محرم کے مہینے میں ملک میں 32 ہزار 720 اضافی اہلکار تعینات کئے جائیں گے، احسن اقبال

  • بدھ, 20 ستمبر 2017 16:09

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان سمیت پورے خطے میں امن چاہتے ہیں اور امن و امان کے قیام کے لئے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں، یہ بات درست ہے کہ ہماری ایٹمی طاقت کچھ لوگوں کو پسند نہیں اور سی پیک پر بھی کچھ لوگوں کو اعتراض ہے لیکن اگر ملک کے اندر سے ہی انتشار پھیلایا جائے گا تو ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب وزیرداخلہ احسن اقبال کی زیر صدارت محرم الحرام میں سیکیورٹی پلان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں سیکیورٹی اداروں کے حکام، صوبائی انتظامیہ اور وزارت کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محرم الحرام کے حوالے سے کئے جانے والے سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا گیا، وزیرداخلہ کو بریفنگ دی گئی کہ محرم کے مہینے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے ملک میں 32 ہزار 720 اضافی اہلکار تعینات کئے جائیں گے اور حساس مقامات کی فضائی نگرانی کی جائے گی جب کہ وزارت داخلہ میں کنٹرول سینٹر بھی قائم کیا جائے گا جہاں سے تمام صوبوں کی انتظامیہ سے رابطہ رہے گا۔

اس موقع پر وزیرداخلہ احسن اقبال کاکہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے محرم میں منعقد ہونے والے جلوسوں اور مجالس کی حفاظت کے لئے مربوط حکمت عملی ترتیب دے کر فول پروف انتظامات کریں، ادارے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام سے مضبوط رابطہ قائم رکھیں اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے جب کہ علمائے کرام بھی امن و امان کا پرچار کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ احسن اقبال نے کہا کہ ماضی میں بین الاقوامی طاقتیں اندرونی انتشار کی وجہ تنزلی کا شکار ہوئیں لیکن کسی کو بھی پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہمیں بھی اپنے ملک میں موجود شرپسند عناصر پر نظر رکھنا ہوگی قانون نافذ کرنے والے ادارے کامبنگ آپریشن اور سروے کے ذریعے ایسے عناصر کی نشاندہی کریں اور تمام کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.