’’جوادی کیلئے انصاف‘‘ کے نام سے ریاست گیر بھرپوراحتجاجی تحریک چلائیں گے، ایم ڈبلیوایم آزاد کشمیر

  • پیر, 04 دسمبر 2017 16:07

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا سید طالب حسین ہمدانی، ترجمان مولانا سید حمید حسین نقوی، سیکرٹری یوتھ سید شاہد علی کاظمی ، ضلع پونچھ کے رہنماء مولانا سید شاہنواز کاظمی، ضلع میرپور کے سیکرٹری جنرل سید ناظر عباس کاظمی، تنظیم سازی کونسل کے ممبر مولانا حسن کاظمی، ضلع مظفرآباد کے سیکرٹری تنظیم سازی سید محسن بخاری، ضلع نیلم کے کوآرڈینیٹر سید سعادت علی کاظمی اور سید وقار حسین کاظمی نے مرکزی ایوان صحافت میں پرہجوم و مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالم اسلام کو ایام ربیع الاول یعنی جشن عید میلاد النبی ص کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین 12 تا 17 ربیع الاول ہفتہ وحدت کے طور مناتی ہے جس کا مقصد اتحاد بین المسلمین کے لیے عملی کاوشیں کرنا ہے۔ 15 نومبر 2017 کو ہم نے پریس کانفرنس کی تھی جس میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی کے جبری اغوا کے حوالے سے مذمت اور احتجاجی تحریک چلائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ میڈیا سمیت جتنی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے میں ہماری مدد کی ہم تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے خوشخبری سناتے ہیں کہ برادر ناصر عباس شیرازی بازیاب ہو کر اپنی فعالیت کا آغاز کر چکے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ پریس کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی کے کیس کے حوالے سے سوالات کیے گئے تھے کیا تھا جس پر ہم نے آئندہ پریس کانفرنس میں جامع و مفصل جواب کا کہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ لوگوں کی دعاؤں کی بدولت علامہ تصور نقوی رو بہ صحت ہیں اور انشاء اللہ جلد عوام الناس کے درمیان ہوں گے۔ ایم ڈبلیو ایم آزادکشمیر کے رہنماؤں نے کہا کہ علامہ سید تصور حسین نقوی اور ان کی اہلیہ محترمہ پر 15 فروری کو دن دیہاڑے قاتلانہ حملہ ہوا۔ حملہ آور ایک کار پر سوار تھے۔ کار اور کار سواروں کا آج تک پتہ نا چل سکا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ انتظامیہ طرح طرح کے حیلے بہانوں سے ٹرخائے جا رہی ہے۔ نو ماہ کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے ہم کیا کریں؟ بس انہی حیلے بہانوں و طفل تسلیوں پر گزارہ کریں۔ مارچ 2017 میں پولیس افسران آصف درانی اور وحید گیلانی کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم مجرمان کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ جب قریب پہنچ چکے تھے تو بتایا جائے دور کیوں ہوئے؟ حکومت آزادکشمیر نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ حادثے کے ہو جانے کے بعد ایک ماہ قبل وزیراعظم عیادت کو تشریف لائے مگر بیٹھنے کا وقت نہیں تھا۔ مظفرآباد ڈویژن سے وزراء اور ممبران اسمبلی نے پتہ نہیں کس خوف کے تحت ہمدردی کے دو بول بولنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ یہ لوگ سمجھ بیٹھے ہیں شاید اقتدار ساری زندگی کے لیے مل گیا ہے۔ لیکن نہیں انہوں نے ایک دن عوام کے پاس اور بالآخر خدا کی بارگاہ اقدس میں جواب دینا ہے۔ علامہ تصور نقوی پر حملہ کرنے والوں کا نہ پکڑے جانا اور حکومتی عدم توجہی کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ ریاست آزاد کشمیر کے امن کو تار تار کرنے کی کوشش کی گئی۔ مظلوم کشمیری عوام اور اتحاد بین المسلمین کے حقیقی داعی اور ترجمان شخصیت کو راستے سےہٹانے کی مذموم ترین کوشش کی گئی۔ حکومت و انتظامیہ کا یوں چپ ہو جانا دشمن کے ناپاک عزائم کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے عام شہری اور خصوصی طور پر ملت جعفریہ میں شدید بے چینی اور اضطراب ہے۔ یہ مسئلہ شہری و ریاستی امن کا مسئلہ ہے۔ جب امن کی بات کرنے والا اور اتنا اہم اور معزز فرد محفوظ نہیں تو کل کوئی عام شہری کیسے محفوظ ہو گا؟ حکومت آزادکشمیر کی غیر سنجیدگی پر تشویش ہے۔ خدا نہ کرے یہ آگ کل ان کے ایوانوں میں پہنچ جائے۔ ہم سوال کرتے ہیں کیا اس وقت بھی یہ ایسے ہی خاموش رہیں گے؟ اگر نہیں تو پھر کس وجہ اور مصلحت کے تحت اس مسئلے کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے؟ ہمیں اب جواب چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہت وقت دیا ہم نے۔ شاید کہ ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری سے تعبیر کیا گیا۔ حالانکہ ہماری خاموشی صرف اس لیے تھی کہ کل ہمیں یہ نہ کہا جائے آپ نے وقت نہیں دیا یا ساری توجہ آپ کی طرف تھی۔ ہم نے جس طرح حادثے والے دن اپنے غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور مظفرآباد ڈویژن جام ہو کر رہ گیا تھا۔یہ عمل ہم طویل مدت تک جاری رکھ سکتے تھے یا دوباره کر سکتے تھے مگر ہم نے صبر و حوصلے سے کام لیا اور انتظامی اداروں کو لمبا وقت اور اپنی قوم کو حوصلے کا درس دیا مگر افسوس کے ساتھ آج ہم اعلان کر رہے ہیں کہ کیس پر کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی یہ ادارے کسی قسم کی تحقیق میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے کہا کہ اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے ہم اپنی قوم کے سامنے لاجواب ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے سامنے ہر آپشن موجود ہے ہم سڑکیں بھی بند کر سکتے ہیں اور ایوانوں کا گھیراؤ بھی۔ یو این او مبصر مشن کی جانب مارچ بھی کر سکتے ہیں یا اعلی عدلیہ کا دروازہ بھی کھٹکٹا سکتے ہیں۔ ہمیں راست اقدام کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔

مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر انتظامی اداروں خصوصا پولیس کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ اس واقعے کے بعد جس طرح سے انتظامیہ کی جانب سے علامہ سید تصور نقوی کی کردار کشی گئی اور طرح طرح کے من گھڑت واقعات کو علامہ صاحب سے منسوب کیا گیا پرزور طریقے سے مذمت کرتے ہیں۔ علامہ صاحب کا کردار و شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اتحاد بین المسلمین ، مظلومین جہاں بالعموم اور مظلومان مقبوضہ کشمیر بالخصوص کی آواز بننا ان کا شیوہ تھا۔ وہ ایک معزز گھرانے کے فرد ہیں۔ اس طرح کی باتیں کرنے والے دراصل اپنی نااہلی کو چھپانے کے درپے تھے۔ مجلس وحدت مسلمین آزادکشمیر باقاعدہ ایک تحریک کا اعلان کرتی ہے جس کا عنوان #justice for jawadi ہے۔ اس تحریک کے حوالے سے انشاء اللہ پورے کشمیر سے آواز احتجاج بلند ہو گی۔ ہم تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی اے۔پی۔سی بلائیں گے جس میں علامہ سید تصور نقوی کیس کے حوالے سے مشاورت کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے گا۔ تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر بھرپور آواز احتجاج بلند کی جائے گی۔ جو چارٹر آف ڈیمانڈ وزیراعظم آزاد کشمیر کو دیا گیا اس پر من و عن عمل درآمد کیا جائے ۔ اگر علامہ سید تصور نقوی الجوادی کیس کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو ہم ایک دھرنا دیں گے جومطالبات کے حل تک جاری رہے گا۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.