کوٹلی امام حسین (ع) اراضی کے ایک انچ سے بھی دستبردار نہیں ہونگے، علامہ ناصر عباس جعفری

  • ہفتہ, 08 جولائی 2017 10:55

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ وقف کوٹلی امام حسین (ع) اراضی کا ایک انچ بھی کسی کو نہیں دے سکتے، غیر شرعی اور غیر قانونی طریقے سے وقف امام حسین (ع) اراضی کو اوقاف کے نام منتقل کیا گیا، جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ وقف امام حسین (ع) اراضی مشن امام حسین (ع) کے سوا کسی بھی مقصد کیلئے استعمال نہیں ہوسکتی، اس اراضی پہ نہ ہی پارک بن سکتا ہے، نہ ہی مارکیٹ، لہذا ایسی سوچ رکھنے والے اپنے عزائم میں نامراد رہیں گے۔ کوٹلی امام حسین (ع) ڈی آئی خان میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ پارا چنار سانحہ پر حکمرانوں کی بے حسی کھل کر سامنے آئی، چیف آف آرمی اسٹاف کے مظلوموں کے درد کا احساس کرنے کے مشکور ہیں۔ پانامہ کیس کا جلد فیصلہ ہونا چاہیئے تاکہ مضبوط حکومت ملک کو بحرانوں سے نکالے، قانون پر عمل درآمد نہ ہونا بھی ہمارے مسائل کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا پانامہ کا معاملہ جلد حل ہونا ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے بہت ضروری ہے، قانون پر مکمل عمل درآمد نہ کیا جانا مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ مریم نواز کی پیشی پر شاہانہ طریقے سے حاضری تشویشناک ہے۔ حکمرام الزام لگنے کو ہیرو بننے کا موقع سمجھ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے باوجود بڑے پیمانے پر دہشت گردی ہوئی، داعش پاکستان میں بڑی دہشت گردانہ کاروائیوں میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت سے قبل نگران حکومت کے دور میں وقف امام حسین (ع) اراضی کو غیر قانونی اور غیر شرعی طریقے سے اوقاف کے نام منتقل کیا گیا، ہم واضح بتا دینا چاہتے ہیں کہ وقف امام حسین (ع) اراضی کا ایک انچ بھی کسی کو نہیں دیں گے، بلاوجہ اس مسئلے کو گھمبھیر نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کمزور ملک کے حکمران بھی عید کرنے باہر نہیں جاتے لیکن پاکستان جل رہا تھا اور حکمران یو کے میں عید منا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صرف پنجاب کے وزیراعظم بن کر دکھا رہے ہیں، شیعہ شہداء کی امداد کو کم کرکے خون کی قیمت میں فرق کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کے دورہ پارا چنار پر مظلوموں کی داد رسی پر مشکور ہیں، انہوں نے کہا کہ داعش ملک میں دہشت گردی کی بڑی وارداتیں کر رہی ہے۔ پورے ریجن میں داعش دہشت گردوں کو جمع کر رہی ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ کلنگ پر قاتلوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی، پورے ملک میں قانون پر عمل درآمد نہ ہونا مسائل کا سبب بن رہا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان سے حکمرانوں کی مخلصی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہزاروں شہداء کے قاتلوں میں سے کسی ایک کا کیس بھی فوجی عدالت میں نہیں بھیجا گیا، جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے صرف ایک حصے یعنی آپریشن پر عمل ہوا، جبکہ باقی کسی حصے پر عمل نہیں ہوا، نتیجے میں حالات سامنے ہیں۔ کراچی جیل سے دہشت گردوں کا فرار باعث تشویش ہے، ڈیرہ جیل بریک میں اہل تشیع افراد کو چن چن کر شہید کیا گیا، انہوں نے کہا کہ ہم علامہ اقبال اور قائداعظم کا پاکستان چاہتے ہیں، ہم ملک میں بیس ہزار سے زائد جنازے اٹھا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کا پاکستان ضیاء نے اپنی پالیسی سے چھین لیا، ضیاء کی پالیسی کے سبب پاکستان میں اسی ہزار لاشین اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند پاکستان نہیں چاہتے، انہوں نے کہا کہ ملک میں عام آدمی کے لئے اور قانون اور حکمران طبقہ کے لئے اور قانون ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.