21 جولائی 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پی بی ایس ٹی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ 1998 سے لیکر اب تک دنیا میں 94 فیصد رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔

ایرانی وزير خارجہ نے کہا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کا تعلق بھی سعودی عرب سے تھا تمام دہشت گرد وہابی ہیں اور سعودی عرب وہابیوں کا مرکز اور اصلی گڑھ ہے جو دہشت گردی کے فروغ کا بھی اصلی منبع ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ 2001 سے یا 1998 سے لیکر آج تک دنیا میں رونما ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں 94 فیصد وہابی ملوث ہیں اور سعودی عرب وہابیت کے فروغ کا اصلی مرکز ہے۔

جواد ظریف نے امریکی پالیسی پر تعجب اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کونسا ملک دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے بلکہ امریکہ کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کونسا ملک اس سے بڑے پیمانے پر ہتھیار خرید رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر سعودی عرب کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی قرارداد کا معاملہ طے نہ ہوتا تو امریکی صدر کبھی سعودی عرب کا سفر نہ کرتے۔

Read more...
21 جولائی 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) جیزان کے سرحدی علاقے میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کے حملوں میں کئی سعودی فوجی ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے اس بارے میں کہا ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے القمامہ پہاڑیوں میں واقع الغاویہ فوجی ٹھکانے پر حملہ کر کے متعدد سعودی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔

اس حملے میں یمنی فوج نے سعودی عرب کی ایک فوجی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا اور کافی مقدار میں ہتھیار ضبط کر لئے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے جیزان میں الدفینیہ فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہاں فوجی ہتھیاروں کے گودام میں آگ لگ گئی۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے جیزان میں ہی الغاویہ فوجی ٹھکانے پر بھی حملہ کیا۔

واضح رہے کہ یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت میں اب تک تقریبا چالیس ہزار یمنی شہری شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔

Read more...
21 جولائی 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) فلسطینی تحریک حماس کے سربراہ اسما‏عیل ہنیہ نے کہا ہے کہ بیت المقدس اور مسجد الاقصی کے خلاف اسرائیل کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ دوسری جانب لبنان کے شیعہ اور سنی علمائے کرام نے عالم اسلام سے مسجدالاقصی کو یہودی رنگ دینے کی اسرائیلی سازش کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی اپیل کی ہے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں تمام فلسطینیوں اور پوری امت مسلمہ سے مسجد الاقصی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد الاقصی ہماری ریڈ لائن ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعے کا دن بیت المقدس کے حوالے سے انتہائی اہم ہے اور اس دن ہر شہر اور ہر قریے میں مسجد الاقصی کی حمایت میں مظاہرے کیے جانا چاہئیں۔اسما‏عیل ہنیہ نے کہا کہ بیت المقدس کے مکینوں نے اپنے احتجاج اور مظاہروں اور صیہونی غاصبوں کے ساتھ جھڑپوں کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ بیت المقدس پر حکمرانی کا حق فلسطینی قوم کو حاصل ہے۔

حماس کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مسجد الاقصی پر حملہ کر کے اس نے جو آگ بھڑکائی ہے وہ اسرائیل کو اس کے ظلم اور جارحیت کے ساتھ جلا کر راکھ کر دے گی۔

دوسری جانب لبنان کے شیعہ اور سنی علمائے کرام نے مسلم امہ سے اسرائیلی اقدامات اور جارحیت کے خلاف ڈٹ جانے کی اپیل کی ہے۔
عمل اسلامی محاذ لبنان کے کنوینر شیخ زہیر الجعید نے مسجد الاقصی کی حمایت میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں شیعہ اور سنی اتحاد اور حمایت کی بدولت مزاحمتی قوتوں نے تین روزہ جنگ میں اسرائیل کو شکست فاش دی ہے۔

لبنان کی تحریک امل کے پولیٹیکل آفس کے رکن حسن قبلان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اگر مسلمانوں نے صیہونی جارحیت کا مقابلہ نہ کیا تو مسجد الاقصی کی، دو حصوں میں تقسیم، تخریب یا کلیسا میں تبدیل کرنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
درایں اثنا لبنان کی تحریک حزب اللہ کے رہنما عبدالمجید عمار نے کہا ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اسرائیل، مسجدالاقصی پر حملے کر رہا ہے اور مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
فلسطینیوں کی مخالفت کے باوجود اسرائیل کی اندرونی سیکورٹی کے وزیر نے کہا کہ بیت المقدس میں الیکٹرانیک گیٹوں کی تنصیب ضروری ہے۔
گلعاد اردن نے کہا کہ پولیس الیکٹرانیک گیٹوں کی تنصیب پر زور دے رہی ہے اور اس بارے میں عالمی سطح بھی رابطے کئے جارہے ہیں۔

جمعے کے روز مسجدالاقصی پر صیہونیوں کے حملے میں تین فلسطینیوں کی شہادت اور دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مسجد الاقصی کے داخلی دروازوں پر الیکٹرانیک گیٹ نصب کرنے کا حکم دیا ہے۔

Read more...
21 جولائی 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل سندھ کے نائب صدر و پولیٹیکل سیکرٹری محمد یعقوب شہباز نے کہا ہے کہ مستونگ کے قریب ہزارہ شیعہ برادری کے چار افراد کی حالیہ ٹارگٹ کلنگ کی پُرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، اگر حکومت سانحہ پارا چنار میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جاتی تو سانحہ مستونگ کا واقعہ ہرگز پیش نہیں آتا۔

اپنے مذمتی بیان میں یعقوب شہباز نے کہا کہ دہشتگرد مسلسل بلوچستان میں شیعہ ہزارہ برادری کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اپنے ہدف کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے ادارے ہر واقعے کے بعد سالوں سال انکوائری میں لگا دیتے ہیں، جس سے دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم حقائق جاننا چاہتی ہے کہ اتنے وسائل رکھنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں یا کوئی اور وجوہات ہیں، اگر دہشتگردی کا یہ سلسلہ ہونہی جاری رہا تو حکومت کے بعد اب سیکیورٹی فورسز سے بھی عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے سے ملک بھر میں امن و امان کی اچھی فضاء قائم ہوئی تھی، لیکن اچانک دہشتگردی کے پے در پے واقعات نے ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، ہم آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کے دیگر شہروں کی طرح بلوچستان میں بھی دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کا آغاز کریں۔

Read more...
21 جولائی 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ بھارت ہمارے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے، کل بھوشن یادیو نے بھی بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور دہشت گردوں کی مالی امداد کا اعتراف کیا۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کی جانب سے ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں، گزشتہ روز بھی ایل او سی پر بھارت کی خلاف ورزی و بلا اشتعال فائرنگ سے 2 جوانوں سمیت 2 شہری بھی بھارتی بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 138 کشمیری بھارتی مظالم سے زخمی ہوئے، 54 نوجوانوں کو بھارتی افواج نے گرفتار کیا۔

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔ رواں برس جنگ بندی کی 580 خلاف ورزیاں ہوئیں جن میں کئی شہری شہید ہوئے جب کہ بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کو بھی کام نہیں کرنے دے رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی کہا ہے کہ بھارت ہمارے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے، کل بھوشن جادیو کے اعترافات میں بھی اس نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور دہشت گردوں کی مالی امداد کا اعتراف کیا جب کہ احسان اللہ احسان کے رضاکارانہ بیان میں میں افغانستان سے بھارت کے دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا بھی ثبوت ملا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی نہیں ہے، افغانستان کا مسلہ صرف بات چیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے، افغانستان گزشتہ 40 برس سے غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہے اور دہشت گردی کو اسی وجہ سے وہاں فروغ حاصل ہوا تاہم پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سینیٹرز کے وفد نے بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں موجود ہے۔ پاکستان نے 500 ملین امریکی ڈالرز کی مدد سے افغانستان میں صحت، تعلیم اور دیگر ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جب کہ پاکستان افغانستان میں امن اور مفاہمت کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین پر ہماری پالیسی واضح ہے، ہم ایک آزاد فلسطین کے حامی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایران پاکستان سرحد پر شرپسند بالخصوص منشیات اسمگلر مسلسل مسائل پیدا کرتے رہتے ہیں، پاک ایران بارڈ کمیشن کا اجلاس اعلیٰ سطح پر ہوا جس میں تمام سرحدی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

Read more...
21 جولائی 2017

رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

پاکستان کے ایوانِ بالا میں اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے موقف پیش کیا ہے کہ الیکٹرانک کرائم کے قانون کو قومی سلامتی کے لئے استعمال کرنے کے بجائے اسے سیاسی آلہ بنا دیا گیا ہے۔ بحث کے دوران پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری کے وقت بھی خدشہ تھا کہ اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اُس وقت یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہر چھ ماہ بعد اپنی رپورٹ پارلیمان کے سامنے پیش کرے گا، لیکن چھ ماہ سے زیادہ ہوگئے اور کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔

سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں اور فرقہ وارانہ پروپیگنڈا پھیلانے والی ویب سائٹس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، 64 میں سے 41 ایسی ویب سائٹس اب بھی فعال ہیں۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ قومی سلامتی کی ڈھال لے کر اس قانون کا آزادی اظہارِ رائے کے خلاف استعمال شروع ہوا، سائبر کرائم ایکٹ کا مقصد شہریوں کو بلیک میل ہونے سے بچانا ہے۔ اعتزاز احسن نے سوویت یونین، مغربی جرمنی اور فارس کی مثالیں دیتے ہوئِے کہا کہ جن ریاستوں کی پہلی ترجیح، شہری کی ترقی و فلاح کے بجائے قومی سلامتی ہو، وہ قائم نہیں رہتیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمان کی سطح پہ اس قانون پر ہر چھ ماہ میں نظرِثانی ہونی چاہیئے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی منظوری کے بعد وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہوئے حکم نامے یا بلینکٹ آرڈر پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ جو لوگ قومی سلامتی کے خلاف اور فوج کو بدنام کرتے ہیں، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس ضمن میں سابق آرمی چیف راحیل شریف کو 90 ایکٹر زمین الاٹ کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث کومختلف حلقوں کی جانب سے فوج کو بدنام کرنے کی سازش قرار دینے اور حال ہی میں کوئٹہ سے گرفتار نوجوان صحافی ظفر اللہ اچکزئی کا حوالہ دیا، جنھیں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر قابل اعتراض مواد شائع کرنے کے الزام میں ایف آئی اے کےحوالے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات ہوتی ہے کہ آپ 90 ایکٹر زمین دے رہے ہو، کس قاعدے قوانین کے تحت، تو یہ کہاں سے بدنامی کی بات ہوگئی؟ اسے قومی سلامتی کے لئے خطرے اور فوج کی بدنامی نہیں سمجھا جانا چاہیئے۔

وزیر مملکت برائے امورِ داخلہ بلیغ الرحمان نےایوان کو بتایا کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت 2017ء میں 4003 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 559 کی تفتیش کی گئی، جبکہ 102 ایف آئی آر درج کرائی گئیں اور 83 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

سینیٹر اعتزاز احسن نے لاپتہ بلاگرز سے متعلق وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ 16 اپریل کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ چند روز میں حقائق سامنے آجائیں گے، باقی بلاگرز تو واپس آگئے لیکن اسلام آباد سے رضا لغاری اب بھی لاپتہ ہیں۔ جس پر وزیرِ مملک برائے امورِ داخلہ بلیغ الرحمان نے جواب دیا کہ اب بھی صورتحال یہی ہے۔ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے غلط استعمال کے ذریعے اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرے سے متعلق تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ رحمن نے کہا کہ یہ بل پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی اجتماعی رضامندی کے ذریعے منظور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو ایکٹ میں ترمیم بھی کی جاسکتی ہے۔ حکومتی موقف اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کُلبھوشن یادیو کے موضوع پر بہت ساری ٹویٹس کی گئیں اور اس کے علاوہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے نواز شریف کو ریجیکٹ کر دیا تھا، کیونکہ جہاں جہاں پی ٹی آئی جلسہ کرتی تھی، اس شہر کے ساتھ پارٹی کے سوشل میڈیا کے سرگرم کارکن ریجیکشن لگا کر ٹرینڈز بناتے رہے۔ دوسری جانب پاکستان میں آئی سی جے کو بھی ریجیکٹ کر دیا گیا۔ ٹوئٹر پر اتنی ریجیکشن ہونے لگی کہ ٹوئٹر اب وہ ٹوئٹر ہی نہیں لگتا۔ یہ تو ٹوئیٹر کی بات ہوئی، لیکن سائبر کرائم بل تو پورے سوشل میڈیا سے متعلق ہے۔

ان دنوں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے موقف اپنایا تھا کہ حکومت سائبر کرائم قوانین کا ناجائز استعمال کرکے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے کارکنوں کو سیاسی طور نشانہ بنا رہی ہے، ایک جمہوریت میں یہ ناقابلِ قبول ہے۔ عمران خان کا اشارہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے اس رکن کی جانب تھا، جنہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا تھا۔ عمران خان نے یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ سوشل میڈیا کے کارکنوں کو ڈرانے کے لئے جو کیا جا رہا ہے، وہ شرمناک ہے، پاکستان کو آمرانہ ریاست نہیں بننے دیا جا سکتا، پی ٹی آئی کے دشمن سوشل میڈیا کا استعمال کرکے پی ٹی آئی کے حامیوں کے بہروپ میں ہماری بہادر افواج پر تنقید کر رہے ہیں، یہ انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔ مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اپنے ایسے کارکنوں کو جو سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرتے ہیں اور اپنے مخالفین مرد اور خواتین کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں، اسی جوش اور جذبے سے سمجھاتی ہیں، جیسے وہ ان کے دفاع میں سرگرم ہیں، کیونکہ ہم سب کسی نہ کسی مقام پر ایسے لوگوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اہم سوال یہ ہے کہ اب سیاسی جماعتوں کو سائبر کرائم کا قانون کیوں یاد آرہا ہے۔؟

انٹرنیٹ پر صارفین کا کہنا ہے کہ یہ تحفظات اور سوالات پہلے کہاں تھے، جب سائبر کرائم کا قانون ایک بل تھا؟ آخر کیوں اسے روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا؟ جب یہ قانون ایک بل تھا، تب کیوں سیاست دان اور سیاسی جماعتوں نے اس میں تحفظ کے لئے قانون سازی نہیں کی اور کیوں ایک اصولی موقف نہیں اپنایا؟ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں میں بھی اس قانون کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے، جیسا کہ سینیٹرز نے کہا ہے کہ سائبر کرائم کے قانون کے تحت سیاسی کارکنوں کو ہراساں کیا جانا ناقابلِ قبول ہے، دراصل اس اچھے قانون کو بری نیت کے ساتھ تباہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن صارفین کا کہنا ہے کہ یہ اچھا قانون کیسے ہے؟ اس قانون نے صرف لوگوں کو نشانہ بنایا ہے اور کسی کو ریلیف نہیں دیا، براہِ مہربانی ڈسٹرکٹ عدالتوں کا چکر لگائیں اور دیکھیں اس پر عملدرآمد سے کیا مشکلات درپیش آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کب ہمارے سارے سیاستدان اور ساری سیاسی جماعتیں مسائل پر اصولی موقف اپنانا سیکھیں، نہ کہ صرف اس صورت میں شور مچائیں، جب ان کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہو۔

Read more...
21 جولائی 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں اسدارہ) امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے شعبہ تربیتی ورکشاپس کے انچارج قاسم شمسی نے لاہور مرکزی دفتر میں اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک پنجاب میں 115 سے زائد مقامات پر ورکشاپس منعقد ہو چکی ہیں، ورکشاپس میں 4700 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔

قاسم شمسی نے بتایا کہ ورکشاپس میں ترغیب تعلیم اور کیرئیر گائیڈنس کے حوالے سے خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا گیا جس کیلئے یونیورسٹیز کے طلبہ اور ماہرین تعلیم نے پریزنٹیشن سے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ قاسم شمسی نے شرکاء اجلاس کو بتایا کہ ڈی جی خان میں 18، فیصل آباد 26، پشاور میں 18، ملتان میں 25، سرگودھا میں 16 اور ڈی آئی خان میں 8 مقامات پر ورکشاپس منعقد ہوئیں۔ گوجرانوالہ، لاہور اور راولپنڈی میں ورکشاپ کا انعقاد کل سے ہوگا، جس میں طلبہ کی کثیر تعداد شریک ہوگی۔

قاسم شمسی کا کہنا تھا کہ تعلیم و تربیت آئی ایس او کی اولین ترجیح ہے، یہ ورکشاپس اسی سلسلہ کی کڑی ہیں، آئی ایس او پاکستان طلبا کی ہمہ جہت تربیت کیلئے مسلسل سر گرمِ عمل ہے، تنظیم ایک طرف طلبا و نوجوانوں میں حقیقی اسلام کی اشاعت و اسلامی جدوجہد کے جذبہ کو پروان چڑھانے کا کام انجام دیتی ہے تو دوسری طرف نئی نسل میں اسلامی طرزِ فکر، اسلامی کردار اور اسلامی سوچ و فکر کو فروغ دینے کو بھی اہم سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم دشمن عناصر پاکستان میں علم کی روشنی اور دانشور طبقہ کو قتل کرنے کے درپے ہیں جس میں وہ ناکام و نامراد ہونگے۔ انہوں نے کوئٹہ میں محب وطن پاکستانیوں کے قتل پر گہرے افسوس و رنج کا بھی اظہار کیا، شہداء کیلئے فاتحہ خوانی بھی گئی۔

Read more...
20 جولائی 2017

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے، ان کی امنگوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے، مسئلہ فلسطین و کشمیر عالم اسلام کے سلگتے مسائل ہیں، جنوبی ایشیا کا پائیدار امن بھی مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو مزید موثر انداز میں اٹھائے، اقوام متحدہ کو بھی چاہیے کہ اس سلسلے میں موثر اقدامات اٹھائے۔ کشمیری عوام کے یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اظہار یکجہتی کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ 27 اکتوبر 1947ء سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت جاری ہے لیکن افسوس کشمیری عوام کی مظلومیت عالمی اداروں کو کیوں نظر نہیں آتی، انسانی حقوق، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیمیں کیوں خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ، گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں کشمیری ایک مرتبہ پھر شہید کر دیئے گئے، پیلٹ گنز کے استعمال سے جوانوں کیساتھ بزرگ شہریوں، خواتین اور بچوں تک کو نشانہ بنایا گیا اور بینائی سے محروم کر دیا گیا لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، حکومت مسئلہ کشمیر کو مزید موثر انداز میں اٹھائے، کشمیریوں کی اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 سال سے بھارت مظلوم کشمیری عوام کو ریاستی جبر و تشدد اور ظلم کے پہاڑ تو ڑ کر زیر کرنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے لیکن کشمیریوں کا جذبہ آزادی کم ہونے کی بجائے مزید مضبوط اور بھرپور طریقے سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے اور تمام فریقوں کو ان کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔

Read more...
20 جولائی 2017

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ مبارک موسوی نے لاہور میں ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب حکومت سی ٹی ڈی کے ذریعے ملت جعفریہ کیخلاف انتقامی کارروائیاں بند کرے، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم وقت سے پہلے وزیراعلیٰ ہاوُس جمع ہو جائیں، ہمارے علماء مسلسل پنجاب سے اغواء ہو رہے ہیں، یہ سلسلہ نہ رکا تو ملک بھر سے لوگ تخت لاہور کی جانب مارچ کرنے پر مجبور ہونگے، قتل بھی ہم ہو رہے ہیں اور حکومتی ایجنسیوں کے ہاتھوں اغواء بھی ہم ہی ہو رہے ہیں آخر پنجاب حکومت ملت جعفریہ سے کیا چاہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ 3 دن کے اندر پنجاب سے ہمارے بے گناہ 6 سے زائد علماء اغوا ہو چکے ہیں، پنجاب حکومت شیعہ قوم کیساتھ اپنی بغض و عناد کا رویہ ترک کرے، پڑھے لکھے اور دین دوست محب وطن علماء کے اغوا سے پنجاب حکومت کی شیعہ دشمن ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے، ریاستی ادارے پنجاب حکومت کی شیعہ دشمن پالیسیوں کا نوٹس لیں، پنجاب حکومت دہشتگردوں کیخلاف بننے والی فورس سی ٹی ڈی کو اپنے شیطانی عزائم کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ علامہ مبارک موسوی نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے قم المقدس اور نجف اشرف میں تعلیم حاصل کرنا کونسا جرم ہے؟ ہمارے ساتھ مقبوضہ کشمیر اور فلسطینیوں جیسا سلوک بند کیا جائے، ہم اعلیٰ عدلیہ اور قومی سلامتی کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پنجاب حکومت کی متعصبانہ انتقامی کارروائیوں کا نوٹس لیں، ہم اس ظلم و بربریت کیخلاف خاموش نہیں رہیں گے۔

علامہ مبارک موسوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی قائدین سے مشاورت کے بعد آج (20 جولائی) کو پنجاب حکومت کے متعصبانہ انتقامی کارروائی کیخلاف پریس کانفرنس میں علماء و عمائدین اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، پنجاب حکومت کے متعصب وزیر قانون کے ایماء پر ہمارے لئے پنجاب میں زمین تنگ کرنے میں حکومتی ایجنسیاں مصروف ہیں، پنجاب حکومت کالعدم جماعتوں اور ہمارے قاتلوں کی سرپرستی کر رہی ہے، ہمارے شہداء کے لواحقین اب تک انصاف کے منتظر ہیں، ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اجلاس میں پنجاب حکومت کی انتقامی کاروائیوں کیخلاف اعلیٰ عدلیہ، آرمی چیف، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سمیت عالمی انصاف کے اداروں کو خطوط لکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں مستونگ میں ٹارگٹ کلنگ کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے بلوچستان حکومت کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اجلاس میں سید حسن کاظمی، پروفیسر ڈاکٹر افتخار نقوی، سید نیاز حسین بخاری، سید حسین زیدی، علامہ حسن ہمدانی، رانا ماجد علی، رائے ناصر علی، نجم الحسن سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔

Read more...
20 جولائی 2017

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق میں سرگرم وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے موصل قدیم میں ایزدی فرقہ کی 10 لڑکیوں کے سر کاٹ دیئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق داعش کی قید سے فرار ہونے والی دو ایزدی لڑکیوں نے فاش کیا ہے کہ وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے موصل قدیم میں کم سے کم 10 ایزدی لڑکیوں کے سر کا دیئے ہیں۔ فرار ہونے والی ان لڑکیوں کو بھی داعش نے گولی مار کر زخمی کردیا جنھوں نے بمشکل داعش کے جرائم کی ہولناک داستاں سناتے ہوئے کہا ہے کہ وہابی دہشت گردوں نے دس ایزدی لڑکیوں کو بہمیانہ طور پر ہلاک کردیا ہے۔

Read more...
صفحہ 1 کا 1640