تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) حزب اللہ لبنان نے اپنے قیدی احمد المعتوق کو وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کے قبضہ سے آزاد کرالیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کے قیدی کا تبادلہ المیادین شہر کے قریب واقع الشولہ گاؤں میں ہوا ہے۔ ادھر داعش سے منسلک افراد کا قافلہ بھی دیر الزور پہنچ گیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق میں ہونے والے دھماکوں سے جاں بحق افراد کی تعداد 60 سے زائد ہو گئی جبکہ بعض خبروں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 80 اور زخمیوں کی تعداد 90 بھی بتائی گئی ہے۔

ذی قار کے صدر مقام ناصریہ کے قریب ایک ریسٹورنٹ اور ایک چیک پوسٹ پر ہونے والے بم دھماکوں میں 60 افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں کچھ لوگوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے پیش نظر مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

داعش دہشت گرد گروہ نے ذی قار کے دہشت گـردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

داعش دہشت گرد گروہ نے عراقی فوجیوں کے ہاتھوں پے در پے شکست کھانے کے بعد عراق کے مختلف شہروں میں دہشت گردانہ حملے کرنے شروع کر دیئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) افغانستان کے تیرہ صوبوں میں فوج کی کارروائیوں میں طالبان اور داعش کے ایک سو سینتالیس دہشتگرد مارے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے ادارے کے پریس دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائیاں گذشتہ دو دنوں سے صوبہ بغلان، نورستان، بلخ، سرپل قندوز، ننگرہار، کابل ، لوگر، وردک، خوست ، ارزگان، قندھار اور ہلمند میں انجام پائی ہیں۔

ان کارروائیوں میں طالبان کے ایک سوانتیس اور داعش کے اٹھارہ دہشتگرد مارے گئے جبکہ چودہ دہشتگرد زخمی ہوئے۔
افغانستان کی قومی سلامتی کے ادارے نے ایک خودکش بمبار سمیت آٹھ طالبان کی گرفتاری کی خبر دی ہے۔ اس رپورٹ میں افغان فوج کو ہونے والے ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں کہاگیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مشرقی شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روسی طیاروں کی بمباری میں درجنوں داعشی ہلاک ہوگئے ہیں۔

روسی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے مشرقی شام کے شہر دیر الزور میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ اس بمباری میں دہشت گرد گروہ داعش کا خود ساختہ وزیر جنگ گل مراد حلیم اوف، چوالیس دیگر دہشت گردوں کے ساتھ مارا گیا گیا ہے۔

گل مراد حلیم اوف کا تعلق وسطی ایشیا کے ملک تاجکستان سے بتایا جاتا ہے۔

تحریر: حسن ہانی زادہ

اسٹریٹجک اہمیت کے حامل شام کے شہر دیر الزور کی آزادی اور گذشتہ تین برس سے داعش کے محاصرے کا شکار اس خطے میں شام آرمی کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف شام کی حتمی فتح میں صرف ایک قدم باقی رہ گیا ہے۔ تکفیری دہشت گرد عناصر کے حوصلے پست ہو جانے کے نتیجے میں اس آپریشن میں شام آرمی کو انتہائی کم نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ دوسری طرف اس خطے میں موجود داعش کی ماہر ترین انسانی قوت نابود ہوئی ہے۔

دیر الزور کا شہر شام کے مشرق میں عراق کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ خطہ گذشتہ تین برس کے دوران تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی مختلف شہروں جیسے رقہ، ادلب اور حمص کی جانب نقل و حرکت کا مرکز بنا رہا ہے۔ شام میں خانہ جنگی کو ہوا دینے والے ممالک جیسے امریکہ، ترکی، سعودی عرب اور اردن نے ہمیشہ دیر الزور شہر میں داعش کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ شام کے تیل کے کنووں کی بڑی تعداد اس شہر میں واقع ہے۔ لہذا اس خطے میں داعش کی تقویت سے مغربی طاقتوں کا بنیادی مقصد شام حکومت کو خام تیل کے ذخائر سے محروم کر کے اس کو اقتصادی دھچکہ پہنچانا تھا۔ دوسری طرف داعش اس خطے میں موجود تیل کے کنووں پر قابض ہونے کے ناطے بڑی مقدار میں خام تیل اونے پونے داموں ہمسایہ ممالک کو فروخت کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ اب شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز دیر الزور کی اصلی چھاونی پر قابض ہو چکی ہیں اور کئی برس سے جاری محاصرے کو توڑنے میں کامیاب ہو گئی ہیں جو داعش اور اس کے حامیوں کیلئے بہت بڑی شکست سمجھی جاتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دیر الزور کی آزادی رقہ شہر کی آزادی کا سنگ میل ثابت ہو گی کیونکہ اب تکفیری دہشت گرد عناصر اپنا سب سے بڑا لاجسٹک مرکز یعنی دیر الزور کھو چکے ہیں۔ لہذا اب شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز بہت آسانی سے رقہ شہر کی طرف پیشقدمی کر سکیں گی۔ اس سے پہلے شام آرمی کی توانائیوں کا بڑا حصہ محاصرے کا شکار شہر دیر الزور میں فوجی سازوسامان اور ضروری اشیاء پہنچانے میں صرف ہو جاتا تھا۔ سیاسی اور فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ دیر الزور شہر کی آزادی کے باعث داعش کا شام کے دیگر حصوں جیسے ادلب، حما اور حتی جنوب میں واقع شہر درعا سے رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ اس وقت داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر متعدد جزیروں کی شکل میں بٹ گئے ہیں اور شام آرمی کے محاصرے میں آ چکے ہیں۔ لہذا مستقبل قریب میں شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز کسی بڑے نقصان کے بغیر بہت آسانی سے اس گروہ کا مکمل خاتمہ کر سکیں گے۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ دیر الزور شہر کے جغرافیائی حالات بہت حد تک شام اور لبنان کی سرحد پر واقع شہر القصیر کے جغرافیائی حالات سے ملتے جلتے ہیں۔ جب القصیر شہر آزاد ہوا تھا تو داعش اور النصرہ فرنٹ سے وابستہ دہشت گرد عناصر کی بڑی تعداد وہاں سے بھاگ کر شام کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئی تھی۔ شام کی موجودہ صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسی سال داعش کا مکمل خاتمہ ہونے والا ہے۔ لبنان کے سرحدی علاقے عرسال اور عراق کے شہر تلعفر کی آزادی نے بھی دیر الزور شہر کی آزادی میں موثر کردار ادا کیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شام کی فوج نے مشرقی حماہ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئےچھ دیہات اور قصبے داعش کے قبضے سے آزاد کرا لئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شامی فوج نے بدھ کے روز حماہ کے مشرق میں واقع عقیربات علاقے کے اطراف میں اپنی کارروائیوں کے دوران، چھ دیہات اور قصبوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کراتے ہوئے، دسیوں داعشی دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا-

شامی فوج نے داعش کے زیرقبضہ دیہاتوں اور قصبوں کو بھی اپنے محاصرے میں لے لیا ہے۔ عقیربات کے اطراف میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں آٹھ ہزار سے زیادہ عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ درایں اثنا شامی فوج کی فضائیہ اور توپخانوں نے حمص کے مضافات میں داعش دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں متعدد تکفیری دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

دوسری جانب مشرقی حلب کے مضافاتی علاقوں کے بہت سے باشندے ان علاقوں میں امن قائم ہونے کے بعد اپنےگھروں میں واپس آگئے ہیں-

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق میں وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق عراق کے صوبہ نینوا میں تکفیری دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے عراقی فورسز نے تازہ کارروائی میں 21 وہابی دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق داعش کے 4 دہشت گرد القیروان میں ہلاک ہوئے جبکہ 17 دہشت گرد العیاضيہ میں ہلاک ہوئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شام کے صدر بشار اسد نے کہا ہے کہ جب تک شام کے جوانوں کے وجدان اور روح میں استقامت کا عزم ہے اس وقت تک دشمنوں کی شکست کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

شام کے صدر بشار اسد نے ثابت قدم عرب جوانوں کی جمعیت کے زیرعنوان دوسرے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں دشمنوں کا مقصد روز اول سے ہی استقامت کے شعلے کو خاموش کرنا تھا لیکن دشمنوں کو اپنے مقصد میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا - شام کے صدر بشار اسد نے شامی جوانوں اور نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کو درپیش چیلنجوں کے مقابلے میں ہمارے نوجوانوں کی ذمہ داری شام کو تعمیر و ترقی کے راستے گامزن کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج شام میں استقامتی قوتوں نے دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کا جنازہ نکال دیا ہے - اس درمیان شامی فوج نے السخنہ کے مزید علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہےالمیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شامی فوج کے آپریشن میں جو صوبہ دیرالزور کے السخنہ کے علاقے میں انجام پایا، چار دیہاتوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا گیا- اس کارروائی میں داعش کے کئی دہشتگرد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں- اس کارروائی میں شام کی فوج نے صوبہ حمص کے شمال مشرقی علاقوں میں دوہزار مربع کلومیٹر کا رقبہ بھی داعش کے قبضے سے پوری طرح آزاد کرا لیا ہے- بعض رپورٹوں کے مطابق شام کی فوج اس وقت شہر دیرالزور کی جانب پیشقدمی کر رہی ہے- اس کارروائی میں شامی فوج داعش کے خلاف ہیلی کاپٹروں ، جنگی طیاروں ، توپخانوں اور میزائل لانچروں کا استعمال کر رہی ہے - آپریشن کا مقصد شہرالسخنہ کے ہائی وے کو محفوظ بنانا ہے-

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) روس نے شام میں داعش کے 200 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے شام کے شہر دیرالزور میں فضائی کارروائی کی جس کے نتیجے میں بین الاقوامی کالعدم دہشتگرد گروہ داعش کے 200 دہشتگرد ہلاک ہوئے جب کہ فضائی حملے میں اس دہشتگرد گروہ کا سازو سامان بھی تباہ ہوا ہے تاہم روسی وزارت دفاع کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کارروائی کب عمل میں لائی گئی۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق شامی فورسز اور روسی فضائیہ کی جانب سے داعش کو شام کے شہر الرقہ کے جنوب اور حمص کے مغربی علاقوں سے نکالے جانے کے بعد جنگجو اب دیرالزور کی طرف توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے تلعفر کی آزادی کے لئے شروع ہونے والے آپریشن کے تیسرے دن جنوب مشرق کی جانب سے داعش کے خلاف حملے شروع کئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عراقی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے جنوب مشرقی محاذ سے دہشتگردوں کے خلاف ایسے عالم میں کارروائی شروع کی ہے کہ صیہونی و تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی صفوں میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور وہ بکھرنے لگے ہیں- رپورٹوں کے مطابق عراقی رضاکار فورس کے توپخانوں نے مشرقی تلعفر مین داعش کے اہم اڈوں پر گولہ باری کی ہے اور الحشدالشعبی کے جوان شہر میں دو کلومیٹر اندر تک گھس گئے ہیں تاکہ تلعفر کے اندر داعش کا گھیرا مزید تنگ کر دیں-

درایں اثنا تلعفر میں داعش کے سرغنوں نے اپنے دہشتگرد عناصر کو فرنٹ لائن پر روانہ کیا ہے تاکہ وہ تلعفر کے تیل کے کنوؤں میں آگ لگا دیں حس سے عراقی فوج اور رضاکار فورس کی پیشقدمی کو روک سکیں - اس رپورٹ کے مطابق تلعفر کو آزاد کرانے کی کارروائی میں عراقی فوج کی راہ میں حائل ایک اور بڑی رکاوٹ وہ بارودی سرنگیں ہیں کہ جو داعش نے آپریشن شروع ہونے سے پہلے بچھائی ہیں- بعض عراقی ذرائع تلعفر میں صیہونی تکفیری گروہ داعش کے ایک سرغنے اور اس کے چار ساتھیوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے- عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کے حکم سے شمالی عراق میں داعش کے آخری ٹھکانے تلعفر کو دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائی اتوار کو شروع ہوئی ہے-