معصوم زینب کا بہیمانہ قتل، مجرموں کی سرعام پھانسی کا مطالبہ زور پکڑ گیا

  • بدھ, 10 جنوری 2018 17:23

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) معصوم 8 سالہ زینب امین کے اندوہناک اور دل دہلا دینے والے قتل کے سانحہ کے بعد ہر آنکھ اشک بار ہے اور سیاست دان بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا اس کربناک واقعے پر کہنا تھا کہ ایسا خوفناک واقعہ پہلی بار نہیں ہوا، ننھی زینب پرحملہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہمارا معاشرہ بچوں کے حوالے سے کتنا خطرناک ہو چکا ہے، ملزمان کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچانا چاہیئے تاکہ ہمارے معاشرے کو بچوں کے لئے محفوظ بنایا جا سکے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور انہوں نے زینب امین کی نماز جنازہ بھی پڑھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر جرم اور انسانی المیہ کے پیچھے قاتل اشرافیہ کے چیلے اور چمچے ہوتے ہیں، 100 افراد کو گولیاں مارنے اور 14 کو قتل کرنے کا ملزم بیٹیوں کو کیا تحفظ دے گا، جب کہ 8 سالہ زینب کا اغواء اور قتل موجودہ نظام اور حکمرانوں کا گھناوٴنا چہرہ ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بیٹیوں کی بے حرمتی کرنے والے درندوں کو فوری سزا دی جائے اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے تا کہ آئندہ کسی کو ایسا گھناؤنا کام کرنے کی ہمت نہ ہو۔ وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 8 سالہ زینب کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بہت درد ناک ہے، ایسے معاشروں کی مذمت کرتے ہیں جو بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے، تب تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک اس غیرمعمولی عمل کے مرتکب شخص کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور قانون کے تحت سخت سزا نہیں دی جاتی۔ آصفہ بھٹوزرداری کا کہنا ہے کہ زینب محض 7 سال کی بچی تھی، اس کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، میرا دل ٹوٹ گیا ہے اور اللہ زینب کے خاندان کو ہمت دے۔ مریم نوازنے ٹویٹ میں کہا کہ امید ہے زینب کا قاتل جلد قانون کی گرفت میں ہوگا اورملزم کو عبرت ناک سزا دی جائے گی۔ سینیٹر رحمان ملک نے بھی زینب سے زیادتی اور قتل کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ انتہائی دردناک، افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے۔

پنجاب کے شہر قصور میں کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد لرزہ خیز قتل کے واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھدیا ہے سوشل میڈیا پر بھی واقعے کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ زینب 5 روز قبل سپارہ پڑھنے گھر سے نکلی تھی کہ لاپتہ ہوگئی، گزشتہ رات بچی کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔ لاش ملنے کے ساتھ ہی لوگوں میں شدید غم وغصہ پھیل گیا اور لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ملزم کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کردیا۔ سوشل میڈیا پر بچی کے اغوا اور قتل کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے اورزینب کے لیے انصاف‘ کے نام سے ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے، جس میں صارفین کی جانب سے درندہ صفت قاتل کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

جویریا وحید نامی صارف نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ننھی زینب کے والدین کچھ روز قبل ہی عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے تھے یہ خبر ان کے لیے بہت افسوسناک ہوگی۔ کچھ صارفین نے انتظامیہ اور سسٹم کی ناہلی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سسٹم اب کام کرنےاور ہماری بچیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا۔ احمد گل نامی صارف نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے لکھا اس گھناؤنے قتل کے واقعے کو بیان کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یہ انسانیت کی تذلیل ہے قاتل کو سخت سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حیوانوں کے لیے سبق حاصل ہو سکے۔ ایک اور صارف نے ایران کی مثال دیتے ہوئے ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک شخص کو سرعام پھانسی دی جارہی ہے۔ صارف نے لکھا ایران میں زیادتی کرنے والے افراد کو سرعام چوراہے پر لٹکا یا جاتا ہے لیکن معاف کیجئے ہماری اشرافیہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور عمران خان کی شادی پر تبصرے کرنے میں مصروف ہے۔ احتشام الحق نامی صارف نے بچی کو اغوا کرکے لےجانے کی تصاویرشیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ تصاویرزینب کے قاتل کی ہیں جن میں قاتل واضح نظر آرہا ہے تو کیوں یہ شخص اب بھی آزاد گھوم رہا ہے؟کیا ہماری ایجنسیز اور حکام کو یہ شخص نظر نہیں آرہا ؟ کیا ہم اس حیوان کو پکڑ کر سب کے سامنے سزا نہیں دے سکتے؟ کیا ہم اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کچھ کرنہیں سکتے۔ اقرار الحسن سید نامی صارف نے اس دلخراش واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ صبح بالکل بھی اچھی نہیں کیونکہ یہ تصاویر دیکھ کر میں سو نہیں سکا۔ علی عمران کاظمی نے کہا اس واقعے پر نہ کوئی دھرنا دیا جارہا ہے، نہ ٹائر جلا ئے جارہے ہیں، نہ سڑکیں بند کی جارہی ہیں کیونکہ یہ صرف ایک عام انسان کی بچی ہے، جسے آپ نہیں جانتے، اگر ہم نے بچی کے لیے آواز بلند نہیں کی تو یہ سب وقت کے ساتھ بدتر ہوجائے گا۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.