادشاہتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے، محب وطن ملت تشیع مملکت خداداد کو امریکی بلاک سے نکالنے اور قائد و اقبال کے پاکستان کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی، 21 مئی کو نشترپارک میں منعقد ہونے والی استحکام پاکستان و امام مہدی کانفرنس پاکستان پر مسلط خائن و نااہل کرپٹ حکمرانوں کیجانب سے ملک و قوم کو امریکی و عرب بادشاہتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھانے کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے سنگ میل ثابت ہوگی، ان خیالات کا اظہار ڈویژنل سیکریٹری جنرل سید میثم عابدی، علامہ مبشر حسن، علامہ صادق جعفری، علامہ علی انور، علامہ اظہر نقوی، علامہ سجاد شبیر رضوی، علامہ احسان دانش، تقی ظفر و دیگر رہنماؤں نے کانفرنس کی تشہیری و رابطہ مہم کے سلسلے میں شہر کے مختلف اضلاع کے دورہ جات کے دوران تنظیمی و عوامی میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

رہنماؤں نے کہا کہ وطن عزیز میں محب وطن شیعہ علماءکرام و جوانوں کی گمشدگی ہو یا شیعہ نسل کشی و عزاداری نواسہ رسول سید الشہداؑ کو محدود کرنے کی سازش، کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو کھلی چھوٹ دیکر انہیں ہیرو بنا کر قومی دھارے میں لانے کی سازش ہو یا پھر نیشنل ایکشن پلان پر اسکی روح کی مطابق عملدرآمد نہ کرنا ہو، ان سب کے پیچھے حکومتی اور ریاستی اداروں کی صفوں میں موجود کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی سہولت کار ضیاء باقیات کا منحوس ہاتھ ہے، جو امریکا اور اسکی غلام عرب بادشاہتوں کی ایماء پر ان تمام سازشوں پر کاربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام تر مشکلات و بحرانوں کی اصل وجہ ہر دور کے حکمرانوں کیجانب سے امریکا اور عرب بادشاہتوں کا غلامی کا طوق اپنے گلے میں سجائے رکھنا ہے، حکمرانوں کی امریکا نواز پالیسیوں کی وجہ سے ہی آج تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو سکا، کیونکہ دہشتگردی میں ملوث کالعدم تنظیموں اور انتہاپسند فرقہ پرست عناصر کے تانے بانے امریکا اور اسکی اتحادی عرب بادشاہتوں سے ملتے ہیں، جو ان دہشتگرد عناصر کے خلاف کسی بھی قسم کی مؤثر کارروائی اور ان کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں، لیکن امریکی کاسہ لیس حکمران پر واضح ہو جانا چاہیئے کہ منجی بشریت حضرت امام مہدی (عج) کے جلد ظہور کے ساتھ ہی امریکا اور اسرائیل اپنے مغربی و عرب اتحادیوں سمیت نیست و نابود ہو جائیں گے اور پاکستان سمیت جہان بشریت عدل و انصاف، امن و سلامتی سے پُر ہو جائیگا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 21 مئی کو نشترپارک میں منعقد ہونے والی استحکام پاکستان و امام مہدی کانفرنس بھی انہیں اہداف کے حصول کیلئے سنگ میل ثابت ہوگی۔

 

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام 16 مئی یوم مردہ باد امریکا کی مناسبت سے نمائش چورنگی تا کراچی پریس کلب مردہ باد امریکا ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں طلباء و طالبات، نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں نے شرکت کرکے امریکا اور اسکی ناجائز اولاد اسرائیل سے اظہار بیزاری کیا۔ ریلی سے جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کراچی کے صدر مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی، مرکزی رکن نظارت آئی ایس او پاکستان علامہ احمد اقبال رضوی، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان علامہ مختار احمد امامی، ہئیت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ کے جنرل سیکرٹری علامہ باقر زیدی، مسلم لیگ (ن) علماء و مشائخ ونگ کے رہنماء ازہر علی شاہ ہمدانی، مولانا طالب موسوی نے خطاب کئے۔ اس موقع پر علامہ صادق رضا تقوی، آغا مبشر زیدی، علامہ مبشر حسن بھی موجود تھے۔ ریلی کے اختتام پر امریکی و اسرائیلی پرچم بھی نذر آتش کئے گئے۔ شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احمد اقبال نے کہا کہ 16 مئی وہ دن ہے کہ جب کرہ عرض پر انسانیت کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش کو پروان چڑھایا گیا اور استکباری طاقتوں نے اسرائیل کو وجود بخشتے ہوئے انبیاء کی سرزمین پر فلسطین میں بسنے والے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو وجود میں لانے کا سب سے بڑا سبب امریکا اور برطانیہ ہیں، جو آج بھی اقوام متحدہ میں اس کے حامی اور پشت پناہ ہیں۔

ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاضی احمد نورانی کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کے تمام حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور شیطان بزرگ و دشمن اسلام امریکا اور اسکے حواریوں سے اظہار برأت کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج امریکی ایماء پر اسرائیل فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اور مسلمان ممالک کے حکمران خاموش ہیں، قبلہ اول کی پامالی کو 67 برس بیت گئے ہیں اور عالم اسلام کے حکمران اب تک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ لیگی رہنماء ازہر علی شاہ ہمدانی نے عالم اسلام میں بسنے والے مسلمانان عالم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر لازم ہے کہ وہ ذات واحد کے علاوہ کسی بھی خود ساختہ سپر پاور اور فرعون صفت طاقت سے مرعوب نہ ہوں، دنیا بھر کے مظلوم عوام کے قاتلوں امریکا و اسرائیل سے اظہار برأت کریں، آج دنیا بھر میں امریکا اور اسرائیل کے مظالم لوگوں پر آشکار ہوگئے ہیں، امریکی مظالم نے مسلمانوں کی حالت تباہ کر دی ہے۔

ہئیت آئمہ مساجد کے جنرل سیکرٹری علامہ باقر زیدی کا کہنا تھا کہ مسلمان اگر آج بھی اسرائیل کے خلاف متحد نہ ہوئے تو انہیں مزید ظلم و بربریت کا سامنا کرنا پڑے گا، آئی ایس او نے دنیا کو غاصب صہونیوں کا اصل چہرہ دیکھانے کیلئے ریلی نکالی، جس کا حکم ہمیں شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی نے دیا اور انکے فرمان پر آئی ایس او نے لبیک کہا، اس عظیم الشان ریلی پر تمام شرکاء کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور سلام پیش کرتا ہوں کہ اس شدید گرمی کے عالم میں انہوں نے ریلی میں شرکت کرکے امریکا اور اسرائیل سے اظہار بیزاری کیا، دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش تمام مشکلات کا واحد حل اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مسلمان متحد نہ ہوئے تو اسرائیل اور استعماری طاقتیں دوسرے اسلامی ممالک کو خانہ جنگی میں ملوث کر دیں گے۔

 

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو کرم ایجنسی کے علاقے خرلاچی روڈ پر ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار پانچ سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ سکیورٹی فورسز کے مطابق ایف سی کی گاڑی پاک افغان سرحد کے قریب خرلاچی روڈ پر معمول کی گشت پر تھی کہ اس دوران پہلے سے نصب کیا گیا بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا۔ جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ہنگو ٹل کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں دو اہلکارں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیراہتمام ملک بھر میں یوم مردہ باد امریکا و اسرائیل مناتے ہوئے ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ شرکا ریلیوں نے بینرز، کتبے اٹھا کر امریکا و اسرائیل کی اسلام دشمنی کیخلاف نعرے بازی کی اور امریکا کو دنیا بھر میں دہشتگردی اور بربریت کا سرغنہ قرار دیا جو اپنے بغل بچے اسرائیل کے ناجائز وجود کو تقویت دینے کی کوششیں تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ یوم مردہ باد امریکا و اسرائیل کے موقع پر لاہور پریس کلب کے سامنے ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل دنیا بھر میں مسلمانوں کیخلاف مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئی ایس او پاکستان کے مرکزی رہنماء قاسم شمسی کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل خود بھی مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں اور اپنے آلہ کاروں کو مسلمانوں میں داخل کرکے قتل و غارت گری کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں اور نام نہاد مسلمانوں سے شام اور اردن میں صحابہ کرام کے مزارات کی بے حرمتی اور ان مزارات کو نذرآتش کرنے جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ ڈویژنل صدر علی زیدی نے اپنے خطاب میں وطن عزیز پاکستان میں بیرونی مداخلت روکنے کیلئے تمام مکاتب فکر کے متفقہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ 16 مئی 1948 کو قائم کی گئی ناجائز ریاست اسرائیل کی نابودی کیلئے مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ فلسطین فلسطینیوں کا نہیں بلکہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، جس کے حل کیلئے پوری امت کا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس او پاکستان کے نوجوان وطن عزیز پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں اور امت مسلمہ کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، خطے کی مسلمان اقوام کو اپنی باہمی طاقت کا یقین ہو چلا ہے، بیداری کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا اور وہ وقت قریب ہے کہ جب فلسطین اور قبلہء اول آزاد ہو کر نئے اسلامی عزت و آبرو اور سربلندی کے ساتھ عالمی نقشے پر ابھرے گا، لیبیا، تیونس، یمن، مصر اور بحرین میں شہداء کے گرتے ہوئے ہر قطرہ خون سے عالم اسلام میں ایک نیا مجاہد جنم لے رہا ہے، اب ہر جگہ امریکہ اور اسرائیل مردہ باد کے فلک شگاف نعرے پہلے سے زیادہ جوش و جذبے سے لگائے جائیں گے اور ہر گلی کوچہ میں امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیا جائے گا! آل سعود، امریکہ و اسرائیل کے مکروہ عزائم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوششوں میں مصروف ہیں، آج کا امریکہ اور اسرائیل مردہ باد دن درحقیقت عرب غدار حکمرانوں کیلئے موت کا پیغام لائے گا۔