14 جولائی 2018

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)یوم شہداء کشمیر کے موقعے پر پائین شہر میں سخت ترین بندشوں پابندیاں اور بندشیں عائد کی گئیں جبکہ جامع مسجد کے گرد و نواح میں قابض فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لاکر دوسرے ہفتہ بھی نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن رہی۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے 13 جولائی کو 1931ء کے شہدائے کشمیر کی یاد میں مکمل ہڑتال اور مزار شہداء نقشبند صاحب چلو کی کال دی تھی۔ تاہم انتظامیہ نے سرینگر کے مختلف حصوں میں سخت پابندیوں لگاگر ’’مزار شہداء چلو‘‘ کی کال ناکام بنائی۔ انتظامیہ نے جمعہ کو پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، ایم آر گنج، صفا کدل، خانیار اور رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا۔ ان علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح سے ہی فورسز نے شہریوں کو یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کو کہا کہ علاقہ میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے۔

پولیس نے ’’مزار شہداء‘‘ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا تھا جبکہ اِن پر سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کردی تھی۔ کسی بھی عام شہری کو اس علاقہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو بدستور مقفل رکھا گیا ہے جبکہ اس کے گرد و نواح میں سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات رکھا گیا تھا۔ تاریخی جامع مسجد کے علاقہ میں امن و امان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی تھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کردیا گیا تھا۔

Read more...
14 جولائی 2018

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)13 جولائی 1931ء کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا حسن الموسوی الصفوی نے 13 جولائی کے خونین واقعہ کو ریاست جموں کشمیر کے عوام کی سیاسی جدوجہد کا ایک تاریخ ساز دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خونین واقعہ نے کشمیری عوام کے شخصی آمریت کے خلاف ایک منظم تحریک کا حوصلہ عطا کیا، تاہم ڈوگرہ شاہی نے اپنے سقوط کے ساتھ ہی بھارت کو کشمیر پر فوجی یلغار کی دعوت دے کر ریاست کی خود مختاری کا خاتمہ کروایا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کشمیر میں برائے نام جمہوریت کے عوض کشمیری عوام کے گردنوں میں غلامی کا بدترین طوق ڈالا گیا، جس سے نجات کے لئے کشمیری عوام سات دھائیوں سے لامثال قربانیاں پیش کررہے ہیں۔

آغا سید حسن نے آئے روز کشمیر میں ہو رہے بے گناہوں کے قتل عام اور قابض فورسز کے طرف سے ڈھائے جارہے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے کشمیر کا خون ایک نہ ایک روز ضرور رنگ لائے گا۔ دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کے ساتھ ساتھ دیگر مزاحمتی قائدین کی ریاستی انتظامیہ کی طرف سے خانہ نظربندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

Read more...
13 جولائی 2018

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم شہدائے کشمیر عقیدت واحترام اور اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ تحریک آزادی کشمیر کی تکمیل تک جدوجہد جاری ر کھی جائے گی۔

کشمیر کی سیاسی تاریخ میں 13 جولائی 1931 کا دن بڑی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ دن تھا جب شہیدوں کے خون سے تحریک حریت کشمیر کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔

تیرہ جولائی انیس سواکتیس کو کشمیر کی ڈوگرہ حکومت نے سری نگر میں فائرنگ کرکے بائیس مظلوم کشمیری مسلمانوں کو شہید کردیا تھا، یہ مظلوم کشمیری سری نگر کی جیل کے باہر جمع تھے جہاں قید کشمیری قوم کے مرد مجاہد عبدالقدیر خان کو مقدمے کی سماعت کے لیےعدالت لے جانا تھا۔

اس دوران نماز ظہر کا وقت آگیا مگر مظاہرین کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہ ملی، ایسے میں ایک شخص اذان دینے کے لیے کھڑا ہوگیا مگر ڈوگرہ مہاراجہ کے سپاہی نے اس شخص کو گولی مار کے شہید کر دیا۔

اس کے بعد دوسرا مرد مجاہد اذان کے لیے کھڑا ہوا، اسے بھی گولی مار کر شہید کردیا گیا، پھر تیسرا، چوتھا اور کرتے کرتے بائیس بے گناہ مسلمانوں کو مہاراجہ کے سپاہیوں نے شہید کر دیا اور بے شمار مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔

اس سفاکانہ واقعہ نے کشمیریوں کے دلوں میں حریت پسندی کے جذبے کو جنم دے دیا، قیامِ پاکستان کے بعد بھارت نے کشمیر کے ایک بڑے حصے پر جبراََ قبضہ کرکے معاہدوں اور دستاویزات کی دھجیاں اڑا دیں اور کشمیر کی عوام کو ظلم و ستم کے شعلوں میں دھکیل دیا۔

بھارتی مظالم کے نتیجے میں گزشتہ 70 سالوں میں ہزاروں کشمیری شہید، مائیں اور بہنیں بے سہارا اور بچے یتیم ہوچکے ہیں مگر ہندو بنیا ٹس سے مس نہیں ہوا اور اپنے وعدے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیری قوم کو حق خودارادیت دینے سے گریزاں ہے۔

Read more...
10 جولائی 2018

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سابق انسپکٹر جنرل پولیس اور حلقہ این اے 46 پاراچنار سے قومی اسمبلی کے امیدوار سید ارشاد حسین نے کہا ہے کہ پیسوں سے ووٹ حاصل کرنا ضمیر فروشی ہے اور وہ کبھی اس قسم مہم کا حصہ نہیں بنیں گے، ان کا کہنا تھا کہ نظریات اور قابلیت کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرکے علاقے سے پسماندگی، بے روزگاری اور مسائل کا خاتمہ کروں گا۔ پاراچنار میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق آئی جی پولیس اور امیدوار این اے 46 سید ارشاد حسین نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے کا مقصد حلقے سے بے روزگاری اور پسماندگی ختم کرنا اور دیگر گوناگوں مسائل سے عوام کو چھٹکارا دلانا ہے۔ ارشاد حسین کا کہنا تھا کہ جو لوگ پیسوں کا استعمال کرکے ووٹ حاصل کرتے ہیں، وہ ووٹ کا حصول نہیں بلکہ ضمیر فروشی ہے اور وہ کبھی غیر قانونی طریقے سے پارلیمنٹ میں نہیں جائیں گے اور نہ ہی اس قسم کوششوں کی اجازت دیں گے، کیونکہ جو لوگ غیر قانونی طریقوں سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ پہنچ جائیں، وہ ملک و قوم کی خدمت نہیں کرسکتے۔ سابق آئی جی ارشاد حسین کا کہنا تھا کہ نہ صرف دوران ملازمت ملک و قوم کی خدمت کی ہے بلکہ مرتے دم تک مٹی کا وفادار رہوں گا۔

 

Read more...
07 جولائی 2018

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاراچنار سمیت قبائلی علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین کے لئے صرف خواتین عملہ ہی تعینات کیا جائے اور عوام انتخابی عمل کے دوران بھائی چارے اور امن کا مظاہرہ کریں۔ پاراچنار میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ناصر شیرازی، ذوالفقار علی، آصف رضا ایڈووکیٹ، شفیق طوری اور این اے 46 سے امیدوار شبیر ساجدی نے کہا کہ ملک بھر میں قیام امن کے لئے ایم ڈبلیو ایم کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں اور ہمیں توقع ہے کہ پاراچنار سمیت پاکستان کے عوام وحدت کے امیدواروں کو ترجیح دیں گے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی پالیسی کے مطابق پانچ سو ووٹرز کیلئے ایک پولنگ بوتھ رکھا گیا ہے، جبکہ این اے 46 میں ایک ہزار سے زائد ووٹرز کیلئے ایک پولنگ بوتھ قائم کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ووٹرز کا وقت ضائع ہوگا، بلکہ یہ اقدام ٹرن آؤٹ میں بھی کمی کا باعث بنے گا۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاراچنار کے قبائل انتخابی عمل کو سیاسی عمل سمجھ کر حصہ لیں، نہ کہ انتخابی عمل سے آپس کی دشمنیاں پیدا کریں۔ رہنماؤں نے کہا کہ امیدوار بھی مثبت سیاست کو فروغ دیں اور ایسے اقدامات اور تقاریر سے گریز کریں، جس سے عوام کے مابین دراڑیں پیدا ہوں۔ مجلسِ وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پولنگ اسٹیشنوں میں داخلی اور خارجی راستے الگ بنائے جائیں۔

Read more...
03 جولائی 2018

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 12 خطرناک ترین دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جن دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی گئی ان پر دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 26 شہریوں سمیت 34 افراد کے قتل کا الزام تھا اور انہیں فوجی عدالتوں سے سزا سنائی جا چکی تھی۔سزا پانے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا اور ان پر مرکزی امام بارگاہ پارہ چنار پر حملے کا بھی الزام تھا۔

سزائے موت پانے والوں میں عاشق خان، رشید، معراج، محمد رسول، جنت کریم، ابوبکر، انور خان، غلام حبیب، عبدالغفار، رواز خان، مبارک زیب اور ایوب خان شامل ہیں۔دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ و بارودی مواد بھی برآمد ہوا تھا۔آرمی چیف نے 6 دہشت گردوں کو دی جانے والی قید کی سزا کی بھی توثیق کی۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ ایک شہری احسان اللہ کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کردیا گیا۔احسان اللہ پر بھی خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تاہم ثبوتوں کی عدم فراہمی کے باعث اسے بری کیا گیا۔

واضح رہے کہ مئی میں بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 11 دہشت گردوں کی سزائے موت جبکہ 3 دہشت گردوں کی مختلف نوعیت کی سزاؤں میں توثیق کی تھی۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گرد سنگین وارداتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔


آرمی چیف نے 12 خطرناک دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

آرمی چیف نے 12 خطرناک دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

Gepostet von Iblagh News am Montag, 2. Juli 2018

قبل ازیں اپریل میں بھی فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 10 دہشت گردوں کی موت کی سزا اور 5 دہشت گردوں کو عمر قید سمیت مختلف نوعیت کی سزاؤں کی توثیق کی گئی تھی۔موت کی سزا پانے والے دہشت گردوں میں معروف قوال امجد صابری کے قاتل بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتوں سے اب تک دہشت گردی میں ملوث کئی مجرمان کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے، جن میں سے کئی کو آرمی چیف کی توثیق کے بعد تختہ دار پر لٹکایا بھی جاچکا ہے۔

Read more...
02 جولائی 2018

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی حلقہ این اے 46کرم ایجنسی , پاراچنار جناب شبیر حسین ساجدی کا حسین آباد کڑمان کا دورہ، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینیؒ کے رفیق اور دیرینہ ساتھی سابق سنیٹر علامہ محمد جواد ہادی نے ایم ڈبلیو ایم کا نامزد کردہ امیدوار جناب شبیر حسین ساجدی کا استقبال کیااور اہلیان حسین اباد نے بھی شبیر ساجدی کا پرتپاک استقبال کیا اور پھولوں کے ہار پہنائے۔شرکاء سے شبیر ساجدی کا خطاب اور ایم ڈبلیو ایم کا منشور اہل علاقہ کے سامنے رکھ دیا۔سابق سنیٹرمحمد جواد ہادی نےبھی شرکاء سے خطاب کیا اور ایم ڈبلیو ایم کو مکمل طور پر سپورٹ کرنے کا اعلان کیا اور ایم ڈبلیو ایم کی کامیابی کیلئے دعا کی۔

Read more...
30 جون 2018

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں کے 2 دھماکوں میں کم سن بچی سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے۔

جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگ کا پہلا دھماکا شوال کے علاقے پش زیارت میں ہواجس میں سفیراللہ نامی شخص زخمی ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق دوسرا دھماکا تحصیل تیارزہ کے علاقے منتوئی میں ہواجس میں کلثوم نامی کم سن بچی شدید زخمی ہوگئی۔ زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

 

Read more...
27 جون 2018

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)شمالی وزیرستان میں سرحد پار سے شدت پسندوں نے سکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی ہے، جس کے نتیجے میں 1 اہلکار جاں بحق اور 1 زخمی ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تحصیل شوال کے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی، جس سے سپاہی احتشام جاں بحق ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے اہلکار کو آج صبح ہیلی کاپٹر کے ذریعے ضلعی ہیڈ کوارٹر میرانشاہ ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر پاکستانی فورسز نے حملہ آورں کے خلاف جوابی کارروائی کی، لیکن تاحال اس حوالے سے کسی قسم کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ رواں ماہ یہ تیسرا واقعہ ہے جس میں سرحد پار فائرنگ سے کئی سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

Read more...
27 جون 2018

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبررساں ادارہ)پاراچنار کے قبائلی رہنما عنایت طوری اور دیگر قبائلی عمائدین نے قبائلی علاقوں میں بھی ایک ہی روز قومی و صوبائی اسمبلی کے لئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جانبدار انتظامیہ افسران کو تبدیل کرکے انتخابات پاک آرمی کی نگرانی میں کرائے جائیں۔ پاراچنار میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی رہنما حلقہ این اے 46 سے امیدوار عنایت حسین طوری، ملک صدف علی، کونسلر اصغر حسین، حاجی سلطان حسین اور دیگر عمائدین نے کہا کہ ایک سال بعد قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے لئے الیکشن انہیں کسی صورت قبول نہیں، ملک کے دیگر علاقوں کی طرح قبائلی علاقوں میں بھی 25 جولائی کو ہی قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کے لئے بھی ووٹنگ کی جائے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلٰی کے انتخاب اور کابینہ کی تشکیل کے بعد قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے ممبران صوبائی اسمبلی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ عمائدین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت نے حالیہ دنوں جو تبادلے کئے تھے، اثر و رسوخ کے مالک جانبدار افسران نے اپنے تبادلے دوبارہ رکوا لئے ہیں اور اس قسم کے افسران کی موجودگی میں شفاف انتخابات ممکن نہیں، اسلئے جن افسران کا تبادلہ ہوا ہے، انہیں فی الفور تبدیل کیا جائے اور انتخابات پاک فوج کی نگرانی میں کئے جائیں۔ عمائدین نے اسلام آباد میں قبائل کی جانب سے جاری دھرنے کی بھی مکمل حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ا

Read more...