تازہ ترین

پاراچنار، طوریوں کی اراضی پر حکومت کا زبردستی قبضہ

  • پیر, 12 مارچ 2018 11:10

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ ) کرم ایجنسی میں حکومت کی جانب سے عوامی استحصال اسی پرانی نہج پر جاری و ساری ہے۔ یہ استحصال اہلیان کرم کے مقابلے میں افغان نژاد قبائل کی کمک کی صورت میں ہو، یا زمینوں پر جبری قبضوں کی صورت میں، حکومت کرم ایجنسی کے پاکستانی قبائل طوری بنگش اقوام کے ساتھ ہر سطح پر برا سلوک کرنے میں شرم نہیں بلکہ فخر محسوس کرتی ہے۔ اگر کہیں کوئی اپنے حقوق کے لئے فریاد بھی کرے، تو اسے کبھی دھمکیاں دے کر خاموش کیا جاتا ہے اور کبھی کوئی معمولی لالچ دیکر خاموش کیا جاتا ہے۔

خرلاچی بارڈر پر اراضی کا اونے پونے سودا:
پچھلے سال کی بات ہے کہ فوجی انتظامیہ نے افغان سرحد پر واقع دیہات خرلاچی اور بوڑکی سے جائیداد کی فراہمی کی بابت مذاکرات کئے۔ لوگ بارڈر پر واقع زمین فراہم کرنے پر راضی نہیں ہو رہے تھے، تاہم دھونس یا لالچ میں آکر انہوں نے پچیس ایکڑ زمین اونے پونے (24 لاکھ فی ایکڑ کے حساب سے) اس شرط پر فراہم کی کہ این ایل سی میں بھرتی کے دوران تمام کی تمام اسامیاں انہی سے پر کی جائیں گی۔ بالفرض اگر اہلیان خرلاچی یا بوڑکی مطلوبہ اہلیت پوری نہ کرسکیں تو باقی اسامیاں اطراف میں واقع دیہات کے طوری بنگش قبائل سے پر کی جائیں گی، مگر ابھی ایک سال کا عرصہ نہیں گزرا کہ حکومت نے اپنی اصلیت دکھانی شروع کر دی اور اپنے وعدوں کو پس پشت ڈال کر تقریباً 60 فیصد بھرتیاں کرم کے طالبان نواز، انتہائی خطرناک دہشتگرد افغان نژاد اقوام مقبل اور بوشہرہ سے کیں۔ خرلاچی کے مشران و عمائدین کے لاہور اور پشاور میں متعلقہ محکمے میں بار بار اور شدید احتجاج کے باوجود کسی کے کان پر جونک تک نہیں رینگی۔ بالآخر اہلیان خرلاچی نے روڈ پر آکر احتجاج کرنے کی دھمکی دی، جس کے بعد حال ہی میں ایک افسر مسمی خسرو کو اس ساری ناانصافی کا ذمہ دار ٹھہرا کر اہلیان علاقہ سے تجدید عہد کیا گیا کہ انکے تمام تحفظات کو دور کر دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ پچاس جریب کے علاوہ بھی دسیوں ایکڑ جریب زمین کا کوئی حساب کتاب نہیں کیا گیا۔ نیز باڑ کے دوسری سائیڈ پر واقع دونوں ملکوں کی سینکڑوں ایکڑ زمین کا تو سرے سے حساب کتاب بھی نہیں کیا گیا۔

تائیدہ میں قلعہ کیلئے بیسیوں جریب اراضی پر زبردستی قبضہ:
یہاں کے باشندوں کی تائیدہ کے مقام پر واقع سینکڑوں جریب زمین پر فوجی قلعہ تعمیر کرنے کے لئے اہل علاقہ کو مجبور کیا گیا۔ انہوں نے شدید احتجاج کیا، مگر صرف طالبان نواز اور کرم میں ہمیشہ خودکش دھماکے کرانے والی قوم اہلیان بوشہرہ کے تحفظ کے لئے 20 جریب زمین کے لئے یہاں کے باشندوں کی بجائے غیر متعلقہ افراد سے دستخط لیکر کام شروع کیا گیا۔ اہلیان علاقہ نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر مسئلہ قلعہ بنانا ہے تو آبادی سے ذرا دور افغان سرحد یا مقبل کی طرف بنایا جائے، مگر انکا یہ مطالبہ بھی قبول نہ کیا گیا بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ 20 کی جگہ 30 جریب پر قبضہ کر لیا گیا اور اصل قیمت سے دہائی (1/10) سے بھی کم ریٹ رکھ کر قیمت صرف 20 لاکھ مقرر کی گئی، ان 20 لاکھ میں بھی اے پی اے بہادر، تحصلیداران صاحبان اور انکے برخوردارران ریڈرز صاحبان 5 تا 10 لاکھ روپے اپنا رزق حلال اور پیشہ وارانہ حق مانگ رہے ہیں، جبکہ زمین میں حصہ دار 60 سے زائد گھرانوں کو رہی سہی رقم پر گزارہ کرنے کا قیمتی مشورہ دیا جا رہا ہے۔

پاراچنار رنگ روڈ کیلئے اراضی پر بلا معاوضہ قبضہ:
پاراچنار کو ایک خاص اور خفیہ مقصد کے لئے محفوظ شہر بنانے کی خاطر پچھلے سال جنوری تا جون متعدد دھماکے کراکر عوام میں یہ وہم پیدا کیا گیا کہ پاراچنار ایک غیر محفوظ شہر بن چکا ہے، چنانچہ اسے محفوظ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ کہ اسکی حفاظت صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ شہر کے ارد گرد خندق کھود کر باڑ لگائی جائے۔ چنانچہ عوام کے شدید احتجاج کے باوجود حکومت نے باڑ لگائی اور پھر باڑ کے ساتھ ساتھ ایک رنگ روڈ شروع کیا گیا۔ جو ٹل پاراچنار مین روڈ سے شروع ہوکر بالترتیب احمد زئی روڈ، ڈنڈر روڈ، شنگک روڈ اور بوڑکی روڈ کو کراس کرتے ہوئے شلوزان روڈ پر ختم ہوتا ہے۔ اس روڈ کی چوڑائی 60 فٹ جبکہ لمبائی تقریباً 11 کلومیٹر جبکہ کل رقبہ تقریباً 90 جریب ہے، جبکہ باڑ اور خندق کے ذریعے ضائع کی گئی اراضی اسکے علاوہ ہے۔ لیکن اس پوری اراضی میں کسی بندے کو ایک مرلے کی قیمت ادا نہیں کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ دیگر ایجنسیوں اور اضلاع میں حال یہ ہے کہ عوام کو زمین کی منہ مانگی قیمت دی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اہلیان کرم کو انکی حب الوطنی اور ملکی سرحدوں کے دفاع کی پاداش میں یہ سزا دی جا رہی ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.