'رخصت کے بعد آئی جی سندھ کی واپسی، اپیکس اجلاس میں شرکت

  • پیر, 02 جنوری 2017 14:15

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے 'رخصت کے بعد دوبارہ ذمے داریاں سنبھال لیں اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے 18ویں اجلاس میں شرکت کی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کو ہٹانا چاہتی ہے، لیکن وفاقی حکومت اس کے خلاف ہے۔تاہم وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ آئی جی سندھ 15 دن کی چھٹی پر گئے تھے اور انھوں نے خود اس کی درخواست دی تھی۔بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اے ڈی خواجہ کو رخصت پر بھیجنے سے روک دیا تھا۔

یاد رہے کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ 19 دسمبر کو 'رخصت پر چلے گئے تھے، میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی جی سندھ کو اس لیے 'جبری رخصت پر بھیجا گیا کیوں کہ سندھ حکومت کے پولیس کانسٹیبلز کی بھرتیوں اور پولیس افسران کی معطلی کے معاملے پر ان سے اختلافات تھے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ 'آئی جی سندھ بڑے سکون کے ساتھ اجلاس میں بیٹھے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ مجھ پر سندھ حکومت کا کوئی دباؤ نہیں۔ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو اسٹریٹ کرائمز کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ 'مجھے اسٹریٹ کرائم فری کراچی چاہیئے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے عوام کو ہر جرم کی شکایت پولیس اور رینجرز کی ہیلپ لائن پر درج کروانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروانے میں مکمل تعاون نہیں کر رہی، ٹی وی پر ابھی تک دہشت گردوں کی خبریں چلتی ہیں، انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی روک تھام بھی نہیں ہوسکی اور کالعدم تنظیموں کے لوگ ابھی تک کھلے عام جلسے کر رہے ہیں، لیکن وفاقی حکومت اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کر رہی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کو خط لکھا جائے کہ غیر قانونی اسلحہ بنانے کی فیکٹریوں اور دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، کیونکہ سندھ میں اب تک جتنا بھی اسلحہ پکڑا گیا، اس کا 40 فیصد مقامی طور پر تیار کیا گیا تھا۔

ہوم سیکریٹری سندھ شکیل منگنیجو نے اجلاس کو بتایا کہ:

سندھ سے گرفتار 16 تکفیری دہشت گردوں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔
فوجی عدالتوں کی جانب سے 16 تکفیری دہشتگردوں کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے اور مزید 19 مقدمات زیر سماعت ہیں۔
سندھ کی لیگل کمیٹی نے 9 مزید مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔
سندھ حکومت کی سفارش پر 62 کالعدم تنظیموں کے نام فرسٹ شیڈول میں ڈالے گئے۔
سندھ میں 92646 افغان شہریوں کی رجسٹریشن ہوئی۔
سندھ نے 94 مدارس کی فہرست وزارت داخلہ کو بھیجی ہے، ان کو بھی فرسٹ شیڈول میں ڈالا جائے گا۔
581 مختلف افراد کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا۔
کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ اور ڈی جی رینجرز سندھ محمد سعید نے پہلی مرتبہ اجلاس میں شرکت کی، اس موقع پر سینئر وزیر نثار کھوڑو، چیف سیکریٹری رضوان میمن، مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو، گورنر سندھ کے نمائندے صالح فاروقی، مشیر قانون مرتضٰی وہاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی، ہوم سیکریٹری شکیل منگنیجو اور دیگر موجود تھے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.