کراچی شہر لٹ گیا کالعدم تنظیمں ملوث کروڑوں روپے دہشتگردی میں استعمال ہونگے

  • پیر, 16 اپریل 2018 13:03

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ )شہر قائد میں 4 ماہ کے دوران 5 بڑی ڈکیتیاں کرکے کروڑوں روپے لوٹنے والے ڈکیت گروہ کو پولیس گرفتار نہیں کرسکی، جبکہ ڈکیتوں کی جانب سے لوٹی گئی رقم دہشتگردی کی سرگرمیوں میں استعمال ہونے کا خدشہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہر میں رواں سال کے 4 ماہ کے دوران سرکاری بینک کے لاکرز، 2 منی ایکسچینج ادارے، این ایل سی اور نجی کیش لے جانے والی گاڑیوں سمیت 5 ڈکیتی کے واقعات میں کروڑوں روپے لوٹنے والے منظم ڈکیت گروہ کا کراچی پولیس تاحال کوئی سراغ نہ لگا سکی، تربیت یافتہ ڈکیتوں نے وارداتوں کے دوران فوجی جوان سمیت 2 گارڈز قتل کر دیئے، ڈکیت گروہ نے سرکاری بینک کے 27 لاکرز توڑ کر کروڑوں روپے کے زیورات اور نقدی لوٹ لی۔ شہر میں لوٹ مار کی بڑی وارداتوں میں ملوث گروہ کی نشاندہی نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ یہ رقم دہشتگرد تنظیموں کی فنڈنگ کیلئے استعمال کی جاتی ہے، اس سلسلے میں شہر قائد میں ہونے والی ان وارداتوں کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسران اور اعلیٰ پولیس افسران نے رابطوں پر اپنے اپنے مقدمات کے بارے میں تفصیل بتائی۔ رضویہ تھانے کے تفتیشی شعبے کے انچارج انسپکٹر حسن حیدر نے بتایا کہ 8 جنوری کو نیشنل بینک میں تعینات سیکیورٹی گارڈ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 27 لاکرز توڑ کر اس میں موجود پونے 6 کروڑ سے زائد مالیت کے طلائی زیورات، نقدی اور قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گیا تھا، جس کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاحال ڈکیت گارڈ گرفتار نہیں ہو سکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس کو بینک کے عملے پر شک تھا، جنہیں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا، جبکہ مرکزی ڈکیت سیکورٹی گارڈ کے متعلق اطلاعات پر خیبر پختونخواہ میں بھی چھاپے مارے گئے، جو بے سود رہے۔

فیروز آباد تھانے کے انویسٹی گیشن افسر انسپکٹر جاوید شیخ نے بتایا کہ 17 فروری کو نجی منی ایکسچینج کمپنی سے ڈکیت 38 ہزار ڈالر یعنی پاکستانی 42 لاکھ سے زائد کی رقم لوٹ کر فرار ہو گئے تھے، اس مقدمے میں پولیس تاحال گروہ کا تعین نہیں کر سکی ہے، پولیس کی تفتیش جاری ہے۔ 22 مارچ کو بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں ڈاکوؤں نے این ایل سی کی کیش وین لوٹنے کی کوشش کی، این ایل سی کے گارڈ راویز خان نے مزاحمت کی، تو ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں روایز خان جاں بحق اور ڈائیور سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے، تاہم ملزمان واردات کرنے میں ناکام رہے۔ بوٹ بیسن تھانے کے تفتیشی افسر انسپکٹر امتیاز نے مذکورہ ڈکیتی کی واردات میں ملوث ڈاکوؤں کی گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ مختلف پہلوؤں سے بھی تفتیش کر رہی ہے، لیکن اب تک کی جانے والی تفتیش میں پولیس ڈکیت گروہ کا تعین کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے 5 دن بعد 27 مارچ کو شاہراہ فیصل تھانے کی حدود گلستان جوہر میں مسلح ڈاکوؤں نے نجی منی ایکسچینج سے 27 لاکھ روپے لوٹے اور فرار ہوگئے، ڈاکوؤں نے مزاحمت کرنے پر منیجر کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا، اس کیس میں بھی پولیس کی کارگردگی رپورٹ زیرو نظر آئی۔ اس واقعے کے 13 دن بعد 9 اپریل کو ایف بی صعنتی ایریا تھانے کی حدود راشد منہاس روڈ پر نامعلوم مسلح ملزمان نے نجی منی ایکسچینج کی کیش وین لوٹنے کی کوشش کی، اس واردات میں بھی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے نجی کمپنی کے سیکورٹی گارڈ خالد کو قتل کر دیا اور نقدی لوٹے بغیر فرار ہوگئے۔

ایس ایچ او ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں میں جو سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے، ان کیمروں کی ریکارڈنگ سے ملزمان کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے، جائے وقوع کے قریب سرکاری نصب کیا جانا والا سی سی ٹی وی کیمرا خراب تھا۔ جب بوٹ بیسن کے تفتیشی افسر امتیاز سے سوال کیا کہ ایف بی ایریا میں اس طرح کی ایک واردات ہوئی تھی، اس کیس کے تفتیشی افسر یا متعلقہ ادارے سے کوئی رابطہ کیا، تو ان کا جواب تھا کہ واردات تو ابھی ہوئی ہے، تفتیش کیلئے پولیس کو بہت وقت درکار ہے۔ واضح رہے کہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ، کرائم برانچ اور کئی اداروں میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران اور ان کے ماتحت عملہ کروڑوں روپے فنڈز کی مد میں حاصل کرنے کے باوجود ان کی کارکردگی گزشتہ کئی سال کی طرح تاحال زیرو ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے چند افسران نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ سندھ پولیس سرکاری کاغذوں کا پیٹ بھرنے میں مصروف ہے، کراچی پولیس کا یہ حال ہے کہ وہ صرف کاغذوں میں ہی تفتیش کرتی ہے، لیکن ان کی تفتیش میں زمینی حقائق نہیں ہوتے، انہوں نے بتایا کہ شہر میں لوٹ مار کی مذکورہ بڑی وارداتوں میں ملوث گروہ کی نشاندہی نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ یہ رقم دہشتگرد تنظیموں کی فنڈنگ کیلئے استعمال کی جاتی ہے، جس کا سراغ لگانا انتہائی ضروری ہے۔

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.