17 اکتوبر 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے حماہ کے السلمیہ اثریا کے اطراف کے علاقوں پر پوری طرح کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام اور اس کے اتحادی فوجی، حماہ کے مضافاتی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ساتھ ہی السلمیہ اثریا کے راستے کو پوری طرح محفوظ بنا دیا گیا ہے-

رقہ میں واقع النعیم اسکوائر کو کرد فورسز نے آزاد کرا لیا ہے- داعش اس اسکوائر پر بےگناہ افراد کے سر قلم کیا کرتے تھے اور دیگر جرائم انجام دیتے تھے-

النعیم اسکوائر کے قریب، کہ جسے رقہ کے عوام جہنم اسکوائر کہتے ہیں، گذشتہ کئی دنوں سے مسلسل جھڑپیں ہو رہی تھیں-

رقہ کے تقریبا نوے فیصد علاقے واپس لے لئے گئے ہیں البتہ اس وقت بھی اس شہر میں داعش کے سیکڑوں دہشتگرد موجود ہیں-

درایں اثنا ذرائع ابلاغ نے حمص کے مضافات میں داعش کا ایک خطرناک دہشتگرد مارے جانے کی خبر دی ہے-

Read more...
17 اکتوبر 2017

بقلم: مولانا سید نجیب الحسن زیدی

چلچلاتی دھوپ تپتاصحرا، سورج سوا نیزے پر لوگ سورج ڈھلنے کا انتظار کر رہے ہیں کہ کچھ تپش کم ہو تو باہر نکلا جائے ایسے میں ایک نوجوان تنہا و اکیلا بیابانوں و صحراوں سے گزرتا تپتے ہوئے چٹیل میدانوں کو پیچھے چھوڑتا چلا جا رہا ہے راستہ میں کسی بزرگ کا سامنا ہوا اے نوجان اتنی دھوپ میں کہاں چلے جا رہے ہو وہ بھی اکیلے و تنہا ؟...
جواب: بیت اللہ کی زیارت کے لئے.
لیکن ابھی تو تمہاری عمر دیکھ کر لگتا ہے کہ تم پر حج واجب بھی نہیں ہوا؟
جواب: کیا آپ نے مجھ سے بھی زیادہ ایسے چھوٹوں کو نہیں دیکھا جو اس دنیا سے چھوٹے ہونے کے بعد بھی چلے گئے ؟
بزرگ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
کچھ دیر خاموشی.......

اچھا ٹھیک ہے لیکن یہ بتاو کہ سفر حج پر یوں ہی نکل پڑے کچھ زاد راہ کا انتظام تو کیا ہوتا؟
جواب: میری زاد راہ پرہیز کاری ہے، میرا مرکب میرے یہ دونوں پیر ہیں، مقصد و منزل خدا ہے، کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی خدا کا مہمان ہوا ہو اور خدا نے اس کی میزبانی میں کوئی کسر چھوڑی ہو؟...

میں تاریخ سے پوچھا یہ نوجوان کون تھا جو خدا کی میزبانی کے سلسلہ سے اتنا پر اعتماد تھا گو کہ اسے دیکھ رہا ہو
جواب ملا ، سجاد ...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی کھانا کھایا اپنی والدہ گرامی سے علیحدہ، کسی نے پوچھا کہ آپ تو اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں پھر دستر خوان پر کیوں ساتھ نہیں بیٹھتے؟
جواب تھا : ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی لقمہ کو ماں اٹھانا چاہتی ہو اور میں اٹھا لوں۔
میں نے تاریخ کی ورق گردانی کی آخر یہ کون تھا جو اپنی ماں کے ساتھ محض اس لئیے کھانا نہیں کھاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو لقمہ ماں نے اٹھاناچاہا ہےمیرا ہاتھ اس پر چلا جائے؟ جواب جو سامنے آیا وہ تھا ۔ سجاد۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوڑھ کا مریض اکیلا و تنہا رہتا تھا کوئی اس کے پاس جانے کو تیار نہیں ایسے میں ایک شخص روز آتا کچھ دیر بیٹھتا مریض کے ساتھ باتیں کرتا حال چال پوچھتا ضرورت کا سامان لا کر دیتا اور بغیر نام بتائے چلا جاتا۔
میں نے پھر جستجو کی یہ کون تھا جواب ملا. سجاد---
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے غلام کو آواز دی ، کوئی جواب نہیں آیا پھر آواز گونجی غلام! کوئی جواب نہیں، آواز تھوڑی اونچی ہوئی غلام کتنی دیر سے بلا رہا ہوں کیا آواز نہیں سنی؟
غلام نے جواب دیا: سنی آقا! لیکن اس لئے فورا جواب نہیں دیا کہ دیر سے بھی جواب دونگا تو آپ مواخذہ نہیں کریں گے .....

بارگاہ الہی میں سجدہ ریز: مالک تیرا شکر ہے میرے غلام بھی میرے بارے میں غلط تصور نہیں رکھتے اور میری ذات سے انہیں نقصان پہنچنے کا خطرہ نہیں ہے.
ایک بار پھر میرے ذہن میں سوال آیا یہ کون تاریخ نے جواب دیا سجاد....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احرام باندھنے کی نیت کی، اونٹ سے نیچے آتے ہی لوگوں نے دیکھا کہ اسکے چہرہ کا رنگ زرد ہو گیا بدن لرزنے لگا، لبیک کہنے کی کوشش کی لیکن آواز ہونٹوں کے درمیان دب کر ٹوٹ گئی۔
کسی نے کہا یہ کیا حالت ہے ؟ جواب دیا ڈرتا ہوں میں لبیک کہوں اور ادھر سے آواز آئے لا لبیک ولا سعدیک ، کافی دیر بعد ہمت بندھی خدا سے رازونیاز کیا اور اب لگا کہ اس قدر دعاء و راز ونیاز کے بعد تو لبیک کہا جا سکتا ہے ایک تھرتھرائی ہوئی آواز نکلی لبیک ۔۔۔ اس کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخص زمین پر گر کر بے ہوش ہو گیا۔
میں پھر سوالی تھا کون ؟ جواب ملا سجاد....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔سردیوں میں گرم لباس کی ضرورت کے پیش نظر گرم و ضخیم لباس خریدا، گرمیوں کا موسم آیا جو لباس ابھی پچھلی سردیوں میں خریدا تھا کہا اسے بیچ دو اور پیسہ کسی فقیر کو دے دو۔ یا اللہ یہ کون سخی ہے؟ جواب سجاد....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱ محرم ہے صحرائے کربلا میں شہدا کے لاشوں کے ٹکڑے ہیں ، پامال لاشے ہیں، رات کی تاریکی چاند کی مدھم روشنی میں کچھ لوگ لاشہ ھای شہدا کو دفن کرنے کے قصد سے آئے ہیں، لیکن لاشیں اس طرح پامال ہیں کہ پتہ نہیں چل رہا کسی کی لاش کونسی ہے ایسے میں ایک سوار آتا ہے کیا کرر ہےہو،؟
جواب: شہدا کے لاشوں کو دفن کرنے آئے ہیں، بنی اسد کے قبیلہ سے ہیں۔
آؤ میرے ساتھ ، یہ دیکھو ، حبیب کی لاش ہے ، یہ مسلم بن عوسجہ ، یہ ظہیر قین ، یہ سعید ، یہ عابس ، یہ بریر ، یہ جون ، ایک ایک کی لاش کی شناخت کرائی پھر سبکو دفن کیا ایک اور لاش پر پہنچا لاش پر خود کو گرا دیا گریہ کی آواز سے کربلا کا مقتل بھی رویا پھر لحد میں لاش کو اتارا قبر تیار کی ایک جملہ لکھا ھذا قبر حسین ابن علی الذی قتلوہ عطشانا ۔۔ کسی نے پوچھا اے سوار نام تو بتاتا جا کون ہے ؟
ایک نحیف سی آواز : سجاد....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وضو کرتا تو بدن کانپنے لگتا، چہرہ کا رنگ زرد ہو جاتا، کسی نے پوچھا کہ یہ چہرہ کا رنگ کیوں پیلا ہے ؟
جواب: کیا نہیں دیکھ رہے کس کے حضور میں کھڑے ہونے جا رہا ہوں اور کس سے گفتگو کا ارادہ ہے ؟ مالک آخر یہ تیرا کیسا بندہ ہے جسکی خشیت کا یہ عالم ہے کہ تیرے حضور میں آنے کا ہی سوچ کر کانپ اٹھتا ہے
جواب آیا سجاد ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹھا ہوا تھا لوگوں کے حلقہ میں ایک شخص آتا ہے اور جو کچھ زبان پر آیا بک کے چلا جاتا ہے اسکی ہرزہ سرائی کا جواب صرف یہ کہ گردن جھکا لی۔
جب گردن اٹھائی تو بدزبانی کرنے والے شخص سے صرف اتنا کہا جو کچھ تونے کہا ہے اگر وہ باتیں میرے اندر ہیں تو خدا سے طلب مغفرت کرتا ہوں اور اگر نہیں ہیں تو ان تہمتوں پر جو تونے لگائی ہیں خدا تجھے معاف کرے، میں نے سوال کیا آخر اتنے بڑے دل کا مالک بھی کوئی بندہ ہو سکتا ہے؟
جواب آیا ہاں! سجاد ...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی دنبے کو ذبیح ہوتے دیکھا رک کر پوچھا بھائی کیا اسے پانی پلا دیا تھا؟
جواب: ہم اپنے دنبوں کو بغیر پانی پلائے ذبح نہیں کرتے.
گریہ کی آواز..... ہائے میرا بابا پیاسا شہید کر دیا گیا...... ،
آخر یہ کون ہے جو اپنے بابا کو یاد کر کے دھاڑیں مار کر رو رہا ہے؟
کسی نے روتے ہوئے جواب دیا سجاد.... ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی تاریکی ہے ایک تاریک کوچے میں ایک شخص اپنی پیٹھ پر بوجھ لادے چلا جا رہا ہے راستہ میں کوئی آشنا ملا ،بھائی یہ اتنا سارا بوجھ اٹھاکر کہاں جا رہے ہو اتنی رات میں؟
جواب: سفر پر نکلا ہوں اور یہ زادِ سفر ہے.
اچھا! اگر تم سفر پر ہی نکلے ہو تو میں نےتو تمہارے یہاں غلام دیکھے ہیں کسی غلام سے کہہ دیتے سامان سفر اٹھا کر منزل پر پہنچا دیتا۔
جواب :" میں اپنے بوجھ کو دوسروں پر نہ ڈال کر خود ہی اپنے بار کی سنگینی کو محسوس کرنا چاہتا ہوں"
چند دنوں کے بعد وہی آشنا پھر ملتا ہے ،پھر دیکھا کہ کل جسکی پیٹھ پر بوجھ تھا آج پھر ہے۔
سوال: کیا اس دن سفر پر نہیں گئے تھے؟
مسکرا کر جواب دیا، میرا سفر وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو میری مراد سفرآخرت ہے اور وہ جو بوجھ تھا وہ مستحقین کا حق تھا ،حرام سے دوری اور نیک کاموں کی انجام دہی کے ذریعہ ہر ایک کو سفر آخرت کے لئیے تیار رہنا چاہیے۔
مالک ! یہ کون تیرا بندہ ہے جو اس رات کی تاریکی میں جب لوگ اپنے نرم بستروں پر محو خواب ہیں تیرے بندوں کی پرسان حالی کے لئیے نکلتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے انکی ضرورت کا سامان و آذوقہ ان تک پہنچاتا ہے؟
جواب ملا سجاد....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کی آوازیں تو مدینہ میں کسی نہ کسی گلی سے آتی ہی تھیں لیکن ایک گلی ایسی تھی جس کے ایک گھر سے آنے والی آواز اتنی نورانی ہوتی کہ آہستہ آہستہ پوری گلی بھر جاتی سننے والوں کا ایک اژدہام ہوتا۔ اِدھر کئی دنوں سے یہ آواز اب نہیں آتی تھی اور نہ ہی اس گلی میں پہلے کی سی چہل پہل ، آخر کون تھا جو اتنے دلنشین انداز میں قرآن پڑھتا ؟
ایک ہی آواز سجاد....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی تاریکی میں سارے فقراء مل کر ایک چبوترے پر بیٹھ جاتے اور کسی آنے والے کا انتظار کرتے جو آکر انکے پاس کچھ دیر بیٹھتا انہیں روٹیاں دیتا اور بغیر نام بتائے چلا جاتا کسی کو خبر نہیں کہ کون ہے وہ مسیحا جو روز آکر انہیں کھانا دیتا، ۲۵محرم کو کوئی نہ آیا سارے فقیر بیٹھے آنے والے کی راہ تکتے رہے لیکن کوئی نہ آیا انکی آنکھیں ایک دوسرے سے سوال کر رہی تھیں کہ آخر وہ کون تھا جو آتا تھا اور ہم جیسے بھوکوں کے کھانے کا انتظام کرتا تھا اس کا نام کیا تھا ؟ وہ کس خاندان سے تعلق رکھتا تھا ؟ آج کیوں نہیں ۔ادھر مدینہ کی گلیوں میں ایک جنازہ تھا جو انکے جواب کی صورت اپنی دائمی منزل کی طرف گامزن تھا ، اور مدینہ کی گلی کوچوں سے آواز آ رہی تھی سجاد سجاد سجاد ....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۲ مرتبہ حج کیا لیکن ایک تازیانہ بھی اپنے ناقے کو نہیں مارا جب زہرِ دغا سے شہادت ہوئی تو ناقہ مرقد پر آکر لوٹنے لگا یہ کس کی قبر ہے ؟ اسکی قبر ہے جس نے ناقہ کو ایک تازیانہ نہیں لگایا آخر یہ کون تھا؟
جواب:آخر وہ تازیانہ کیسے لگاتا جس نے اپنی چار سالہ بہن کی پشت پر تازیانے و دروں کے نشاں دیکھے ہوں کہیں یہ وہی تو نہیں جو کبھی تلاوت قرآن کرتا تو مدینہ کے لوگ اسکی آواز کو سننے جمع ہو جاتے ، کبھی غریبوں کے پاس ملتا ،کبھی یتیموں اور فقیروں کے ؟ یہ وہی تو نہیں تھا جسکا شام میں یہ مرثیہ تھا
اقاد ذَلیلاً فِی دمِشْقُ كَأنَّنِی
مِنُ الزَّنْجِ عُبًدُّ غابُ عُنْه نَصِیزه
وُ جُدُّی‌ رُسول‌ اللهِ فی‌كلَّ مُشْهُدٍ
وُشیخی أمیر‌المؤمنینُ وُ زِیره
فَیالَیًتَ أمُّی لَم‌تَلِدً وَ لَمً اَكنً
یُرانِی یُزید فِی‌الْبِلادِ اَسیره.....

واقعات و حوادث زنجیر کے حلقوں کی صورت میرے سامنے ہیں میرے پورے وجود پر لرزہ طاری ہے اور میں پیکر خاموشی بنا تاریخ کے آئینہ میں ایک ایسے قیدی کو دیکھ رہا ہوں جس کی گردن میں طوق گرانبار ہے جسکے ہاتھوں میں ہتھکڑی ہے جسکے پاوں میں بیڑی ہے لیکن اس کے باوجود بھی شام کے زندان میں سر کو سجدے میں رکھ کر وہ آواز دے رہا ہے ۔
عبیدک بفنائک، مسکینک بفنائک، فقیرک بفنائک، سائلک بفنائک.»
ایسے میں میرے دم بخودو بےحس وحرکت وجود میں ایک حرارت آتی ہے
اورآنکھوں سے آنسووں کے چند قطرے رخساروں پر ڈھلکتے ہوئے آواز دیتے ہیں
۔۔۔اس قیدی کو سجاد کے نام سے جانا جاتا ہے
۔سچ ہے کہ ایسے ساجد کو سید الساجدین کہا جائےاسی لئے آج تک اس پہ سجدے ناز کرتے ہیں کہ وہ حقیقت میں محض ایک ساجد نہیں سجاد تھا۔
جی ہاں اسکا نام سجاد تھا

Read more...
17 اکتوبر 2017

تحریر: امجد عباس مفتی

امام علی بن حُسین بن علی بن ابی طالب علیھم السلام ملقب بہ زین العابدین، دیگر آئمہ اہل بیت کی طرح عظیم مرتبہ پر فائز ہیں۔ مدینہ منورہ میں علم و فضل، حسب و نسب میں کوئی آپ کا ثانی نہ تھا۔ آپؑ کی ولادت مدینہ منورہ میں 38 ہجری میں ہوئی جبکہ وفات 95 ھجری میں ہوئی۔ آپ کربلا میں اپنے والد کے ساتھ موجود تھے، تاہم مریض ہونے کی وجہ سے نہ لڑ پائے، چنانچہ اہلِ بیت کے قافلے کے ساتھ واپس مدینہ تشریف لائے۔ آپؑ واقعہءِ کربلا کے چشم دید راوی ہیں، اِس لحاظ سے آپؑ سے واقعاتِ کربلا اور مصائب بھی مروی ہیں۔ آپؑ کی اعلمیت اور علوِ مرتب کا علماء نے بھرپور اظہار کیا ہے، سُنی عالم امام نووی لکھتے ہیں کہ علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب مشہور تابعی ہیں، آپ عبادت گزاروں کی زینت (زین العابدین) سے معروف ہیں۔ علم و عمل ہر میدان میں آپ کی جلالت پر سب کا اتفاق ہے۔ یحیٰی انصاری کہتے ہیں کہ مدینہ میں سب سے افضل ہاشمی آپ تھے۔ امام زہری کے مطابق مدینہ بھر میں آپ سے افضل کوئی نہیں تھا۔ امام بخاری کے استاد ابنِ ابی شیبہ نے زہری کی امام زین العابدین سے مروی احادیث کو اصح الاسانید کہا ہے۔ آپ کی وفات کے وقت معلوم ہوا کہ آپ مدینہ کے سو گھرانوں کی مخفی انداز سے کفالت فرمایا کرتے تھے۔(تھذیب الاسماء واللغات للنووی، جلد 1، صفحہ 343)

بڑے بڑے مُحدثین نے آپؑ سے احادیثِ اہلِ بیت کو نقل کیا ہے۔ آپؑ کو قرآن مجید سے بہت اُنس تھا، امام زُہری نے قرآن مجید کے حوالے سے آپؑ سے کئی احادیث نقل کیں، اُن میں سے دو رویات پیش کرتا ہوں، جنھیں مُحدث کُلینی نے اپنی الکافی کی کتاب ’’فضل القرآن‘‘ میں لایا ہے۔ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عليه السلام يَقُولُ آيَاتُ الْقُرْآنِ خَزَائِنُ فَكُلَّمَا فُتِحَتْ خِزَانَةٌ يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَنْظُرَ مَا فِيهَا۔"زہرى کہتے ہیں: میں نے حضرت على بن الحسين زین العابدین علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن کی آیتیں (علوم و معارف کے) خزانے ہیں، پس ضرورت اس امر کی ہے کہ جب تم ایک خزانے کا دروازہ کھولو تو اس پر نظر ڈالو اور اس میں غور کرو۔" عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليه السلام لَوْ مَاتَ مَنْ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَمَا اسْتَوْحَشْتُ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ الْقُرْآنُ مَعِي وَ كَانَ عليه السلام إِذَا قَرَأَ مالِكِ يَوْمِ الدِّينِ يُكَرِّرُهَا حَتَّى كَادَ أَنْ يَمُوتَ۔"زھری کہتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: اگر مشرق اور مغرب کے مابین رہنے والے تمام لوگ مر جائیں، میں تنہائی سے ہراساں نہیں ہونگا، جبکہ قرآن مجید میرے پاس ہو؛ اور حضرت سجاد عليہ السلام کا شيوہ تھا کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت جب سورہ فاتحہ کی آیت "مالك يوم الدين" پر پہنچتے تو اسے اس قدر زیادہ دہراتے کہ موت کے قریب پہنچ جاتے۔"

حافظ ذہبی نے اپنی کتاب ’’سیر اعلام النُبلاء‘‘ میں آپؑ کا ذکر خیر کیا ہے، وہ حضرت سعید ابن مسیب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ایک آدمی نے اُن سے کہا کہ فُلاں بندہ بڑا متقی اور پرہیزگار ہے، تو حضرت سعید نے فرمایا کہ تُم نے زین العابدینؑ کو دیکھا ہے؟ ما رأيت أورع منه. "آپؑ سے بڑا متقی میں نے نھیں دیکھا۔" آپؑ کے متعلق ایک اور واقعہ جسے علامہ ذہبی سمیت علماء و محدثین نے نقل کیا ہے کہ خلیفہ ہشام حج کرنے آیا، اُس کے ساتھیوں نے امام زین العابدینؑ کو دیکھا کہ لوگ حج کے موقع پر اُن کا بے پناہ احترام کر رہے ہیں اور حجر اسود کی طرف آپؑ جیسے بڑھے لوگ آگے سے، احتراماً ہٹ رہے ہیں تو ہشام سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ ہشام نے سُنی اَن سُنی کر دی تو پاس کھڑے شاعر فرزدق نے فوری امامؑ کی شان میں ایک طویل قصیدہ کہا، جس کے چند اشعار ’’سیر اعلام النُبلاء‘‘ سے ہی علامہ ذہبی کی روایت سے نقل کرتا ہوں
هذا الذي تعرف البطحاء وطأته
والبيت يعرفه والحل والحرم
هذا ابن خير عباد الله كلهم
هذا التقي النقي الطاهر العلم
إذا رأته قريش قال قائلها
إلى مكارم هذا ينتهي الكرم
يكاد يمسكه عرفان راحته
ركن الحطيم إذا ما جاء يستلم
يغضي حياء ويغضى من مهابته
فما يكلم إلا حين يبتسم
هذا ابن فاطمة إن كنت جاهله
بجده أنبياء الله قد ختموا

اشعار کا مفہوم کچھ یُوں ہے کہ "یہ وہ ہستی ہیں کہ جن کے نقش قدم کو وادیٔ بطحا (یعنی مکہ مکرمہ) پہچانتی ہے اور بیت اللہ اور حل و حرم سب ان کو جانتے پہچانتے ہیں۔ یہ تو اس ذات گرامی کے فرزند ہیں جو اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر ہیں، یہ پرہیز گار، تقویٰ والے، پاکیزہ، صاف ستھرے اور سید و سردار ہیں۔ جب ان کو بنی قُریش دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ان کی بزرگی و جواں مردی پر بزرگی و جواں مردی ختم ہے۔ جب وہ حجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے آتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ حجر اسود ان کی خوشبو پہچان کر ان کا ہاتھ پکڑ لے گا۔ وہ شرم و حیا سے نگاہیں نیچی رکھتے ہیں اور ان کے رعب و ہیبت سے دوسروں کی نگاہیں نیچی رہتی ہیں، اس لئے ان سے اسی وقت گفتگو کی جاسکتی ہے، جب وہ تبسم فرما رہے ہوں۔ یہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے فرزند ہیں، اگر تو ان کو نہیں جانتا تو سُن لے کہ اِن کے محترم نانا خاتم الرُسُل ہیں۔"

واقعہءِ کربلا کے بعد آپؑ نے مدینہ منورہ میں احادیثِ اہلِ بیتؑ کی ترویج شروع کی، آپؑ ہر وقت عبادت، تلاوتِ قرآن، بیانِ احادیث اور دعا و مناجات میں مصروف رہتے، آپؑ سے مروی دعاوں پر مشتمل کتاب ’’صحیفہءِ سجادیہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ انسانی حقوق پر آپ کا ایک تفصیلی خط ’’رسالۃ الحقوق‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ آپؑ نے مدینہ منورہ میں علوم و معارفِ اہل بیت کی وسیع پیمانے پر تبلیغ کی۔ آپؑ کے تفصیلی حالات علماء نے مختلف کتابوں میں ذکر کئے ہیں۔ واقعہءِ کربلا کے بعد آپؑ نے تقریباً 34 سالہ زندگی میں کارِ امامت و ہدایت کو باحسن انجام دیا۔ آپؑ کو ’’بیمارِ کربلا‘‘ اِس مناسبت سے کہا جاتا ہے کہ اُس وقت آپؑ مریض تھے، تاہم واقعہ کربلا کے بعد آپؑ نے بڑی مجاہدانہ زندگی بسر کی، بہت سے شاگرد تیار کئے، احادیث لکھوائیں، مدینہ منورہ کو علمی مرکز قرار دیا۔ بعد ازاں آپؑ ہی کے طرز کو اپناتے ہوئے آپؑ کے فرزند امام محمد باقرؑ اور پوتے امام جعفر صادقؑ نے علومِ اہلِ بیت سے عالم کو بہرہ مند کیا۔ نسلِ حُسینی آپؑ سے ہی چلی۔ سلام اللہ علیھم اجمعین۔ آپؑ کے بارے میں شیعی ذاکرین کا یہ تاثر کہ آپؑ دائمی مریض اور واقعہءِ کربلا کو یاد کرکے ہر وقت روتے ہی رہتے تھے، نادرست ہے۔

Read more...
17 اکتوبر 2017

شیعہ نیوز(پاکستانی خبر رساں ادارہ)سلسلہ امامت کی چوتھی کڑی حضرت امام زین العابدین (ع) کے یوم شہادت کے موقعہ پر جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے حسب عمل قدیم شالیمار میں عظیم الشان جلوس ذوالجناح برآمد ہوا۔ جلوس میں دسیوں ہزار عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ باغ زینب (ع) شالیمار میں عقیدت مندوں کے جمع غفیر سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید حسن نے حضرت امام زین العابدین (ع) کی سیرت و کردار کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ کربلا میں حضرت امام حسین (ع) اور آپ (ع) کے اقارب و انصار کے خون مقدس سے اسلام کو ابدی حیات اور سرتازگی عطا ہوئی، تاہم شہدائے کربلا کی عظیم شہادتیں اور کربلا کا فکر و پیغام صدا بصحرا ثابت ہوتا اور معرکہ کربلا تاریخ کے اوراق پر صرف ایک دلدوز حادثہ کی حیثیت سے رقم ہوا ہوتا، اگر حضرت امام زین العابدین (ع) کی قیادت میں اسیران کربلا (ع) کا قافلہ کوفہ سے شام تک شہادت حسینی (ع) کے اہداف و مقاصد کی تشہیر و ترویج نہیں کرتے۔

آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ اہلبیت رسول اکرم (ص) کی عظیم قربانیاں ہم سے دین و شریعت کی پابندی اور تحفظ کا تقاضا کر رہی ہے۔ اس موقعہ پر آغا سید حسن نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان برسہا برس کی محنت اور افہام و تفہیم کے بعد طے شدہ جوہری معاہدہ سے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے علحیدگی اختیار کرنے کے عزائم کو امریکی صدر کے ذہنی دیوالیہ پن اور داعش کی سرنگونی کا شاخصانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکی کی علحیدگی سے اسلامی جمہوریہ ایران کا کچھ بگڑنے والا نہیں البتہ امریکی رویے ایران کے عزم و استقلال میں مزید تقویت کا باعث بنے گا۔

Read more...
17 اکتوبر 2017

شیعہ نیوز(پاکستانی خبر رساں ادارہ)مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری سیاسیات سید علی حسین نقوی نے کہا ہے کہ ملت جعفریہ کے مسنگ پرسنز کے بارے میں آگاہی دینا ریاستی ذمہ داری ہے، اگر وہ کسی بھی ادارے کے تحویل میں نہیں ہیں، تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ جو انہیں لے گئے ہیں، وہ ایلینز تھے اور ہمارے لاپتہ افراد کسی دوسرے سیارے سے ملیں گے، خاموشی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، آئین پاکستان اور قانون پاکستان ہمیں یہ سوال پوچھنے کی اجازت دیتی ہے کہ ہمارے لاپتہ افراد کہاں ہیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے علماء کی گرفتاری پیش کرنا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک ذمہ دار ملت ہیں اور نازک حالات کا ادراک رکھتے ہیں، ہم وہ ملت ہیں، جنہیں بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کرکے مارا گیا، لیکن ملت جعفریہ نے آئین قانون اور اداروں پر اپنا اعتماد برقرار رکھتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں صرف اس لئے نہیں لیا کہ اس ارض پاک کے گلشن میں ہمارے لہو رنگ گل بدلے اور نفرت کی آگ سے جھلس نہ جائیں، ان خیالات کے اظہار انہوں نے وحدت ہاؤس سولجر بازار میں ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ مبشر حسن، آصف صفوی، میثم عابدی، یعقوب حسینی، عالم کربلائی و دیگر ذمہ داران موجود تھے۔

علی حسین نقوی نے کہا کہ ہمارے انجینئرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز، علماء، ادیب، دانشور، شعراء، بینکرز، گولڈ میڈلسٹ، ہونہار طالب علم اور جوانوں کو مسلک کی بنیاد پر چن چن کر مارا گیا، ہم نے ایک ایک دن میں سو سو جنازوں کی تدفین کی، لیکن اسکے باوجود ہم نے پاکستان پائندہ باد کا نعرہ لگا کر یہ ثابت کیا کہ ارض پاک کی مٹی سے ہمیں پیار ہے اور دشمن کی جانب سے فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی ہر سازش کو ہم ہر قدم پر ناکام بناتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں گلگت بلتستان سے لیکر کراچی تک روزانہ کی بنیاد پر قتل کیا گیا اور پھر ان قتل کی ذمہ داری ببانگ دہل میڈیا پر قبول کی جاتی رہی، ہمیں یہ علم ہونے کے باوجود کہ ہمارا قاتل کون ہے، ہمارے علماء نے ہمیں کبھی انتقام لینے کا درس نہیں دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے امام بارگاہ اور مساجد جلائی گئیں، بڑے بڑے جلسے منعقد کرکے حکومتی مشنری کے حفاظتی حصاروں میں ہمارے خلاف کافر کافر کے نعرے لگائے گئے، لیکن جواب میں ہم نے کبھی کسی کو کافر قرار نہیں دیا۔

صوبائی سیکریٹری سیاسیات نے کہا کہ کب تک آپ ہم سے ہماری حب الوطنی کا ثبوت مانگتے رہو گے، کیا اتنی قربانیاں دینے کے باوجود ملت جعفریہ کا حب الوطنی کا امتحان ختم نہیں ہوتا، یاد رکھیئے ہمارے لہو میں ظلم کیخلاف مزاحمت کا عنصر شامل ہے، ہم کربلا سے لیکر آج تک ظلم کیخلاف مزاحمت کرتے چلے آئے ہیں، 1400 سال کا جبر ہمارے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکا، تو یہ زندان اور یہ خاموشی ہمارے حوصلوں کو کہاں شکست دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وطن کی بنیادوں میں ہمارا لہو شامل ہے، اس چمن کی آبیاری ہم نے اپنے خون سے کی ہے، اس لئے اس ملک کے آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ملت جعفریہ کے مسنگ پرسنز کے خانوادگان کو انکا آئینی و قانونی حق دلانے کیلئے ہم ہر قربانی دیں گے، یہ جیل بھرو تحریک ملک کے طول و عرض میں پھیلے گی اور ملت جعفریہ کے مسنگ پرسنز کے خانوادگان کو انصاف دلانے کیلئے آئین پاکستان اور قانون پاکستان کی بالادستی قائم ہونے تک جاری رہے گی۔

Read more...
16 اکتوبر 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستان مخالف بیرونی طاقتوں کا عوام اور فوج میں دوری پیدا کرنے کا گھنائونا کھیل مسلسل جاری ہے، کبھی اداروں میں تصادم اور کبھی ملک میں فرقہ واریت جیسے فسادات کرانے کی سازش اسی کھیل کا ایک حصہ ہے۔

پاکستان مخالف بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے پر کام کرنے والوں نےاپنے مقاصد میں مسلسل ناکامی کے بعدوطن عزیز میں ایک گھنائونا کھیل شروع کردیا ہے جس کی بنیاد ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ اسی بیرونی ایجنڈے پر گامزن ن لیگ کے بعد لال ٹوپی والے شرپسند زید حامد نے اپنے بیرونی آقائوں امریکہ، سعودی عرب اور بھارت کے کہنے پرپاکستان میں بسنے والی محب وطن شیعہ قوم کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کرتے ہوئے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش شروع کردی ہے۔

لال ٹوپی والے شرپسند زید حامد نےحالیہ پارہ چنار دھماکے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے ۴جوانوں کا قاتل وہاں کی شیعہ قوم کو ٹھہرایا ہےجبکہ اس کی ذمہ داری دیوبندی دہشتگرد طالبان قبول کرچکے ہیں۔ اس طرح کے بیانات کا مقصد امریکہ، سعودی عرب اور بھارت کے ایجنٹوں کے خلاف ہونے والی آپریشن کو متاثر کرنا اور پاکستانی قوم کی توجہ حقائق سے ہٹانا ہے۔ اس شرپسند انسان کو یہ نہیں معلوم کے اسی سرزمین کے بیٹوں نے مسلسل شہادتوں کے باوجود اس ملک کا دفاع کیا، اس قوم کے افراد نے آج تک ملک کے کسی ادارے پر حملہ کیا نہ ہی اسلحہ اٹھایا بلکہ ہمیشہ پاکستان کے دفاع اور سالمیت کی بات کی جس کے سبب آرمی چیف بذات خود وہاں پہنچے اور وہاں کے جوانون سے ملاقات کی۔

اس سے قبل بھی پاراچنار میں دھماکوں میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کے احتجاج کو اس شرپسند اور را کے ایجنٹ نے فوج کے خلاف کرنے اور فوج اور عوام کو لڑوانے کی سازش کی جسے محب وطن پاکستانیوں نے شکست دی۔ پاکستان کی شیعہ سنی عوام شرپسند زید حامد اور ان جیسے امریکی، سعودی اور بھارتی ایجنٹوں کو پہچان چکی ہےاور آرمی چیف سے مطالبہ کرتی ہے کہ دشمن ممالک کے ان ایجنٹوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔

Read more...
16 اکتوبر 2017

تحریر: نوشاد علی

غالباً اپریل یامئی 2001کا ذکر ہے ۔جنر ل ریٹائرڈ پرویز مشرف ملک کے مقتدراعلیٰ بن چکے تھے ۔شیعہ ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی ۔وہ دور شیعہ عوام کے لئے ایک مشکل دور تھا ۔تحریک جعفریہ سیاسی مسائل سے دوچار تھی ۔تحریک پر حکومتی پابندیوں کے سلسلہ کا آغاز،آغاز تھا۔قوم منتشر تھی ۔ہر دوسرے دن ٹارگٹ کلنگ کی خبرآتی ۔ایسے میں کراچی کے چند علماء نے جیل بھرو تحریک کا آغاز کیا ۔اس تحریک کے تحت شہید ہونے والوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران علماء خود کو پولیس کے حوالے کرتے اور پولیس انہیں جیل منتقل کردیتی ۔علماء کی پیروی کرتے ہوئے عوام اور تنظیمی کارکنوں کی بھی بڑی تعداد نے اس تحریک میں حصہ لیا ۔کئی لوگوں نے اس موقع پر گرفتاریاں پیش کی۔ 2001 کی جیل بھرو تحریک ایک جداگانہ اہمیت کی حامل تھی۔ ایک خاص جذبہ تھا ۔عوا م علماء کی طرف دیکھ رہے تھے ۔علامہ حسن ظفر نقوی ،علامہ عباس کمیلی اور مرزا یوسف آگے آگے تھے ۔جعفریہ الائنس کے پلیٹ فارم سے تمام تنظیموں کو جمع کرنے کے بعد جیل بھرو تحریک شروع کی گئی ۔مطالبہ تھا شہیدوں کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے ۔ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ روکا جائے ۔کچھ یادداشت کے مطابق ایک موقع ایسا بھی تھا کہ پولیس سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔تھانوں میں رش لگنے لگا ۔جیل میں سینکڑوں شیعہ عوام اور علماء مقید ہونے لگے۔جن کی اچھے انداز میں پذیرائی ہوتی ۔قیدیوں کے ماحول کے برعکس مہمان کی طرح رکھا جاتا ۔بعض دفعہ پولیس مجبور ہوکر گرفتار شدگان کو گھر چھوڑ آتی ۔اس تحریک میں علماء آگے تھے ،اسی بناء پر عوام نے اسے خوب سراہا اور علماء کے ہم قدم بنے ۔علماء کی قربانیاں اس حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔مگر اس تحریک میں چند مسائل تھے جو رفتہ رفتہ سامنے آئے ۔عوام کی کثیر تعداد گھروں سے نکل آئی تھی ۔جنازوں میں رش رفتہ رفتہ بڑھتا رہا ۔شہر بھر کے نسبتاً فعال لوگ پہنچ جاتے ۔تاہم معاملات کچھ پیچیدہ ہوگئے۔ تحریک عروج پر تھی ،مگر آگے کا روڈ میپ واضح نہ تھا۔عوام کو کہاں لے جانا ہے،سامنے نہ آسکا ۔اسی اثناء میں نائن الیون کا واقعہ رونما ہوگیا ۔جہادیوں کا رخ مڑ گیا ،شیعہ ٹارگٹ کلنگ کرنے والے عالمی حالات کی طرف دیکھنے لگے ۔ایسے میں ایک مناسب Stopکی بناء پر جعفریہ الائنس نے جیل بھرو تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا ۔موقف اختیا رکیا گیا جذبہ حب الوطنی اور عالمی حالات کے باعث تحریک ختم کی جارہی ہے ۔علماء کاخلوص اس تحریک کو رنگ بھرنے کا باعث بنا اور اسی خلوص کی بنا ء پر عزت دارانہ انداز میں اس تحریک کو معطل کردیا گیا۔علماء کی ان کوششوں کو ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔ایک مرتبہ پھر علماء نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا ہے ۔6اکتوبر 2017کوخوجہ مسجد کھارادر پر نماز جمعہ کے بعد علامہ حسن ظفر نقوی نے اپنی گرفتاری کے ساتھ اس تحریک کی بنیاد ڈالی ہے ۔مسئلہ کچھ بدلا سا ہے۔معاملہ شیعہ عوام کی گمشدگی اور لاپتہ کرنے کا ہے ۔ملک بھر سے درجنوں شیعہ افرا د لاپتہ ہیں ۔اہل خانہ چند سالوں سے ان کے لئے چیخ و پکار کررہے ہیں ۔لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے درد کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔اگر آپ کا عزیز اس دنیا فانی سے کوچ کرجائے تو آپ کو رفتہ رفتہ اطمینان آنا شروع ہوجائے گا ۔مگر اگر آپ کے بیٹے،بھائی یا والد کا کچھ پتہ نہ چلے تو آپ کا ایک ایک لمحہ بھاری ہوگا ۔کئی خیالات آپ کے ذہن میں گھر کریں گے ۔مختلف سوچیں آپ کی پریشانی کو دوگنا کردیں گی ۔یہی عالم لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا ہے۔لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے زخموں کو فوری طور پر بھرا تو نہیں جاسکتا ۔مگر انہیں دلاسہ ضرور دیا جاسکتا ہے ۔لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کوشش کرنے والے قابل تحسین ہیں ۔لاپتہ افراد کے لئے کوششیں کرنے والوں کو فنائنس کا مسئلہ درپیش ہیں ۔یہ لوگ اپنی جنگ قانونی طو ر پر بھی لڑنا چاہتے ہیں ۔اچھے وکیلوں کی بھاری فیسوں کی ادائیگی ان کے لئے مسئلہ ہے ۔قوم کے مخیر افراد کو اس معاملہ کیلئے آگے آنا چاہیے ۔قابل قانونی مشیروں کی ضرورت ہیں ۔ملت کے پڑھے لکھے وکلاء ، قانون دان اور ججز ان کا سہارا بن سکتے ہیں۔
خیر۔۔بات تھی ’’نئی جیل بھر و تحریک‘‘ کی۔جیل بھرو تحریک کا آغا ز پھر کیاجاچکا ہے ۔مطالبہ ہے کہ ہمارے لوگوں کو بازیاب کیا جائے ۔اگر انہوں نے جرم کیا ہے یا ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے ۔مطالبات بجا ہیں ۔مگر ساتھ اور لوگوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے ۔ملک میں کئی سو افراد ایسے ہیں جن کا کوئی پتہ نہیں ہے۔مجرم یا ملزم کو لاپتہ کرنا ،عدلیہ کے مقاصد فوت کرنے کے مترادف ہے ۔کئی سیاسی کارکنان لاپتہ ہیں ۔جن کا کیس بھی عدالت میں چلنا چاہیے ۔البتہ شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے علامہ حسن ظفر نقوی نے اپنی گرفتاری سے اس تحریک کی ابتداء کی ہے ۔تاہم اس بار جیل بھرو تحریک کا رخ کچھ اور ہے ۔ہمارا مدعا حکومت کے ساتھ ساتھ ملک کے وفادار ریاستی اداروں سے بھی ہے ۔اس بار کی تحریک میں ایم ڈبلیو ایم کے اہم رہنما آگے آگے ہیں ،جو ملک میں تیزی سے ابھرتی ہوئی سیاسی قوت ہے ۔مظلوموں کی پشتیبان ہے ۔ایم ڈبلیو ایم بڑی حد تک علماء کو چھتری فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے ۔بڑی تعداد میں علماء ساتھ ہیں ۔اس لئے اس تحریک کے آگے بڑھنے کی امید زیادہ ہے ۔13 اکتوبر کو مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ احمد اقبال ساتھیوں سمیت گرفتاری دیں گے۔ 22 اکتوبر کو ڈاکٹر عقیل موسیٰ خراسان مسجد سے ساتھیوں سمیت گرفتاری پیش کریں گے۔27 اکتوبر کو معروف عالم دین مرزا یوسف حسین ساتھیوں کے ہمراہ جامع مسجد نور ایمان ناظم آباد سے گرفتاری دینے والے ہیں ۔یوں لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی آواز جگہ جگہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے اور ہورہے ہیں ۔2001کے بالمقابل آ ج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ہر چیز کیمرہ میں ضبط ہوجاتی ہے ۔واٹس ایپ اور فیس بک عوام کی آگاہی کا مؤثر ذریعہ بن چکا ہے ۔یوں تحریک پنپنے کے امکان روشن ہیں ۔تاہم ماضی کی جیل بھر و تحریک کی خوبیوں اور نقائص کو سامنے رکھنا چاہیے اور اس تجربہ کو ضبط کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے لئے مؤثر جیل بھرو تحریک کو جاری رکھا جانا چاہیے ۔

Read more...
16 اکتوبر 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمن کے جنوبی شہر عدن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے اتحادی فوجیوں نے ایک دوسرے پر شدید حملہ کیا ہے۔

عدن سے برطانوی سامراج کے انخلا کی چوّنویں سالگرہ کی مناسبت سے جشن آزادی کی تیاریوں کے دوران عدن کےعلاقے صلاح الدین میں سعودی اتحاد میں شامل متحدہ عرب کی فوج اور دیگر اتحادی فوجیوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے۔

یمن کے جنوبی صوبوں خاص طور پر عدن میں سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے اتحادی فوجیوں کے درمیان اکثر و بیشتر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور دونوں فریقوں کی کوشش ہے کہ وہ مقابل فریق کو دیوار سے لگادے اور یہ ظاہر کرے کہ عدن پر اس کا کنٹرول ہے۔

شمالی یمن میں سعودی عرب کی شکست کے بعد ریاض نے یمن کو دوحصوں میں تقسیم کرنے پر مبنی متحدہ عرب امارات کے ساتھ سمجھوتے کو ختم کردیا ہے اور منصورہادی کو اس بات پر مجبور کررہا ہے کہ وہ اپنی ٹیم سے ایسے یمنی عہدیداروں کو نکال دیں جنھیں متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے۔

Read more...
16 اکتوبر 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی فوج و رضاکار فورس کے ہاتھوں سعودی اتحادی افواج کی شکست کا سلسلہ جاری ہے۔ یمن کے صوبوں تعز، مآرب اور ضالع میں یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کی کارروائیوں میں سعودی اتحاد کے کم از کم اٹھارہ فوجی ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی اتحاد کے آٹھ فوجی صرواح کے مختلف علاقوں میں، دو صوبہ ضالع میں الشبکہ کی پہاڑیوں میں، پانچ تعز کے مختلف علاقوں نیز تین مریس کے علاقے میں ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے صوبے مآرب کے حریب القرامیش کے علاقے پر بمباری کی۔ سعودی جنگی طیاروں نے صوبے صنع کے نہم میں واقع المدہون پر بھی بمباری کی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رہا ہے جس میں اب تک دسیوں ہزاریمنی شہری شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔

Read more...
16 اکتوبر 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) آج کی تاریخ پیغام کربلا کے ناشر اور مبلغ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کی تاریخ ہے۔

واقعہ کربلا بلا شبہ ایک ایسا سانحہ ہے کہ جس نے تاریخِ انسانیت میں ایک نیا و تابناک باب پیدا کردیا اور اہل دنیا کو زندگی کے عظیم اقدار سے آشنا کیا اور ساتھ ہی ساتھ انسانی فضائل کی حفاظت اور ظلم و استبداد کو نیست و نابود کرنے کے لئے لوگوں کے اندر ظلم و ستم سے ٹکرانے کا حوصلہ و جذبہ پیدا کردیا اور اب اس قربانی کا اثر پوری عالم انسانیت پر چھا گیا ہے۔ اب کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں اس انقلاب کی شعاعیں نہ پہنچی ہوں۔

امام زین العابدینؑ کا فرمان ہے کہ ’’ذکر مصائب سے ہر سننے والے کو حضرت امام حسین (ع) سے ایک قلبی لگاﺅ پیدا ہوتا ہے اور آپ سے عشق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور آپ کے ذکر کو مٹانے کی سازش ناکام نظر آتی ہے‘‘۔

کیوں نہ ہو جو کام خالص اللہ کے لئے ہوا کرتا ہے اللہ اسے لافانی قرار دیتا ہے اسی طرح واقعہ کربلا تحریک میں بدل کر آج بھی قائم و دائم، تر و تازہ اور زندہ جاوید ہے اور اس کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔

فرزند رسول حضرت امام زین العابدینؑ کے یوم شہادت کے موقع پرپوراعالم اسلام سوگوار و عزادارہے۔ اسی مناسبت سے پاکستان سمیت ایران،عراق، ہندوستان اور پوری دنیا میں مجالس عزا اور نوحہ و ماتم کا سلسلہ جاری ہے- پاکستان کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں کی مساجد اور امام بارگاہوں میں مجالس عزا برپا ہیں اور ذاکرین اہلبیت عصمت و طہارت سید الساجدین کے فضائل و مناقب بیان اور دین اسلام کی حفاظت میں ان کے عظیم الشان کارناموں کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں-

کربلائے معلی، نجف اشرف اور کاظمین و سامرا میں بھی غم کی اس تاریخ کی مناسبت سے بڑی مجالس عزا اور نوحہ و ماتم کا سلسلہ جاری ہے ۔ کربلائے معلی میں لاکھوں کی تعداد میں زائرین اور سوگواران موجود ہیں اور کربلا والوں کی مصیبتوں پر نوحہ و ماتم کررہے ہیں۔

شیعہ نیوز نیٹ ورک غم و اندوہ کے اس موقع پر اپنے تمام قارئین اور چاہنے والوں کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہے۔

Read more...
صفحہ 1 کا 1685