تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بنگلہ دیش کی پولیس نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزام میں جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے امیرمقبول احمد اور جنرل سیکریٹری شفیق الرحمن سمیت 8 رہنماؤں کو گزشتہ رات گرفتار کیا گیا ۔ ان رہنماؤں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور اس کی منصوبہ بندی کے لئے میٹنگ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

تحریر: سرفراز حسین حسینی

کل شام ایک نجی ٹی وی چینل پہ کراچی کے علاقے لیاری کے بارے میں ایک تفصیلی پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا، اینکر پرسن لیاری میں موجود رینجرز ہیڈ کوارٹر سے اپنا پروگرام پیش کر رہا تھا، جہاں اس کے توسط سے رینجرز کے اعلٰی افسران سامعین کو لیاری کی سابقہ خطرناک صورتحال سے آگاہ کر رہے تھے کہ کیسے چند ماہ قبل تک یہ پورا علاقہ ہی تقریباً نو گو ایریا تھا۔ خطرناک ترین گینگ وار کے سرغنہ اور کارندے یہاں آزادانہ دندناتے تھے، قاتلوں اور دہشت گردوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ یہی علاقہ تھا، پولیس اور سکیورٹی کے لوگوں کے سر سے فٹ بال کھیلا جاتا تھا، منشیات، قتل و غارت، اغوا براے تاوان، غیر قانونی اسلحہ، پراپرٹیز پہ قبضہ، گینگ وار، بھتہ خوری، غرض ہر قسم کے گھناؤنے کاموں کا مرکز کراچی شہر کا یہ علاقہ تھا، پھر حکومت اور سکیورٹی کے اداروں نے ٹھانا کہ اب بہت ہوگیا لہذا اس علاقے میں آپریشن شروع کیا گیا، خطرناک مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا، بڑے بڑے گینگ وار کے ٹھکانے تباہ کئے گئے، سرغنے ہلاک ہوئے، پکڑے گئے یا بیرون ملک فرار ہوگئے، اب کوئی علاقہ نو گو ایریا نہی رہا اور امن ہے کہ لوٹ آیا ہے۔ اس کے ثبوت کے طور پہ رینجرز کے ساتھ اینکر نے پورے لیاری کا دورہ کیا، لوگوں کے تاثرات لئے جنہوں نے سکھ اور چین کا اظہار کیا اور کہا کہ اس آپریشن کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم جہنم سے نکل کر جنت میں آگئے ہیں۔

ایک لمحہ کو تو خوشی اور اطمینان کا احساس ہوا کہ لیاری کے لوگوں کو امن میسر آیا، ان کی جانیں محفوظ ہوئیں اور کاروبار زندگی دوبارہ رواں دواں ہوا، لیکن دوسرے لمحے ہی ذہن میں وہ ساری فلم گھوم گئی کہ لیاری کی ان گینگز کے اعلانیہ سرپرست کون تھے، رحمان ڈکیت، بابا لاڈلہ اور عزیر بلوچ کن کو اپنا سیاسی گرو مانتے تھے، اس گینگسٹرز کی اجازت کے بغیر کانسٹیبل سے لے کر ایس ایچ او اور ایس پی تک کی تعیناتی نہی ہوتی تھی تو کون سے سیاسی اور انتظامی سربراہان ان کے احکامات کی تعمیل کرواتے تھے، پیپلز امن کمیٹی میں کون کون تھا اور کون انہیں اپنا بچہ کہتا تھا، بے امنی کے اس دور میں کون لیاری کے ایم این اے اور ایم پی ایز تھے اور ان کا تعلق کس سیاسی پارٹی سے تھا، کون سی پارٹی ان گینگسٹرز کے بل بوتے پہ لیاری کو اپنا گڑھ کہتی تھی۔ آصف زرداری سے لیکر ذوالفقار مرزا، قائم علی شاہ اور سندھ پیپلز پارٹی کے تمام سرکردہ لیڈرز لیاری دورہ کے دوران کس کے ہاں قیام کرتے تھے اور کن کن کے ساتھ ان کی تصاویر تھیں، کون ان کے جلسے منطم کرتے تھے۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

لیاری کے گینگسٹرز پکڑے گیے، مارے گئے یا فرار یوگیے۔ لیکن آیا کسی نے ان کے سرپرستوں کو چھوا یا ہاتھ بھی لگایا، وہ آج بھی حاکم ہیں، طاقتور ہیں اور وقت آنے پہ اسی طرح کے گروہوں کو پیدا کرنے، منظم کرنے اور اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کے لئے غریب عوام پہ مسلط کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ سرکش کارندوں کو مارنے، غائب کرنے اور ان کے سرپرستوں کی آبیاری کرنا بدقسمتی سے ہمارے مقتدر حلقوں کا پسندیدہ شوق رہا ہے، یہ صرف لیاری تک محدود نہیں۔ ایم کیو ایم کی ملک دشمن سرگرمیوں سے پوری قوم گاہ ہے، یہ پوری تنظیم، اس کا بانی قائد اور دیگر رہنما ان جرائم میں شریک تھے، الطاف حسین تو سالوں سے ملک سے باہر ہیں، کون تھا جو اس کے احکامات پہ یہاں عملدرآمد کرواتا تھا؟ یقیناً اس تنظیم کے ذمہ داران اور عہدیدار، سیکٹر کمانڈرز، لیکن جب اس تنظیم کے خلاف آپریشن کا سوچا گیا تو صرف الطاف اور اس کے چند ساتھیوں کو ایم کیو ایم لندن کے نام سے علیحدہ کرکے زیر عتاب کیا گیا اور اس کے تمام ساتھیوں، سہولت کاروں اور جرم میں معاون عہدیداروں کو ہانک کے پی ایس پی اور ایم کیو ایم پاکستان کی لانڈری میں ڈرائی کلین کرکے دوبارہ سے اسی غریب اور مظلوم عوام پہ حکمرانی کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔

90 کے عشرے کے درمیان میں اچانک طالبان کا نام سامنے آیا، یہ دور روشن خیال اور پروگریسو نظریات کی حامل محترمہ بے نظیر بھٹو کا تھا، جن کے وزیر دفاع سابق جنرل اور اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور ترین شخص نصیر اللہ بابر تھے، افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے کے چکر میں اعلٰی اذہان نے طالبان کو تخلیق کیا، محترمہ نے چاہتے نا چایتے اس پلان کی منظوری دی اور امریکہ نے اس پلان پر مہر تصدیق ثبت کی اور پھر اسلام کے نام پر امیرالمومنین ملا عمر کی قیادت میں لشکر اسلام نے مسلم ریاست افغانستان پہ چڑھائی کر دی۔ طالبان وہاں معصوم لوگوں کی گردنیں اتار رہے تھے، ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا، مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا اور یہاں ہمارے علماء، سرکاری میڈیا، دین کے ٹھیکیدار ریٹائرڈ جرنیل، صحافی اسے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا نام دے رہے تھے، ہزاروں کی تعداد میں یہاں سے مدرسوں کے طالبعلموں، فرقہ پرست تنظیموں اور مذہبی جنونیوں کو افغانستان منتقل کیا جا رہا تھا۔ افغان طالبان کو یہاں فرشتے بنا کر پیش کرنے کا فوری اثر یہ ہوا کہ خود وطن عزیز میں سوات اور قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان TTP اور جنوبی پنجاب اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پنجابی طالبان تحریک نے ناصرف سر اٹھانا شروع کیا بلکہ سوات سمیت چند علاقوں میں اپنی ڈی فیکٹو حکومتیں بھی قائم کر لیں۔

9/ 11 کے بعد جب ہمارے آقا امریکہ کی ترجیحات بدلیں تو طالبان کے موضوع پہ ہم نے بھی U Turn لیا اور پھر ہمارے بچے ہی ہمارے دشمن و باغی قرار پائے، نتیجتاً اب ان درندوں کے ظلم کا شکار ہماری اپنی قوم بننا شروع ہوئی، سکیورٹی افسران و جوانان سمیت 80 ہزار سے زائد معصوم لوگ لقمہ اجل بنے، طالبان کی تخلیق کو قبول کرنے والی محترمہ بینظیر انہی طالبان کے ہاتھوں (موجود شواہد کے مطابق، وگرنہ پی پی کی حکومت بھی اس معمہ کو حل نہ کر سکی) شہید ہوئیں۔ ہم نے یہاں آپریشن پہ آپریشن شروع کئے اور ملک ایک اندرونی جنگ اور اس کے تلخ ثمرات کا شکار ہوا اور تا حال شکار ہے۔ سوال پھر وہی کہ اب جبکہ سرکاری طور پہ طالبان، داعش اور اس فکر کے افراد کو ہم اپنا دشمن قرار دے چکے ہیں تو جن اذہان نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تربیت کی، سرپرستی کی، تکفیری نظریات کا علمبردار بنایا، ان کے خلاف ریاست نے کیا اقدامات کئے، وہ علماء، مدارس، تنظیمیں، ادارے، سول و فوجی افسران، صحافی، لکھاری سب ویسے ہی موجود ہیں، کچھ مصلحتاً خاموش تو کچھ آج بھی ان کے حمائتی۔ دہشت گردوں کے ان سرپرستوں کو آج بھی اتنی چھوٹ ہے کہ کوئٹہ میں ایک واقعہ میں سینکروں افراد شہید ہوتے ہیں، قاتل گروہ سینچری بنانے والا ترانہ تیار کرتا ہے اور ببانگ دہل شہر کے مرکزی چوک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں اپنے جلسہ کے دوران اسے بجاتا ہے اور ریاست نا صرف خاموش بلکہ اس گروہ کے رہنما آج بھی حکومت کی مہیا کی ہوئی سکیورٹی میں آزادانہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مستونگ اور اس کے اردگرد آئے روز ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی سہولت کاری میں ملوث سیاسی شخصیات اور سرداروں کو کون نہی جانتا، لیکن کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ پنجاب میں بھی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، لیکن ان دیشتگردوں کے سرپرستوں، ان کے ساتھ سیاسی الائینس کرنے والی نون لیگ کے سرکردہ راہنماوں، سرکاری افسران، قانونی سہولیات فراہم کرنے والے سرکاری اداروں، جلسوں میں شریک سیاسی راہنماؤں کو کون پوچھے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کے دہشتگردوں بارے بدلتے موقف کی تان اس وقت ٹوٹی جب اس صوبائی حکومت نے سرکاری طور پر اس مدرسہ کو اعلانیہ 200 ملین روپے کی امداد دی، جس کے پڑھے ہوئے جہادی افغانستان اور پاکستان میں سب سے زیادہ متحرک ہیں اور آج وطن کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ حقانی نیٹ ورک بھی اسی مدرسہ سے مربوط ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ پاکستان دشمنی پہ مبنی بیان سے ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے جوش ایمانی نے غیرت بھی کھائی اور خون بھی کھولا، لیکن جب تھوڑا سا اپنے گریبان میں جھانکا تو محسوس ہوا کہ جتنا بڑا وہ شیطان ہے، اتنے معصوم ہم بھی نہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے لاہور میں فیروزپور روڈ پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس واقعے میں شہید اور زخمی ہونیوالے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں، آج ایک بار پھر دہشتگردوں نے پولیس کے جوانوں کو نشانہ بنایا، جو ایک افسوناک عمل ہے، دہشتگردوں کی ان بذدلانہ کارروائیوں سے ہماری فورسز اور قوم کے حوصلے ہرگز پست نہیں ہونگے، اب حکومت کو ملک بھر سے ان دہشتگردوں کی کمین گاہیں اور نرسریاں ختم کرنے کیلئے بڑا قدم اُٹھانا ہوگا۔ اپنے مذمتی بیان میں علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ حکومت مسلسل پاکستان بھر میں قیام امن کے دعوے کرتی نظر آرہی ہے، لیکن آج کی اس کارروائی نے حکومت کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ لاہور جو پاکستان کا دل تصور کیا جاتا ہے، دہشتگردوں نے پھر پاکستان کے دل کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا ہے، ہمارے وزراء صرف بیان پر بیان اور عوام کو جھوٹی تسلیاں دے رہے ہیں، جو افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ملک بھر میں امن و امان کی اچھی صورتحال تھی، لیکن اچانک ایک بار پھر دہشتگرد ملک بھر میں سرگرم نظر آتے ہیں، جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اگر دہشتگردی کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو فورسز کی جانب سے قیام امن کے حوالے سے ملک بھر میں جاری کوششیں کہیں ضائع نہ ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اس ملک کو دہشتگردوں سے نجات دلوائیں اور ملک بھر میں دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کریں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)پاکستان علماء کونسل نے اعلان کیا ہے کہ انتہاپسندی کے خاتمہ کیلئے بھر پور جدوجہد کی جائے گی اور آپریشن ردالفساد کی کامیابی کیلئے پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کیساتھ ہر سطح پر تعاون کیا جائے گا، قوم کو تقسیم کرنیوالی قوتیں پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، دہشتگردی، انتہا پسندی کے خاتمے تک اسلامی ممالک میں استحکام ممکن نہیں، بیت المقدس میں نماز ادائیگی پر پابندی عالمی امن کو تباہ کرنے کی سازش ہے، الاقصیٰ کی آزادی کیلئے مسلم امہ سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے، مسلم ممالک کو الاقصیٰ کی آزادی، حرمین شریفین کی سلامتی و استحکام کیلئے اپنے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا۔ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل اگست میں دہشتگردی، انتہاپسندی کیخلاف اور نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے کیلئے ملک گیر مہم چلائے گی اور مختلف اضلاع میں ’’تحفظ نظریہ پاکستان‘‘ کے عنوان سے کانفرنسیں، سیمینارز، تقریبات منعقد کرے گی۔ اجلاس سے مرکزی سرپرست مولانا رفیق جامی، وائس چیئرمین پیر جی خالد محمود قاسمی، مولانا عبیدالرحمن ضیاء، حافظ محمد شعبان صدیقی، سیکرٹری جنرل مولانا شاہنواز فاروقی، علامہ شبیر احمد عثمانی، شیخ الحدیث مولانا حق نواز خالد، صدر پنجاب حافظ محمد امجد، اسلام آباد کے صدر مولانا ذوالفقار احمد، مولانا عبدالمنان عثمانی، مولانا عمر قاسمی، علامہ حفیظ الرحمن کشمیری، مولانا محمد مشتاق لاہوری، مولانا گلزار احمد آزاد، مولانا عبید اللہ حیدری، مولانا عاطف محمود عباسی و دیگر علماء نے بھی خطاب کیا۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو شام، عراق، لیبیاء بنانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ علماء اور منبر و محراب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسلام کے حقیقی پیغام کو عوام تک پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، اسلام کے نام پر فتنہ و گمراہی پھیلانے والوں کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی، انتہا پسندی کے ذریعے ملک کو کمزور کرنیوالی قوتوں کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا، مسجد اقصیٰ اور مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم ناقابل برداشت ہیں، بیت المقدس کے تحفظ اور آزادی کیلئے مسلمان اپنی جان قربان کرنا سعادت سمجھتا ہے۔ مرکزی سرپرست مولانا رفیق جامی نے کہا کہ دہشتگرد تنظیموں کا ہدف اسلامی ممالک ہیں، شام، عراق، لیبیاء کے ان قوتوں کا اگلا ہدف پاکستان اور سعودی عرب ہیں، بیت المقدس کی آزادی اور مسلم ممالک کی سلامتی و استحکام کیلئے عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا۔ وائس چیئرمین مولانا عبیدالرحمن، پیر جی خالد محمود قاسمی نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا درس دیتا ہے۔ علماء اسلام نے بے گناہ انسانیت کا خون بہانے والوں کی ہمیشہ حوصلہ شکنی ہے۔ دہشتگردی، انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی اسلام اور آئین پاکستان ہر گز اجازت نہیں دیتا۔

پاکستان علماء کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا شاہ نواز فاروقی نے کہا کہ علماء، خطباء، آئمہ اسلام کے پیغام اعتدال کو عام کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی قوم اور افواج کی قربانیاں قابل فخر ہیں، پاکستان علماء کونسل ماہ اگست کو ماہ پاکستان کے طور پر منائے گی اور دہشتگردی، انتہا پسندی کیخلاف بھر پور مہم چلائے گی اور ملک بھر میں ’’تحفظ نظریہ پاکستان‘‘ کے عنوان سے کانفرنسیں منعقد کرے گی۔ اجلاس میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج کی طرف سے فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ او آئی سی کا فوری طور پر اجلاس بلایا جائے اور مسجد اقصیٰ کو صہیونیوں کے قبضہ سے واگزار کروانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پی بی ایس ٹی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ 1998 سے لیکر اب تک دنیا میں 94 فیصد رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔

ایرانی وزير خارجہ نے کہا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کا تعلق بھی سعودی عرب سے تھا تمام دہشت گرد وہابی ہیں اور سعودی عرب وہابیوں کا مرکز اور اصلی گڑھ ہے جو دہشت گردی کے فروغ کا بھی اصلی منبع ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ 2001 سے یا 1998 سے لیکر آج تک دنیا میں رونما ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں 94 فیصد وہابی ملوث ہیں اور سعودی عرب وہابیت کے فروغ کا اصلی مرکز ہے۔

جواد ظریف نے امریکی پالیسی پر تعجب اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کونسا ملک دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے بلکہ امریکہ کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کونسا ملک اس سے بڑے پیمانے پر ہتھیار خرید رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر سعودی عرب کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی قرارداد کا معاملہ طے نہ ہوتا تو امریکی صدر کبھی سعودی عرب کا سفر نہ کرتے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے مسجد و امام بارگاہ مدینہ العلم، گلشن اقبال کراچی میں جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپٹ اور قاتل حکمرانوں کے اقتدار میں رہنے کا جواز ختم ہوچکا ہے، پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ حکمرانوں کا پورا کنبہ ہی کرپشن میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی کی طرح جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں بنائی گئی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی پبلک کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر حکمرانوں کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کی وجہ سے ظالم حکمرانوں نے وہ رپورٹ ہی دبا لی۔ ملت جعفریہ پاکستان سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین کیساتھ کھڑی ہے۔

علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ اور سنی کا کوئی مسئلہ نہیں، شیعہ اور سنی متحد ہیں، ملک شیعہ اور سنی کو منظم سازش کے تحت لڑانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کیلئے تکفیری گروہ پیدا کیا گیا، مگر آج شہداء کے مقدس لہو کی بدولت شیعہ اور سنی متحد ہیں اور تکفیری گروہ تنہا ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی میں پنجاب کی صوبائی کابینہ کا ایک وزیر ملوث ہے، جو دہشتگردوں کا سہولت کار ہے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کا بھی وہی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ جنرل ورکرز اجلاس کے موقع پر مولانا اظہر نقوی، علامہ مبشر حسن، علی حسین نقوی و دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ حکومت ناکام ہوچکی ہے، اس کے پاس عوام کو تحفظ دینے کیلئے کوئی منصوبہ نہیں، اگر حکومت نے پاراچنار کے مظلومین کے مطالبات نہ مانے تو یہ احتجاجی دھرنے اور مظاہرے ملک بھر میں شروع ہو جائیں گے۔ پاراچنار کی انتظامیہ ناکام ہے، ہمیں یہاں بار بار نشانہ بنایا جارہا ہے، جب تک شہداء کے ورثا احتجاج پر بیٹھیں ہیں ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

پاراچنار میں جاری احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہماری مادر وطن ہے، اس پر ہماری لاکھوں جانیں قربان ہوں، وطن کیلئے جان دینا ہمارے نزدیک شہادت ہے، ہماری ملت نے ہر جگہ وطن کی خاطر جانیں قربان کیں۔ پاکستان بنانے کی تحریک سے لیکر آج تک شیعہ اور سنی شانہ بشانہ رہے، قائد اعظم اور علامہ اقبال کی جدوجہد کے نتیجے میں یہ وطن بنا، قائداعظم شیعہ تھے، علامہ اقبال سنی تھے، دونوں نے ملکر وطن بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے اپنے گھر کے شہید ہیں، پاکستان بننے کے بعد اس کے دفاع میں بھی شیعہ اور سنی اکھٹے رہے، پاکستان کسی تعصب یا فرقہ واریت کے نتیجے میں نہیں بنا، اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمیں مسلم پاکستان چاہئے، ہمیں قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وفا جناب عباس (ع) سے سیکھی ہے، ہم اپنی مادر وطن سے کبھی غداری کا نہیں سوچ سکتے۔ ایک سازش کے تحت پاکستان کو کمزور کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑی اکثریت اہلسنت (بریلوی) بھائیوں کی تھی، اس کے بعد دوسری بڑی اکثریت اہل تشیع کی تھی، لیکن ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت طاقت کے اس توازن کو بگاڑا گیا۔ ضیائی اسٹیبلشمنٹ نے اس وطن کے اندر انتہاء پسندوں کو طاقتور بنانا شروع کیا، انہیں سیاسی، معاشی اور معاشرتی اور نظریاتی طور پر سپورٹ کیا اور ان کے ہاتھ میں اسلحہ دیا، یہ منصوبہ امریکا کا تھا، پیسہ عرب شیخوں کا تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں وہ جنگ ہمارے خطہ میں آگئی، یہ قاتل بکنے لگے اور ہمارے وطن میں قتل و غارت گری اور دہشتگردی لے آئی، جس کے نتیجے میں ہم نے 80 ہزار جنازے اٹھائے، بھارت کو بھی اس حوالے سے موقع مل گیا۔ یہ دہشتگرد بکتے ہیںِ، تحریک طالبان، لشکر جھنگوی العالمی، داعش یہ سب افغانستان میں بھارت کے سائے تلے موجود ہیں، ہمارے دشمن ان کو خریدتے ہیں اور یہاں دہشتگردی کرواتے ہیں، ہماری مادر وطن لہو لہو ہوگئی، اب سے زیادہ یہاں اہل تشیع کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ آج میری آرمی چیف سے ملاقات ہوئی، میں نے انہیں کہا کہ ہمیں ہر جگہ نشانہ بنایا جاتا ہے، اسکا حل کیا ہے، یہ ثابت کیا جائے کہ پاکستان میں شیعہ، سنی لڑائی ہے؟ پاکستان میں ہرگز شیعہ، سنی لڑائی نہیں، ہمارا قاتل تکفیری ٹولہ ہے، ان کا بیس کیمپ انڈیا میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم باشعور اور سمجھدار ہے، ہمارا دشمن چاہتا ہے کہ ہم ڈر کے گھروں میں بیٹھ جائیں، یہ ہمیں خوف کے زندان کا قیدی بنانا چاہتے ہیں، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، ہم اکھٹے ہورہے ہیں، ہم ظلم پر گھروں میں نہیں بیٹھیں گے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) عراق میں اتحادی فوج نے اس ملک کے مغربی صوبہ الانبار میں داعش کے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جس میں داعش کے کم از کم 26 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔ عراقی فوج کے کمانڈر نعمان کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج نے کل شام کی سرحد کے پاس القیوم شہر میں ایک انٹرنیٹ کیفے پرفضائی حملہ کیا جس میں دہشتگرد گروہ داعش کے 20 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد، ایک کیفے کو اپنے ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ عراقی فوج کے کمانڈر نعمان نے کہا کہ ایک دیگر فضائی حملہ عنہ شہر میں کیا گیا جس میں چھے دہشت گرد مارے گئے اور داعش کے ایک اڈے کو تباہ کیا گیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب ایک اور دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپلنجی کے علاقے میں دہشت گردوں نے سڑک کنارے بم نصب کرکے سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا، بم ریموٹ کنٹرول تھا، دھماکے کے نتیجے میں گاڑی تباہ ہوگی۔ دھماکے میں دو اہلکار موقع پر ہی جاں بحق جبکہ دو اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کی غرض سے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر کارروائی شروع کردی ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) جہانیاں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک اور 3 فرار ہو گئے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جہانیاں میں خفیہ اطلاعات پر چھاپہ مار کارروائی کی جس دوران دہشتگردوں نے فائرنگ کر دی تاہم جوابی فائرنگ سے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 4 دہشتگرد مارے گئے اور تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے دیگر 3 ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشگردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے جن کے قبضے سے 10 کلو بارودی مواد اور خودکش جیکٹیں برآمد ہوئی ہیں۔ مارے گئے دہشتگردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ فرار ہونیوالے 3 ملزمان کی تلاش کیلئے علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔