فاٹا ترمیمی بل پر ایک نظر

  • ہفتہ, 26 مئی 2018 12:26

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت سے منظور ہوگئی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ایوان بالا کا اجلاس ہوا، جہاں وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک نے فاٹا کے خیبرپختونخوا سے انضمام سے متعلق بل پیش کیا۔ مذکورہ ترمیم کو منظوری کے لیے ایوان بالا میں بل پیش کیے جانے پر جمعیت علماء اسلام (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی اور جے یو آئی (ف) نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ بعد ازاں فاٹا انضمام بل کی شق پر رائے شماری کی گئی، جس کی حمایت میں 71 جبکہ مخالفت میں 5 ووٹ آئے، جس کے بعد یہ بل دو تہائی اکثریت سے ایوان سے منظور ہوگیا۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے فاٹا کے خیبرپختونخوا سے انضمام کے بل کی منظوری پر کہا کہ آج کے تاریخی دن پر فاٹا کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران فاٹا کے خیبرپختونخوا سے انضمام سے متعلق بل پیش کیا گیا تھا جو بھاری اکثریت سے منظور ہوا۔ قومی اسمبلی میں بل کی حمایت 229 میں اراکین نے ووٹ دیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ جمعیت علماء اسلام اور پی کے میپ نے ایوان زیریں میں بھی اس بل کی مخالفت کی تھی اور پی کے میپ نے بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دی تھیں۔

فاٹا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کوریج کے لیے پریس گیلری میں پہنچا تو دیگر صحافی دوستوں سے بات چیت کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ سوال صرف میرے نہیں بلکہ ان کے ذہنوں میں بھی کلبلا رہا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے پر نظر ڈالی تو تلاوت و نعت، ایک توجہ دلاؤ نوٹس اور وقفہ سوالات کے بعد 31 ویں آئینی ترمیم یعنی فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام کا بل چوتھے نمبر پر نظر آیا۔ یوں محسوس ہوا جیسا ایجنڈا بھی پوچھ رہا ہوکہ فاٹا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟۔ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کا وقت گیارہ بجے کا تھا۔ پریس گیلری کے وال کلاک کی سوئیاں ساڑھے گیارہ بجے کی جانب گامزن تھیں۔ گیلری سے ایوان میں جھانک کر دیکھا تو 100 اراکین کے بعد گنتی ختم ہونے لگی۔ ان میں بھی اکثریتی اراکین اپوزیشن جماعتوں ہی کے نظر آئے جن کے چہروں پر صاف لکھا تھا کہ فاٹا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟۔ قریب تھا کہ میں بھی یہ سوال ایک بار پھر اپنے ذہن میں دہراتا، یاد آیا کہ پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہوتے ہی جو پہلی خبر ملی وہ حکمران جماعت کے اجلاس کی تھی جو کمیٹی روم نمبر 2 میں جاری تھا۔ بجٹ سیشن میں حکومت کو کم ازکم چار مواقع پر اجلاس کا کورم ٹوٹنے کی شرمندگی اٹھانا پڑی تھی، جس کی وجہ حکومتی اراکین کی غیر حاظری تھی جس کے بعد بار بار اجلاس ملتوی کیا جاتا رہا۔ شنید تھا کہ آج حکومتی اراکین نہ صرف کورم کا خیال رکھیں گے بلکہ ہر صورت دو تہائی اکثریت سے فاٹا بل منظور کروانے میں اپنا پورا کردار ادا کریں گے۔ پتہ کرنے پر معلوم پڑا کہ کمیٹی روم میں ہونے والے اجلاس میں حکومتی اراکین کی تعداد 100 کے آس پاس ہے جبکہ قومی اسمبلی کے 342 کے ایوان میں دو تہائی اکثریت سے بل پاس کرنے کے لیے 228 اراکین کی حمایت لازمی تھی۔ یوں پارلیمان کی دیواروں پر بھی یہی سوال رقصاں تھا کہ فاٹا کے ساتھ کیا ہونے ولا ہے؟

حکومتی اتحادی جماعتیں جمیعت علمائے اسلام اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اس بل کی مخالفت پر کمربستہ تھیں تو اپوزیش جماعتیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اس بل کو منظور کروانے کے لیے بے چین، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے بھی بل کی حمایت کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ قومی اسمبلی اجلاس کا ماحول کچھ بدلا بدلا سا تھا اور کیوں نہ ہوتا کہ ایوان میں حاضری کا اچھا ریکارڈ رکھنے والے حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی آج کے اجلاس سے غیر حاضر تھے جبکہ ایوان میں حاضری کا برا ریکارڈ رکھنے والے حکومت کے مخالف نمبر ایک، تحریک انصاف کے رہنما عمران خان آج کوئی دو برسوں بعد ایوان کو اپنا دیدار کروانے والے تھے۔ اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں اجلاس شروع ہوا تو جے یو آئی (ف) کے رکن کی جانب سے کورم کی نشاندہی نے بدمزگی ک فضا پیدا کردی مگر گنتی ہونے کے بعد ارکان پورے نکلے تو ایاز صادق، خورشید شاہ اور شاہ محمود قریشی کے اعتماد میں اضافہ ہوگیا۔ خورشید شاہ نے وزراء کی عدم موجودگی کا شکوہ کیا تو اسپیکر نے وقفہ سوالات معطل کردیا۔ اس دوران اجلاس میں پہلے چوہدری نثار، پھر عمران خان اور پھر وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی بھی تشریف لے آئے۔ اہم ترین بات یہ تھی کہ وزیرِ اعظم شاید خاقان عباسی چل کر عمران خان کے پاس گئے۔ عمران خان کرسی سے کھڑے ہوئے اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔ پہلے شاہ محمود قریشی کے خطاب اور پھر ان کو خواجہ سعد رفیق کے جواب سے ایوان کے ماحول میں تناؤ پیدا ہوا تو پھر فاروق ستار کے اظہار خیال کے دوران متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، اس دوران شاہ محمود قریشی ایوان میں ماحول کو سازگار بنانے کی کوشش کرتے رہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز کے اظہارِ خیال کے دوران ایوان کی فضا پھر مکدر ہونے لگی تو خورشید شاہ کو یہ خوف پیدا ہوگیا کہ شاید حکومت خود ہی فاٹا ترمیمی بل منظور نہیں کروانا چاہتی۔ اس دوران اسپیکر ایاز صادق کے مثبت کردار کے باعث نواز لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوتے رہ گیا۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے چہرے پر بھی صاف لکھا نظر آرہا تھا کہ فاٹا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ آخرکار خورشید شاہ کے پرزور اصرار کے بعد اسپیکر نے مسلم لیگ نواز کے رکن اور وزیر برائے قانون و انصاف چوہدری محمود بشیر ورک کو فاٹا ترمیمی بل سے متعلق تحریک پیش کرنے کی اجازت دے دی۔ تحریک کے بعد بل کے مخالفین یعنی جمعیت علمائے اسلام اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اراکین کو ان کے جذبات کے اظہار کا خوب موقع دیا گیا۔ فاٹا ترمیمی بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوا تو ایوان میں 240 کے قریب اراکین موجود تھے۔ پہلی شق کی منظوری کے دوران 229 اراکین نے بل کی حمایت کی جبکہ 11 اراکین کی جانب سے مخالفت کی گئی۔ قومی اسمبلی میں بل کی حتمی منظوری کا عمل شروع یوا تو ایوان میں 230 اراکین موجود تھے جبکہ جمیعت علمائے اسلام ف اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ارکان ایوان سے واک آوٹ کرگئے۔ حتمی منظوری کے عمل میں 229 اراکین نے بل کی حمایت جبکہ صرف ایک رکن تحریک انصاف کے منحرف ایم این اے داوڑ کنڈی نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے بل کی منظوری کے اعلان کے بعد ایوان تالیوں سے گونج اٹھا اور سب صحافی دوست اپنے اپنے اداروں کو یہ بتانے میں مصروف ہوگئے کہ فاٹا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ تو آپ بھی جان لیں کہ فاٹا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کو وفاق کے انتظام سے نکالنے اور انہیں خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے کا آئینی بل قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا ہے۔ فاٹا انضمام بل کو آئین میں 31 ویں آئینی ترمیم کا بل قرار دیا گیا ہے۔

فاٹا ترمیمی بل سینیٹ سے منظوری، فاٹا ایکٹ کے خیبر پختونخوا اسمبلی سے پاس ہونے اور صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد باقاعدہ طور پر آئین کا حصہ اور قبائلی علاقے باقاعدہ طور پر خیبر پختونخواہ کا حصہ بن جائیں گے۔ فاٹا ترمیمی بل بنیادی طور پر 9 شقوں پر مشتمل ہے اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس بل کی شق وار منظوری دی گئی۔ فاٹا ترمیمی بل سے ملک کے انتخابی نظام اور پارلیمان کی ہیئت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے بل کا شق وار جائزہ لینا ضروری ہے۔ فاٹا بل کی پہلی شق میں بل کا نام اور تعارف دیا گیا ہے۔
بل کی دوسری شق میں آئین کے آرٹیکل (1) میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کی رو سے آئین سے فاٹا کا لفظ ہمیشہ کے لیے نکل جائے گا۔ گویا اس کے بعد فاٹا الگ اکائی نہیں رہے گا بلکہ خیبر پختونخوا صوبے کا آئینی حصہ بن جائے گا۔
بل کی تیسری شق میں آئین کے آرٹیکل (51) میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کی رو سے فاٹا کے پختونخوا کے ساتھ انضمام کی صورت میں قومی اسمبلی کے کل حلقوں کا ازسرنو تعین کیا گیا ہے۔ اس شق میں ساتھ ہی یہ آئینی ضمانت دی گئی ہے کہ آئندہ انتخابات میں سابقہ تعداد کے حساب سے فاٹا سے قومی اسمبلی کے ممبران منتخب ہوں گے تاہم اس اسمبلی کی تکمیل کے بعد فاٹا کو بھی خیبرپختونخوا کے ایک حصے کے طور پر قومی اسمبلی کے حلقے الاٹ ہو جائیں گے۔
بل کی شق نمبر (4) میں آئین کے آرٹیکل (59) میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کی رو سے انضمام کی صورت میں سینیٹ کے اراکین کی تعداد کا ازسرنو تعین ہوگا تاہم یہاں پر ایک بار پھر یہ آئینی ضمانت دی گئی ہے کہ فاٹا کے کوٹے پر منتخب ہونے والے موجودہ سینیٹرز اپنی مدت پوری کریں گے۔
فاٹا ترمیمی بل کی شق نمبر (5) کی رو سے آئین کے آرٹیکل (62) سے فاٹا کا لفظ نکالا جائے گا۔
بل کی شق نمبر (6) کی رو سے آئین کے آرٹیکل (102) میں ترمیم کرکے خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشستوں کی تعداد بڑھادی گئی ہے۔ اس میں فاٹا کے ممبران صوبائی اسمبلی کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ شرط لگا دی گئی ہے کہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے لیے فاٹا میں انتخابات ایک سال کے اندر کروائے جائیں گے۔
بل کی شق (7) کے ذریعے آئین کے آرٹیکل (155) میں پانی اور وسائل کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے فاٹا کے لفظ کو نکال دیا گیا ہے۔
آئینی ترمیم کی شق (8) کے تحت آئین کے آرٹیکل (246) اور بعد ازاں آرٹیکل (247) میں ترمیم کی گئی ہے۔ اسی شق کے ذریعے آرٹیکل (246) سے فاٹا اور فرنٹیر ریجنز کو نکال دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ وضاحت کی گئی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے بعد انتظام ایوان صدر سے صوبائی انتظامیہ کی طرف منتقل ہوجائے گا۔
فاٹا ترمیمی بل کی شق (9) کے تحت آئین کے آرٹیکل (247) سے بھی فاٹا کا ذکر نکال دیا گیا ہے۔
بل، آئین کا حصہ بن گیا تو کیا ہوگا؟
فاٹا انضمام بل کے اہم نکات ملک کے انتخابی اور سیاسی نظام پر پوری طرح اثر انداز ہوں گے۔
فاٹا ترمیمی بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں فاٹا کی نشتیں 12 سے کم ہوکر 6 ہوجائیں گی۔
خیبر پختونخواہ کا قومی اسمبلی میں موجودہ حصہ 39 سے بڑھ کر 45 نشستیں ہو جائے گا۔
سینیٹ میں فاٹا کی موجودہ 8 نشتیں ختم ہوجائیں گی۔
سینیٹ اراکین کی کل تعداد 104 سے کم ہو کر 96 ہوجائے گی۔
قومی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 342 سے کم ہوکر 336 ہوجائے گی۔
ملک میں براہ راست انتخاب 272 کے بجائے 266 حلقوں پر ہوگا۔
قومی اسمبلی میں 266 عام نشستیں، 60 خواتین کی جبکہ 10 اقلیتوں کی نشتیں ہوں گی۔
2018 کےعام انتخابات پرانی تقسیم کے تحت ہی ہوں گے۔
قومی اسمبلی میں نشستوں کی تقسیم کا 31 ویں آئینی ترمیم کے تحت نیا فارمولا 2023 کے عام انتخابات سے لاگو ہوگا۔
2015 اور 2018 کے سینیٹ انتخابات کے منتخب 8 سینیٹ اراکین اپنی مدت پوری کریں گے۔
2018 عام انتخابات میں فاٹا قومی اسمبلی کے 12 رکن بھی اپنی مدت پوری کریں گے۔
2018 عام انتخابات کے ایک سال کے اندر فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوں گے۔
فاٹا انضمام کے بعد خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اراکین کی تعداد 124 سے بڑھ کر 145 ہوجائے گی۔
صوبائی اسمبلی خیبر پختونخواہ میں فاٹا کا حصہ 16 عام نشستیں، خواتین کی 4 نشستیں اور 1 اقلیتی نشست ہوگی۔
دو جماعتوں نے بل کی مخالفت کیوں کی؟
موجودہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی ملک کی 18 سیاسی جماعتوں میں سے دو جماعتوں جمیعت علمائے اسلام (ٖف) اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے فاٹا کی خیبر پختونخواہ میں شمولیت کی مخالفت کی ہے اور ان دونوں جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ فاٹا کو پاکستان کا نیا صوبہ بنایا جائے۔ قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران مذکورہ دونوں سیاسی جماعتوں کے اراکین نے فاٹا کے کیس کا موازنہ جنوبی پنجاب سے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فاٹا کا جنوبی پنجاب سے موازنہ کسی صورت درست نہیں۔ دنیا بھر میں نئے صوبے آبادی، انتظامی بنیادوں یا لسانی بنیادوں کے تحت بنانے کے فارمولے موجود ہیں۔ فاٹا کی آبادی صرف 50 لاکھ، انتظامی سرحدیں خیبر پختونخوا سے متصل جبکہ زبان اور بولی خیبر پختونخوا سے ملتی ہے۔ یوں فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کے بجائے اس کا خیبر پختونخواہ صوبے میں انضمام ہی فاٹا کے مسائل کا عملی اور حقیقی حل ہے۔ فاٹا کو خیبر پختونخواہ کا حصہ بنانے پر مولانا فضل الرحمن کی مخالفت کی وجہ تو نظر آتی ہے کہ اس فیصلے سے ان کی سیاسی جماعت کے قد میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ مگر حیرت یہ ہے کہ ماضی میں پاکستان بھر یعنی بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور فاٹا کے پشتونوں کے لیے ایک ہی صوبے کا مطالبہ کرنے والے قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئی کن بنیادوں پر فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کی مخالفت کر رہے ہیں۔؟

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.